افریقہ کا مغربی اسلامی ملک موریتانیہ

Africa Ka Maghrabi Islami Mulak Mauritania

(28نومبر:قومی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)
”اسلامی جمہوریہ موریتانیہ،افریقہ کے انتہائی مغرب میں واقع ایک اسلامی مملکت ہے۔اس کے مغرب میں بحراوقیانوس کے ساحل ہیں،شمال میں افریقہ کا مشہور صحرائے صحاراکے وسیع و عریض مغربی ریگستانی میدان ہیں،شمال مشرق میں الجیریاکی ریاست ہے،مشرق اور جنوب مشرق میں جمہوریہ مالی واقع ہے اور جنوب مغرب میں سینیگال کی ریاست واقع ہے۔”نواکشوط“اس علاقے کا مرکزی شہر اورمملکت کا دارالحکومت بھی ہے جو بحراوقیانوس کے ساحل پر وقع ہے۔”بے فر“اس جغرافیائی خطے کے ابتدائی باشندے تھے جو بنیادی طورپرکاشت کارتھے۔قدیم تاریخ میں اس سرزمین پربربرقبائل نے حکومت کی اور بعد میں موریتانیہ رومیوں کے زیرنگیں آگیا۔طلوع اسلام کے تھوڑے عرصے بعد 1078ء میں نورتوحید کی کرنیں یہاں آن پہنچیں اور یہ علاقہ پوری طرح منور ہو گیا۔”المرابطون“ایک عرصے تک یہاں اقتدار میں رہے اور اندلس جیسے عظیم الشان خطے کا انتظام و انصرام بھی موریطانیہ سے کیا جاتارہا۔پوری امت پر غلامی کے زمانے میں یہاں بھی انسانوں کے شکاری یورپی اقوام کے فاتحین پہنچ گئے،مقامی قبائل نے بھرپور مزاحمت کی لیکن جزوی طور پر یہاں پر بدیسی حکمران قابض رہے یہاں تک کہ انیسویں صدی میں فرانسیسی سامراج مکمل طور پر یہاں قابض ہو گیا۔دو بڑی بڑی جنگیں لڑنے کے بعد جب یورپ کھوکھلاہو گیااوردنیااس کی گرفت سے نکلنے لگی توموریتانیہ میں بھی 28نومبر1960 غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں اورآزادی کا سورج طلوع ہوا۔یہ دن وہاں ایک قومی تہوارکی حیثیت سے منایا جاتاہے۔
”موریتانیہ“کاشمارافریقہ کے غریب ترین مالک میں ہوتاہے،اس ملک کی جی ڈی پی(Gross domestic product)افریقہ جیسے براعظم میں بھی سب سے کم ترین ہے۔قدرت نے زیر زمین لوہے،دیگرخام دھاتیں اورخاص طور پرتانبے کے بے شمار ذخائرعطا کیے ہیں اورکہیں کہیں سونے کی موجودگی کے آثار بھی ملتے ہیں۔2001میں یہاں سے تیل بھی دریافت ہوا ہے۔نجی سرمایاکاری کی حوصلہ افزائی بھی یہاں کی معاشی پالیسیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔پھر بھی ملکی معیشیت کاانحصار باہر سے آنے والے سرمائے پر ہے یا پھر دھاتوں،مچھلی اور تیل کی محدود برآمدات پرجو یورپ اور جاپان کوکی جاتی ہیں۔ سمندرکے جوار کے باعث 1984سے گہرے پانیوں کی بندرگاہ بھی موجود ہے جس کے باعث درآمدات و برآمدات بسہولت وقوع پزیر ہوتی ہیں۔1999سے عالمی بنک اور آئی ایم ایف نے اس ملک کے ساتھ معاشی معاہدات کیے ہیں جن کا بظاہر مقصد اس ملک کی معاشی حالت کو سنوارنااورفی الحقیقت یہاں کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کرنا ہے۔آبادی کے بیشتر حصہ کاانحصارکاشت کاری اورریوڑبانی پر ہے،شاید اسی وجہ سے وہاں کے لوگ حکومت کی طرف کم ہی دیکھتے ہیں اور اپنے دیرینہ وروایتی طریقوں سے حصول معیشیت پر اپنے نان شبینہ کی بنیادرکھتے ہیں اور اسی لیے حکومت کو ٹیکس بھی نہ دینے کے برابر دیتے ہیں۔موریطانیہ دنیابھر میں اپنی غربت کے باعث سب سے زیادہ امداد لینے والا ملک ہے کیونکہ یہ ملک ابھی تک اپنی خوراک میں بھی خود کفیل نہیں ہے۔اس غربت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق یہاں کے سیاسی عدم استحکام کے باعث بدانتظامی اس کی بڑی وجہ ہے۔
”موریتانیہ“کی آبادی مختلف قبائلی گروہوں پر مشتمل ہے،ایک اندازے کے مبابق یہ ملک کل ڈھائی ملین نفوس سے آباد ہے جن میں کالی رنگت کے حامل اکثریت میں ہیں جبکہ عرب قبائل کے لوگ اقلیت میں ہیں اورآبادی کا ایک غالب حصہ ملے جلے لوگوں پر بھی مشتمل ہے۔موریتانیہ میں روایتی طور پر کوئی شخص انفرادی جائداد کا مالک نہیں ہو سکتا،وہاں کی زمینیں جائدادیں اور رقبے کسی خاص خاندان کی ملکیت ہوا کرتے ہیں۔جائدادوں اور زمینوں کے مالک دیگر خاندانوں سے فصل کی شرحی تقسیم پر کاشت کاری کرواتے ہیں۔خاندانون کی یہ تقسیم وہاں کی معاشرت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے اور اچھے طبقے کے لوگ اچھا پہنتے ہیں اور کم بولتے ہیں۔۔سوفیصد مقامی آبادی مسلمان ہے،اسی لیے ان کے جھنڈے کی سبزرنگت کاحامل اور چاند ستارے پر مشتمل ہے۔یہاں کی آبادی اس شعور سے بہرہ ورہے کہ انہیں عموماََکل دنیااورخصوصاََاہلیان افریقہ کی اصلاح کے لیے بھیجاگیاہے۔عدالتوں میں اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔یہاں کے لوگ ایک پیالے اور ایک ہی ٹرے میں مل بیٹھ کر اسلامی شعائرکے مطابق دائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں،کھانے کے بعد دودھ ملا مشروب یا پھلوں کے رس بھی پلائے جاتے ہیں۔خاص طورپر دوپہر اور رات کے کھانے کے بعدسبزچائے کادور بھی چلایاجاتاہے۔کھاناکھلانے پر مامور شخص مجلس کاسب سے کم عمرفردہوتاہے۔گوشت،مچھلی،چاول اور آلو یہاں کثرت سے کھائی جانے والی خوراک ہے۔صرف ناشتے میں دودھ اور ڈبل روٹی استعمال کی جاتی ہے۔کھانا کھانے کارواج گھروں تک محدود ہے اورریستورانوں میں کھانا کھانے کارواج بالکل بھی نہیں ہے،سسرالیوں کی موجودگی میں کھانا کھانامعیوب سمجھاجاتاہے۔فرانسیسی زبان وہاں کی تعلیمی اور اشرافیہ کے ہاں کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے،دفتری زبان کے طور پر موریتانیہ میں عربی زبان مستعمل ہے،باقی متعددقبائل اپنے اپنے علاقوں میں اپنی مقامی و آبائی وعلاقائی زبانیں بولتے ہیں۔وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ وہاں کی مقامی زبانیں بدیسی زبانوں پر غالب آرہی ہیں۔اعلی تعلیمی وتربیتی ادارے صرف دارالحکومت میں ہی ہیں لیکن ناکافی ہیں اور بیشتر طلبہ کو معیاری تعلیم کے لیے دوسرے ملکوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
سیاسی وآئینی طورپر موریتانیہ اک اسلامی جمہوریہ ہے۔یہاں مرکزی حکومت کانظام قائم ہے جس میں صدر،ملکت کا سربراہ اوروزیراعظم،حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔وزیراعظم کے ہمراہ وزراکی ایک جماعت بھی ہوتی ہے۔1992کے بعد سے صدر کابراہ راست انتخاب کیاجاتاہے جس کی مدت چھ سال ہوتی ہے،رائے دہندہگی اٹھارہ سال کی عمر سے شروع ہوجاتی ہے۔قانون سازی کے دو ایوان ہیں،چھ سالوں کے لیے ایوان بالا کو منتخب کیا جاتا ہے جنہیں بڑے بڑے شہروں کے میئراپنی اکثریت سے منتخب کرتے ہیں،جبکہ قومی اسمبلی کا انتخاب عوام الناس کے ذریعے پانچ سالوں کے لیے عمل میں لایا جاتاہے۔عدلیہ تین مرحلوں میں انصاف کے عمل کو مکمل کرتی ہے،ماتحت عدالتیں،اپیل کی عدالتیں اور آخر میں ملک کی سپریم کورٹ۔انتظامی طور پر ریاست کو بارہ انتظامی حصوں میں تقسیم کیاگیاہے۔یہ ملک آزادی کے بعد سے مسلسل یورپی مداخلت کا شکار ہے اورفرانس براہ راست مداخلت سے موریتانیہ میں سیاسی عدم استحکام کا ذمہ دار ہے۔اس کی وجہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں،ملک چونکہ سو فیصدمسلمان آبدی پر مشتمل ہے اور قانون کی بنیادیں بھی اسلامی شریعت سے حاصل کی جاتی ہیں اس لیے فرانسیسی ”سیکولرازم“کو یہ اسلامیت ایک آنکھ نہیں بھاتی اور استعمار سے آزادی کرنے والے ہر اسلامی ملک کی طرح یہاں بھی ملکی افواج طاغوت کے آلہ کار کا کردار اداکرتی رہی ہیں اور آئے دن کا مارشل لاء اور فوجی آمریت یا پھر فوجی کونسل کے تحت ملک میں یک جماعتی نظام اور سیاسی حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑیہاں کی فوج کاماضی ہے۔سیاسی عدم استحکام کے باعث یہاں کی عوام بھی خوشحالی و امن و امان کے شدت سے منتظر رہتے ہیں۔
موریتانیہ کے عوام مسلمان ہیں اور بے حد غریب ہیں،اس پر مستزادیہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور القائدہ کے اڈوں کے الزامات لگا کرنام نہاد مہذب دنیاکے ”انسان دوست“لوگ یہاں آسانی سے نقب لگا لیتے ہیں اور ان کی غربت سمیت بہت سی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ علاقہ چونکہ افریقہ کے بھی انتہائی مغرب میں واقع ہے اس لیے یہاں پر استعماری کاروائیوں کو دنیاسے چھپانا بہت آسان ہے۔تب سیکولرمیڈیا جو ایک مسلمان ملک میں ایک خاتون پر ہونے والی زیادتی پر پوری دنیاکا آسمان سر پر اٹھا لیتاہے اور فلسطین میں خون میں نہائی سینکڑوں لڑکیاں اسے نظر ہی نہیں آتیں اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ موریتانیہ جیسے ملک میں سیکولرازم کے ہاتھوں انسانیت کے خون پر وہ خبریں نشر کرے گا۔سوال یہ ہے کہ مسلمان ملکوں کے حکمرانوں اور اہل خیرکے پاس دولت اور وقت سمیت آخرکس چیز کی کمی ہے کہ وہ اپنی امت کے پیچھے رہ جانے والے طبقوں کوآگے بڑھانے کی تگ و دو نہ کریں؟؟؟مسلمان نوجوان اپنی ذہانت اور قابلیت کے بہترین استعمال کے لیے کب تک مغربی دنیاؤں میں استحصال کا شکار ہوتے رہیں گے؟؟؟فی زمانہ اشد ضرورت ہے کہ اسلامی ملکوں کا مشترکہ نشریاتی (میڈیا)پروگرام شروع کیا جائے جس کا مقصدکمرشل ازم نہ ہو بلکہ مسلمان اہل ثروت اس کے جملہ اخراجات وسیع القلبی اور جرات مندی سے اداکریں اور مسلمانوں کے بہترین اذہان اس جگہ پر کھپائے جائیں تاکہ جہاں سیکولرازم کے کذب بیانیوں کے پول کھولے جا سکیں وہاں امت کے پسماندہ طبقوں کوبھی سامنے لایا جاسکے جس کے دوچند فوائد ہوں گے،ایک طرف تو امت اپنے گم شدہ حصوں سے آگاہی حاصل کرے گی تودوسری طرف امت کے نوجوانوں میں ایک غیراعلانیہ مقابلہ شروع ہوگا اور نئی نسل اپنی پسماندگی کے اظہار پر شرمندگی کے باعث ترقی و ارتقاء کو اپنا وطیرہ بنائے گی۔موریتانیہ سمیت افریقہ کی بلالی سرزمین امت مسلمہ پر ایک حسین قرض رکھتی ہے،مسجدوں سے بلند ہونے والی آذانوں سے ہی وہ قرض ادا نہیں ہو گا بلکہ اس لیے عملی جدوجہد وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

Exit mobile version