ایک کافرہ کی سوچ اور ہماراایمان

Aik Kafira Ki Soch Aur Hamara Eman

انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ اسلام اور اس کی تعلیمات انسانیت کی ہی بنیاد پر ہیں اس مذہب کے پیروکار بھی رنگ و نسل ، طبقہ اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے صاف دل رکھتے ہیں اور خدا کی مخلوق پر رحم کرتے ہیں ۔ یہ تو صرف علم و عمل کا تضاد ہے جو اسلام اور مسلمان کو الگ الگ خانوں میں بانٹ رہا ہے۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو جتنا کافر قرار دیتے ہیں اتنی تو شاید اصل کافروں کی تعداد بھی نہ ہو لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کافر اسلام کے تمام ماننے والوں کو مسلمان ہی کہتے ہیں ۔ آج صبح صبح گھر سے نکلتے ہی میری ملاقات ایک کافرہ سے ہوئی جو شایدکافی دیر سے میری گاڑی کے سامنے کھڑی تھی ۔ میں نے جیسے ہی زرا فاصلے سے اپنی کار ریموٹ چابی سے کھولی تو وہ میری طرف عجلت میں متوجہ ہوئی ۔ صبح کا سلام کرکے کہنے لگی کہ:
محترمہ آپ کی کار کے نیچے ایک ایگل( کانٹے دار چوہا) سہما بیٹھا ہے آپ احتیاط سے گاڑی پارکنگ سے نکالئےگا ورنہ وہ زخمی ہوسکتا ہے، بیچارہ بھٹک گیا ہے شاید، آپ گاڑی ہٹائیں گی تو میں اس کو قریب ہی کسی پارک میں چھوڑ آؤنگی اگرچہ مجھے بھی آفس کے لیے دیر ہورہی ہے مگر ہم دن کا آغاز ایک مخلوقِ خدا کی جان بچا کر یں گے تو ایک خوشگوار احساس ہمیں دن بھر توانائی دے گا”
میں نے محتاط ہوکر گاڑی ہٹائی تو وہ عورت جلدی سے ایگل کو گود میں اٹھا کر قریبی پارک میں پہنچانے چل دی ۔ خوشگواراحساس تو کیا ساتھ رہتا میں تو سارے راستے گاڑی چلاتے ہوئے یہی سوچتی رہی کہ یہ “ احساس” کسی مذہب کی جاگیر تو نہیں ہے یہ تو انسانوں کا انفرادی رویہ ہے ۔ پھر ہم بات بات پر حساس ہوجانے والے مسلمان اس احساسِ ہمدردی سے کیوں نا واقف ہیں ؟ پھر سوچتی ہوں کہ شاید اسی احترام ِ انسانیت کے احساس کی بدولت یہ دنیا قائم ہے اور کافروں کا یہ مغرب خوشحال ۔۔۔۔۔

یہ تحریر فیس بُک کے اس پیج سے لی گئی ہے۔

Exit mobile version