ایک ناگہانی احساس

وقت کیسے پنکھ لگا کر اُڑ جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔
اچھا وقت اتنی جلدی کیوں گُزر جاتا ہے؟
کیا اچھا وقت جو صرف محبت کہ سنگ گزے تادیر کیوں نہیں رہتا؟شاید اس لیے کہ اچھے وقت کہ بعد ہی بُرا وقت آنا ہوتا ہے۔۔۔۔ پر بُرا یاں اچھا وقت نہیں ہوتا، بُرے تو خالات ہوتے ہیں
نین کا لاسٹ سمیسٹر ختم ہو چکا تھا۔
سوربونے یونیورسٹی کا سفر احتتام پزیر ہوا تھا، ایسا سفر جسے نین سکندر کبھی بھولنے والی نہیں تھی۔پیپرز ہو چکے تھے، ریزلٹ دو تین ماہ بعد آنا تھا اس لیے نین نے پاکستان جانے کہ لیے ہامی بھر لی تھی۔
نین کی خوشی میں شریک ہونے پاپا بھی آۓ تھے۔وجی اور ماما نہیں آے تھے کیونکہ اب نین کی واپسی کا ٹائم تھا تو اُنکا یہاں آنا فضول تھا۔
“آئی ایم پراؤڈ آف یو” پاپا نین کہ ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوۓ بولے تھے اور نین زور سے پاپا کہ ساتھ لپٹ گئی تھی۔ اور پھر الگ ہوتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔ “پاپا ماما اور وجی کو بھی لے آتے ساتھ”۔۔۔۔
“ارے بیٹا تم جو ساتھ جا رہی ہو پھر وہ یہاں آ کر کیا کرتے”۔پاپا نے محبت سے بیٹی کہ سُرح و سفید چہرے کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔۔۔بدلے میں نین اُداسی سے مسکرا دی۔۔۔۔۔
“کیا ہوا نین بیٹا اتنی اُداس کیوں ہو؟ کیا تمہیں واپس گھر جانے کی خوشی نہیں ہے”؟؟؟
“ارے نہیں پاپا میں بہت خوش ہوں میری زندگی کہ سب سے پیارے اور قیمتی سال آپ نے مجھے دیۓ مجھ پہ بھروسہ کر کہ، اور یقین کریں پاپا میں نے ان دو سالوں میں اپنی پوری زندگی جی لی ہے، ھتینکیوں پاپا آپ دنیا کہ بیسٹ پاپا ہیں آئی لو یو پاپا۔۔۔۔کہتے ہوۓ نین کسی معصوم بچے کی طرف پاپا سے لپٹ گئی اور آنسو کا ایک قطرہ چھپکے سے پاپا کہ کوٹ میں ہی جزب ہو گیا۔۔۔۔۔ نین کی اُداسی پاپا نے محسوس کی تھی لیکن بولے کچھ نہیں تھے کچھ بہت تکلیف بھرا لمحہ یاد آ گیا تھا اور شاید اُسی وجہ سے وہ نین کو یہاں آنے سے روک رہے تھے لیکن اُس ایک ڈر کہ ساتھ ساتھ انہیں نگین کی پرورش اور اپنی محبت پہ بھی بھروسہ تھا۔۔۔۔۔۔
****=====****
نین کہ جانے کا ٹائم آ چکا تھا جوں جوں جدائی کی گھڑیاں قریب آتی جا رہی تھیں نین کا دل بیٹھا جا رہا تھا، شیری سے دور ہونے کا اور اسے دیکھ نا پانے کا احساس اُسے اندر ہی اندر ختم کیے جا رہا تھا۔
آج اُسکی پیرس میں آخری شام تھی اور یہ آخری پل وہ صرف شیری کی قربت میں گزارنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔کیفے گرین کا منظر نکھرا نکھرا سا تھا، مانو جیسے رات کی رانی شام کو فلک سے اُتر آئی ہو، ہوا کی تیزی سے گلاب کی پنکھڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا کر خوشبو کی لہر سارے کہیں بکھیر رہی تھیں، شام کا سما تھا، ہر طرف خدائی مخلوق اپنے اپنے کاموں میں غرقاں تھی جب دو محبت کرنے والے جدائی کی آخری گھڑیاں گن گن کر گزار رہے تھے
آج نین نے بلیک شرٹ اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا بال آج بھی کھلے تھے اور وہ یک ٹک شیری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کچھ کہہ رہی تھی، ارد گرد کہ شور اور کچھ تیز دھار والے موسیقی کی وجہ سے اُسے انچا بولنا پڑ رہا تھا۔
“شیری پاپا یہاں موحود ہیں میں چاہتی ہوں تم اے۔جے سے ایک بار بات کرو تاکہ وہ ایک بار پاپا سے مل کر اُن سے ایک بار براہراست بات کر لیں، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اگر پاپا نا مانے تو کیا ہو گا”؟؟
“نین تم پریشان کیوں ہو رہی ہو، سب ٹھیک ہو جاۓ گا میں موم سے آج ہی بات کروں گا، پر تم مجھ سے وعدہ کرو تم میرا انتظار کرو گی، چاہے حالات کچھ بھی ہوں تم میرا ساتھ نہیں چھوڑو گی، وعدہ کرو نین”؟؟؟ نجانے کس خوف کہ زیرِ اثر وہ یہ سب کہہ رہا تھا۔ نین کا ہاتھ اُسکہ ہاتھوں میں تھا
نین نے سر اُٹھا کر ہامی بھری تو شیری کہ دل کو سکون پہنچا تھا۔
“نین تمہارے پاپا تمہاری خوشی میں شریک ہونے یہاں چلے آۓ، جانتی ہو ایسی ہی خوشی کی تلاش مجھے تھی لیکن کبھی ایسی خوشی میری زندگی میں روشن سویرا بن کر نہیں آ سکی”
“شیری پلیز آج کہ دن یہ اُداسی کی باتیں نہیں چلیں گی، میں تمہیں اُداس نہیں دیکھ سکتی پلیز”۔۔۔۔۔
” میں اُداس نہیں ہوں جانتی ہو جب پاپا اور موم کی شادی ہوئی تھی تو موم نے پاپا کو گڈ لک دیا تھا، پاپا اسے ہمیشہ اپنے پاس سنمبھال کر رکھتے تھے اور انہی کا یہ ماننا تھا کہ اس گڈ لک کی وجہ سے اُنہوں نے بہت کامیابی پائی پھر پاپا نے وہ گڈ لک مجھے دے دیا، وہ میرے کسی کام کا نہیں تھا لیکن وہ پاپا نے دیا تھا اس لیے مجھے بہت عزیز تھا اس پہ میرے پاپا کا نام لکھا تھا، لیکن میری بےواقوفی کی وجہ سے نجانے وہ کہاں کھو گیا، اور جب تک وہ میرے پاس تھا میں ہر چیز سے بے فکر تھا مطمعن تھا، لیکن جب سے اُسے کھویا ہے تب سے ہی میری روح کو سکون نہیں” وہ بے چینی سے بولا تھا
“کہیں تمہارا وہ گڈ لک یہ تو نہیں”؟؟ شیری کی بات سنتے ہی نین نے ہاتھ ڈال کر وہی یلو بال پرس سے نکالا جس کی وجہ سے وہ پھسل کر گری تھی اور پہلی بار وہ بہت بری طرح روئی تھی، وہی یلو بال جسکہ ایک طرف نگ جڑے تھے اور دوسری طرف کچھ حروف لکھے تھے تب نین نے غور سے دیکھا نہیں تھا لیکن بعد میں ایک دن پرس چیک کرتے ہوۓ وہ ننھا بال زمین پہ گرا تو نین نے اُٹھا کر ان حروف کو غور سے پڑھا تھا، ملِک حیدر کہ نام کہ حرف لکھواۓ گے تھے، تب نین چونکہ شیری کو اتنا جانتی نہیں تھی سو اُسے یہ ننھا بال اچھا لگا تو اُس نے پاس رکھ لیا لیکن بعد میں جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ شیری کا ہے تو تب بھی نین نے اُسے واپس نہیں لوٹایا وہ چاہتی تھی شیری خود اُسے ڈھنڈے لیکن آج شیری کی آنکھوں کی بجھتی لوح دیکھ کر وہ فوراً بول اُٹھی۔۔۔۔ اور پھر وہ ننھا بال نین کہ لیے گڈ لک بن کر اُس کہ ساتھ رہنے لگا نین اکثر اُسے مٹھی میں بن کر سکون سا محسوس کرتی نجانے اس چھوٹے سے بال میں ایسی کیا کشش تھی۔۔۔۔۔کہ جس کہ پاس بھی جاتا اسے پرسکون کر دیتا۔
نین ہتھیلی پہ ننھا بال رکھ کر شیری کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں کی چمک بال دیکھ کر بھڑ گئی تھی جو تھوڑی دیر پہلے بجھ گئی تھی۔
“یہ۔۔۔۔ یہ بال تمہارے پاس تھا؟ تمہارے پاس کہاں سے آیا نین، تم نہیں جانتی میں نے کہاں کہاں نہیں ڈونڈھا اسے”وہ نین کہ ہاتھ سے بال لیتے ہوۓ چہک کر بولا تھا۔۔۔۔۔
“میں چاہتی تھی جیسے تم نے مجھ تک رسائی کی ہے ویسے ہی ایک دن اس گڈ لک تک بھی کر جاؤ گے، مجھے لگا اگر تمہیں اس کی ضرورت ہو گی تو تم اسے ڈونڈھنے میں زمین آسمان ایک کر دو گے لیکن وقت گرزتا گیا لیکن تم کبھی اس بال تک رسائی نہیں کر پاۓ تو میں بھی چپ رہی، لیکن آج احساس ہوا ہے کہ میں نے ایسا کر کہ یقیناً بُرا کیا ہے” وہ اُداسی سے بولی تو شیری نے فوراً اسکا ہاتھ تھام لیا اور بولا
“تھینکس نین یہ کڈ لک میرے لیے مرے پاپا کی آخری نشانی تھا، جب کہ میری زندگی کی گڈ لک تو صرف تم ہو، نجانے یہ اداسیوں کہ لمحات کب ختم ہوں گے اور کب فرصت کہ لمحے میسر آئیں گے، نجانے وہ دن کب آۓ گا جب تم صرف میری ہو میری زندگی کو روشن کرنے چلی آؤ گی، نجانے یہ وقت کی ظلم گھڑیاں کب ختم ہوں گی” وہ ایک ادا سے بولا تھا مقصد نین کی اداسی دور کرنا تھا جو وقفے وقفے سے اسکہ چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔
” اُف شیری کبھی کبھی مجھے تمہاری اس دیوانگی سے ڈر لگنے لگتا ہے، مت چاہو مجھے اتنا کہ بعد میں جدائی برداشت نا ہو، میں نہیں جانتی کہ تقدیر نے کیا فیصلہ لکھ رکھا ہے ہماری قسمت کا، لیکن تمہاری والہانہ محبت مجھے ڈرا دیتی ہے،مت کرو اتنی محبت” وہ روہانسی ہو کر بولی تھی۔
“میری محبت تمہارے لیے باعث ڈر ہے؟ تو میں وعدہ کرتا ہوں تم سے نین سکندر کہ اس ڈر کو ایک دن میں تمہاری زندگی میں شامل ہو کر ختم کروں گا” وہ جم کر بولا۔۔۔۔ تو نین کھلکھلا کر ہسنتی چلی گئی اور بولی “تم پاگل ہو سچ میں”۔
ہاں میں نے انکار کب کیا ہے میں پاگل ہوں تمہاری محبت میں اور یہ بات میں ابھی ثابت کر دیتا ہوں کہہ کر وہ اُٹھا تھا جبکہ نین کا دل زور سے ڈھڑکا تھا
نین سکندر آئی لو یو۔۔۔۔۔ مجھے تم سے شدید محبت ہے، ہاں آج یہاں ان سب لوگوں کہ سامنے میں اقرار کرتا ہوں کہ میں تمہاری محبت میں پاگل ہوں، مجھے تمیارے سوا کوئی دِکھتا ہی نہیں ہے، میرے ہر پل میں ہر احساس میں صرف تم ہی تم ہو، کیا کروں جو یہ دل صرف تمہارے لیے ڈھڑکتا ہے، کیا کروں جو یہ سانسیں بس تمہارے نام کی مالا جھبتی ہیں، کیا کروں جو ان آنکھوں کو کچھ اور بھاتا ہی نہیں ہے۔۔۔کیا کروں جو یہ کمبحت دل زندگی کا ہر پل صرف تمہارے ساتھ گزارنے کی ضد کرتا ہے۔۔۔ کیا کروں جو اس دل میں تم دھڑکن بن کر دھڑکتی ہو۔۔ ۔۔۔۔ وہ زور زود سے دیواناوار چیخ چیخ کر اپنی محبت کی یقین دہانی کروا رہا تھا۔ ارد گرد کا مجمہ ان کہ ٹیبل کی طرف محبت سے دیکھتے ہوۓ تالیاں بجانے لگا شور سا اُٹھنے لگا تھا سب لوگوں نے اپنے اپنے گلاس اُٹھا کر شور کیا تھا ہر طرف ایک دم سے جوش سا بھر گیا تھا ویسلز کی آوازیں اُٹھنے لگی تھیں ۔۔۔۔ نین چور سی بنی بیٹھی شیری کو بار بار آنکھیں نکال رہی تھی پر شیری کو اسکی نظروں کی کہاں پرواہ تھی۔
سب لوگ اُنکی محبت کہ احترام میں کھڑے ہو گے تھے، یہی تو بات ہے کہنے کو یہ غیر مسلم ہیں لیکن کسی کی خوشی میں شریک ہونا انہیں بخوبی آتا ہے، محبت سے بنے یہ لوگ ہر طرف محبت بکھیرنے کا ہی عزم رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ سب کہ احتجاج پر نین کو اُٹھنا ہی پڑا، وہ اُٹھی تو ایک بار پھر سے شور اُٹھا تھا، نین نے شیری کی اور دیکھا جو شیمپن کی بوتل کو ہلاتے ہوۓ ہوا میں ااچھالنےوالا تھا اور پھر اسنے یک دم باٹل کا ڈھکن کھول کر شیمپن کی بارش کی تھی، ہر طرف شور تھا، قہقے تھے، نین اور شیری کہ لیے ڈھیر سارا پیار اور دعائیں تھی۔نین خوش تھی بہت خوش بل آخر اُسنے بھی سب کہ ساتھ مل کر شیمپن ہوا میں اُچھالی تھی اور اپنی محبت کا اقرار کیا تھا۔۔۔۔۔۔ پیرس کی اسکی آخری شام خوبصورتی سے انجام تک پہنچی تھی۔
لیکن کون جانتا تھا کہ اس خوبصورت شام کہ بعد بہت سی بے قل اُداس شامیں آنے والی ہیں۔۔۔۔۔
*****======*****
سورج کی رنگین کرنیں گلستانِ پیرس پہ پنکھ پھیلاۓ اُتری تھیں، لیکن آج یہ کرنین بھی اُداس اُداس سی لگتی تھیں، آسمان صاف تھا لیکن ایک طرف بادل کا ایک ٹکڑا اُداسی سے کھڑا شاید دو محبت کرنے والوں کی جدائی دیکھ رہا تھا شاید وہ بھی رو رہا تھا۔۔۔۔ ،شاید اُس نے بھی شروع دن سے ان دو محبت کرنے والوں کی کہانی دیکھی ہو گی۔۔۔نین اے۔جے کہ گھر کہ سامنے کھڑی تھی جب اُسے اپنے چہرے پہ نمی محسوس ہوئی اُسنے فوراً سر اُٹھا کر بادل کہ اُس چھوٹے اُداس گالے کو دیکھا تھا اور شاید وہ پانی کا قطرہ اُسی کی مہربانی تھی۔ نین نے ایک آخری اُداس نظر اس پہ ڈال کر نظریں دروازے کی اور مرقوز کر لیں۔آج وہ پاپا کہ ساتھ اے۔جے کہ گھر آخری بار آئی تھی وہ اپنی قسمت کا فیصلہ اپر والے پہ چھوڑ چکی تھی۔۔۔۔۔
دروازہ کھلا تو آج بھی وہی بائس برس کی گائیو موجود تھی لیکن اس بار اُس نے نین کو گھورا نہیں تھا اور نا ہی سر تا پاؤں اسکا جائزہ لیا تھا کیونکہ اب وہ نین کو پہچاننے لگی تبھی مسکرا کر اسے اور سکندر علیم کو اندر جانے کا راستہ دیا تھا۔۔۔۔۔ گائیو ان کو بیٹھا کر شاید اے۔جے کو اطلاع دینے چلی گئی، نین کی نظروں کا محور ایک بار پھر سے وہ پینٹنگ تھی جس نے پہلی بار اسے مرعوب کیا تھا۔۔۔۔
پاپا بھی گھر کو غور سے دیکھ رہے تھے اور پھر گھڑی دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔
“نینی کہاں رہ گئیں تمہاری اے۔جے بیٹا فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے، پندھراں منٹ سے وہ ویٹ کر رہے تھے اور نا اے۔جے آئی تھیں اور نا گائیو۔۔۔۔
سیڑھیوں سے قدموں کی چاپ سُنائی دی تو نین نے فوراً مُڑ کر دیکھا تھا، شیری پاکٹس میں ہاتھ گھسیڑے اُتر رہا تھا۔
پاپا نے نین کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو نین کہ ہاتھ پاؤں پھولنے لگے، اس وقت نین کو شیری پہ شدید غصہ آیا تھا، یہاں آنے سے پہلے وہ اسے منا کر آئی تھی کہ ابھی وہ پاپا کہ سامنے مت آۓ لیکن وہ شہریار ہی کیا جو کبھی نین کی کسی بات کو سیریس لے کر اس پہ عمل پیراں ہو
“پاپا یہ شیری ہے اے۔جے کا”۔۔۔ نین کہ الفاظ منہ میں ہی رہ گے جب شیری فوراً بول پڑا۔۔۔۔۔
“اسلام و علیکم انکل! ۔۔۔ اے۔جے میری موم ہیں”۔۔۔ ہاتھ آگے بڑھاتے ہوۓ بولا تو سکندر علیم فوراً اسکا ہاتھ پیار سے تھام کر بولے۔۔۔۔ “برخودار تمہاری اردو تو بہت اچھی ہے، تم سے سے مل کر خوشی ہوئی اور یہ جان کر بھی کہ تمہارا تعلق بھی پاکستان سے ہے”۔۔۔۔۔
بیٹھیے نا انکل پلیز کہتے ہوۓ وہ خود بھی بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔ دل تو اسکا بھی کانپ رہا تھا، ٹانگوں میں ہلکی ہلکی لرزش ہو رہی تھی۔۔ نین کو فل خال وہ مکمل اگنور کر رہا تھا لیکن نین اس کی ایسی خالت دیکھ کر دل ہی دل میں خوب مخظوظ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ “آیا بڑا ہمت والا کہ میں تمہارے پاپا سے بات کروں گا انہیں مناؤں گا اور اب دیکھو شکل کہ طوطے اُڑے ہوۓ ہیں جناب کہ”۔۔ نین دل ہی دل میں خود سے باتیں کر رہی تھی اور ہس رہی تھی۔۔۔۔۔ جب کوئی نا بولا تو بات بڑھانے کی غرض سے وہ بولی۔۔۔ “اے۔جے کہاں ہیں کب سے ویٹ کروا رہی ہیں”
“بس آ رہی ہیں”۔۔۔۔۔ وہ بول ہی رہا تھا جب اے۔جے کی آواز اُبھری
آئی ایم سو سوری نین بیٹا اتنا ویٹ کروا۔۔۔۔۔۔ ان کہ الفاظ منہ میں ہی رہ گے تھے۔۔۔۔۔ سکندر علیم بھی فوراً اُٹھ کھڑے ہوۓ۔۔۔۔۔۔
اے۔جے منجمند ہو گئیں، نظریں بس ایک طرف اُٹھی تھیں اور وہیں ساکت ہو گئیں تھیں بس آنسو تھے جو بہتے چلے جا رہے تھے، بولنے کو زباں کھولی پر بولنے کو الفاظ نہیں مل رہے تھے، پچس برسوں بعد وہ اپنے اکلوتے بھائی کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔ سکندر علیم جہاں کو،،،،ہاں بد قسمتی سے اے۔جے سکندر علیم کی بہن ہی تھیں جن کہ ساتھ پچس برس پہلے وہ اپنا ہر تعلق ختم کر چکے تھے، اور شاید اب تک یہ یقین بھی کر لیا تھا کہ وہ بھی مر چکی ہیں۔
سکندر علیم بھی سکتے کی کیفیت میں یک ٹک برسوں بعد اپنی ماں جائی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ نجانے کتنے تکلیف تھی اُن کہ دل میں جو چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔
نین نے اے۔جے اور پاپا کو ایک دوسرے کو دیکھتا اور روتا پا کر شیری کی طرف دیکھ کر سوالیہ آبرو اُٹھا کر پوچھا تو شیری نے بھی شانے اُچک کہ نفی میں سر ہلا دیا۔
“بھ۔۔ بھا۔۔۔ بھائی”۔۔۔ اے۔جے تڑپ کر سکندر علیم کی طرف بھاگی تو انہوں نے ہاتھ کہ اشارے سے انہیں وہیں روک دیا۔
“رک جاؤ اپنے قدم وہیں روک لو، یہ وہی قدم ہیں جن سے چل کر تم ہماری زندگیوں سے نکلی تھی، تب یہ قدم نہیں ڈگمگاۓ تو آج ان قدموں سے چل کر یہاں آنے میں اتنی جلدی کیسی؟۔۔۔۔۔
چلو نین بیٹا ایک منٹ اور نہیں رکنا یہاں چلو میرے ساتھ” نین کا ہاتھ تھا کر وہ آگے بھڑے تو نین بے یقینی سے کبھی اے۔جے اور کبھی شیری کو دیکھنے لگی، وہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، وہ بس شیری کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
“بھائی۔۔۔۔ بھائی خُدارا رک جائیں مجھے معاف کر دیں، پچس سال سے آپکی دی ہوئی سزا کاٹ رہی ہوں اب ہمت نہیں ہے مزید تکلیف برداشت کرنے کی پلیز مت جائیں آپکی بہن کو آپکی ضرورت ہے بھائی”۔۔۔۔ اے۔جے فوراً باہر کو لپکی تھیں، سکندر علیم ایک پل کو رُکے تھے اور پھر بولے، “یہ تکلیفیں تم نے اپنے لیے خود چنی ہیں اس کی ذمہ دار تم خود ہو، میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا، تم بابا کی قاتل ہو تمہاری وجہ سے وہ جیتے حی مر گۓ تمہاری نا فرمانی کا سدمہ برداشت نہیں کر پاۓ وہ”۔۔۔ اپنی بات پوری کر کہ وہ رکے نین کا ہاتھ چھوڑا اور نین میں تمہارا باہر گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں کہہ کر وہ پلٹ گے۔۔۔
نین وہی کی وہی کھڑی رہ گئی اسکی کہانی تو شروع ہونے سے پہلے ہی اینڈ ہو گئی تھی اُسکی محبت کا وائنڈ اپ پاپا کر چکے تھے اور وہ احتجاج بھی نا کر پائی اسی دن کہ لیے ہی تو وہ شیری سے دور رہتی تھی وہ جانتی تھی کہ اگر اسے شیری سے محبت ہو گئی اور وہ اسے پا بھی نا سکی تو وہ کیسے جیے گی؟ اسے سانس کیسے آۓ گیی؟؟ لیکن شاید کچھ باتیں ہم انسان خود سے ہی اخذ کر لیتے ہیں جی تو وہ اب بھی رہی تھی سانسیں تو اب بھی چل رہی تھیں، شیری کو پا کر بھی کھو دینے کہ احساس سے وہ مر تو نہیں گئی۔۔۔۔۔ وہ اب تک حیران کھڑی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے تو اس کی زندگی پرسکون تھی کہیں نا کہیں پاپا کہ مان جانے کا احساس تھا لیکن اب تو وہ آخری احساس بھی چھن گیا تھا۔ ۔۔۔ وہ کھڑے کھڑے بے آواز رو رہی تھی جب کسی نے اسکا ہاتھ تھاما اس نے آنکھیں اُٹھا کر اے۔جے کا شفیق چہرہ دیکھا لیکن آج وہ پہلے سے زیادہ کمزور لگ رہی تھیں، آج نین کو پتہ چلا تھا کہ اسکا ایک رشتہ دیارے غیر میں بھی موجود تھا جو نجانے کتنے سالوں سے تڑپ رہا تھا اور نین کو کبھی پتہ ہی چل سکا کبھی کسی نے بتایا ہی نہیں کہ اسکی ایک پھوپھو بھی ہیں، جبھی شروع دن سے اسے اے۔جے سے اپنائیت سے ہو گئی تھی۔۔۔۔
“میری بیٹی میرے بھائی کی اولاد اتنے عرصے سے میرے سامنے موجود رہی اور میں پہچان بھی نا سکی”،نین کا چہرہ ہاتھوں کہ پیالے میں لیتے ہوۓ ہوۓ اے۔جے نے کہا اور ساتھ ہی روتی ہوئی نین کو خود میں بھینچ لیا نین بھی اے۔جے سے لپٹ کر رو دی، یہ اچانک کیسا انکشاف ہوا تھا جسنے کتنی ہی زندگیوں کو آندھیوں کی نظر کر دیا تھا، کاش یہ انکشاف اتنا بھیانک نا ہوتا کاش اس انکشاف سے سب کہ دل باغ باغ ہو جاتے۔،کاش یہ کاش وہ جیسے کتنے ہی بول اسکہ چھوڑے سے دماغ پہ ہاوی ہو رہے تھے، پھر وہ آہستہ سے اے۔جے سے الگ ہوئی اور پلٹ کر جانے لگی جب شیری نے ایک بار پھر اُمید سے اسکی کلائی تھام کر بولنا چاہا لیکن نین کہ لفظوں نے اس ساکت کر دیا منجمند برف کا ڈھیر۔۔۔۔۔
“بس کرو شیری پلیز مت روکو میرا راستہ، یہ راہیں کٹھن مت بناؤ میرے لیے کہ میں آگے نا بھڑ کر اپنے پاپا کا مان توڑ دوں پچس برس پہلے جو غلطی اے۔جے نے کی تھی میں اُس غلطی کو دوہرا کر اپنے پاپا کہ دُکھ کی وجہ نہیں بن سکتی،،،، اسی دن لیے میں تمہیں منا کرتی تھی لیکن تم نے کبھی میری بات نہیں سُنی، میرا ہاتھ چھوڑو مشاید ہمارا ساتھ بس یہیں تک کا تھا۔ ،،، ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا، بھول جاؤ کہ کبھی کوئی نین یہاں آئی تھی ۔بھول جاؤ کہ کبھی تم نے کسی نین سے والہانا محبت کی تھی، ایک بیھانک خواب سمجھ کر بھول جاؤ”۔۔۔۔۔اے۔جے نین کی بات پہ تڑپ سی گئیں اور منہ پہ ہاتھ رکھ کر فوراً اندر چلی گئیں۔۔۔۔۔ شیری نے ایک جھٹکے سے نین کو خود سے قریب کیا اور بولا
بس، اتنی ہی محبت تھی تمیں مجھ سے کہ زرا سی نااُمیدی کی اندھی چلی نہیں اور تم نے راستہ بدل لیا؟تم نے تو قسمیں کھائی ہیں میرسے ساتھ زندگی گزارنے کہ وعدے کیے ہیں، تم تو کہتی تھی چاہے کچھ ہو جاۓ تم میرا ساتھ نہیں چھوڑو گی میرا انتظار کرو گی،پھر آج وہ سب وعدے مواعدے وہ حوصلہ کہاں گیا، تمہارے حوصلے سے مجھت ہمت ملتی ہے پھر آج تم کیسے حوصلہ ہار گئی، محبت کرنا بہت آسان ہے لیکن یہ ہر کسی کہ نصیب کا حصہ نہیں بنتی، محبت میں جنگ لڑنا پڑتی ہے، ہیٹھ پھیر کا بھاگا نہیں جاتا بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کیا جاتا ہے۔ میں تیار ہوں ہر جنگ کہ لیے ہر مقابلے کہ لیے۔۔ تم کہو تیار ہو؟ ساتھ دو گی میرا؟ اگر تم میرا ساتھ دو گی تو یقیناً جیت ہماری ہو گی”۔۔۔۔۔
وہ اسے خود سے لپٹاۓ اسکی گہری آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ ایک ایک لفظ پہ زور دیتے ہوۓ بول رہا تھا۔
“کوئی بھی رشتہ مقالبے کی بنیاد پہ نا تو بنایا جاتا ہے اور نا ہی توڑا جاتا ہے شیری ۔۔۔ اگر مقابلہ کر کہ جیتنا ہی چاہتے ہو تو کوشش کرو کہ اے۔جے اور پاپا کہ بیچ یہ جو اتنے سالوں کہ دیوار پڑی ہے اسے کیسے ہٹایا جاۓ جس دن یہ دیوار ہٹ گئی اس دن ہماری محبت کہ لیے راستہ ہمورا ہو گا۔۔۔۔۔ میں انتظار کروں گی اس دن کا جب تم یہ دیوار ہٹانے میں کامیاب ہو جاؤ گے تب میرے پاس آنا تب مجھے تمہاری ہر بات منظور ہو گی بنا کسی انکار کہ، میرے جانے کا ٹائم ہو گیا ہے، اپنا اور اے۔جے کا حیال رکھنا “اور پھر ہاتھ چڑواتی ہوئی شیری کع پریشان چھوڑ کر وہ باہر نکل گئ ایک اور سفر اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ دو سال پہلے جب وہ آئی تھی تب بھی اسکا دل اداس تھا اپنوں سے دور جانے کا دکھ تھا لیکن تب کہیں نا کہیں دل مطمعن تھا کہ بل آخر وہ اپنے خوابوں کہ جہاں اپنے خواب پورے کرنے جا رہی ہے، دل آج بھی اُداس تھا لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج دل مطمعن نہیں تھا دل ڈوبا جا رہا تھا۔ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی عاری سے دل کو چیر رہا ہے،کہیں کوئی سکون نہیں تھا ایک ناگہانی سا احساس آ کر گزر چکا تھا اور نین بے بس تھی اپنی قسمت کہ ہاتھوں مجبور بے بس۔۔۔۔
*****=========*****
اسے واپس آۓ دو دن ہو گۓ تھے، لیکن وہ خاموش تھی کسی سے زیادہ بات نہیں کر رہی تھی، ائر پورٹ پہ بھی وہ سب سے کھوۓ کھوۓ انداز میں ملی تھی۔ گھر آ کر وہ بس اپنے کمرے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی، سکندر علیم بھی خاموش تھے۔نگین بیگم البتہ سکندر اور نین کی چُپی دیکھ کر کر پریشان تھیں ۔بہت بار وہ نین کہ کھوۓ کھوۓ انداز کی وجہ سکندر سے پوچھ چکی تھیں لیکن سکندر علیم بھی خاموش تھے کسی بات کا جواب نا دیا۔۔۔۔ نگین بیگم خود ہی نین کہ کمرے میں چلی آئیں اُنہیں ڈر تھا کہ شاید باپ بیٹی میں کوئی بات ہوئی یاں کوئی ناراصگی چل رہی ہے، لیکن اُنہیں کیا معلوم تھا کہ وہ دونوں تو دل کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں اتنے برسوں بعد بہن کو دیکھ کر سکندر علیم تڑپے تھے کہ کاش یہ دیوار ان کہ پیارے رشتے میں کبھی حائل نا ہوئی ہوتی تو ان کی زندگیاں کتنی پر سکون ہوتیں، وہیں نین کا دل شیری کی دوری برداشت کرنے سے تڑپ رہا تھا، اسکہ ہاتھوں کا لمس اب بھی اسے اپنے چہرے پہ محسوس ہوتا، اسے ایسا لگتا جیسے وہ ابھی بھی اس کہ آس پاس ہے اور اسکہ چہرے سے الجھی الجھی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوۓ سرگوشی کر رہا ہے “نین سکندر تم صرف میری ہو میری ہی رہو گی” شیری کہ الفاظ اسکی سماعت سے ٹکراۓ تو وہ فوراً اُٹھ بیٹھی، آنکھیں گلابی پڑنے لگی تھیں، شیری کہ وجود کی مہک اسے اپنے ارد گرد محسوس ہو رہی تھی، اسکہ پرفیوم کی مہک اب بھی اسے اپنے وجود سے آ رہی تھی، آخری بار جب اس نے نین کو خود سے قریب کیا تھا تو اس کی پرفیوم کی مہک نین کہ کپڑوں میں بھی چڑھی تھی جبھی نین نے دو دن سے لباس تبدیل نہیں کیا تھا دو دن سے وہ اسی لباس میں شیری کی مہک اپنے اندر اتارتی رہی۔۔۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پہ اس نے چونک کر دروازے کی اور دیکھا جہاں نگین بیگم کَڑی تھیں۔
“ارے ماما آپ وہاں کیوں کھڑی ہیں آئیے نا میرے پاس بیٹھیے”آنکھوں کہ گیلے گوشے صاف کرتے ہوۓ بولی تو نگین بیگم بھی پاس آ کر بیٹھ گئیں اور یک ٹک نین کو دیکھنے لگئیں جیسے اسکی تکلیف کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔
“نین کیا بات ہے بیٹا جب سے آئی ہو خود کو کمرے میں بند کر کہ بیٹھی ہو ایسا کیا ہو گیا ؟ نا تمہارے پاپا کچھ بول رہے ہیں وہ بھی خوموش ہیں بات بھی کم کر رہے ہیں اور یہاں تم بھی خوموش ہو آخر ہوا کیا ہے مجھے کوئی کچھ بتاتا کیو نہیں میں دو دن سے اتنی پریشان ہوں مجھے مزید پریشان مت کرو پلیز زبان کھولو اور بتاؤ کیا ہو ہے”؟؟؟ وہ غصے بھرے انداز میں بولی تھیں۔۔۔۔۔ نین ماما کا چہرہ دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔”ماما ایک بات پوچھوں”؟؟؟
“ہاں بیٹا پوچھوں نا جو پوچھنا ہے پوچھوں میری جان”
“ماما کیا میری کوئی پھوپھو بھی ہیں”؟؟؟ بہت آہستہ سے بولی تھی لیکن نظریں ماما کہ چہرے پہ ہی ٹکی تھیں۔ نین کہ سوال پہ نگین بیگم کہ چہرے سے ایک رنگ آ کر گزر گیا، چہرے کہ سخت تاثرات یک دم نرم پڑ گے۔پھر بولیں۔۔۔۔
“نین کیا بات ہے بیٹا تمہیں یہ خیال کہاں سے آ گیا ؟کیا تمہارے پاپا نے کچھ کہا ہے تم سے؟؟؟”
“ماما میرے سوال کا جواب دیں کیا میری کوئی پھوپھو ہیں”؟ نین ماما کی بات کو نظر انداز کرتے ہوۓ اپنے سوال پہ زور دیتے ہوۓ بولی اسے غصہ تھا کہ اسے آج تک اس بات سے بےخبر کیوں رکھا گیا، پاپا تو چلو ناراض تھے اپنا ہر رشتہ اے۔جے سے ختم کر چکے تھے پر ماما کو تو بتانا چاہیے تھا ماما پہ تو کوئی پابندی عائد نہیں تھی پھر انہوں نے کیوں چھپا کہ رکھا۔۔۔۔۔
“نین بیٹا میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا کہہ رہی ہو” ماما پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوتے ہوۓ بولیں
“ماما اس میں نا سمجھنے والی کیا بات ہے ایک چھوٹا سا سوال پوچھا ہے، چلیں میں آپکو بتاتی ہوں۔۔۔۔۔ میں اس عورت کی بات کر رہی ہوں جس کا اس گھر سے پرانا رشتہ ہے، جو پاپا کی اکلوتی بہن ہیں لیکن پاپا نے انہیں خود سے دور کر دیا ۔ان کی غلطی کی اتنی بڑی سزا دی کہ ان کو اس گھر سے اور گھر والوں سے یہاں تک کہ اپنی زندگیوں سے بھی دور کر دیا، آپ نے مجھ سے آج تک یہ بات کیوں چھپائی؟ کیوں نہیں بتایا مجھے”؟؟نین نے زندگی میں پہلی بار ماما سے ایسے انچی آواز میں بات کی تھی۔ماما نے مُڑ کر نین کی بدتمیضی دیکھی تھی نگین بیگم کو نین کی باتوں سے سخت دُکھ پہنچا تھا اور نین کہ بات کرنے کہ انوکھے انداز نے انہیں بہت ہرٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔
“نین یہ کس طرح بات کر رہی ہو کیا اس لیے تمہیں پڑھنے باہر بھیجا تھا کہ تم اتنی خودسر اور بدتمیز ہو جاؤ”ماما کو واقعتاً غصہ آیا گیا تھا۔۔۔۔
“آئی ایم سوری ماما میں اپنے رویے پہ معذرت حوا ہوں لیکن آپ کو مجھ سے یہ حقیقت چھپانی نہیں چاہے تھی”
“نین بیٹا کچھ باتیں وقت کہ حوالے کرنی پڑتی ہیں بھولنی پڑتی ہیں، یہاں سالوں سے کبھی تمہاری پھوپھو کا زکر نہیں ہوا، جب تم حقیقت سے پوری طرح ناآشنا ہو پھر کیوں یہ باتیں چھیڑ کر بیٹھ گئی ہو تمہارے پاپا کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوں گے، اور تمیں یہ سب کیسے پتہ چلا ؟ کیا تمہارے پاپا نے خود بتایا تمہیں” وہ نین کہ قریب آ کر گویا رازداری سے بولی تھیں۔۔۔۔۔
“ماما آپکو یاد ہو گا لاسٹ ٹائم جب آپ پیرس آئی تھیں تو میں نے اے۔جے کا بتایا تھا اور ملوانا بھی چاہتی تھی لیکن ملوا نا سکی کیونکہ اج۔جے اس وقت لندن گئی ہوئی تھیں”؟؟؟ نین نے سوالیہ آبرو اُٹھا کر یاد کروانے والے انداز میں کہا تو ماما فوراً بول اُٹھیں
“ہاں یاد ہے پر اے۔ خے کا اس واقعہ سے کیا تعلق”؟؟؟
“تعلق ہے ماما، کیونکہ اے۔جے علینا جہاں یعنی سکندر علیم جہاں کی اکلوتی بہن ہیں وہی اے۔جے جنہوں نے میری بہت مدد کی مجھے اپنی سگھی اولاد کی طرف پیار دیا ہر پل میرا خیال رکھا وہ اے۔جے اور کوئی نہیں میری پھوپھو ہیں، کتنی عجیب بات ہے نا ماما کہ دو سال ہم ایک دوسرے کہ ساتھ رہیں اور ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاۓ ،لیکن شاید یہ قسمت کا اشارہ تھا جبھی میں ان کی طرف کھینچی چلی جاتی تھی لیکن اس اشارے کو میں سمجھ نا پائی” اور پھر نین نے ایک ایک بات ماما کہ گوش گزار کی
نگین بیگم جو ابھی تک نین کی باتیں دم سادھے سن رہی تھیں ان پہ برسوں بعد یہ نیا انکشاف کھلا تھا، وہ علینا سے بہت محبت کرتی تھیں علینا کہ باہر جانے سے پانچ سال پہکے وہ بیاہ کر آئی تھیں۔ علینا بھی بلاشبہ بہت محبت کرنے والی عزت کرنے والی لڑکی تھی، پھر نجانے کیا ہوا عشق کا کیسا خومار تھا جس نے اس کہ ساتھ ساتھ اس گھر کی خوشیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا نجانے کیسے وہ اتنی بڑی غلطی کر بیٹھی کہ اپنے لیے واپسی کہ سارے ردوازے خود پہ ہی بند کر بیٹھی نگین بیگم نے آنکھیں صاف کیں اور اُٹھ کر باہر نکل گئیں برسوں بعد پرانا دکھ میسر آیا تھا۔
*****=====*****

Exit mobile version