اندھوں کی شاہراہ

آٹھ جنوری 2017 شام کے پانچ بجے میں حسب معمول اپنی کلاس میں موجود تھا ،لیکچر فری تھا میم سکینہ اس دن نہیں آئیں تھیں جن کے لئے ہم نے کرنڈی کا نیا سوٹ عید سے پہلے ہی پہن لیا تھا، ایک تو اس بات کا دکھ ہمیں دیمک کی طرح کھائے جا رہا تھا، ساتھ میں بار بار فیس بک کی نیوز فیڈ میں مری اور کشمیر میں برف باری کی خبریں ہمیں رقص بسمل پر مجبور کر رہی تھیں۔ میں نے فوراً جیب سے موبائل نکالا ڈائس کے سامنے جا کے کھڑا ہو گیا اور مجتبیٰ بھائی کا نمبر ملایا، لڑکیوں کے سامنے تھوڑا امپریشن جمانے کے لیے تھوڑی اونچی آواز میں مجتبیٰ بھائی سے کہا کہ” سرکار اب یا تو ہم دونوں اپنے موبائلز زوہیب کے سر پہ مار کر انہیں ہمیشہ کے لیے اس روگ کے ساتھ اپاہج بنا دیں کہ وہ زوہیب بھائی کے چہرہ انور پر لگنے کی وجہ سے ناکارہ ہوئے ہیں یا فوراً سے بھی پہلے سنو فال دیکھنے کا کوئی پروگرام بنائیں” فون بند کیا تو انم نے کہا اوئے سلو یہ ڈرامے بند کرو اور کل کی اسائنمنٹ کی تیاری کرو میم کو پریزینٹیشن دینا ہے، جس پر مابدولت کو شدید قسم کا غصہ آیا دل میں آیا کہ اس ابلاناری کو فوراً یہیں پہ بھسم کر دوں لیکن اس کی صحت سے کلاس کے پہلے دن سے ہی ہمیں بے حد insecurity محسوس ہوتی تھی، انم کو دیکھ کر ہمیشہ ایسے لگتا ہے جیسے میں انڈین ریسلر گریٹ کھالی(great Khali) کے روبرو کھڑا ہوں ماشاءاللہ سے وہی کد کاٹھ وہی رنگ و صورت، تو پس اس وجہ سے میں ہمیشہ اپنے شدید غصے کو بہت پیار سے پی جاتا ہوں، اتنے میں مجتبیٰ بھائی کا فون آیا کہ آپ جلدی ہاسٹل آ جائیں مری چلتے ہیں، میں نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر اپنی قہر ڈھا دینے والی آواز میں گنگنایا کہ” اچھا چلتا ہوں دعاؤں میں یاد رکھنا میرے ذکر کا زباں پہ سواد رکھنا ” یہ کہہ کر میں فوراً ہاسٹل پہنچ گیا مجتبیٰ اور زوہیب پہلے ہی آئے ہوئے تھے، میں نے فوراً اپنے سارے بیگز کو تہس نہس کر کے چند کپڑے نکالے جنہیں مزید نہس تہس کر کے صرف تین سوٹ بیگ میں رکھے گئے، تیاری کو نامکمل کر کے ہم عشاء کے قریب رحیم یار خان سے مری کے لئے روانہ ہو گئے، جنوری کا مہینہ تھا تو سردی بے انتہا کی تھی۔
سفر کرتے کرتے ہم رات کے چار بجے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب پہنچے ، دھند نے پورے راستے کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی ہالی وڈ کی ہارر مووی کا باقاعدہ حصہ ہیں،سڑک پر پڑنے والی گاڑی کی روشنی بھی دھند میں مکمل طور پر غائب ہوتی جا رہی تھی، دھند کی وجہ سے ٹریفک بالکل نہیں تھی، سوائے ہمارے وہاں کوئی نہیں تھا، ہمیں اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم تینوں کسی شمشان گھاٹ میں بھٹکتی ہوئی آتمائیں ہیں اور عنقریب ہی اپنے گولے میں واپس اٹھوا لئے جائیں گے ، مجتبی بھائی گاڑی چلا رہے تھے، میں قریب بیٹھا ہوا تھا اور زوہیب بھائی پیچھے آرام سے کمبل اوڑھے شدید غفلت کی حالت میں انتہائی واحیات قسم کے خراٹے انتہائی مزے سے لے رہے تھے اور اس وقت قسم باجمال انارکلی ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ نعوذباللہ قیامت قائم ہو چکی ہے اور ہمیں زوہیب بھائی کی ڈراؤنی شکل میں اپنے کردہ تو کردہ، ناکردہ گناہوں تک کی بھی سزا دی جا رہی ہے اور ہم خدا کی رضا میں راضی اللہ میاں کے اس سانڈ کو اس کے خراٹوں سمیت برداشت کرنے پر مجبور تھے، خیر یہی سب باتیں چل ہی رہیں تھیں کہ اتنے میں دس پندرہ میٹر کے فاصلے پر کھڑی کماد سے بھری ٹریکٹر ٹرالی اچانک دھند میں سے جیمز بانڈ کی صورت میں یک دم نمودار ہوئی ،
فل بریک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہینڈ بریک۔۔۔۔ بچانے کی مکمل کوششوں کے بعد۔۔۔۔۔۔۔ ایک دلخراش قسم کی آواز آئی ،،،، ٹھااااااااااااااااااا
یعنی گاڑی رکی نہیں اور سیدھا جا کر ٹریکٹر کی ٹرالی پر دھڑام سے لگی۔
ٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( خطرے والی گھنٹی بج رہی تھی) زوہیب بھائی کے خراٹے اب ایسے غائب ہو چکے تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور یوں اچانک نیند سے جاگنے کے بعد وہ دیکھنے والوں میں مزید خوف پیدا کر رہے تھے۔
ہم تینوں کی آنکھیں اب سامنے ٹکی ہوئی تھیں، ہمارے منہ جیسے کھلے تھے یا بند تھے ویسے ہی رہ گئے جیسے کسی نے ہماری چلنے بولنے ہلنے ڈلنے والی تاریں نکال کر ہمیں اس حالت میں پاز(pause) کر کے چھوڑ دیا، ٹریکٹر اور ہماری گاڑی نے پورے سڑک پر قبضہ جمایا ہوا تھا، دھند کی شدت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اس وقت ہم عظیم لوگوں کے علاوہ اس مصروف سڑک پر کسی کا نام تو نام نشان تک نہیں تھا، ہاں البتہ جب ہم گاڑی کا احوال دریافت کرنے باہر نکلے تو قریب قریب سے گیدڑوں کی آوازیں آ رہی تھیں اور ہم گاڑی کو یہ کہہ کر واپس اندر آکر بیٹھ گئے کہ” آل از ویل بول آل از ویل” اور واپس اندھوں کی شاہراہ پر آنکھیں بند کر کے چل پڑے لیکن اب کہ بار ڈرائیونگ سیٹ پر مجتبیٰ کی جائے زوہیب بھائی براجمان تھے بلکہ اپنے کمزور صحت کی وجہ سے وہ سیٹ سے بھی باہر نکل کر تھوڑا تھوڑا ہینڈ بریک پر بھی براجمان تھے۔
خیر جی آرام آرام سے سفر ہوتا گیا ہوتا گیا اور ہم صبح چھ بجے کے قریب موٹر وے پر کسی قیام طیام پر رکے ، میں نے وضو کر کے فجر کی نماز پڑھی پھر گاڑی کی ٹینکی فل کروانے کے بعد اپنی ٹینکی کو خالی کرنے اور بھرنے کے لئے بھاگ دوڑ کی اور ایک گھنٹے کے بعد دوبارہ لاہور اسلام آباد موٹر وے پر آ گئے جو کہ صبح کے وقت ڈھیر سارا پیارا لگ رہا تھا، اب دھند بہت حد تک ختم ہو چکی تھی اور ہم اس بات کا نقصان اٹھاتے ہوئے گاڑی کو سپیڈ لمٹ سے اوپر لے گئے اور فوراً موٹر وے پولیس سپائیڈر مین بن کر ہمیں پکڑ کر نیچے لائی اور ایک پیارا سا کاغذ تھمایا جس کی قیمت سات سو روپے تھی جو کہ ہمیں بہت مہنگی لگی لیکن ہمارے پاس اس کاغذ کو نہ لینے کا آپشن نہیں تھا ورنہ اتنے مہنگے کاغذ تو ہم اپنے کلاس نوٹس کی صورت میں نہ لیں بلکہ بالکل بھی نہ لیں، خیر اب یہ کاغذ ہمارے جائیداد کا باقاعدہ حصہ بن چکا تھا جسے پیار سے ڈائس بورڈ میں رکھ کر ہم نے سپیڈ مزید بڑھا دی اور الحمدللہ ڈھائی بجے کے قریب مری پہنچ گئے جہاں پر ہر طرف برف ہی برف پڑی تھی اور زندگی میں پہلی دفعہ اتنی ساری پیاری برف ایک ساتھ دیکھ کر میں نے اور زوہیب بھائی نے منہ کو تین چار سو زاویوں کے ساتھ ٹیڑھا میڑھا کر کے کوئی پانچ چھ ہزار سیلفیز بنائیں اور آخر میں موبائل کو کارڈ سمیت فارمیٹ کر دیا کیونکہ موبائل بیچارہ اتنا heavy virus کا صدمہ برداشت نہ سکا اور ہمیں موبائل کو اس صدمے سے نکالنے کے لیے آخر کار فارمیٹ کا جھٹکا دینا پڑا اور پھر جا کر کچھ افاقہ ہوا۔ ہم مری میں اپنی خالہ، آنٹی سمینہ کے گھر پہنچ گئے اور آنٹی نے فوراً اپنی صحت کے مطابق ہمارے دل کو دہلا دینے والی خبر سنائی کہ آپ کے آنے سے چار گھنٹے پہلے سنو فال رکی ہے، ابھی یہ صدمہ نہ بھرا تھا کہ آنٹی نے ماشاءاللہ اپنی دبنگ طبعیت کے مطابق ہمیں بیٹھنے اور ریسٹ کرنے کی بجائے فوراً سودا سلف لینے بھیج دیا جو ہم نے آج تک اپنے گھر کا بھی نہیں لیا تھا لیکن ہم مجبور تھے کیونکہ یہی سودا سلف ہماری آؤ بھگت کے لئے لیا جا رہا تھا ، تو جی ہم فوراً گئے گوشت سبزی چاول وغیرہ لے کر آنٹی کو تھمایا اور ساتھ میں دھمکایا کہ اب ہمارے کمرے کی طرح بھول کے بھی نہ آیا جائے۔

Exit mobile version