اشعر کی خوشبو

تم جاؤ گے ۔۔۔۔ وہ ناشتہ کرنے کے بعد سے علی کے پیچھے لگی ہوئی تھی کہ اسے کام پر جانا چاہیے پر علی اسکی بات نہیں مان رہاتھا ۔۔۔۔
علی اتنے دن سے نہیں گے تم ۔ پا جی کی نرمی کا تھوڑا فائدہ اٹھاؤ ۔۔۔۔
پر علی کے کان پر جیسے جوں تک نہیں رینگ رہی تھی ۔۔۔ ۔ ۔۔۔ سینک پر برتن رکھتے ۔نہیں میں نہیں جاؤں گا ۔۔ پھر سے وہی جواب دیا جو پچھلے دس منٹ سے وہ دے رہا تھا ۔۔۔
ارشیا جانتی تھی وہ۔کیو ں نہیں جانا چاہتا ۔۔۔ پچھلے پانچ دنوں سے وہ دونوں اسکا سایہ بنے ہوئے تھے اپنا سب کام چھوڑ صرف اسکا خیال رکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔پر اب وہ ٹھیک تھی پھر بھی وہ کام پر نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔
علی نے تھک کر اشعر کو دیکھتے مدد چاہیے ۔۔۔پر ۔ اشعر اسکو دیکھ کر بھی انجان بنتا نظر ایا ۔۔۔ کیونکہ علی کے بعد اسکا نمبر تھا ۔۔۔ ا اس لیے وہ چاہتا تھا علی چلا جائے تاکہ اسکے پاس جواز ہو نہ جانے کا ۔۔۔
ارشیا نے غصے سے ٹھیک ہے نا مانو میری بات لگتی کون ہوں میں تمہاری کیوں سنو گے تم میری کہتی منہ پھیلا کر بیٹھ گئی ۔۔۔ اشعر نے پہلے اسے پھر علی کو دیکھا ۔۔۔۔ اور مسکرایا ۔ وہ اب اسے ایموشنل کر کے اپنی بات منوانا چاہتی تھی ۔۔
علی اسکے پاس اتے ۔۔۔ آپ ایسا مت بولیں آپی ۔۔۔۔۔۔۔میں بس نہیں جانا چاہتا ۔۔۔
اسکو گھٹنوں کے بل بیٹھے دیکھ ارشیا نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ۔۔۔ پلیز جو ہو گیا اس کےڈر کی وجہ سے کتنے دن گھر رہ کر حفاظت کرو گے میری ۔۔۔ ۔ ہمیں اگے بڑھنا چاہیے ۔۔۔۔ ۔۔۔ پہلے ہی اتنے دن ہو چکے ہیں گھر رہ کر اور تم جانتے ہو مجھے ایسے بیکار گھر رہنا بالکل پسند نہیں۔۔۔
علی فورا سے شوکڈ ہوتے بیکار ۔۔۔ پر زور دیتے …….اسنے اتنا لمبا اس لفظ کو کہا ۔۔۔۔۔۔
اچھا اور اتنے دن سے جو میں کھانا بنا رہا ہوں کچن اور گھر کا خیال رکھ رہا ہوں وہ ۔۔۔۔۔۔اور یہ اپکے شوہر صاحب ان کو تو انڈہ تک بنانا نہیں آتا ۔۔ ۔۔ اسنے منہ بناتے اشعر کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
اشعر ہنستے اچھا برتن کون دھوتا تھا ۔ اور چائے کون بناتا تھا ۔ اشعر نے بھی فورا اپنے کیے ہوئے کام گنوائے ۔۔
ارشیا نے اسے دیکھا ۔۔۔
علی نے ارشیا کا دھیان اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے ۔۔۔ اچھا آپ نے برتن دھوئے کم توڑے زیادہ آپی آپ کو پتہ آپکا فیورٹ کپ اشعر بھائی نے توڑ دیا ۔۔۔
اچھا اور جو تم نے گلاس توڑا اسکا بھی بتاؤ نا ۔۔۔۔
اشعر نے بھی علی کا پول کھولا ۔۔۔ ۔۔۔۔
علی اچھا اور جو آپ نے ۔۔۔۔ باقی کی بات منہ میں رہ گئی ۔۔۔۔۔ کیونکہ ارشیا کرسی سے اٹھ کر کچن چلی گئی ۔۔۔۔
دونوں نے حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔ علی اشعر کے پاس اتے ۔۔۔ اپی چپ کیوں کر گئی ۔۔۔
اشعر ہنستے یہ طوفان سے پہلے والی خاموشی ہے ۔۔۔۔ 😂 ۔۔ تم اپنا بچاو کرو۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
علی نے اسکے چہرے کو غورسے دیکھتے مطلب طوفان انا ہے ابھی ۔۔۔۔
اشعر نے مسکراتے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔ اسی وقت
ارشیا پھر سے کچن میں داخل ہوئی ۔۔۔۔ گاڑی کی چابی علی کے سامنے کرتے ۔ بے وجہ میرا دھیان مت بھٹکاو ۔۔۔۔ چپ چاپ ۔۔ کام پر جاؤ ۔۔۔۔
علی نے معصوم سی شکل بناتے آپ مجھے اپنے گھر سے نکال رہی ہے ؟؟؟۔۔۔
ہاں نکال رہی ہوں ۔۔۔۔ جواب فورا ایا ۔۔۔۔
اشعر وہی سن کے ہنسا ۔۔۔۔ پر علی کو دیکھتے سوری ۔۔۔
ارشیا نے اسکے ہاتھ پر گاڑی کی چابی رکھتے ۔۔۔۔۔ مجھے ایموشنلی بلیک میل کرنا بند کرو ۔۔۔۔
علی نے منہ بناتے آپ خود تھوڑی دیر پہلے کیا کر رہی تھی ۔۔۔۔
ارشیا نے مصنوعی غصہ دیکھاتے ۔۔۔۔علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاؤ کام پر ۔۔۔۔۔
علی چابی کو دیکھتے اچھا جا رہا پوں ۔۔۔۔۔۔۔ غصہ نہ۔کریں ۔۔۔۔ وہ باہر کی طرف بڑھا ۔۔۔ ارشیا موڑتے اور ہاں واپسی پر اپنی بوکس لیتے انا ۔۔۔ احد کا سامان لانا تو تمہیں یاد رہا اپنی کتابیں نہیں یاد رہی تمہیں ۔۔۔۔ اسنے طنزیہ مسکراتے ٹونٹ کیا ۔۔۔
علی برا سا منہ بناتے لے آؤں گا کوئی اور حکم ۔۔۔
ارشیا نے اسے دیکھتے ہاں شکل ٹھیک کر کے جاؤ ۔۔۔۔۔
علی فورا فیک سمائل۔منہ پر۔لاتے اب ٹھیک ہے ۔۔۔
ارشیا اور اشعر دونوں ایک ساتھ اسکی شکل دیکھ کر ہنسے ۔۔۔۔ ارشیا ہنستے ہوئے پہلے زیادہ ٹھیک تھی ۔۔۔۔ تم ہنس رہے ہو یا احسان کر رہے ہو ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
علی ناراض ہوتے ہنس لیں پہلے تو بھیج رہی مجھے اوپر سے ہنس رہی مجھ پر جا رہا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔ اپ بیٹھ کے ہنسستے رہو دونوں کہتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا ہنستے یہ پورا پاگل ہے۔۔۔
اشعر بھی اسکو دیکھتے ۔۔۔۔۔ بھائی کس کا ہے ۔۔۔
ارشیا نے اب اپنی پوری توجہ اشعر پر مرکوز کرتے اشعر تمہیں بھی …. وہ ابھی اتنا ہی بولی تھی کہ اشعر فوراً سوچنا بھی مت ۔۔۔ میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔ساتھ ہی مزید اسکے سوالوں سے بچنے کے لیے وہ اٹھ کر باہر اکر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ جہاں اسکا لیپ ٹوپ کھولا ہواتھا ۔۔۔
۔لیکن ارشیا بھی اسی کے پیچھے اتے اشعر پلیزعلی کو اتنی مشکل سے بھیجا ہے اب تم ۔۔ پلیز کام پر چلے جاؤ کیوں بے کار میں چھٹیاں کر رہے ہو ۔۔۔
اشعر نے لیپ ٹوپ اسکی طرف کرتے میں بے کار نہیں بیٹھا ۔۔۔۔ گھر رہ کر بھی کام کر رہاہوں اس پروجیکٹ پے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اسنے بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے فورا سر حیدر کا نام لیا ۔۔۔ سر حیدر سے پرمیشن لی ہوئی میں نے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
ارشیا نے پہلے سکرین کو دیکھتے پھر اسکی بات دوہرائی سر حیدر نے پرمیشن دے دی تمہیں ۔۔۔
اشعر نے اسکی بات پر یقین کرتے ۔۔۔۔۔سکون کا سانس لیتے ہاں ۔۔۔۔۔
ارشیا فورا اسکی طرف موڑتے سر حیدر کو پتہ میں ۔تہاری بیوی ہوں ۔۔۔
اشعر نے لیپ ٹوپ اپنی طرف کرتے ہاں ۔۔۔۔۔ پہلے شاید نہ پتہ ہو اب پتہ ۔ اس دن کے بعد سب کو پتہ چل گیا ہو گا ۔۔۔۔اج ہی مجھ سے تمہاراپوچھ رہے تھے کہ تم وہی ارشیا ہو جو آفس میں تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔ ویسے حیرانی ہوئی ان کے پوچھنے پر مجھےکیونکہ وہ اتنے پروفیشنل کے اتنے عرصے میں پہلی دفعہ انہوں نے مجھ سے میری پرسنل لائف کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔۔۔۔
ارشیا مسکرائی ۔۔ کیونکہ وہ۔وجہ جانتی تھی ۔۔۔ پلوشہ کو بتانے کے لیے ہی وہ کنفرم کررہے ہو گے میرا ۔۔۔۔
اسنے فوراً سے اشعر کی بات ہر غور کرتے ۔۔۔۔۔۔۔ اس دن انکو کیسے پتہ چلا میرا ؟؟؟
اس دن میں دیوانہ ور تمہارا نام چلاتا ہوں جو آرہا تھا ۔۔۔ ان کو کیا سب کوپتہ چل گیا تھا ۔۔
ارشیا حیرانی سے سچی تم نے میرا نام لے کر چلارہے تھے ۔۔۔ ۔۔۔
اشعر سنجیدہ ہو کر اسکے باکل قریب اتے ۔۔۔۔۔۔آہستہ آواز میں ۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا جو سیریس تھی جیسے پتہ نہیں وہ کیا بولنے والا ۔۔۔ فورا سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے تم۔نا بہت ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ روکی پھراسکا چہرہ دیکھتے ۔۔۔بہت ہی برے ہو ۔۔۔ اپنا ادھورا جملہ مکمل کیا ۔۔۔
اشعر اسکا غصے والا چہرہ دیکھ کر ہنستے تم چاہتی ہو میں ایسا کروں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
پر ارشیا کچھ نہ بولی ۔۔۔۔۔ اسکے لٹکے منہ کو دیکھتے ۔۔۔۔۔
۔۔ حالت ایسے تھے کہ میں دیونہ وار تمہارا نام چلاتا ۔۔۔اسنے سوال کیا ارشیا سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری چیخ سن کر جو حال ہوا تھا میرا تم سوچ نہیں سکتی کہ کیا گزری تھی مجھ پر ۔۔۔۔۔۔ اسنے اسکے سر پر پٹی والی جگہ کو چھوا ۔۔۔۔
ارشیا اشعر کا چہرہ دیکھا ۔۔۔۔ جس پر ایک رنگ آ اور ایک رنگ جارہاتھا۔۔۔۔۔
ارشیا اسکی آنکھوں ۔کو دیکھتے جن میں اس لمحے کو یاد کر کے پھر سے تکلیف ابھر ائی تھی ۔۔اسکا ہاتھ پکڑتے ۔۔۔پر ہوا تو کچھ نہیں نا ۔۔۔۔ پھر بار بار سوچ کر خود کو تکلیف کیوں دے رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ اشعر ۔۔۔۔۔۔ میں نے اس سے بھی برا ٹائم دیکھا ہے۔۔۔۔۔ بس فرق یہ ہے کہ تب تم نہیں تھے ساتھ اکیلے سب کچھ ہینڈل کرتی تھی ۔۔۔پر ۔۔۔ اب تم ساتھ ہو۔۔۔۔ اور تمہارے ساتھ ہونے سے یہ۔مشکلیں مشکلیں نہیں لگتیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسکی انکھوں میں دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔۔
اشعر نے اسکے چہرے پر نظریں گاڑے ۔۔۔۔پتہ نہیں وہ کیا ڈھونڈ رہا تھا اسکی انکھوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا اسکی انکھوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتے مجھے ایسے دیکھنا بند کرو ۔۔۔۔ ساتھ ہی اپنا پاتھ اسکے ہاتھ سے کھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔۔
اشعر فوراً سے پھر اسکاہاتھ پکڑتے ۔۔۔۔۔ چپ چاپ بیٹھی رہو یہاں ۔۔۔ اسنے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔۔۔
ارشیا پورا اسکی طرف موڑتے ۔۔۔۔پورا دن بیٹھ کے مجھے ہی دیکھتے رہو گے ۔۔۔۔۔
اشعر نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتے ۔۔۔ پورا دن کیا پوری زندگی بیٹھ کردیکھتا رہوں گا ۔۔۔۔
ارشیا ہنسی تم سچ میں پاگل۔ہو اشعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دفعہ وہ اسکا مذاق اڑا رہی تھی پر اشعر کو جیسے فرق ہی نہیں پڑ ا ۔۔ اسکے مذاق اڑانے سے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ بس اس ہنستے چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ربیعہ کی شادی کی تیاریاں زور شور سے شروع ہو گئی تھی عرفان اپنی بہن کی شادی میں کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔۔ طلال کی تینوں بہنیں شادی شاہ تھیں ۔۔۔ سب ہی اپنے اک لوتے بھائی کی شادی کے لیے بہت ہی پر جوش تھیں ربیعہ کو شہر سے اسکی پسند کی شوپنگ نہ صرف عرفان کروا رہاتھا ۔۔۔۔
بلکہ طلال کی بہنیں بھی اسے اپنے ساتھ لے جاتیں۔۔۔۔۔سب کچھ اسکی پسند کا لیتی ۔۔ تینوں نندیں چاہتی تھی کہ ربیعہ اپنی پسند کی ساری چیزیں خریدے ۔۔۔۔ شوپنگ میں کچھ بھی لیتے وقت وہ اسے چھیڑ تیں طلال کا نام بار بار لے کر اسے تنگ کرتیں ۔۔۔ اور ربیعہ کبھی شرماتی کبھی مسکرا کر چپ کر جاتی ۔۔۔۔
سب کو ایسے دیکھ عرفان بہت خوش تھا ۔۔۔۔۔ اور سب سے زیادہ خوش تھے عرفان کےما ں باپ ۔ ۔۔ جو ڈرے ہوئے تھے کہ انکی بیٹی کے ساتھ کچھ برا نہ ہو جائے۔۔۔ جو کچھ عرفان کر چکا تھا ایسے میں ان کا ڈرنا جائز تھا ۔۔۔ مکافات عمل۔۔ کسی اور کی بیٹی کی زندگی خراب کی تھی عرفان نے ۔۔۔ انکے بیٹے کا کیا انکی بیٹی کو نہ بھگتنا پڑ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ پر طلال اور اسکی فیملی سچ میں بہت اچھی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں مطمئن تھے ربیعہ کے حوالے سے ۔۔۔۔۔۔۔
عرفان کے ماں باپ کا خیال تھا کہ اگر کچھ تھا ارشیا اور عرفان کے بیچ ۔۔۔۔تو عرفان کو اتنے دن غائب نہیں رہنا چاہیے تھا ۔۔ اس لڑکی کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ان حالت میں ۔۔۔۔وہ اسے کم از کم اکیلا نہ چھوڑتا لوگوں کی باتیں سننے کے لیے بلکہ اسکا ساتھ دیتااسے اپنا لیتا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ دونوں میاں بیوی چاہتےتھے وہ عرفان سے پوچھے کہ اسنے یہ سب کیوں کیا ۔۔ پر ربیعہ کی بات پکی کرنے اور پھر شادی کی تیاریوں اور۔ہنگاموں میں مصروف ہوگے کہ عرفان سے کبھی پوچھنے کا وقت ہی نہ ملا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
عرفان بھی ہر وقت شادی کی تیاریوں میں لگا رہتا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ چاہتاتھا کہ اپنی بہن کو وہ سب خوشیاں ں لا کر دے جو وہ چاہتی ہے یا جس کی وہ خواہش کرے اس بات کو بھولائے کہ خود وہ ایک لڑکی کے کردار پر سیاہی مل چکا ہے ۔۔۔۔ اسے اسکے بھائی اسکی ماں کی نظروں میں گرا چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سب کسی کے ساتھ برا کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت کبھی بھی پلٹ سکتا ۔۔ آج جس جگہ وہ شخص کھڑا ہے کل کو ہم بھی وہاں ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔ اگر سب صرف یہ سوچ رکھیں کہ مکافات عمل ہوتا ۔۔۔۔ ہمارا عمل لوٹ کر اتا ۔۔۔ اچھا بھی اور برا بھی ۔۔۔۔۔ تو انسانیت ہر شخص کے دل سے کبھی ختم نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر آیا تو کافی خوش نظر آرہا تھا ۔۔۔ ایان جب سے آیا تھا اج سب سے بہت چہک چہک کر بات کر رہا تھا ۔۔۔ وہ اپنی ماں کے پاس آیا ۔۔۔۔ نسرین سے اسکا حال چال پوچھا اسکے پاس بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔۔
نسرین اسکا موڈ اتنا خوش گوار دیکھا تو سوچا وہ اس سے بات کرے ارشیا سے ملنے جانے کے لیے ۔۔۔۔
ایان کو پیار سے دیکھتے ۔۔۔ ایان بیٹا وہ میں چاہتی ہوں ہم ایک دفعہ ارشیا سے مل ائیں ۔ کافی مہینے ہو گے اس کی شادی ہوئے اسنے بھی کوئی فون بھی نہیں کیا ۔۔۔ اسنے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
ایان کا موڈ فوراً بگڑ گیا ۔ لہجے میں ار شیا کے لیے نفرت بھرتے پھنکارا اپ اس بد کردار کا نام مت لیں میرے سامنے ۔۔۔۔۔۔۔ میں کبھی اسکو دوبارا اس گھر کی دہلیز نہ پار کرنے دوں ۔۔ اپنے بچوں پر ۔میں اسکا سایہ بھی نہیں پڑھنے دوں گا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو صحیح اس سے نفرت کرتے تھے ۔۔ وہ تھی ہی اسی کے قابل ۔۔۔۔
نسرین نے آنسوؤں بھرتے بس کر دو ایان ۔ اب تو وہ چلی گئی ہے اب تو معاف کردو اسے ۔۔۔ ایک دفعہ اسے ۔۔۔۔
باکل نہیں اسنے ماں کی بات پوری ہی نہ ہونے دی ۔۔۔
اس کے جانے کے بعد ہی تو خوشحالی لوٹی ہے اس گھر میں ۔ دن با دن مجھے فاہدہ ہو رہا ہے جس چیز میں ہاتھ ڈال رہا ہوں وہ سونا بن کر نکل رہی ہے ۔۔۔
بیٹا بہن ہے تمہاری ۔ خدا بھی اپنے رشتوں کے بارےمیں دل نرم رکھنے کو کہتا ۔ ہے ۔۔۔
رشتہ ۔۔۔۔ اس نے پاس رکھا رشتوں کا ۔۔۔ جاتے جاتے میری عزت نیلام کر کے چلی گئی اسکے لیے میں اپنا دل نرم رکھوں ۔۔میرے سے نہیں ہو گا امی ۔۔۔۔۔ وہ غصیلے لہجے میں بولتےکھڑا ہوا ۔۔۔۔نسرین کو دیکھتے اپ بھی اس سے کوئی رابطہ نہ ہی رکھیں۔ میں نے اسے باعزت رخصت کر دیا ہے اپ کے کہنے ہر ۔۔۔۔۔ اس سے زیادہ۔مجھ سے امید مت رکھیں ۔۔۔ کہتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
نسرین نےانسووں صاف کرتے اپنے بیٹے کو دیکھا جو اسلم کا پرتو تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا علی اور احد کو چھوڑ کر واپس ائی تو اشعر کسی سے فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔
وہ پیچھے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ کل رات سے وہ اشعر کو اس پروجیکٹ پر محنت کرتے دیکھ رہی تھی ۔ اسکی باتیں سن کر اس نے یہی اندازہ لگایا تھا ۔۔ کہ یہ پروجیکٹ اشعر کے لیے ضروری ہے پر آشعر سے زیادہ کمپنی کے لیے اہم ہے ۔۔
اسلیے وہ سوچ کر ائی تھی کہ اج کچھ بھی کر کے وہ اشعر کو مانا لے گی آفس جانے کے لیےاسلیے علی کو بھیج کر وہ سیدھا اس سے بات کرنے ائی تھی ۔۔۔۔ اسکے کا ل ختم کرنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔ اشعر اسکی موجودگی سے لاعلم تھا ۔۔۔۔
اگلے کی بات سنتے ہاں ٹھیک ہے وہ چیک کیا ہے میں نے ۔ اور بروجیکٹ سے ریلیڈڈ سب کچھ تمہیں میں نے فورڈ کر دیا ہے ۔ پریزنٹیشن تم دو گے میری طرف سے ۔۔۔۔۔۔۔ اگلے نے کچھ کہا تو اشعر نے نہیں میں نہیں آ پاؤ ں گا ۔۔۔ میرا تھوڑا مشکل ہے ۔۔۔ ۔۔۔ تم ہینڈل کر لو گے ۔ مجھے پتہ ہے ۔۔۔ ۔۔۔
ارشیا نے اسکی بات سنتے ۔۔۔ فوراً اٹھی اور اشعر کے سامنے ائی ۔۔۔۔
اشعر نے اسے دیکھتے کچھ بولتے بولتے روکا ۔۔۔
ارشیا نے اپنا ہاتھ اگے کیا جیسے فون مانگ رہی ہو ۔
اشعر نے لاعلمی سے دیکھتے جیسے وہ کیا مانگ رہی ۔۔۔
ارشیا نے اسکے ہاتھ سے فون پکڑتے ۔۔۔ مسز اشعر بات کررہی ہوں ۔۔۔
اگلا بندہ فورا یس میم ۔۔ سوری میم ۔۔۔۔ گڈ مرننگ میم ۔۔۔ وہ ہڑبڑایا ۔۔۔
ارشیا نے لہجہ سنجیدہ رکھتے ۔۔۔ اشعر اج آفس ائے گے ۔۔ اپ فکر نہیں کریں ۔۔۔۔۔ اگلے جو کچھ کہہ رہا تھا اس کی بات سنی ۔۔۔ ۔۔۔ اشعر اسکا منہ دیکھتا رہا ۔۔۔ ۔۔۔
پھر اسنے الللہ حافظ کہہ کر فون اشعر کی طرف کرتے تم آفس جا رہے ہو ۔۔ میں کپڑے نکال رہی ہوں ۔۔۔ کہتے کمرے کی طرف چل دی ۔۔
اشعر اسکے پیچھے لپکتے ۔۔۔۔ میں نہیں جاؤں گا تمہیں چھوڑ کر ۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا جیسے اسکی بات سن ہی نہیں رہی تھی بس چلے جارہی تھی ۔۔۔
اشعر اسکا راستہ روکتے تم سن رہی ہو جو میں کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔
ارشیاسینے پر ہاتھ باندھتے ۔۔۔۔ ایک ویک سے تم گھر پر ہو ۔۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔۔ پر اج نہیں۔۔۔۔۔ میں کہہ چکی ہوں کہ تم اج افس آؤ گے۔۔۔ ۔۔۔۔ تو تم جاؤ گے ۔۔۔۔
اشعر نے کچھ کہنے کے لیے منہ ہی کھولا کہ ارشیا نے اسکا ہاتھ پکڑتے میری بات کا مان رکھ لو اشعر پلیز چلے جاؤ ۔۔۔۔۔۔
اشعر چپ کر گیا۔۔۔۔ ارشیا اسے چپ دیکھ میں کپڑے نکال دیتی ہوں ۔۔۔۔ ارشیا جانے لگی کہ اشعر نے اسکا ہاتھ پکڑتے میں پریشان رہوں گا تمہیں لے کر ۔۔۔۔
ارشیا نے اسے اسکی اتنے فکر کرتے دیکھ کچھ نہیں ہو گا مجھے ۔۔۔۔ ایک حادثہ باربار نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔ تم ارام سے جاؤ میں خیال رکھوں گی اپنا ۔۔۔ کچھ بھی عجیب لگا فورا تمہیں کال کر کے بتاؤ ں گی ۔۔۔۔
اشعر نے مسکرا کر اسے دیکھا پھر کچھ سوچتے سیل نکالا اور کسی کا نمبر ملایا ۔۔۔۔
کچھ سیکنڈ بعد اشعر بولا ۔۔۔۔ ہاں میں بول رہا ہوں ۔گاڑی بھیجوا دو ۔۔ اور میٹنگ کا ٹائم سب کو کنفرم بتا دو ۔۔۔۔ ارشیا اسے مشکور ہوتے مسکراتی نظروں سے دیکھا ۔۔۔
اشعر نے فون ٹروزار کے پوکٹ میں رکھتے میں نے تمہاری بات مانی اب تم بھی میری بات مانو گی ۔۔ میرے ساتھ آفس چلو گی تم ۔۔۔
ارشیا نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔۔ میں کیسے؟؟
اشعر نے اسکے بولتے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے ۔ میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔ اپنے ڈر پر قابو نہیں پا پارہا میں ۔۔۔ ۔۔۔ اسلیے میں تمہیں لے کر پریشان رہوں اس سے بہتر تم میرے ساتھ چلو ۔۔۔ میٹنگ کے فورا بعد ہم واپس آجائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا اسکے اس ائیڈیا پر بالکل راضی نہیں تھی لیکن وہ جانتی تھی فئ حال وہ بالکل نہیں مانے گا ۔۔۔۔ اسلیے ارشیا کو ہی اسکی بات ماننی پڑی ۔۔۔
پورا راستہ وہ فون پر بات کرتا رہا ۔۔۔
ارشیا انتے مہینوں بعد جا رہی تھی پھر سے آفس وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ ۔۔۔ پتہ نہیں ان سب کے ری ایکشن کیسے ہو ں گے مجھے دیکھ کر ۔۔۔ ۔ ۔سر حیدر اسے کیا کہیںں گے ۔ پلوشہ کا نمبر ضرور لے لوں گی یہی سوچتے پورا راستہ اسکا گزر گیا ۔۔۔۔
گاڑی آفس کے بالکل سامنے روکی ۔۔۔۔ ڈرائیور نیچے اتر کر باہر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
اشعر نے فون بند کرتے ۔۔۔۔ ارشیا کی طرف موڑتے۔۔۔ ارشیا پلیز اج میرے بارے میں تم بہت کچھ سنو گی جو تمہارے لیے عجیب ہو گا۔۔۔ پر پلیز تم ری ایکٹ مت کرنا نہ ہی کسی سے کچھ کہنا ۔ جو کچھ بھی پوچھنا مجھ سے پوچھنا ۔۔ میں سب سوالوں کے جواب دوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جو تم سمجھتی ویسا نہیں ہوں میں ۔۔ اسلیے پلیز مجھے غلط مت سمجھنا۔۔۔۔ ۔۔۔ میں کافی ٹائم پہلے ہی تمہیں سب بتا دینا چاہتا تھا پر ہمیشہ حالت ایسے ہو جاتے کہ میں بتا نہیں پایا ۔۔۔
ارشیا اسے حیرانی سے دیکھ جو اسکا ہاتھ پکڑے پتہ نہیں کیا کہہ رہا تھا ۔۔۔ معصومیت سے تم مجھے ابھی بتا دو ۔۔۔۔ اگر کچھ ہے تو ۔۔۔۔
اشعر نے اسکو مسکرا کر دیکھتے ۔ اتنا ٹائم نہیں فئ حال کے بتاؤں ۔۔ ساتھ ہی اسفند اور کچھ اور لوگوں کو اپنی گاڑی کی طرف چل کر اتے دیکھا ۔۔۔۔ اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑتے پلیز ارشی ۔ مجھ پر بھروسہ رکھنا ۔۔۔۔۔۔ اسنے اتنی محویت سے کہا کہ ارشیا کا سر خودباخود اسکی راضمندگی میں ہاں میں ہلا ۔۔۔
اشعر اسکے گال کو چھوتے شکریہ ارشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔ میں کبھی تمہارا بھروسہ نہیں توڑوں گا ۔۔۔ سب کچھ سچ سچ بتاؤں گا اج تمہیں ۔۔ یہ سب اسنے دل میں کہا ۔۔۔ وہ فائل لے کر باہر نکلا ۔۔۔۔ اور اسفند کو فائل پکڑا کر وہ فورا ارشیا کی سائیڈ اکر کھولی ۔۔۔ ارشیا نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔ وہ گاڑی کا دروازہ کھولے ۔۔۔ بہت دفعہ تم ائی ہو اس آفس میں۔۔۔۔۔۔ پر مسز اشعر بننے کے بغد اج پہلی دفعہ ائی ہو۔۔۔۔۔۔۔ اپنے شوہر کے افس میں ۔۔۔۔ تو اپکا خادم اپکو ویلکم کہتا ہے ۔۔۔۔ ساتھ ہی شائستگانہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر بکھیر ی ۔۔۔۔
ارشیا نے اسکے انداز کو سہرایا اور اور باہر نکلی ۔۔۔۔ وہ اشعر کے ساتھ چل کر ائی ۔۔۔
اسفند نے فورا پھولوں کا بوکے پیش کیا ۔۔ ویلکم میم ۔۔۔
۔ ارشیا نے اشعر کو حیرانی سے دیکھا پھر یاد اتے اسکی باتیں اسنے مسکرا کر بوکے لیتے شکریہ ۔۔۔
اشعر اب پروفیشنل انداز میں کھڑے ان سبکو اپنی بیوی سے ملوا رہا تھا ۔۔۔۔ اشعر کے ساتھ اندر ائی تو ہر کوئی اسے گڈمرننگ سر کہہ کر اٹھتا اور۔کھڑا رہتا ۔۔۔جب تک وہ اوجھل نہ ہو جاتا ۔۔۔۔۔ ارشیا نے سب کو دیکھا بہت سے سوال اسکے ذہین میں ائے ۔۔۔۔ لیفٹ میں گئی تو اسنے سوچا اشعر سے پوچھے پر اشعر اسکا پاتھ پکڑے بزنس مین کی طرح ان سب سے بات کر رہا تھا۔۔۔
ارشیا نے سوچا دماغ کے گھوڑے دوڑانے کا کوئی فائدہ نہیں وہ کچھ نہیں سوچے گی۔۔ کچھ بھی دیکھ کر اسکے دماغ میں ایا وہ بعد میں سب اشعر سے پوچھے گی ۔۔۔ پر ہر جگہ سے گزرتے گزرتے اس کے سوالوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔۔۔۔
اصف بھی ایا اشعر کے پاس اسے ویلکم میم بولتے وہ اشعر کو پریزنٹیشن کے بارے میں کچھ بتاتے واپس چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ ہر کوئی اسے میم کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ اسکا دماغ جہاں تک کام کیا اسے لگا ہو نہ ہو اشعر کسی اچھی پوسٹ پے ہےتب سب اسکی وجہ سے اسکو اتنی عزت دے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشعر نے وانیہ کو بولایا ۔۔۔ میم کو میرے افس میں لے جائیں ۔۔۔۔۔ اور ارشیا کو دیکھتے میرے آفس میں جا کر بیٹھو ۔۔۔ کچھ چاہیے ہو تو وانیہ کو بتا دینا ۔۔۔ باقی اپنے گروپ والوں سے ملنا چاہتی ہو تو مل لینا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں لنچ ٹائم ملتا ہوں ۔۔۔
ارشیا نے پہلے اسے پھر وانیہ کو دیکھا ۔۔۔ دماغ میں چلنے والی کشمکشِ کے باوجود وہ اشعر کے چہرے کو دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔ وانیہ نے ارشیا کو دیکھتے دس وے میم کہتے اشارہ کیا ۔۔۔۔ ارشیا نے اسکے اشارے کو سمجھتے تقلید کی ۔۔۔۔۔وہ وانیہ کے ساتھ چلی گئی ۔۔۔۔۔ اشعر نے اسے جاتے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ افس میں ائی تو وانیہ نے اس سے پوچھا کہ اسے کچھ چاہیے ی؟؟
نہیں کچھ نہیں چاہیے تھنکیو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ارشیا کو اشعر کے افس میں چھوڑ کوئی چیز چاہیے ہو تو مجھے پلیز بتائے گا کہتی واپس اپنے ڈسک پر چلی گئی ۔۔۔ کافی کچھ بدل گیا تھا۔۔۔ بلڈنگ وہی تھی باقی سب کچھ بدلا ہوا تھا۔۔۔ کچھ چہرے بھی وہی تھے پر رویہ بدل گیا تھا۔۔۔۔
ارشیا نے اس آفس کو دیکھا جو کسی انگل سے ایک نارمل امپلائے کا کیبن نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ ہر چیز ہی بہت خوبصورت تھی فرنشڈ فرنیچر ۔ کرٹنز ۔ دیواروں پر لگی فریمز سب ہی اس افس کی خوبصورتی کو بڑھا رہی تھی ۔۔۔ ٹیبل پر پڑی اشعر کی چیزیں۔ اسکی استمال کردہ پنسلز سب ہی پڑا تھا۔ اور خاص کر اس آفس میں اشعر کی خوشبو ۔۔۔ وہ اس خوشبو سے باخوبی واقف تھی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھی اس پورے افس کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اسے اشعر کی بات یاد ائی جو کچھ اسنے گاڑی میں کہا تھا۔۔۔ خود سے سوچتے ایسا کیا بتانا اسنے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ وہ اپنی سوچ میں غرق تھی جب دروازہ نوک ہوا ۔۔۔ دروازہ کھلا تو وانیہ اندر ائی ۔۔۔۔ اعظم چاچا پیچھے ٹرالی لے کر ارہے تھے ۔۔۔ ارشیا نے مسکرا کر اعظم چاچا کو دیکھا او راپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی ۔۔۔ اسلام وعلیکم اعظم چاچا ۔۔۔۔
ساتھ ہی اپنا سر اگے کیا ۔۔۔ جیسے پہلے کرتی تھی ۔۔۔
اعظم چاچا وعلیکم سلام ہچکچاہتے ہوئے کہا۔ ساتھ ہی وانیہ کو دیکھا پر ارشیا ابھی بھی سر اگے کیے ہوئے تھے انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔
ارشیا نے اعظم چاچا کو دیکھ ۔۔ کیسے ہیں اعظم چاچا ۔۔۔۔۔ اپکا بیٹا ہے کیسا ہے ۔۔۔۔ پوچھا ۔۔۔
پر اعظم چاچا وانیہ کی موجودگی میں کافی ہچکچا رہے تھے وہ ارشیا کو جواب دینے سے پہلے وانیہ کو دیکھتے ۔۔۔۔
ارشیا نے ان کو دیکھ کیا ہوا اعظم چاچا ۔۔۔ میں ابھی بھی وہی ارشیا ہوں ۔۔۔ اپ کیوں ہچکچا رہے مجھ سے بات کرنے میں ۔۔۔۔۔پھر وانیہ کو دیکھتے ۔۔۔۔۔۔ وانیہ اپ جاؤ مجھے کچھ چاہیے ہو گا میں اپکو بولا لوں گی ۔۔۔۔
وانیہ بھی پروفیشنل سمائل دیتے اوکے میم بولتے باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے جانے کے بعد ارشیا نے پھر سے ۔۔۔ کیسے اعظم چاچا ۔۔۔۔ شہیر کیسا ہے ۔۔۔۔ جاب لگ گئی اسکی ۔۔۔
اعظم چاچا نے چائے بنانی شروع کی ۔۔ میں ٹھیک ہوں بیٹا ۔۔ بس اب عمر ہو گئی ہے تھوڑی تو اکثر طبیعت اوپر نیچے ہو جاتی ہے ۔۔۔ شہیر بھی ٹھیک ہے اسکی جاب لگ گئی ۔۔۔ انہوں نے چائے بنا کر ارشیا کو دی ۔۔
ارشیا چائے لیتے تو پھر اپ اب جاب کیوں نہیں چھوڑ دیتے ۔۔۔ شہیر کی جاب لگ جو گئی ہے۔۔۔۔ اپ ہی تو کہتے تھے نا کہ اسکی جاب لگ جائے اس سے اگلے دن اپ جاب چھوڑ دیں گے ۔۔۔
اعظم چاچا چائے کے ساتھ لایا سامنے اسے دیتے بیٹا سوچا تو یہی تھا پر اب اتنی عادت ہو گئی ہے اس سب کی کے دل نہیں کرتا ۔ اور فارغ رہ کر بھی کیا کروں گا۔ روز اتا ہوں سب سے مل لیتا ہوں ۔ میرا دن بھی گزر جاتا ۔۔ ۔۔ ورنہ ایک دن کام پے نہ آؤ تو لگتا کچھ ادھورا رہ گیا۔۔۔۔ اب تو خواہش ہے کہ ایسے چلتے پھرتے ہی جان نکل جائے ۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا نے اعظم چاچا کو دیکھتے ۔۔۔۔ شہیر کی شادی کا کچھ سوچا۔۔۔
ہاں ۔لڑکی بھی دیکھ لی ہے ۔۔ چوشی سے بتاتے ۔۔۔۔ میری بیوی کی بہن کی بیٹی ہے بہت پیاری بچی ہے ۔۔۔۔ پھر اعظم چاچا نے اسے سب کچھ بتایا لڑکی کے بارےمیں وہ بھی چائے پیتے پیتے سنتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اعظم چاچا چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشیا نہیں جانتی تھی کہ اشعر نے اعظم کے لیے کیا کیا ہے کیوں وہ بار بار اشعر کو دعا دیتے ۔۔۔جاتے ہوئے بھی وہ اشعر اور ارشیا کو اچھی زندگی کی دعا دے کر گئے ۔۔۔۔
وہ شخص کیا تھا اگر وہ خود سے کہتی کہ وہ اشعر کو جانتی ہے تو غلط ہوتا ۔ کیونکہ وہ اسے نہیں جانتی تھی ۔۔۔ وہ ہمیشہ اپنی باتوں سے اپنی حرکتوں سے اسے سرپرائز کر دیتا ۔۔ اسکے جواب جو وہ ارشیا سے اپنی محبت جتاتے وقت دیتا ہمیشہ اسے لاجواب کردیتے ۔۔۔ اشعر ہر جگہ اسکی عزت کرنا اور کروانا
جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب سے مختلف سب سے الگ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر معاملے میں ۔۔۔۔۔چاہے بات سعدیہ کی ہو یا ارشیا کی ہو یا اس سے جوڑے رشتوں کی ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ جانتی تھی کہ ارشیا ائی ہوئی ہے پوراافس جانتاتھا یہ بات ۔۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اسے جا کر ملے پر پہلے وہ صبیحہ سے ملنا چاہتی تھی پر صبیحہ تو اس دن کے بعد ایسی غائب رہتی تھی کہ کب اتی کب جاتی کسی کو نہ پتہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔وہ اج ائی تھی آفس اپنے بابا کے ساتھ پرہانیہ کی اس سے ملاقات ابھی تک نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صبیحہ کا ری ایکشن دیکھنا چاہتی تھی ارشیا کو ایز مسز اشعر دیکھ کر ۔۔۔ اج افس میں بہت اپمورٹنٹ میٹنگ تھی اسلیے سارے سینیئر ز کلائنٹس یہاں تک کے افس کے کچھ امپلائی بھی ادھر بزی تھے ۔۔۔ اسلیے ہانیہ بھی سب کام چھوڑے صبیحہ کے ڈپارٹمنٹ میں اسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ چاہتی تھی کہ صبیحہ اور وہ ارشیا سے اکھٹے جا کر ملیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ صبیحہ شاید نہیں جانتی تھی کہ اشعر کی بیوی ارہی اج ورنہ وہ شاید نہ اتی پر اسکی قسمت میں اج انا لکھا تھا ۔۔۔ جب سے اسے پتہ چلا تھا وہ اپنے کیبن سے باپر نہیں نکلی تھی نہ ہی میٹنگ میں گئی تھی ۔۔۔۔ وہ واپس گھر جانے کے لیے نکلی ۔۔۔ کہ ہانیہ جو اسکا ویٹ کر رہی تھی اسنے اسے پکڑ لیا ۔۔۔۔

Exit mobile version