برف کی حسرت

پیر چناسی پر برف کی حسرت لے کر گئے تھے مگر وہ حسرت، حسرت ہی رہ گئی۔ پیر چناسی سے واپسی پر ہماری حالت کسی بیوہ سے کم نہیں تھی، چہرے پر وہی افسردگی، غم اور رنج لئے ہم واپسی کا سفر کاٹ رہے تھے، واپسی کا سفر ہمیں قبر کا سفر لگ رہا تھا ۔ اب گاڑی میں میوزک بھی اسی حساب سے چل رہا تھا، ذرا کان 👂 کھول کر سنیں
"یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں۔۔۔۔۔۔ میرے کام کی نہیں
کس کو سناؤں حال دل بے قرار کا بجھتا ہوا چراغ ہوں اپنے مزار کا”
اس وقت ہماری حالت اور چہرے کے خدو خال کچھ اس طرح یتیمانہ قسم کے بن گئے تھے کہ اگر ہم تھوڑا ریسٹ کرنے کی خاطر ہی کہیں چہل پہل والی جگہ پر بیٹھ جاتے تو اچھے بھلے پیسے بن جاتے۔ ہم انہیں دار پر لٹکے چہروں کے ساتھ واپسی کی راہ پر گامزن تھے، ہمارا ارادہ اب یہ تھا کہ مری پہنچ کر آنٹی کے گھر سے سامان اٹھائیں، اجازت لیں اور واپسی کے لئے نکلیں کیونکہ میں بغیر کسی درخواست کے چوتھے روز سے چھٹی پر تھا، اور سب سے بڑی پریشانی کی بات یہ کہ کالج کے آفس سے ابو جان کو فون کر کے باقاعدہ اطلاع تک دی جا چکی تھی کہ آپ کے لونڈے کا نام بوجہ مسلسل غیر حاضری سٹرک آف کر دیا گیا ہے یہ تو شکر ہے کہ مابدولت نے بابا سائیں کے خانے میں بھی اپنا ہی دوسرا نمبر لکھا تھا تو ہم نے خود کا مائی باپ بنتے ہوئے اپنی ہی آواز میں مزید غصہ لاکر گرجتے ہوئے سر کو کہا کہ” جناب میں ابھی اس نامراد خبیث کو فون کرتا ہوں کہ کیوں پڑھنے نہیں آ رہا” تو ایسے سر کو بھی شک نہ ہوا اور ہماری بھی بچت ہو گئی ورنہ ابو جان نے مجھے جائیداد سے عاق کر کے خاک کر دینا تھا ، یہی باتیں سوچتے سوچتے ہم نتھیا گلی تک پہنچ گئے، نتھیا گلی میں ہر طرف برف ہی برف پڑی تھی، وہ برف ہمیں برف کم، سفید زہریلی شعائیں زیادہ لگ رہی تھیں جنہیں دیکھ کر ہماری آنکھوں کو مسلسل ہارٹ اٹیک کے بڑے بڑے جھٹکے لگ رہے تھے ، انہیں جھٹکوں کے ساتھ ہی ہم نتھیا گلی کی خوبصورت سی گلیوں میں اپنے شدید نحوست پر مبنی چہرے لئے جا رہے تھے۔ مسلسل خاموشی اور شرافت زوہیب بھائی کے لئے کسی گالی سے کم نہیں تھی تو ایک خوبصورت سی جگہ جہاں بہت خوبصورت سے برف پڑی تھی دیکھ کر زوہیب بھائی نے رکنے کا حکم دیا اور ہم نیچے اتر کر اردگرد کا جائزہ لینے لگے کہ اتنی دیر میں شوں کر کے میرے قریب سے برف کا ایک گولہ گزرا ، میں نے دوسری طرف دیکھا تو زوہیب بھائی ہاتھ میں دوسرا گولہ لئے کسی وحشی درندے کی طرح میری طرف بھاگ رہے تھے کہ اتنی دیر میں ہمارے اندر کا رونالڈو بیدار ہوا ہم نے نیچے پڑی برف کو زور سے ایک عدد لات رسید فرمائی ، برف زوہیب بھائی کے سیدھا تھوبڑے پر پڑی اور ان کا گولے کا نشانہ ہمارے منہ کی بجائے ہاتھ پہ لگا، پھر تو جی فٹبال کا باقاعدہ عالمی مقابلہ شروع ہو گیا، زوہیب بھائی نے ہماری شان میں تابڑ توڑ حملے کئے اور آخر میں شکست کا منہ دیکھ کر نیچے پڑا ایک چٹان اٹھا کر ہمیں مارنے کی کوشش کر رہے تھے ، یہ تو شکر ہے وہ چٹان وزن میں زوہیب بھائی کا بڑا بھائی نکلا اور ہم ان دونوں کے شر سے محفوظ رہے، اس ساری انٹرٹینمنٹ کی ویڈیو بنانے کا شرف مجتبیٰ بھائی نے حاصل کیا۔
یہاں سے تھوڑا سا فریش ہو کر ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا۔ راستوں پر بہت برف پڑی تھی، جہاں پر برف جمی نہیں ہوئی تھی وہاں تو کوئی خاص مسئلہ نہیں ہو رہا تھا لیکن جہاں پر برف جمی ہوئی تھی وہاں پر گاڑی بار بار پھسل رہی تھی اور بہت زیادہ احتیاط سے ڈرائیو کرنا ناگزیر تھا کیونکہ گاڑی کے سلپ ہونے کا انجام بہت خطرناک ہو سکتا تھا، ایک طرف کھائی تھی دوسری طرف برف سے جمی پہاڑیاں۔ تو بس اسی حساب سے ہم بہت احتیاط سے گاڑی چلا رہے تھے، ہمارے آگے جو گاڑی جا رہی تھی اس سے ہمارا فاصلہ کوئی پانچ سات میٹر تک کا تھا، ہم ابھی غم میں ہی مکمل طور پر ڈوبے ہوئے تھے کہ ہمیں ہمیشہ کے لیے ڈبونے کی ایک بھرپور کوشش کرتے ہوئے ہم سے آگے والی گاڑی نے جونہی موڑ کاٹنے کی کوشش کی ان کی گاڑی سلپ ہو گئی اور دائیں جانے کی بجائے بائیں پہاڑیوں میں جا لگی، ہماری گاڑی بھی ان کی مریدی کا شرف حاصل کرتے ہوئے سلپ ہو کر سیدھی ان برف کی پہاڑیوں میں جا لگی جن کو آسمان سے موتیوں کی صورت میں گرتے ہوئے دیکھنے کی حوس ہمیں ہزار کلومیٹر دور سے کھینچ کر یہاں لائی تھی۔ گاڑی جب سلپ ہو رہی تھی تو ہمارے پاس دو آپشن تھے ، اگر ہم دائیں جانب جاتے تو وہاں پر بچنے کے ساتھ ساتھ نیچے کھائی میں بھی گرنے کے قوی امکانات روشن نظر آ رہے تھے اور اگر ہم خدانخواستہ کھائی میں گرتے تو ہماری ہڈیاں اور زوہیب بھائی کی بوٹیاں تک کسی کو نہ ملتیں، تو ہم نے جان بوجھ کر گاڑی مار دی کہ گاڑی جائے بھاڑ میں یہ ننھی سی جان ہے تو جہان ہے پیارے۔
نیچے اترے تو دوسری گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے ایک انکل ہنستے ہوئے نیچے اترے کہ او ہو آپ کی گاڑی بھی لگ گئی، دل میں خیال آیا کہ انکل کو جواب دیں کہ نہیں انکل گاڑی کو ذرا بھوک لگی ہوئی تھی تو سسرے کی توند میں ذرا برف ٹھونسنے کے لئے ٹھوک دیا۔ ہماری گاڑی مکمکل طور پر برف میں پھنس چکی تھی، ہماری گاڑی کے اگلے دونوں ٹائر اور بونٹ تک برف میں دھنسے ہوئے تھے، مجتبیٰ بھائی گاڑی میں بیٹھ گئے ، میں زوہیب اور دوسری گاڑی کے دونوں لوگ، ہم سب نے گاڑی کو پیچھے کی طرف دھکا لگایا کہ شاید گاڑی نکل جائے لیکن مجال ہے جو اس بےغیرت کے سر پر جوں تک رینگی ہو، اس موقع پر میں نے ایک ویڈیو بھی بنائی جس میں مابدولت گاڑی کے ٹائروں سے برف نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پھر بعد میں اپنے بوٹوں میں بھر جانے والی برف نکال رہے جس کے دوران اس حد تک ہانپ رہے جسے سن اور دیکھ کر آپ کو ایسا لگے گا جیسے سائیں ابھی ابھی اولمپکس میں دوڑ کے عالمی مقابلے میں سب کو پچھاڑ کر آ رہے ہوں۔ اتنی دیر میں انکل کی گاڑی آرام سے پہلی ہی کوشش میں باہر نکل آئی اور وہ سلام دعا کہے بغیر وہاں سے چلتے بنے ، اب ہم مزید پریشان کہ مغرب کے بعد کا وقت ہے ، نیٹ ورک کام تک نہیں کر رہا اور پھر اوپر سے المیہ یہ کہ جس بھی گاڑی والے کو مدد کے لیے روکتے،رک تو وہ فوراً جاتے ،لیکن پھر موبائل کیمرہ نکالتے ، تصاویر ویڈیوز بنا کر غائب ہو جاتے جیسے ہم وہاں مدد نہ مانگ رہے ہوں بلکہ نعوذباللہ مجرا فرما رہے ہوں۔ ایک بہت بڑی ہٹی کٹی مصیبت کو ساتھ لانے کے باوجود ہمارے اوپر آفتوں اور پریشانیوں کے پہاڑ ٹوٹتے رہے ، لوگ مدد کرنے کی بجائے تصاویر بناتے رہے، یونیورسٹی سے نام خارج ہو گیا، ان سب حالات سے دل برداشتہ ہو کر ہم شادی ہی کرنے کا فیصلہ دل میں فرمانے ہی والے تھے کہ ایک فور بائی فور گاڑی ہمارے پاس آ کر رکی، ہم انہیں دیکھ کر تصویر والی پوز ہی بنا رہے تھے کہ ایک جناب باہر نکلے اور پوچھا کہ بھائی کوئی چوٹ ووٹ تو نہیں لگی نا سب خیریت ہے نا؟؟ وہ بھائی وہاں کے لوکل تھے اور ان کی یہ شفقت دیکھ کر ہمارا دل کیا کہ اٹھ کر ان کو کسی چڑیل کی طرح چمٹ جائیں اور آنسوں کی ایک آبشار ادھر ہی بہا دیں۔ ان کو مکمکل تفصیل سے ساری بات بتائی انہوں نے پھر خود ہی اپنی گاڑی سے زنجیر نکالی ، ہماری گاڑی پر فٹ کیا اور ایک ہی کوشش میں الحمدللہ ہماری گاڑی باہر نکل آئی، افسوس کہ یہ لمحہ میں کیپچر نہ کر سکا۔ ہم نے ان کا ڈھیر سارا شکریہ ادا کیا اور اپنی راہ لی۔
اندھیرا اردگرد کے ماحول پر مکمکل اثر انداز ہو چکا تھا، سڑک پر برف کی وجہ سے ڈرائیو کرنا آسان نہ تھا خاص کر ان لوگوں کے لیے جو پہلی دفعہ ایسے علاقوں میں سفر کر رہے تھے، اسی وجہ سے ٹریفک سلو تھی بہت اور بار بار گاڑی سلپ ہو رہی تھی اور اگر کہیں پہ رک جاتی تو دوبارہ اس کو چلانے کے لئے ہمیں دھکا لگانا پڑ رہا تھا، ایک جگہ پہ تو مکمل طور پر سڑک بہت زیادہ خراب تھی وہاں پر گاڑی چل ہی نہیں رہی تھی، تو مسلسل ایک آدھ کلومیٹر تک ہر دس سیکنڈ بعد ہمیں دھکا لگانا پڑا اور وہاں مسلسل تین کلو میٹر تک میں اور زوہیب بھائی پیدل چلے، اس شدید سردی کی رات جب ٹمپریچر منفی میں تھا، مسلسل چلنے کی وجہ سے میں نے زوہیب بھائی کے بلیک اینڈ فیٹ (black and fat) ماتھے پر سے گرتے ہوئے پسینے کے پرلے درجے کے انتہائی واحیات قطرے اپنی ان نورانی آنکھوں سے دیکھے اور حیرانگی کے عالم میں پوچھا زیبی یہ کیا ہے؟ اتنی شدید سردی میں پسینہ؟؟ تو زوہیب بھائی نے وزن اٹھانے والے کسی خوبصورت جانور کی طرح ہانپتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیا کہ اب آگے میری لاش ہی جائے گی میں تو نہیں جاؤں گا، مجھے یہ لگا کہ زوہیب بھائی کو شاید ہارٹ اٹیک کا کوئی جھٹکا وٹکا لگ رہا ہے تو ایک اشتیاق پیدا ہوا کہ زوہیب بھائی کو تھوڑا مزید پیدل چلایا جائے کیا پتہ آج ہمیں ان سے مکتی ہی مل جائے، میں نے کہا کہ ابھی مجتبیٰ بھائی کا میسج آیا ہے وہ ایک دو منٹ کے فاصلے پر آگے کھڑے ہمارا انتظار کر رہے ہیں(وہاں نیٹ ورک کا نام و نشان تک نہیں تھا) کہ آؤ چلیں تاکہ وقت پر مری پہنچ کر پھر اسلام آباد کے لئے نکلیں، میں نے دیکھا زوہیب بھائی اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے کسی جرمن شیفرڈ کی طرح مسلسل ہانپے جا رہے ہانپے جا رہے اور پھر اچانک سے چلنا شروع ہو گئے، میرے قریب آئے، رکے،اک نظر مجھے دیکھا اور ایک ہی دم آگے بھاگ پڑے اور میں بھی ہنستے ہوئے زوہیب بھائی کے پیچھے بھاگ پڑا جو کہ اس وقت پاگل خانے سے چھوٹا ہوا کوئی آدم خور لگ رہا تھا۔ اور جلد ہی ہم گاڑی میں پہنچ گئے لیکن افسوس زوہیب بھائی کو بڑا تو کیا چھوٹا ہلکا پھلکا سا اٹیک بھی نہیں آیا۔

Exit mobile version