دہشت گرد پینٹ کا قصہ

اماں جی والد مرحوم کی آدهی ماہانہ پنشن لیتی ہیں۔ نیشنل بنک میں اُنکا اکاؤنٹ ہے۔
بنک سے اُوپر تلے تین چار بار میسج آیا کہ اکاؤنٹ کی بائیومیٹرک تصدیق کروا لیں ورنہ بعد میں مسلئہ ہو گا۔
بوجہ عمر والده محترمہ اب ایک ضعیف عورت کم اور چهوٹی سی لڑنے بهڑنے والی ،، کاکی ،، زیاده بن چکی هیں ۔ اُنہیں نہلایا دهلوایا ۔کنگهی کروائی ۔ تبت پاؤڈر لگایا ۔ کچھ پاوڈر ان کے پلو میں باندها ، تهوڑی سی لپ سٹک لگا کر ٹشن مشن کیا اور پهر کار نکال کر اُن کے کمرے کی سائیڈ پر کهڑی کر دی ۔
بیٹے نے کار کا دروازه پکڑ کر رکها ، میں اماں جی کو کاندهے پر اُٹها کر لایا اور پچهلی سیٹ پر بٹها کر بنک کو چل دیا ۔ بنک والی سائیڈ پر گاڑی کهڑی کرنے کی جگہ نا تهی سو دور سے یو ٹرن لیکر واپس آیا اور کار سڑک کے دوسری طرف بنک کے بالمقابل کهڑی کر دی ۔ اے سی چلتا چهوڑا اور خود بنک میں چلا گیا تا کہ مشین باهر لا کر اماں جی کا انگوٹها لگوا سکوں ۔
بنک مینیجر صاحب نے کہا کہ همارے پاس پورٹیبل بائیومیٹرک مشین نہیں هے ۔۔آپ اپنی والده کو اندر لائیں ۔
واپس آ کر اماں جی کو بات سمجهائی کہ ۔ اماں جی آپ کو بنک کے اندر لے جانا هو گا ۔وه تهوڑی سی لڑائی بهڑائی کر کہ مان گئیں ۔ اُنہیں دوباره کندهے پر اُٹهایا اور سڑک پار بنک کو چل دیا ۔
آدهے راستے بیچ سڑک پہنچا تو هلکی سی ،،کڑک ،، کی آواز آئی ۔ غور کیا تو پینٹ نیچے سرکتی محسوس هوئی ۔ اندازه لگایا کہ بیلٹ کے لاک میں سے بیلٹ باهر نکل کر فری هو چکی اور پینٹ نیچے گرنے کو تیار هے ۔
اب میں والده کو کندهے پر اُٹهائے سڑک کے درمیان کهڑا هوں ۔ پینٹ سنبهالوں تو والده کے گرنے کا خطره اور والده سنبهالوں تو پینٹ نیچے جانے کو تیار ۔ عجیب بے بسی کی سی صورت حال تهی ۔
آخر دو تین لمبے لمبے سانس لیکر دائیں هاتھ سے والده کو سینے کے ساتھ مزید چمٹایا ۔ بائیں هاتھ سے پینٹ قابو کی اور اوکها سوکها سیڑهیاں چڑهتا بنک کے اندر مشین کے پاس جا کر اماں جی کا انگوٹها لگوایا ۔
مشین نے والده کے انگوٹهے کی تصدیق سے انکار کر دیا ۔ تب بنک مینیجر صاحب نے کہا کہ چهیاسی ستاسی سال کی عمر میں بسا اوقات انگوٹها میچ نہیں کرتا ۔۔آپ نادره آفس جائیں ۔ وه آپ کی تصدیق کرینگے ۔
اِسی دوران میں واش روم میں دانتوں تلے دبا کر بیلٹ کی مرمت کر چکا تها لیکن اندازه یہ لگایا کہ مرمت سے کام چلنے والا نہیں ۔
دوباره پهر والده کو کرسی سے اُٹها کر سینے لگایا اور دائیں کاندهے سے چمٹا کر باهر کار کی طرف چل پڑا۔ بایاں هاتھ خالی رکها تا کہ بوقت ضرورت اپنی دهشت گرد پینٹ کو سنبهال سکوں ۔
بنک کی سیڑهیاں اُترتے هوئے دوباره ،، کڑک ،، کی آواز آئی اور پینٹ تهوڑی نیچے جاتی محسوس هوئی ۔میں پہلے سے هی تیار تها ۔ ایک دم بائیں هاتھ سے پینٹ کو پکڑ کر اُوپر کهینچا ،، جاندی کتهے ویں ،، اور یونہی دائیں هاتھ سے والده کو اُٹهائے ، بائیں سے پینٹ کو تهامے اماں جی کو جا کر کار میں بٹها نادره کے دفتر چل پڑا ۔
نادره آفس پہنچا ۔ پهر یہی مشق دهرائی ۔ دائیں هاتھ سے اماں جی کو سینے سے لگا کر اُٹهایا ۔ بائیں سے پینٹ کو پکڑے رکها اور اندر چلا گیا ۔
نادره والے دوستوں نے اپنی تسلی کر کہ مجهے اماں جی کی بائیو میٹرک تصدیق کا ایک لیٹر دے دیا کہ جا کر بنک والوں کو د ے دیں ۔ آپ کی تصدیق هو گئی ۔
واپس گهر پہنچا تو اماں جی اور چهوٹے بیٹے کی خوب لڑائی هوئی ۔ اماں جی بیٹے کو کہہ رهی تهیں کہ جب میں بنک میں تهی تو تم نے میرے بادام چوری کر کہ کها لئے ۔ بیٹا اِس الزام سے انکاری تها۔
تهوڑی دیر بعد دیکها تو بیٹا اپنی دادی کی گود میں سر رکھ کر لیٹا تها اور دادی اماں اُس کے مونہہ میں بادام ٹهونس رهی تهیں ۔
****
ملک عبدالغفور

Exit mobile version