فلسفۂ محبت

خاتون نے کہا میرے شوہر بے پناہ چاہتے ہیں مجھے ۔۔۔ خاندان بھر میں انکی محبت کی مثال دی جاتی ہے اور میری بہنیں رشک کرتی ہیں مجھ پر اور  وہ برملا اس کا اظہار اور اقرار بھی کرتے ہیں ۔

میں نے ایک بار شروع سالوں میں اپنے شوہر سے پوچھا اگر مر جاؤں تو کیا دوسری شادی کر لیں گے ۔۔۔ انہوں نے بنا وقت لیئے کہا ہاں ضرور کر لوں گا ۔۔

میں نے پوچھا یہ کیسی محبت ہے ۔۔ کہنے لگے زندگی کا تسلسل چلانے کے لیئے یہ ضرورت ہے اور ضروری ہوگا ۔۔ میری جسمانی ضرورت ۔۔ معاشرتی ضرورت اور بچوں کے لیے ۔۔۔ میں نے غور کیا تو مجھے درست لگا ۔۔

اس سب کے بیچ میں محبت کہاں ہے ۔ ؟ یہ محبت نہیں انسانی ضرورت ہے بس ۔۔۔۔

اگر محبت کرنی ہے تو دنیا داری کاہے کی ۔۔  خود کو تیاگ دینے کا نام محبت ہے ۔۔۔ کسی لین دین سے ماورا بس خیالِ یار کافی ہے ۔۔۔ جو محبت کرتے ہیں وہ پھر کچھ اور نہیں کر سکتے ۔۔ انکی بیٹھک کمزور ہو جاتی ہے ۔۔۔ انکی آ نکھوں کے رنگ بدل جاتے ہیں ۔۔ محبت ایک آ گ ہے ، ایک تڑپ ہے ، ایک لگن ہے ۔ جس کو لگ جائے اسے دنیا داری کی احتیاجات سے بانجھ کر دیتی ہے ۔۔۔ محبت میں نفسانی خواہشات کو کوئی دخل نہیں نہ ہی  دو مردو زن کو اکٹھا کر دینے کا نام محبت  ہے ۔۔ محبت ذہنی سکون ، طمانیت یا جسمانی ملاپ کا نام بھی نہیں ہے ۔۔۔ ان تمام خواہشات سے پرے محبت ایک الوہی پرندہ ہے جو ہر بام پر نہیں چہچہاتا  ۔۔۔

کوئی مخالفت کرنا چاہتا ہے تو بصد شوق ۔۔۔

Exit mobile version