حنان کی نفرت

ٹراٸی سرکل کمپنی کے دو پارٹنر تھے، ایک مصطفی اور دوسرے امان سبزواری۔ کافی پہلے مصطفی صاحب اپنے شیٸرز شہریار کے نام کرکے خود باہر سیٹل ہوگۓ تھے۔ علی اور حنان نے بھی اسے سال کمپنی کے شیٸرز خرید لۓ تھے اسطرح وہ بھی ٹراٸ سرکل کا حصہ بن گۓ تھے۔ انکے آنے کے بعد تو کمپنی کو چار چاند لگ گۓ۔ ٹراٸ اسٹار کو ینگسٹرز چلا رہے تھے۔اور یہ ایک خوش آٸند بات تھی۔ چند مہینوں بعد امان سبزواری کا انتقال ہوگیا۔ اور انکے نام کے شیٸرز انکی بیٹی کے ماہین کے نام پر ٹرانسفر ہوگۓ۔ اور یوں چند مہینے بعد ماہین نے بھی کمپنی میں اپنے جگہ سنبھال لی۔
شروع شروع میں وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی لیکن پھر آہستہ آہستہ اسکی ان تینوں سے بھی دوستی ہوگٸ۔ لیکن اس وقت وہ نہیں جانتی تھی کہ حنان شاہ اسکے لۓ دوستی سے بڑھ کر جذبات رکھتا ہے۔
————*————–*———-*
وہ چھٹی کا ایک دن تھا جب علی اور شہریار ، حنان کے گھر میں موجود تھے۔ موضوع گفتگو تھے حنان اور ماہین
”ابے یار۔۔۔۔۔ ساری زندگی لڑکیاں تجھ پر مرتی آٸیں ہیں، اور تو انہیں گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔ اور اب تجھے ایک لڑکی پسند آبھی گٸ ہے تو تجھ سے اتنی ہمت نہ ہوٸ کہ جاکہ اسے بول ہی دے“ علی نے چپس کھاتے ہوۓ اسے لتاڑا
”تو کیا کروں؟“ حنان نے بے بسی سے پوچھا تو باقی دونوں نے اسے گھورا
”اتنی دیر سے ہم بکواس کر رہے ہیں؟ ہمارے سمجھانے کا کوٸ اثر ہی نہیں ہوا تجھ پر؟ جا اور جاکے ماہین کو بول دے کے تو اسے پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے“ شہریار نے اسے کہا
”اور اگر اس نے انکار کردیا تو؟“ حنان نے پوچھا تو ان دونوں نے اپنا سر پیٹ لیا
”اے بھاٸ۔۔۔ کیوں انکار کریں گی وہ کوٸ کمی ہے کیا تجھ میں؟ ایک سے ایک لڑکیوں کی لاٸن لگی ہے بھاٸ تیرے پیچھے“ علی نے اسے سمجھایا
”مرد بن حنان۔۔۔ مرد بن۔ اور جا جاکے اسے پرپوز کردے اور اگر اس نے تیرا سر پھاڑ دیا تو فکر مت کر ہم ہیں ناں۔۔۔ ہم تیرے چنے پڑھ دینگے“ شہریار نے کہا تو علی نے بھی زور و شور سے اسکی ہاں میں ہاں ملاٸ۔
پھر انکے سمجھانے کا یہ اثر ہوا کہ وہ اگلے دن ماہین کے سامنے تھا۔ لیکن خاصا کنفیوژ
”بول بھی دو حنان کیا کہنا چاہتے ہو؟ آدھے گھنٹے سے یہاں بیٹھایا ہوا ہے مجھے لیکن نہ تم خود کچھ بول رہے ہو نہ ہی کچھ کھانے کو آرڈر کر رہےہو“ ماہین نے بے زاری سے اس سے کہا۔
”وہ ۔۔۔۔ اصل میں ماہین۔۔۔۔۔ بات دراصل یہ ہے۔۔۔۔۔۔“ وہ لڑکا ہوکہ نروس ہورہا تھا
”اف۔۔۔ اب بول بھی چکو“
”میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں“ اس نے جلدی سے بولا اور پانی کاگلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا جیسے کوٸ بہت بڑا معرکہ سر کر کے آیا ہو۔ جب کہ ماہین کی پوری آنکھیں حیرت سے پھیل گٸ تھیں
”تت۔۔۔ تم مذاق کررہے ہو“ اتنی دیر بعد ماہین نے پوچھا بھی تو کیا
”ماہین میں سچ کہہ رہا ہوں میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے آج تک کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ تم وہ پہلی لڑکی ہو جسے میں نے پسند کیا ہے اور جس سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ تم سوچ لو لیکن جواب ہاں میں ہی دینا“ ماہین نے سوچا اور ٹھیک دو دن بعد اسے ہاں مےں جواب دے دیا۔ علی اور شہریار کو پتا چلا تو ان دونوں نے حنان کے کمرے میں ہی دھاوا بول دیا اور ”ٹریٹ، ٹریٹ“ کا وہ شور مچایا کہ حنان کو انہیں ٹریٹ دینی ہی پڑی۔
سب خوش تھے بہت خوش پھر انکی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گٸ۔
———*————-*————–*
وہ لوگ ایک دعوت میں کمال صاحب کے گھر انواٸیٹ تھے۔ سب ہی موجود تھے سواۓ حنان کے اس نے آنے سے معزرت کرلی تھی اور وہ بھی نہیں بتاٸ تھی۔ علی اور شہریار تو دوسرے لوگوں سے ملنے میں مصروف تھے، ماہین اکیلے کھڑی بور ہورہی تھی۔ جب اسکے پاس کمال صاحب کی سب سے چھوٹی سالی شزا آکھرے ہوٸ۔ اس پارٹی میں گمال صاحب کی فیملی بھی موجود تھی
”ہیلو۔۔۔۔“اس نے ماہین کے پاس آکے انتہاٸ دوستانہ انداز میں پوچھا تو ماہین کو حیرت ہوٸ کیونکہ علی وغیرہ نے اسے بتایا تھا کہ شزا بہت ہی مغرور لڑکی ہے اس سے زیادہ بات نہ کرنا
”کیا ہوا اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو“ اس نے مسکراتے ہوۓ ماہین سے پوچھا
”نہیں کچھ نہیں۔۔۔ آپ کیسی ہیں؟“ ماہین نے اپنی حیرت پہ قابو پاتے ہوۓ پوچھا
”تمہاری منگنی ہوگٸ ہے ناں!!! سوری میں تمہیں مبارک باد نہیں دے سکی تھی۔ بہت مبارک ہو“ شزا نے کہا
”اوہ۔۔۔۔۔بہت شکریہ، اب تو میری منگنی کو ڈیڑھ ماہ ہوگۓ ہیں“
”اور وہ تمہارا منگیتر حنان۔۔۔۔ وہ نہیں آیا؟“ شزا نے پوچھا
”نہیں اسے کوٸ کام تھا“
”ایسا کیا کام تھا؟“
”پتہ نہیں مجھے بتایا نہیں اس نے“
”بتاۓ گا بھی نہیں“ شزا نے عجیب سے انداز میں کہا
”کیا مطلب؟“ اس نے ناسمجھی سے پوچھا
”کچھ نہیں یہ بتاٶ کے تم حنان کی فیملی سے ملی نہیں اب تک؟“
”نہیں اسکی فیملی لاہور میں ہوتی ہے اور جلد ہی حنان مجھے ان سے ملوا دے گا“
”نہیں ملواۓ گا وہ، اس نے مجھے بھی اپنی فیملی سے نہیں ملوایا تھا“
”کیا بکواس کررہی ہو“ ماہین دبے دبے غصے سے بولی
”یہ بکواس نہیں یہ سچ ہے تم سے پہلے اس نے مجھے پرپوز کیا تھا اور پھر چند مہینے بعد مجھ سے دور ہو تا گیا اور پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا تمہیں تو اس نے انگھوٹی بھی پہنا دی مجھے تو نہ اس نے انگھوٹی دی نہ اپنی فیملی س ملوای“
”تم جھوٹ بول رہی ہو الزام لگا رہی ہو حنان پر۔ وہ ایسا نہیں ہے اس نے آج تک کسی لڑکی کو۔۔۔۔۔۔“ماہین بول رہی تھی مگر شزا نے اسکی بات کاٹ دی
”نظر اٹھا کر نھیں دیکھا۔۔واٹ ایور یہی ساری باتیں اس نے مجھ سے بھی کہی تھی پھر میں اسکے جھانسے میں بھی آگٸ، اگر اسے تم سے سچی محبت ہوتی تو فیملی سے بھلے نہ ملواتا ایٹ لیسٹ تمہاری ان سے بات تو کروادیتا۔ لیکن وہ ایسا کیوں کریں گا اسے تو ایک کے بعد ایک لڑکی کے جذبات سے کھیلنے کی عادت ہے“ شزا نے چڑانے والے انداز میں کہا
”بات سنو۔۔۔۔۔۔تمہاری کسی بھی بکواس پر مجھے کوٸ یقین نہیں ہے۔“ ماہین نے غصے سے کہا
”تو تم پھر بنتی رہو بیوقوف اسکے ہاتھوں“ اس نے نفرت سے ہنکارا اور وہاں سے چلی گٸ۔
”مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا“ وہ غصے سے کہتی پارٹی چھوڑ کر چلی گٸ سارے راستے وہ شزا کی باتیں ہی سوچتی رہی۔ پتہ نہیں دل میں کیا خیال آیا کہ اس نے گاڑی حنان کے گھر کی جانب موڑ لی۔ گارڈ نے اسے دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا۔ وہ خاموشی سے اندر کی طرف گٸ یہ سوچ کر کہ وہ حنان کو سرپراٸز دے گی۔ لیکن اندر کا منظر دیکھ کر وہ ساکت رہگٸ۔
لاٶنج میں صوفے پر حنان بیٹھا تھا اور اسکے برابر کوٸ لڑکی بیٹھی تھی۔ حنان نے صوفے پر اپنا بازو پھیلایا ہوا تھا اور خوشگوار انداز میں اس سے باتیں کررہا تھا۔ جس طرف ماہین کھڑی تھی، وہاں سے وہ ان دونوں کو دیکھ سکتی تھی، البتہ لڑکی کا چہرہ نہیں دکھ رہا تھا۔ پر وہ دونوں ماہین کو نھیں دیکھ سکتے تھے
”آپ کا تو دل ہی نہیں بھرے گا مجھ سے باتیں کرکے، ٹاٸم کا بھی خیال نہیں ہے آپکو۔ مجھے دیر ہو جاۓگی۔“ لڑکی نے نخریلے سے انداز میں کہا تھا۔ ماہین اسکا چہرہ نہیں دیکھ پارہی تھی۔ حنان لڑکی کی بات پر ہنسا تھا
”ارے۔۔۔۔۔ کیوں فکر کرتی ہو تم، نہیں ہوگی دیر۔ ایک تو تم اتنی عرصے بعد اپنے چہرہ دیکھارہی ہو اوپر سے جلدی جلدی کا شور مچایا ہوا ہے“
”اگلی بار آٶنگی نہ تو زیادہ دیر کے لۓ ٹہرونگی۔ ابھی تو جانے دیں“ لڑکی نے لاڈ اٹھانے والے انداز میں کہا تو حنان نے اسکی ناک دباٸ۔
”پہلے پرامس کرو کےاگلی بار زیادہ دن کے لۓ آٶگی“ حنان نے کہتے ہوۓ اپنا ہاتھ اسکے سامنے پہلا دیا جسے اس نے جلدی سے تھاما
”پکا پرامس“ اس نے کہا تو حناایک بار پھر ہنس دیا
”آٶ تمہیں چھوڑ دوں“ حنان کہتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا تو ماہین جلدی سے وہاں سے نکل گٸ۔ گھر سے تھوڑا دور گلی کے کونے پر اسکی کار کھڑی تھی۔ وہ جلدی سے اس میں آکر بیٹھ گٸ۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ نہیں کی بلکہ اسی میں بیٹھ کر ان دونوں کے گھر سے باہر نکلنے کا انتظار کرتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ دونوں باہر آۓ تھے گاڑی دور ہونےکے باعث ایک بار پھر وہ لڑکی کا چہرہ نہیں دیکھ پاٸ تھی۔ حنان نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تو لڑکی ہنستے ہوۓ گاڑی میں بیٹھ گٸ حنان نے دروازہ بند کیا اور اپنی سیٹ سنبھال کر گاری اسٹارٹ کردی اور دیکھتے دیکھتے اسکی نظروں سے اوجھل ہوگۓ۔ ماہین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ذہہن میں شزا کی باتیں چل رہی تھیں۔ وہ وہیں بیٹھی حنان کا انتظار کرتی رہی کہ وہ آۓ تو ماہین اس کے منہ پر انگھوٹی مارے گی اور اس سے پوچھے گی کہ اس نے اسکے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ کیوں دھوکہ دیا اسے؟ لیکن حنان واپس نہ آیا پوری رات گزر گٸ حتٰی کہ صبح ہوگٸ لیکن وہ نہ آیا۔ ماہین کا دل کٸ ٹکڑوں میں ٹوٹا تھا۔ وہ روتی رہی صبح کہ وقت اسے حنان آتا دکھاٸ دیا اور اتفاق سے اس نے ماہین کی گاڑی بھی دیکھ لی تھی اس لۓ تیزی سے اس تک آیا۔ ماہین نے اپنا چہرہ صاف کیا اور گاڑی سے باہر آٸ۔
”ماہی۔۔۔۔ تم کب آٸ“ اس نے خوشگوار حیرت سے ماہین سے پوچھا
”کہاں تھے تم ساری رات؟ اور کس کے ساتھ؟“ ماہین نے سرد انداز میں اس سے پوچھا
”کیا مطلب میں سمجھا نہیں“ اس نے حیرت سے پوچھا
”تم ساری رات کس لڑکی کے ساتھ تھے“ اس نے تقریباً چیختے ہوۓ پوچھا۔
”کیا بکواس ہے یہ ماہی؟ میں علی کے گھر پہ۔۔۔“
”جھوٹ مت بولو حنان، میں نے خود تمہیں رات کو ایک لڑکی کے ساتھ گھر سے نکلتے ہوۓ دیکھا تھا اور تم ساری رات گھر نہیں آۓ۔۔۔۔۔۔۔صیح کہا تھا شزا نے تم بہت بڑے دھوکے باز انسان ہو“ وہ غصے سے بول رہی تھی جبکہ حنان شزا کے نام پر بری طرح چونکہ تھا
”کیا؟ تم شزا سے ملے تھی؟ کیا بکواس کی ہے اس نے تم سے؟“
”میں اس بارے میں تمہیں جوابدہ نہیں ہوں۔ یہ پکڑو اپنی انگوٹھی اور آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دیکھانا“ اس نے انگوٹھی اتار کر اسکے منہ پر ماری اور گاڑی میں جا بیٹھی
”ماہین میری بات سنو تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوٸ ہے ایسا کچھ ۔۔۔۔۔۔“ حنان اسے روکنا چاہتا تھا لیکن وہ سنے بغیر ہی چلی گٸ
”اوہ گاڈ۔۔۔۔ یہ کیا ہوگیا؟ مجھے اس سے بات کرنی ہوگی“ وہ بیچ سڑک پر کھڑا تھا۔ وہ جلدی سے گاڑی لے کر اسکے پیچھے بھاگا لیکن شومٸ قسمت سامنے آتی ٹڑک سے اسکا بری طرح تصادم ہوا اور اسکی گاڑی کٸ بار بل کھاتے ہوۓ درخت سے جا ٹکڑاٸ اور درخت سے ٹکراتے ہی اسکی گاڑی کے پچھلے حصے میں آگ لگ گٸ۔
————-*————-*———-*
”ماہین تم کہاں ہو؟ حنان کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے اور وہ i۔c۔u میں ہے“ وہ اپنے گھر پر تھی جب اسکے پاس شہریار کی کال آٸ اور پھر جو بات اس نے کہی وہ سن کر ماہین کے پیروں تلے زمین نکل گٸ۔ وہ سب کچھ بھول کر ہسپتال پہنچی، وہاں جا کر پتہ چلا کہ اسکے سر پر بہت گہری چوٹ آٸ ہے اور بچنے کے چانسسز کم ہیں۔ ماہین سب کچھ بھلا کر اسکے لۓ دعاٸیں مانگ رہی تھی اس پر میڈیا میں سے کسی نے یہ خبر بھی اڑادی کہ حنان شاہ کی کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوگٸ ہے۔ وہ لوگ پہلے ہی پریشان تھے کسی نے اس خبر کی تردید ہی نہیں ک کہ حنان زندہ ہے۔ قریباً ایک ہفتے کے بعد اسے i۔c۔u سے باہر نکال دیا گیا لیکن وہ کوما میں چلا گیا۔ اور اس دن سے آج تک ماہین روز اس سے ملنے آتی تھی اور اس سے اپنی وفا نبھاتی تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ بھلے حنان بے ہوش ہے پر اسکی ساری باتیں سن رہا ہے۔ اور جب اسے ہوش آۓ گا تو وہ اسے بتاۓ گی کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔ وہ ہر طرح کے حالات کے باوجود اس سے ملنے آتی رہی ہے جبکہ حنان نے اسے دھوکہ دیا تھا۔ اور وہ اسے یہ بھی بتاٸ گی کہ جن لڑکیوں کے ساتھ وہ وقت گزرتا رہا ان میں سے کوٸ بھی اس وقت اس کے ساتھ نہیں ہے نہ شزا اور نہ ہی وہ لڑکی جس سے حنان آخری بار ملا تھا۔ صرف ایک وہی تھی جو اس سے ملنے آتی رہی ہے
دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ ماضی سے حال میں واپس آٸ تھی۔ کوٸ نرس وہاں سے باہر گٸ تھی۔ اس نے گہرا سانس لیا اور حنان کی جانب جھکی اور آہستہ سے ایک ہی جملہ کہا
”میں نے تمہیں معاف کیا حنان“
——-*————–*—————*
وہ ناجانے کتنے وقت سے ایسی حالات میں پڑا تھا کہ نہ وہ دیکھ سکتا تھا نہ بول سکتا تھا نہ ہی کوٸ حرکت کر سکتا تھا۔ پتہ نہیں کتنا وقت اسے ایسے ہی بیت گیا تھا وہ صرف لوگوں کی آوازیں ہی سن سکتا تھا۔ لیکن آج اسکے کانوں میں جو آواز آٸ اس نے اسے مجبور کردیا کہ وہ اپنی تمام قوت لگا کر اٹھ بیٹھے
” میں نے تمہیں معاف کیا حنان“ یہ آواز اور اس جملے نے اسکے اندر ایک قوت سی بھر دی تھی تھی اور اس نے اپنی پوری وِل پاور لگادی اور۔۔۔۔۔۔پورے چودہ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔حنان شاہ نے اپنے آنکھیں کھول دی۔
——-*—————*————–*
دو ماہ بعد
”کیا ہوا ہے حنان کیا سوچ رہے ہو؟“
”مرجان کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ کچھ پتہ چلا؟“ وہ لوگ حنان کے گھر کے اسٹڈی روم میں موجود تھے۔
”نہیں یار ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے لیکن کچھ بھی پتہ نہیں چلا“ شہریار نے کہا۔ جب حنان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو اسکا موباٸل بھی اسی کی گاڑی میں ہی تباہ ہوگیا تھا۔ ان لوگوں نے اسکے گھر والوں کو اطلاع دینے کے لۓ اسکے گھر کا نمبر ڈھونڈنا چاہا پر کوٸ بھی ایسا نمبر نہیں ملا جس پہ وہ کال کر کے اطلاع دے۔ سکتے پھر ان لوگوں نے حنان کے لاہور والے گھر پر اپنے ایک بندے کو بھیجا تو وہاں سے ایک لرزہ خیز خبر سننے کو ملی تھی وہ یہ کہ حنان کے گھر میں آگ لگ گٸ تھی۔ اسکے ماں باپ کا تو بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا بس ایک دادی اور بہن تھی جو وہاں لاہور میں رہتی تھیں، گھر میں آگ لگنے کے باعث اسکی دادی جھلس کر جابحق ہوگٸ تھیں اور اسکی بہن مرجان لاپتہ تھی۔ انہوں نے لاہور کے تمام ہسپتالوں میں پوچھ لیا لیکن مرجان کا وہاں بھی کچھ نہ پتہ چلا۔ ہوش میں آنے کے چند دن بعد جب علی نے اسے اسکی دادی ک موت کی خبر دی تھی تو وہ بچوں کی طرح رویا تھا کہ اسے چپ کرانا بھی مشکل ہوگیا تھا
”تمہارے پاس مرجان کی کوٸ تصویر بھی نہیں ہے کیا؟“ علی نے پوچھا
”نہیں، جو بھی تصویریں تھیں وہ موباٸل اور لیپ ٹاپ میں تھیں اور وہ دونوں ہی تباہ ہو چکے ہیں۔ اسکے علاوہ جو بھی تصویر تھی وہ لاہور والے گھر میں تھیں۔“ حنان نے بتایا
”اور وہ گھر تو جل چکا ہے اور کوٸ بھی سامان صیح حالت میں نہیں ہے“ شہریار نے کہا
”اب میں کہاں ڈھونڈوں مرجان کو؟“ اس نے پریشانی سے ماتھا مسلا۔ علی کو لگا کہ لاٶنج میں کسی کی آواز آٸ ہے وہ غیر محسوس انداز میں کمرے سے باہر ک جانب بڑھا
”اب ایک ہی طریقہ ہے“ شہریار نے پرسوچ نظروں حنان کو دیکھا
”کیا؟“
”اگر تم علی اور میرے ساتھ لاہور چلو۔ دیکھو ہو سکتا ہے مرجان کی کوٸ دوست وغیرہ ہو جہاں وہ رہ رہی ہو، ہم تو اسکے دوستوں کے گھر وغیرہ نہیں جانتے لیکن تمہیں تو پتہ ہو گا نہ، اس لۓ کیونکہ تمہیں ہمارے ساتھ چلنا پڑے گا اور ہوسکتا ہے اسطرح اسکے بارے میں کچھ معلوم ہو جاۓ گا“
”تم ٹھیک کہ رہے ہو۔ میں اسکی کچھ دوستوں کے گھر جانتا ہوں۔ “
”تو پھر ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے کل ہی ہم لاہور کے لۓ نکلتے ہیں۔ اور یہ علی کہاں چلا گیا؟“ بولتے بولتے اچانک ہی علی گا خیال آیا
”پتہ نہیں ابھی تو یہیں تھا“
دوسری طرف علی لاٶنج میں آیا تو اس نے دیکھا کہ وہاں ماہین اسی وقت آٸ تھی۔ اسے حیرت ہوٸ کیونکہ دو ماہ سے وہ لوگ بول بول کر تھک گۓ تھے مگر ماہین حنان سے ملنے نہیں آٸ تھی۔
”تم یہاں؟“ علی نے اس سے پوچھا
”ویسے آنا تو تمہارے دوست کو چاہیے تھا مجھ سے معافی مانگنے، لیکن شاید وہ بہت ہی ڈھیٹ ہے کہ اسے اپنی غلطی کا کوٸ احساس ہی نہیں۔ میں ہی پاگل ہوں جو ہر بار اسکی محبت میں آجاتی ہوں“وہ نم آواز میں بولی تو علی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
”کون سی غلطی اور کسی بات کی معافی؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“ علی نے ناسمجھی سے پوچھا
”اوہ۔۔۔۔۔تو حنان نے تمہیں ابھی تک کچھ نہیں بتایا، بتاۓ گی بھی کیسے کہ اس نے مجھے دھوکہ دیا“
”کیسی باتیں کر رہی ہو ماہین؟ حنان ایسا نہیں ہے وہ تمہیں دھوکہ نہیں دے سکتا تم کو یقیناً کوٸ غلط فہمی۔۔۔۔۔۔۔۔“ علی کی بات بیچ میں ہی رہ گٸ کیونکہ حنان نے وہاں آکر اسکی بات کاٹ دی
”نہیں علی، تم خاموش رہو اور جو یہ کہہ رہی ہے اسے کہنے دو۔ آج میں بھی تو سنوں کے اسکے دل میں کتنا زہر بھرا ہے میرے خلاف“ اسکی بات سن کر جہاں ماہین نے غصے سے رخ موڑ لیا تھا وہیں باقی دونوں حیرت سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے
”ہوا کیا ہے تم دونوں کو آخر؟“ علی نے پوچھا
”یہ تم اپنے دوست سے پوچھو کہ جس دن اسکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس رات یہ کہاں تھا اور کس کے ساتھ تھا؟“
”اس رات تو یہ ہمارے ساتھ تھا علی کے گھر“ شہریار نے اسے جواب دیا تو ایک پل کے لۓ حیران ہوٸ لیکن اگلے ہی پل نفرت سے بولی
”اچھا تو وہ لڑکی کون تھی جو اسکے ساتھ ہی اسکے گھر سے نکلی تھی؟ ہاں!!!“
”وہ میری بہن تھی، مرجان ۔ اور وہ یہاں تم سے ملنے آٸ تھی۔ تمہیں اس دن پارٹی میں جانا تھا اس لۓ تم میرے گھر نہیں آسکی اور وہ زیادہ دیر رک نہیں سکی تو تم سے ملے بغیر ہی چلی گٸ۔ تم نے۔۔۔۔۔۔۔اس شزا کی باتوں پر یقین کیا لیکن تمھیں میرے اوپر بھروسہ نہیں تھا۔ میں نے پورے آفس کے سامنے تمہیں انگوٹھی پہناٸ تھی اس سے زیادہ اور کیا ثبوت دیتا میں تمہیں جو تم مجھ پر یقین کرتی؟“ حنان غصے سے بول رہا تھا اور ماہین سانس لینا ہی بھول گٸ تھی
”اور آج تمہاری وجہ سے میں اس حال تک پہنچ گیا ہوں کہ میرا پورا گھر تباہ ہوچکا ہے“
”میری وجہ سے۔۔۔۔۔؟“ اس نے بمشکل حنان کے الفاظ دھراۓ
”ہاں۔۔۔۔تمہاری وجہ سے، نہ تم مجھ پر شک کرتی نہ میں تمہارے پیچھے آتا، نہ میڑا ایکسیڈینٹ ہوتا اور میں اپنے گھر والوں سے ڈیڑھ سال تک دور رہتا، نہ میری دادی مرتی اور نہ ہی میری بہن کھوتی۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہاری جیسی لڑکی سے کبھی محبت کی تھی“ ماہین کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہورہا تھا۔ اس نے آج پہلی مرتبہ حنان کو اتنی اونچی آواز میں بات کرتے ہوۓ دیکھا تھا
”حنان۔۔۔۔۔تم چلو یہاں سے۔۔۔۔ تمہیں زیادہ غصہ نہیں کرنا چاہیے“ شہریار نے آگے بڑھ کر حنان کو تھاما اور اسے ساتھ چلنے کو کہا
”اسے کہہ دو شیری، دوبارہ مجھے اپنی شکل بھی نہ دکھاۓ“ وہ اپنے آپے سے باہر ہورہا تھا
”ماہین تم ابھی یہاں سے جاٶ پلیز۔۔۔۔۔“علی نے ماہین کو کہا پر وہ کچھ نہں سن رہی تھی
”ماہین چلو“ علی تقریباً گھسیٹتے ہوۓ ماہین کو وہاں سے لے گیا
”ریلیکس حنان۔۔۔۔“شہریار نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پھر پاس پڑے جگ سے اسکے لۓ پانی نکالنے لگا
”میرا ہاتھ چھوڑو علی۔۔۔۔۔مجھے اس سے بات کرنی ہے“ لان میں آتے ہی ماہین نے علی سے اتنا ہاتھ چھڑوایا
”کیا بات کروگی تم؟ اب کا بچا ہے بات کرنے کو؟“ علی ناچاہتےہوۓ بھی اپنا غصہ چھپا نہ سکا
”میں۔۔۔۔۔میں اس سے معافی مانگ لونگی“ ماہین کے آنسو چھلک پڑے
”معافی مانگنے سے کیا ہو جاۓگا؟“ علی نے اسے روتے دیکھ کر اپنا لہجہ نرم کیا۔ جو بھی تھا وہ اسکے لۓ بہنوں جیسی ہی تھی۔ وہ روتی رہی۔
”مجھے شروع سے ساری بات بتاٶ“ علی نے کہا تو ماہین نے شروع سے ساری بات بتا دی
”اف ماہین۔۔۔۔۔۔کیا میں نے اور شیری نے تمہیں بتایا نہیں تھا کہ شزا سے دور رہنا۔ شزا یونیورسٹی میں ہمارے ساتھ پڑھتی تھی مگر ہم سے جونیٸر تھی، ایک آدھ بار حنان نے فریشر سمجھ کر اسکی مدد کردی تو اس نے اسکا بلکل ہی غلط مطلب لے لیا۔ ہر وقت حنان کے آگے پیچھے پھرتی رہتی تھی اوپر سے اس لڑکی کا کردار بھی کچھ مشکوک تھا۔ حنان نے پہلے اسے زبان سے سمجھایا کہ اسکی غلط فہمی دور ہو جاۓ لیکن وہ نہیں سدھری پھر ایک دن یونیورسٹی کی ایک پارٹی میں اس نے سب کے سامنے حنان کو پرپوز کردیا، اور اسکا انداز اتنا گھٹیا تھا کہ حنان سمیت مجھے اور شہریار کو بھی غصہ آگیا تھا۔ اور حنان نے اسے تھپڑ مار دیا تھا۔ حلانکہ اسے ایک لڑکی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیۓ تھا لیکن کیا کرتا، اگر وہ اسے تھپڑ نہ مارتا تو پوری یونی میں وہ بدنام ہو جاتا کیونکہ سب جانتے تھے کہ شزا کیسی لڑکی ہے اور شزا الگ اسکے پیچھے لگ جاتی۔ حنان نے اسے تھپڑ مار کہ اس پر یہ واضح کردیا تھا کہ وہ اس کو کسی لاٸق نہیں سمجھتا لیکن اس نے سب کے سامنے حنان کو یہ دھمکی دی تھی کہ وہ اس سے بدلہ ضرور لے گی اور اس دن کے بعد وہ دوبارہ کبھی یونیورسٹی نہیں آٸ“ علی نے تفصیل سے ساری بات بتاٸ اور ماہین ساکت آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
”ماہین! تم فکر نہ کرو ابھی حنان غصے میں ہے اس لۓ ایسا کہہ رہا ہے۔ ہم کل لاہور جاۓ گے اور مجھے یقین ہے کہ وہاں ہمیں اسکی بہن مل جاۓ اور اسکا غصہ بھی اتر جاۓ گا تب تم بھلے اس سے معافی مانگ لینا“ علی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ اسے ترس آرہا تھا اس لڑکی پر جو کچھ شزا کی سازش اور کچھ اپنی بےوقوفی کے ہاتھوں اپنی ساری خوشیاں تباہ کر بیٹھی تھی
————*————-*———–*
اسکے سامنے کھڑی گاڑی میں آگ لگی تھی اور آگ کے شعولے ہوا میں بلند ہوتے جارہے تھے۔ وہ چیخنا چاہتی تھی کسی کو مدد کے لۓ بلانا چاہتی تھی مگر کوٸ خوف تھا اسکے دل کے اندر جو اسے ایسا کرنے سے روک رہا تھا۔ وہ وحشت زدہ نظروں سے اس آگ میں جلتی گاڑی کو دیکھ رہی تھی جسکے اندر۔۔۔۔۔اسکا بھاٸ بھی جل رہا تھا
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ دماغ ماٶف ہورہا تھا۔ یہ خواب اسکا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ اپنے بستر سے اٹھی اور چل کر کھڑکی کے نزدیک آٸ۔ بہر ٹھنڈ تھی لیکن وہ پھر بھی گرمی محسوس کررہی تھی۔ دماغ میں ایک ہی منظر چل رہا تھا، جلتی گاڑی اور اس میں جلتا اسکا بھاٸ
”ہمیں معاف کردیں بھیا۔۔۔۔۔ہم آپکو بچا نہ پاۓ۔ ہم وہیں تھے بھیا، لیکن ہم آپ کے لۓ کچھ نہ کرسکے“ وہ رو رہی تھی اور اکیلے ہی اکیلے بولتی جا رہی تھی۔ دماغ پر دباٶ بڑھتا ہی جارہا تھا
”بھیا۔۔۔۔۔۔ہم جب کچھ بھی نہیں کر پاۓ آپ کے لۓ تو ہمیں بھی زندہ رہنے کا کوٸ حق نہیں“ وہ تیزی سے کہتے ہوٸ ساٸیڈ ٹیبل کے دراز کے پاس آٸ اور اس میں سے نیند کی گولی کی شیشی نکالی
”ھم۔۔۔۔۔۔ہم جان لیں لے گے اپنی“ اس نے کہتے ہوۓ شیشی میں موجود ساری دواٸ کھالی اور اپنے بیٹ سے ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھ گٸ
”ہاں۔۔۔۔۔۔۔ہمیں مر جانا چاہیے۔“ وہ کہہ رہی تھی۔آہستہ آہستہ اسکا دماغ غنودگی کی حالت میں جانے لگا۔ اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگٸ
———-*————–*————*
”فاطمہ بیٹی۔۔۔۔۔۔مجھے تم سے یہ کہنا تھا کہ وہ پچھلے دنوں رضیہ اپنے بیٹے کے لۓ تمہارا رشتہ مانگا تھا“ فاطمہ کھانے کی میز پر بیٹھی تھی جب اسکی امی نے اسے مخاطب کیا۔
”تو آپ نے انہیں میرے بارے میں سب کچھ بتادیا؟“ فاطمہ نے بےتاثر لہجے میں پوچھا
”نہیں۔۔۔۔ میں نے کچھ نہں بتایا۔ اگر بتا دیتی تو یہ بھی تمہارے پچھلے رشتوں کی طرح واپس لوٹ جاتے“ اسکی امی نے کہا
”تو پھر میں کیا کر سکتی ہوں؟“
”بیٹا انہیں سب بتانا ضروری تو نہیں ہے نہ۔۔۔۔۔۔میں چاہتی ہوں جلد ہی تمہارے فرض سے فارق ہو جاٶ اور پھر سعد کے پاس اینگلینڈ چلی جاٶں“ وہ سادگی سے کہہ رہیں تھیں پھر بھی انکی بات فاطمہ کے دل پر لگی تھی
”میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے تنگ آگٸ ہیں۔ امی آپ سعد بھاٸ کے پاس چلی جاۓ میں اپنا خیال خود رکھ لونگی“ فاطمہ کی بات پر وہ تڑپ گٸ
”کس طرح کی بات کر رہی ہو؟ بیٹیاں ماں باپ پر بوجھ تھوڑی ہوتی ہیں۔ کون ماں نہیں چاہتی کہ اسکی بیٹی اپنی گھر کی ہو جاۓ؟ میں بھی تو بس یہی چاہتی ہوں“
”تو امی میں نے کون سا شادی کرنے سے منع کیا ہے؟ میں نے تو بس اتنا کہا ہے کہ آپ جس سے بھی میرا رشتہ تہہ کریں اسے میرے بارے میں سب کچھ معلوم ہو۔ میں نہیں چاہتی کہ میں جھوٹ بول کر ایک انسان کو دھوکہ دوں۔ اور اگر میں ایسا کر بھی دوں تو امی سچ کب تک چھپا رہتا ہے؟ کل کو دسے کسی اور کے ذریعے معلوم ہو جاۓ تو کیا آپ کو اچھا لگے کا آپکی بیٹی طلاق کا داغ لگا کر آجاۓ“ اس نے کہا تو اسکی امی ایک لمحے کے لۓ خاموش ہوگٸ
”ٹھیک ہے بیٹا جیسا تم چاہوگی ویسا ہی ہوگا۔ میں رضیہ کو سب بتا دونگی۔“ انہوں نے کہا اور کھانے کی ٹیبل سے اٹھ کر چلی گٸ جبکہ فاطمہ سر جھکاۓ وہیں بیٹھی انکی بارے میں سوچتی رہی۔ اسے وہاں بیٹھے ناجانے کتنا وقت گزرا تھا جب اسنے نظریں اٹھاٸ اور وہ ساکت رہ گٸ۔ آس پاس کی تمام چیزیں غاٸب ہو گٸ تھیں۔ وہ کمرہ ایک کالکوٹھری میں تبدیل ہو چکا تھا۔ فاطمہ کے دونوں ہاتھ زنجیروں میں جکڑیں ہوۓ تھے۔ اس کوٹھری میں بے انتہا اندھیرا تھا بس ایک روشن دان تھا جہاں سے تھوڑی بہت روشنی آرہی تھی۔ اسے اپنے جسم میں کمزوری محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اپنا سر اٹھانا چاہا پر کمزوری کے باعث وہ ہل بھی نہ پاٸ۔ اس نے اپنے ہاتھ ہلانے کی کوشش کی مگر زنجیروں میں جکڑے ھونے کے باعث ہاتھ ہلنے کے بجاۓ الٹا مزید زخمی ہوگۓ۔ تھک کر اس نے یہ کوشش ہی چھوڑ دی
”فاطمہ۔۔۔۔۔۔فاطمہ! کیا ہوگیا ہے بیٹا تم کب سے یہیں بیٹھی ہو“ زہرہ بیگم(فاطمہ کی امی) نے آکے اسے ہلایا تو وہ ہوش میں آٸ
”کچ۔۔۔۔کچھ نہیں امی۔۔۔۔۔بس جا ہی رہی تھیں“ اس نے جلدی سے کہا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب چل پڑی۔ زہرہ بیگم خاموشی سے وہاں سے چلی گٸ وہ جانتی تھی کہ فاطمہ اکثر اسی طرح بیٹھے بیٹھے کہیں کھو سی جاتی ہے۔
————*————*————*
وہ مرے مرے قدموں سے اپنے گھر میں داخل ہوٸ اور اندر داخل ہوتے ہی صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گٸ۔ ذہہن میں بار بار علی کی باتیں اور حنان کی نفرت آمیز گفتگو چل رہی تھی۔ پتہ نہیں اسکے دل میں کیا آیا کہ اس نے اتنا موباٸل نکالا اور شزا کو کال ملادی
”ہیلو ۔۔ کون؟“ دوسری طرف سے شزا کی آواز سناٸ دی
””کیوں جھوٹ بولا تم نے مجھ سے؟ کیوں کی میری زندگی برباد؟“ ماہین نے چھوٹتے ہی پوچھا
”اوہ۔۔۔۔۔تم ہو ماہین۔ کیسی ہو؟“ اس نے ماہین کی آواز پہچانتے ہوۓ کہا
”میں نے تم سے جو پوچھا ہے اسکا جواب دو“ ماہین دھاڑی
”میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ میں نے بس ایک جھوٹی کہانی سناٸ تھی تمہیں جس پر یقین کرنا یا نہ کرنا تمہارے اختیار میں تھا۔ مجھے بلیم مت کرو“
”کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا؟ کیا دشمنی تھی میری تمہارے ساتھ؟“
”اوہ بےبی۔۔۔۔۔۔تم سے کس نے کہا کہ میری دشمنی تمہارے ساتھ تھی؟ میری دشمنی تو اس حنان کے ساتھ تھی، اس نے مجھے بھری محفل میں تھپڑ مارا تھا۔ بس اسی کا بدلہ لیا ہے میں نے اور ویسے بھی تم تو اس سے محبت کرتی تھی ناں۔۔۔ تو اس پر بھروسہ کیوں نہیں کیا میں نے تمہارے سر پر گن رکھ کر نہیں کہ تھا کہ حنان سے منگںی توڑ دو“ شزا نے اسکے منہ پر طمانچہ مارا تھا۔ اور فون کاٹ دیا تھا۔ ماہین نے اپنا سر پکڑ لیا۔ اب اسے وہ رات یاد آرہی تھی۔ حنان اور اسکی بہن مرجان جس کا چہرہ وہ دیکھ نہ پاٸ تھی، انکی باتیں یاد آرہیں تھی۔ وہ کوٸ ایسی قابل اعتراض گفتگو تو نہ کر رہے تھے کہ ان پر شک کیا جاتا۔ ایک بھاٸ اپنی بہن سے وعدہ لے رہا تھا کہ وہ اس سے ملنے دوبارہ آۓ گی۔ اور ایک بہن اپنے بھاٸ سے لاڈ اٹھوارہی تھی۔ یہ کوٸ ایسی قابل اعبراض بات نہ تھی پھر وہ کیسے حنان پر اتنا بڑا الزام لگا گٸ؟ اگر اس نے تھوڑا تحمل سے کام لیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ لیکن وہ کیوں تحمل سے کام لیتی اسکی آنکھوں پر تو شک کی پٹی بندھ گٸ تھی۔ ماہین دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر رو پڑی۔
———-*—————*———–*
”چلو حنان، اٹھو اور اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو“ علی نے حنان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ وہ بہت غصہ تھا اور شہریار اور علی نے بہت مشکلوں سے اسے قابو کیا تھا۔
”ہاں۔۔۔۔۔چلا جاٶنگا ابھی تھوڑی دیر میں، تم لوگ بھی اب گھر جاکر آرام کرو“ حنان نے کہا
”پہلے تو ہماری آنکھوں کے سامنے اپنے کمرے میں جا، بیڈ پر لیٹ اور چادر اوڑھ کر سوجا۔ جب ہمیں یقین ہو جاۓ گا کہ تو سچ میں سوگیا ہے تب ہم جاٸیں گے۔ ورنہ تیرا بھروسہ نہیں، ساری رات یہیں بیٹھے بیٹھے گزار دے“ شہریار نے کہا تو وہ مسکرایا
”اچھا ٹھیک ہے جا رہا ہوں میں“
”دواٸ لے لینا بلکہ نہیں۔۔۔۔تو رک میں تیرے ساتھ آرہا ہوں ورنہ تو بنا دوا کھاۓ ہی سو جاۓ گا“ علی نے کہا اور اسکے پیچھے چلنے لگا۔ وہ دونوں کسی بچے کی طرح اسکا خیال رکھ رہے تھے۔ حنان اور علی ابھی کمرے میں پہنچے بھی نہیں تھے کہ شہریار کا موباٸل بجنے لگا۔ اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا
”جی چاچو بولیں۔۔۔۔۔۔۔کیا؟ یہ کا کہہ رہے ہیں آپ؟“ وہ تقریباً چیختےہوۓ بولا تھا، حنان اور علی رک کر اسے دیکھنے لگے
”اچھا کون سے ہوسپٹل میں ہے وہ اس وقت؟۔۔۔۔۔۔جی، ٹھیک ہے۔ میں بس ابھی آرہا ہوں“ اس نے کہتے ساتھ ہی فون کاٹا
”کیا ہوا شیری؟ سب خیریت؟“ حنان نے دس سے پوچھا
”نہیں وہ۔۔۔۔شہرذاد ہسپتال میں ہے“ اس نے پریشانی سے کہا
”کیا اس نے پھر سے۔۔۔۔۔۔“علی نے بات ادھوری چھوڑ دی لیکن شہریار اسکی ادھوری بات کا مطلب بہی سمجھ گیا پھا
”ہاں۔۔۔“اس نے کہا اور باہر کی جانب دوڑ پڑا۔ کسی کو پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ شہرذاد کو کیا ہوا ہے، سب جانتے تھے کہ اس نے پھر سے خودکشی کی کوشش کی ہے
”ہمیں بھی اسکے ساتھ جانا چاہیے“ علی نے کہا اور وہ اور حنان بھی شہریار کے پیچھے چل پڑے
——–*—————-*————*

Exit mobile version