کشش ثقل میں وقت کی رفتار کی پیمائش ملی میٹر کی سکیل پر

Kashish-Saqal-Mein-Waqt-Ki-Raftar-Ki-Pemaish-Millimetre-Ki-Scale-Par

عمومی نظریہ اضافت کی ایک پیش گوئی یہ ہے کہ کشش ثقل کی موجودگی میں وقت کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے- کشش ثقل جس قدر زیادہ ہو وقت کی رفتار میں کمی بھی اسی قدر زیادہ ہوتی ہے- اگرچہ جب ہم کشش ثقل کی موجودگی میں وقت کی رفتار کے سست ہو جانے کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں بڑے فلکی اجسام مثلاً بلیک ہول اور ستارے ذہن میں آتے ہیں- لیکن زمین کی کشش ثقل سے بھی وقت کی رفتار میں فرق پڑتا ہے اگرچہ یہ فرق بہت معمولی ہوتا ہے کیونکہ زمین کا ماس (اور اس کی کشش ثقل) بلیک ہولز اور ستاروں کے ماس سے بہت کم ہے- زمین کی سطح کے قریب وقت کی رفتار قدرے سست ہوتی ہے جبکہ زمین سے دور جائیں تو وقت کی رفتار کچھ تیز ہو جاتی ہے- یہ فرق اس قدر معمولی ہے کہ صرف ایٹمی کلاکس کو استعمال کر کے ہی اس فرق کی پیمائش کی جا سکتی ہے- مثال کے طور پر اگر  دو ایٹمی کلاکس کو سینکرونائز کر کے (یعنی دونوں بالکل ایک ہی وقت دکھا رہے ہوں) ان میں سے ایک کو زمین پر ہی رکھا جائے اور ایک کو ہوائی جہاز میں نصب کر کے جہاز کو بلندی پر اڑایا جائے تو جہاز کے لینڈ کرنے کے بعد زمین پر موجود ایٹمی کلاک ہوائی جہاز پر موجود کلاک کی نسبت کچھ پیچھے رہ گیا ہو گا
دنیا کے سب سے پریسائز کلاک ایٹمی کلاک ہوتے ہیں جن میں ایٹموں کی ایکسائیٹیشن سے پیدا ہونے والی آسلیشنز کی فریکونسی کی پیمائش سے وقت کی پیمائش کی جاتی ہے- یہ آسلیشنز انتہائی سٹیبل ہوتی ہیں اور کسی بھی ایٹم کے لیے انتہائی پریسائز ہوتی ہیں- اس لیے ایٹم کلاک وقت کی انتہائی ایکوریٹ اور پریسائز پیمائش ممکن بنا دیتے ہیں
اگرچہ زمین کی سطح اور ہوائی جہاز کی بلندی پر وقت کی رفتار میں فرق کی پیمائش کی جا چکی ہے، محض چند سینٹی میٹر کی بلندی کے فرق سے وقت کی رفتار میں پڑنے والے فرق کی پیمائش کرنا اب تک ناممکن رہا ہے- لیکن اب سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انتہائی حساس ایٹمی کلاک کی مدد سے چند ملی میٹر کی بلندی کی تبدیلی سے وقت کی رفتار میں ہونے والی تبدیلی ریکارڈ کی ہے- یعنی چند ملی میٹر سائز کے ایک سیمپل کے اوپری سرے اور نچلے سرے پر وقت کی رفتار کی پیمائش کی اور ان میں عین وہی فرق پایا گیا جس کی پیش گوئی نظریہ اضافت کرتا ہے
اس تجربے کے لیے سائنس دانوں نے ایٹمی کلاک بنانے کے لیے سٹرونشیم کا چھوٹا سا سیمپل لیا جس میں لگ بھگ ایک لاکھ ایٹم موجود تھے- اس سیمپل میں ایٹموں کی ترتیب اس طرح سے تھی جیسے لکڑی کے زینے پر وقفے وقفے سے لکڑیاں نصب ہوتی ہیں- اس طرح اس سٹرکچر میں چھ cavities بن گئیں- اس طرح ایک ہی تجربے میں چھ مختلف ایٹمی کلاک تیار کیے گئے یعنی اس زینے کے ہر دو قدم کے درمیان موجود cavity کی وجہ سے وہاں  ایک ایٹمی کلاک بن گیا-
اس سیمپل کو اس قدر ٹھنڈا کیا گیا کہ اس کا درجہ حرارت ایسولیوٹ صفر کے پاس تھا- اس سٹرکچر کو عمودی رکھ کر ان ایٹموں کو ایکسائیٹ کیا گیا تو ان کی آسیلیشنز کی فریکونسی میں اس زینے کے مختلف حصوں میں کچھ فرق پایا گیا جس کی انتہائی پریسائز طور پر پیمائش کی گئی- اس کے بعد اسی سٹرکچر کو افقی حالت میں رکھ کر فریکونسی کے فرق کی الگ سے پیمائش کی گئی- اصولاً افقی حالت یا عمودی حالت میں ان ایٹموں کی آسیلییشن کی فریکونسی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے تھا- لیکن عمودی حالت میں ان ایٹموں کی آسیلیشن کی فریکونسی میں اضافی فرق پایا گیا- عمودی حالت میں ان ایٹموں کی بلندی میں ایک ملی میٹر کی تبدیلی سے  ان کی آسیلیشن فریکونسی میں جو فرق آیا وہ ایک فیصد کا 10^17 واں حصہ تھا (یعنی ایک فیصد کا 0.00000000000000001 واں حصہ)- یہ تبدیلی عین وہی تھی جس کی پیش گوئی نظریہ اضافت کی ایکویشنز کرتی ہیں-
گویا اس تجربے میں زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے ٹائم ڈائلیشن کے مظہر کو ملی میٹر کے فاصلے پر ناپا گیا اور عین وہی ٹائم ڈائلیشن ریکارڈ کی گئی جس کی پیش گوئی نظریہ اضافت کرتا ہے- کشش ثقل کی وجہ سے ٹائم ڈائلیشن کی یہ اب تک کی گئی سب سے زیادہ حساس اور ایکوریٹ پیمائش ہے-
اوریجنل انفارمیشن کا لنک
Exit mobile version