لیو ٹالسٹائی کے افسانہ شیطان کا چیلا اور روٹی کا اُردو ترجمہ

Leo Tolstoy K Afsana Shaitan Ka Chila Aur Roti Ka Urdu Tarjuma

مصنف: لیو ٹالسٹائی (روس)
مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)
ایک غریب کسان ایک دن علی اصبح ہل چلانے کے لئے روانہ ہوا ،ناشتے کے لئیے روٹی ساتھ لے لی کھیت میں پہنچ کر اس نے روٹی اپنے کوٹ میں لپیٹ کر ایک جھاڑی کے نیچے رکھ دی اور کام شروع کر دیا ۔ کچھ دیر بعد جب اس کا گھوڑا تھک گیا اور خود اسے بھوک لگی تو اس نے گھوڑے کو ہل سے الگ کیا ، گھوڑے کو چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا اور خود اپنا کوٹ اور ناشتہ اٹھانے چل پڑا ۔
اس نے کوٹ اٹھایا ،لیکن روٹی غائب تھی ۔ اس نے بار بار دیکھا کوٹ کو بار بار جھٹکا ،لیکن روٹی نہ ملی ۔کسان اس کی کوئی توجیح نہ ڈھونڈ سکا ۔
“یہ تو بہت عجیب و غریب بات ہے ،” اس نے سوچا ،”میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا لیکن کوئی یہاں موجود تھا ،جس نے روٹی اٹھائی ہے ۔ ”
یہ چھوٹا سا شیطان کا چیلا تھا جس نے اس وقت جب کسان ہل چلا رہا تھا تو روٹی چرا لی تھی ۔ اور اس وقت وہ جھاڑی کے پیچھے بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہ وہ اب کسان کو قسمیں کھاتے اور شیطان سے رجوع کرتے سنے گا ۔
کسان اپنا ناشتہ گم ہو جانے پر افسردہ تھا ،” لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا ۔ “ اس نے سوچا ،” بہرحال میں بھوک سے مرنے نہیں لگا ،بے شک جس نے روٹی اٹھائی ہے ،اسے ضرورت تھی ۔ اس کا اللہ بھلا کرے ۔
کنویں پر جا کر پانی پیا ،تھوڑا سستایا ،پھر گھوڑے کو پکڑ کر ہل میں جوتا اور دوبارہ ہل چلانا شروع کر دیا ۔
شیطانی چیلا بہت دل گرفتہ تھا کہ وہ کسان سے گناہ کروانے میں ناکام رہا ۔ اور وہ جو کچھ ہوا اس کی اطلاع اپنے آقا شیطان کو دینے چلا گیا ۔
اس نے شیطان کو بتایا کہ کیسے اس نے کسان کی روٹی چرائی اور کسان نے لعن طعن کرنے کی بجاۓ “اللہ بھلا کرے “ کہا ۔
شیطان ناراض ہوا اور جواب دیا ،” اگر آدمی تم سے جیت گیا تو اس میں تمہاری غلطی ہے ۔ تم اپنے کام کو سمجھ نہیں سکے ۔ اگر کسان اور ان کے پیچھے پیچھے ان کی بیویاں اس طرح کرنے لگیں تو ہم تو ختم ہو جائیں گے ۔ معاملہ اس طرح نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ فورا” واپس جاؤ ،اس نے کہا ، اور معاملات درست کرو ۔ اگر تین سالوں کے اندر تم اس کسان کو قابو نہیں کر سکے تو میں تمہیں مقدس پانی میں ڈبو دوں گا ۔
چیلا ڈر گیا ۔وہ تیزی سے واپس زمین پر پہنچا ۔ سوچنے لگا کہ وہ اپنی غلطی کیسے سدھار سکتا ہے ۔ اس نے بہت سوچا اور آخرکار ایک اچھے منصوبے پر پہنچ گیا ۔
اس نے ایک مزدور کا روپ دھارا اور جا کر اس غریب کسان کے پاس ملازم ہو گیا ۔پہلے سال اس نے کسان کو دلدلی علاقے میں مکئی کاشت کرنے کا مشورہ دیا ۔ کسان نے اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوۓ دلدل میں مکئی بیج دی ۔ اس سال خشک سالی رہی ،سارے کسانوں کی فصل سورج کی حدت سے جل بھن گئی ۔ لیکن غریب کسان کی فصل خوب گھنی اور لمبی اور بھٹوں سے بھری ہوئی تھی ۔ نہ صرف یہ کہ اس کی فصل پورے سال کے لئے کافی تھی بلکہ بہت ساری فالتو بھی تھی ۔
اگلے سال چیلے نے اسے پہاڑی پر کاشت کا مشورہ دیا اور اس دفعہ موسم گرما نم دار رہا ۔دوسرے لوگوں کی فصل زمین پر گر گئی ،گل سڑ گئی اور بھٹے خالی رہ گئے ۔ لیکن کسان کی فصل پہاڑی پر بہت اچھی تھی ۔ اس سال اس کے پاس پچھلی دفعہ سے زیادہ دانے بچ گئے ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ ان کا کیا کرے ۔
اب شیطانی چیلے نے اسے سکھایا کہ کیسے ان دانوں کو پیس کر ان کا رس نچوڑ کر ان سے بہت اچھا مشروب /شراب تیار کیا جا سکتا ہے ۔ اس طرح کسان نے بہت گاڑھا مشروب تیار کر لیا ۔ جو وہ خود بھی پینے لگا اور اپنے دوستوں کو بھی پلانے لگا ۔
اب چیلا واپس شیطان کے پاس گیا اور شیخی بگھاری کہ اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کر لی ہے ۔ شیطان نے کہا کہ وہ خود آ کر دیکھے گا کہ معاملہ کیسا ہے ۔
وہ کسان کے گھر آیا اور دیکھا کہ کسان نے اپنے امیر ہمسایوں کو بلایا ہوا ہے اور ان کی مشروب /شراب سے تواضع کر رہا ہے ۔ اس کی بیوی مہمانوں کو شراب پیش کر رہی ہے ۔ ایسا کرنے کے دوران وہ میز سے ٹکرا گئی اور ایک بھرا ہو گلاس انڈیل دیا ۔
کسان نے ناراض ہوکر اسے ڈانٹا ،پھوہڑ عورت ،یہ کیا کیا تم نے ۔تم اپاہج عورت ،کیا تم نے اسے نالی کا پانی سمجھ لیا ہے کہ اس طرح اسے فرش پر گرا رہی ہو ۔
چیلے نے شیطان کو کہنی ماری , دیکھو یہ وہ کسان ہے جس نے اپنی روٹی گم ہونے پر شکایت نہیں کی تھی ۔ کسان جو ابھی تک بیوی کو برا بھلا کہہ رہا تھا ،اب خود مشروب پیش کرنے لگا ۔اس وقت ایک غریب کسان کام سے واپسی پر بغیر مدعو کئے اندر آ گیا ۔اس نے سب سے علیک سلیک کی اور بیٹھ گیا اور دیکھاکہ سب پی رہےہیں ۔ سارے دن کے کام کی تھکاوٹ سے اس کا بھی جی چاہا کہ ایک گھونٹ پی لے ۔ وہ بیٹھا رہا اس کا جی للچاتا رہا لیکن میزبان اسے مشروب پیش کرنے کی بجاۓصرف بڑبڑایا ،” میرے پاس ہر ایرے غیرے کے لئے مشروب نہیں ہے ۔ “
اس سے شیطان خوش ہوا لیکن چیلے نے قہقہ لگایا اور بولا ۔ “ زرا صبر کرو ابھی بہت کچھ ہے ،”
امیر کسان اور اس کے مہمانوں نے مشروب پیا اور پر فریب ،جھوٹی تقریریں کرنے لگے ۔ شیطان سنتا رہا اور چیلے کی تعریف کرتا رہا ۔
اس نے کہا ، “اگر اس مشروب سے یہ لومڑی جیسے مکار بن رہے ہیں کہ ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں تو بہت جلد یہ سب ہمارے ہاتھوں میں ہوں گے “ ۔
“جو کچھ ہونے والا ہے ،اس کا انتظار کرو ،” چیلے نے کہا ، “ انہیں ایک ایک اور گلاس پی لینے دو ۔اب وہ لومڑیاں ہیں ، دم ہلاتی ہوئی ،ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش میں ہیں ۔لیکن ابھی وہ آپ کو سفاک بھیڑیے نظر آہیں گے ۔ “
سب کسانوں نے ایک ایک گلاس اور پیا ،ان کی گفتگو میں جنگلی پن اورسفاکی آتی گئی ۔ اب پر فریب باتوں کی بجاۓ وہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور غرانے لگے ۔ جلد ہی لڑائی شروع ہو گئی ۔ اور ایک دوسرے کی ناک پر مکے رسید کرنے لگے ،میزبان بھی اس لڑائی میں شامل ہو گیا ۔اور اس کی بھی اچھی پٹائی ہوئی ۔
شیطان یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا ،اور کہا ،” یہ بہترین ہے ۔ “
لیکن چیلے نے جواب دیا ،” زرا مزید انتظار کرو ،سب سے بہترین تو ابھی ہونا ہے ،انہیں ایک اور گلاس پینے دو ۔ اس وقت وہ بھیڑیوں کی طرح غرا رہے ہیں لیکن ایک اور گلاس پی لینے کے بعد وہ سؤر بن جائیں گے ۔ “
کسانو ں نے تیسرا گلاس پیا اور خوفناک وحشی بن گئے ۔ وہ بڑبڑانے اور چینخنے لگے ۔ انہیں اپنی چینخ و پکار کی خود بھی وجہ معلوم نہیں تھی ،نہ ہی وہ ایک دوسرے کو سن رہے تھے ۔
اس کے بعد پارٹی ختم ہونے لگی ۔کچھ اکیلے نکلے ،کچھ دو کی ٹولی میں اور کچھ تین مل کر نکلے ۔ سب لڑکھڑاتے ہوے جا رہے تھے ۔ کسان اپنے مہمانوں کو خدا حافظ کہنے دروازے سے باہر نکلا, لیکن وہ منہ کے بل جوہڑ میں گر گیا , سر سے پاؤں تک گندے پانی میں لتھڑ گیا اور ادھر لیٹا سؤر کی طرح کراہنے لگا ۔ اس سے شیطان بہت زیادہ خوش ہوا
“بہت اچھے تم نے بہترین مشروب تیا کیا . اور تم نے اپنی پہلی غلطی کا ازالہ کر دیا ہے۔” اس نے کہا ، “لیکن یہ تو بتاؤ ،یہ مشروب تیار کیسے ہوتا ہے ۔ تم نے ضرور پہلے لومڑی کا خون ڈالا ہو گا : جس کی وجہ سے کسان لومڑی جیسے مکار بن گئے ۔ پھر تم نے بھیڑیے کے خون کا اضافہ کیا ہوگا تبھی تو وہ بھیڑیوں کی طرح وحشی ہو رہے تھے ۔ آخر میں تم نے سؤر کا خون ملایا ہو گا تا کہ وہ سؤروں جیسا رویہ اپنا لیں ۔”
” نہیں ، چیلے نے جواب دیا ،میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ،میں نے بس یہ خیال رکھا کہ کسان کے پاس اس کی ضرورت سے زیادہ مکئی جمع ہو جاۓ۔ جانوروں کا خون تو پہلے ہی آدمی میں موجود ہوتا ہے ۔لیکن جب تک اس کے پاس صرف اپنی ضرورت کا غلہ ہوتا ہے وہ اپنی حدود میں رہتا ہے جیسے کہ اس کسان نے اپنی گم شدہ روٹی کے لئے دشمنی کا اظہار نہیں کیا ۔ لیکن جب اس کے ہاس ضرورت سے زائد مکئی آ گئی تو وہ اس سے تفریح کے مواقع تلاش کرنے لگا ۔ اور میں نے اسے تفریح کا رستہ دکھا دیا ۔شراب نوشی ! اور جب اس نے خدا کے اچھے تحائف کو اپنی تفریح کے لیے الکوحلک مشروبات میں بدلنا شروع کر دیا تو اس کے اندر موجودلومڑی ، بھیڑیے اور سؤر کا خون اپنا اثر دکھانے لگا اور جب تک وہ اسی طرح پیتا پلاتا رہا تو وہ ہمیشہ وحشی جانور ہی رہے گا ۔”
شیطان نے اپنے چیلے کی بہت تعریف کی ،اس کی پہلی غلطی معاف کر دی اور اسے ترقی دے کر باعزت مقام پر تعینات کر دیا ۔
English title:
The Imp and The Crust (1886)
Written by
Leo Tolstoy (9 September 1828-20 November 1910) Russian Novelist, short story writer, playwright, essayist.

Exit mobile version