مارسل رائش رانیتسکی

مارسل رائش رانیتسکی جرمنی کے سب سے بڑے ادب کے ناقد مانے جاتے ہیں۔ یہودیوں کے قتل عام ہولوکاسٹ میں بچ جانے والے مارسل رائش رانیتسکی نے دو جون 1920ء میں پولینڈ میں ایک یہودی خاندان میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد ایک تاجر تھے تاہم ان کی کمپنی دیوالیہ ہو گئی تھی۔ بعدازاں یہ یہودی فیملی پولینڈ سے برلن منتقل ہو گئی۔ مارسل رائش رانیتسکی کو اپنے اسکول کے ابتدائی دور میں کافی دشواریوں کا سامنا رہا کیونکہ انہیں جرمن زبان پر عبور حاصل نہیں تھا۔ وہ اُس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے تھے، ’’مجھے اسکول میں ایک اجنبی سمجھا جاتا تھا۔ میں ہمیشہ غریب الوطن رہا، میرا کوئی وطن نہیں تھا۔ تیس برسوں تک میرا وطن تھرڈ رائش یا نازی جرمنی تھا، میں 1938ء کے اواخر تک برلن میں رہا۔ وہاں ادب میرا وطن بن گیا۔‘‘
گریجویشن کے بعد رانیتسکی جرمن ادب کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے تاہم نازیوں نے انہیں جلا وطن کر دیا۔ 1940 ء سے وہ وارسا کی ایک یہودی بستی میں ایک کیمپ میں رہنے لگے جہاں کی بھیانک یادوں نے کبھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ رانیتسکی کے والدین اور اُن کے بھائی کو نازیوں نے قتل کر دیا تھا۔ ایک پولش جوڑے نے رانیتسکی کو موت سے بچایا، اسی کیمپ میں اُن کی ملاقات تیوفیلا سے ہوئی، جو بعد میں اُن کی شریک حیات بن گئیں۔ یہ بندھن حقیقی معنوں میں زندگی بھر کا بندھن ثابت ہوا اور 2011 ء میں رانیتسکی کی اہلیہ تیوفیلا کے انتقال کے ساتھ ہی ان کا یہ ساتھ ختم ہوا۔ رانیتسکی کہا کرتے تھے کہ انہیں زندگی میں بہت سے نیک لوگ بھی ملے جنہوں نے اُن کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ ایک پولش جوڑے نے میری اور اہلیہ کی جان بچائی تھی۔
رائش رانیتسکی دوسری عالمی جنگ کے بعد لندن میں پولش کونسل جنرل کے عہدے پر فائض رہے۔ وہاں سے واپسی پر انہیں کمیونسٹ پارٹی سے خارج کر دیا گیا جس میں انہوں نے شکر گزاری کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ دراصل اُن کی زندگی کا ادب کی طرف موڑ تھا۔ مارسل رائش رانیتسکی کو پولینڈ میں بھی سب سے زیادہ قابل احترام ادبی ناقد سمجھا جاتا تھا۔ اُنہیں جرمن ادب پر عبور حاصل تھا۔ 1958 ء میں وہ تعلیم کی غرض سے جرمنی آئے اور اس کے بعد وہ شاعروں کے اس ملک سے واپس نہیں گئے۔ ماضی کے جھروکوں سے جھانکتے ہوئے انہوں نے 2001 ء میں کہا تھا، ’’میرا کام اس وقت کی طرح تب بھی جرمن ادب کے شعبے میں تھا۔‘‘
مارسل رائش رانیتسکی کو جرمن ادب سے گہرا شغف تھا۔ جرمن ادب کے بارے میں انہوں نے متعدد کتابیں بھی لکھیں، بیشمار ادبی تصانیف شائع کیں یا اُن پر تبصرے لکھے۔ جرمن اشاعتی اداروں میں 100 کے قریب اشاعتیں رانیتسکی کے نام سے موجود ہیں۔ رانیتسکی گوئتے، ہائنے، کلائیسٹ، فونٹانے اور تھوماس من جیسے قدآور جرمن اُدبا کے شیدائی تھے۔
ایک ٹیلی وژن شوُ ’ادب کواٹیٹ‘ مارسل رائش رانیتسکی کی سب سے زیادہ شہرت کا سبب بنا، جسے قریب دو ملین ناظرین نے دیکھا۔ اس پروگرام میں مختلف کتابوں پر گرما گرم بحث ہوا کرتی تھی۔ مارسل کو مباحثوں اور تعمیری جھگڑوں کا بہت شوق تھا۔ 2000 ء میں انہوں نے اپنی ایک ساتھی ادیب زیگرڈ لؤفلر پر ذاتی حملے کیے جس کے نتیجے میں انہیں اس ٹیلی وژن پروگرام سے الگ کر دیا گیا۔ اسی طرح 2008 ء میں ادبی اور ثقافتی حلقے میں ایک ہلچل سی اُس وقت مچی تھی جب مارسل نے اپنی تمام زندگی کی ادبی خدمات کے عوض انہیں ملنے والے جرمن ٹی وی ایوارڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کر تے ہوئے اُسے رد کر دیا تھا۔ اس کی وجہ انہوں نے جرمن ٹیلی وژن کی غیر معیاری نشریات بتائی تھی۔ اس پر جرمنی کے دیگر ناقدین کی طرح گوئنٹر گراس نے بھی کہا تھا کہ مارسل رائش رانیتسکی ٹی وی میڈیا کے بغیر کبھی اتنی شہرت حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
مارسل کو سب سے زیادہ شہرت اُن کی تنقید اور تصانیف کی وجہ سے حاصل نہیں ہوئی تھی بلکہ اُن کی سوانح عمری جسے انہوں نے 1990ء میں ’ مائن لیبن‘ یا ’میری زندگی‘ کے عنوان سے شائع کیا تھا، بنی۔ 2009 ء میں اس سوانح عمری پر ایک فیچر فلم بھی بنائی گئی۔ اس میں مرکزی کردار معروف جرمن اداکار ماتھیاس شوئگ ہوفر نے ادا کیا۔ اٹھارہ ستمبر 2013 کو جرمن ادب کے اس عظیم نقاد کا فرینکفرٹ جرمنی میں ترانوے سال کی عمر میں ہوا۔

ڈوئچے ویلے اردو

 

یہ تحریر فیس بُک کے اس پیج سے لی گئی ہے۔

Exit mobile version