مطلب کی تلاش

روحاب بھائی میں آجاؤں۔
ہاں آجاؤ۔
روحاب نے سجل کو اپنے کمرے میں آنے کی اجازت دی۔
روحاب شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا جب وہ اس کے پاس آئی۔
روحاب بھائی وہ۔۔۔وہ مجھے آپکو۔۔۔۔
سجل اگر کوئی ضروری بات ہے تو جلدی بولو یوں اٹک اٹک کر اپنا اور میرا بھی وقت برباد مت کرو پلیز۔وہ مجھے آپکو یہ دینا تھا اب کی بار سجل نے وہ پارسل اس کی طرف بڑھایا۔
اس میں کیا ہے۔
روحاب نے پارسل پکڑے بغیر پوچھا۔یہ آپ پلیز خود ہی دیکھ لیں میں نہیں بتا سکتی۔
سجل نے اسے زبردستی پیکٹ پکڑایا۔
روحاب اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا کیا مسلہ ہے اور پھر پیکٹ کھولنے لگا۔
مگر پیکٹ کھولنے کے بعد اسکی رنگت بھی ایسی ہوگئی جیسی صبح سجل کی تھی۔
یہ کیا بیہودگی ہے۔وہ سجل کی طرف دیکھ کر غصے سے بولا۔
میں نہیں جانتی روحاب بھائی یہ تو پارسل آیا تھا بڑے ابا کھول کر دیکھنے لگے تو ان سے لے لیا مجھے یہی لگا کہ ماریہ نے نوٹس بھجواۓ ہیں۔
ان تصویروں کے بارے میں مجھے سچی میں کچھ معلوم نہیں۔
سجل آخر میں منمنائی۔
روحاب نے ان تصویروں کو غور سے دیکھا.یہ وہی لڑکی تھی جو اس دن اس کے ساتھ سیلفی لینے آئی تھی۔
اور یہ تصویر بھی بلکل وہی تھی بس پیچھے سے بیک گراؤنڈ چینج کر دیا گیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ان دونوں کا حلیہ بھی۔
روحاب تصویروں کو غصے سے مروڑتا ہوا بولا۔
ان تصویروں کو چاہے پھاڑو چاہے جلاؤ یا کچھ بھی کرو مگر یہ دوبارہ مجھے یا گھر کے کسی بھی فرد کو کسی بھی صورت نظر نا آئیں۔
روحاب نے تصویریں سجل کو تھمائیں اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
مگر آپ کہاں جا رہے ہیں اس وقت روحاب بھائی سنیں تو سہی۔
سجل اس کے پیچھے دروازے تک آئی مگر وہ اس کی آوازوں کو نظر انداز کرتا ہوا سیڑھیاں اتر چکا تھا۔
سجل بھی اس کے کہے پر عمل کرنے کے لئے ماچس لینے کچن میں چلی گئی۔
۔*********************
ثانیہ نے گھر میں شوشہ چھوڑ دیا تھا کہ زارون اسے طلاق دے رہا ہے۔
گھر کے بڑوں نے جب اس سے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ شادی کو ابھی چار مہینے نہیں ہوئے اور وہ کہتا ہے کہ مجھے اولاد چاہیے۔
چار مہینے ہی تو ہوئے ہیں کوئی چار سال تو نہیں ہو گئے مگر وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے خوش خبری نا سنائی تو طلاق دے دوں گا۔
ثانیہ نے صفا چٹ جھوٹ ان کے سامنے بول کر سارا کا سارا الزام زارون کے سر تھوپ دیا۔
اور ساتھ ہی ساتھ آنکھیں رگڑتے ہوئے رونے کا ناٹک بھی شروع کے دیا۔
جب ثانیہ نے ان کو طلاق کی دھمکی کی وجہ نہیں بتائی تھی تو سب سوچ رہے تھے کہ ہونہہ قصور ثانیہ کا ہی ہوگا جو بات طلاق تک آن پہنچی۔کیوں کہ سب جانتے تھے کہ ثانیہ کسی رشتے کو خوش اسلوبی سے نبھا ہی نہیں سکتی۔
شہلا بیگم تو شکر ہی کرتی تھیں کہ ثانیہ ان کی بہو نہیں بنی کیوں کہ وہ زرمین پھپھو سے اس کے آئے دن بغیر کسی بات کے جھگڑوں کا سنتی رہتی تھیں۔
سب نے ثانیہ کو چپ کرواتے اسے حوصلہ رکھنے کا کہتے ہوئے زارون سے ساری بات کرنے کی ٹھانی۔
۔***********************
حولدار اس دن جو لڑکی پولیس اسٹیشن کے باہر ملی تھی اسکا جلدی سے پتا لگواؤ۔
اور ہاں یاد رکھنا دو گھنٹے کے اندر اندر وہ لڑکی یا تو یہاں موجود ہو یا اسکا پتا میرے ہاتھ میں ہو۔
روحاب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ لڑکی ابھی کے ابھی کہیں سے بس اس کے سامنے آجائے۔
جی انسپکٹر روحاب۔حولدار اس کے حکم کی تکمیل کرنے کے لئے باہر نکل گیا۔
۔************************
زارون بیٹا یہ کیا بچپنا ہے ابھی چار مہینے تک نہیں ہوئے تم لوگوں کی شادی کو اور تم نے ثانیہ کو خوشخبری نا سنانے کی وجہ سے اسے طلاق کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو وہ اللّه کی مرضی ہے اس میں تم اس کو کیوں الزام دے رہے ہو ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے تم لوگوں کی شادی کو۔
رمیز صاحب نے زارون کو سمجھانا چاہا جبکہ زارون ہکا بکا انہیں دیکھنے لگا کہ یہ آخر ثانیہ نے کون سی کھچڑی بنا کر انہیں کھلائی ہے۔
زارون کو ایک دم تپ چڑھ گئی وہ یہ سوچتا ہوا کہ تمہیں تو میں کسی حال میں نہیں چھوڑوں گا ثانیہ میڈم۔۔رمیز صاحب سے بولا۔
میں نہیں جانتا مامو کہ ثانیہ نے آپ سب سے اس کے علاوہ اور کون کون سی باتیں کی ہیں مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس نے جو کچھ بھی کہا ہوگا اس میں ایک فیصد بھی سچ نہیں۔
بات تو اصل یہ ہے کہ ثانیہ نے خود مجھے دھمکی دی ہے کہ اگر میں اسے اس مہینے کے اندر اندر انگلینڈ نا لے کر گیا تو وہ مجھ سے طلاق لے لے گی۔
روز مجھ سے اسی بات پر لڑتی ہے گھر کا سکون برباد کر کے رکھ دیا ہے اگر آپکو یہ جھوٹ لگ رہا ہے تو آپ ماما سے پوچھ لیں ہماری لڑائی کا حرف حرف ان تک آسانی سے پہنچتا ہے۔
میں کتنی کوشش کرتا ہوں کے ہماری لڑائی کو ہمارے کمرے تک ہی محدود رکھوں مگر وہ رکھنے ہی نہیں دیتی۔
روز شوپنگ پر جانا ہوتا ہے اسے اور میں لے کر بھی جاتا ہوں روز رات کو دیر تک لونگ ڈرائیو کے لئے جانا ہوتا ہے اسے میں تب بھی چل پڑتا ہوں رات کو ایک دو بجے اٹھ کر کہتی ہے کہ مجھے باہر سے آئسکریم لا کر دو جبکہ گھر میں آئسکریم موجود ہوتی ہے مگر نہیں ہر بات میں ضد آگے ہوتی ہے۔
اسے گھومنے پھرنے سے غرض ہے شوپنگ سے غرض ہے انگلینڈ جانے سے غرض ہے اب آپ ہی بتائیں مامو ان سب میں آخر میں کہاں ہوں میرا بھی تو اس پر کوئی حق ہے۔
مگر اس کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے تو تم کہتے تھے کہ تمہیں انگلینڈ لے کر جاؤں گا اور میں شادی کے لئے مان گئی اب آپ ہی بتائیں مامو اسکا مطلب یہی ہوا کہ اس نے مجھ سے شادی صرف یہاں سے دور انگلینڈ جانے کے لئے کی تھی۔
اس نے جو بات آپکو بتائی ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے میں خود اکثر اس سے اس بارے میں بات کرتا ہوں تو کہتی ہے کہ وہ ابھی بچوں کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتی دو تین سال تک آزادی سے رہنا چاہتی ہے۔
اگر آپکو یقین نہیں تو بلائیں اسے اور پوچھیں اس سے۔
زارون نے جو بچوں والی بات کہی وہ واقعی میں سچ تھی۔زارون کی بات سننے کے بعد رمیز صاحب کو تو چپ ہی لگ گئی۔
وہ کیا سب ہی جانتے تھے کہ ثانیہ کی فطرت شروع سے ہی مطلبی اور خود غرض ہے۔
بچپن سے لے کر اب تک وہ ہر بات پے جھوٹ بولتی آئی تھی۔
اور صرف اور صرف اپنا مطلب ہی تلاش کرتی آئی تھی۔مگر رمیز صاحب کو لگا تھا کہ ان کی بیٹی کم از کم شادی کے معاملے میں تو اتنا بڑا جھوٹ نہیں بولے گی۔
رفیق صاحب زارون کی ساری بات سننے کے بعد بولے۔زارون بیٹا میں تمہیں کسی بھی بات میں غلط نہیں مانتا۔
قصور ثانیہ کا ہے مگر چلو اس بار اس کی باتوں کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دینا کہ تھوڑی کم عقل ہے نا سمجھ ہے ابھی مگر خیر تمہاری ممانی سمجھا دیں گیں اسے۔
تم ثانیہ کو لے کر نہیں جاؤ گے تم گھر جاؤ شام کو ثانیہ خود تمہارے پاس موجود ہوگی۔
بہتر ہے کہ اسے اسکی غلطی کا احساس کرایا جائے اور وہ خود تمہارے پاس آئے۔
جی بہتر بڑے مامو۔زارون دل میں اپنی اس ایموشنل کارکردگی پر خوش ہوتا ہوا کھڑا ہوگیا۔
جبکہ شہلا اور ثمرین ثانیہ کو سمجھانے کے لئے اٹھ گئیں۔
۔*********************
انسپکٹر روحاب اس لڑکی کا پتا معلوم ہو گیا ہے۔
اسکا نام مونا ہے اور وہ شوپنگ پلازہ کے پاس آسمانی بلڈنگ کے روم نمبر سترہ میں رہتی ہے۔
حولدار نے واقعی میں پورے دو گھنٹے کے اندر آکر روحاب کو اس لڑکی کا پتا بتایا۔
گڈ ویری گڈ۔۔۔
روحاب اسے شاباشی دیتا ہوا مسکرا دیا۔
۔*********************
روحاب سیڑھیاں چڑھتا ہوا دوسرے پورشن پر آیا۔یہ کافی پرانی بلڈنگ تھی۔
تمام رومز کے باہر نمبرز کی سلیٹ لگی ہوئی تھی۔جو کہ مٹی اور زنگ سے بھری ہوئی تھیں۔
نمبرز تو مشکل سے نظر آرہے تھے۔
روحاب جلدی سے روم نمبر سترہ کی طرف بڑھ گیا۔بیل شاید خراب تھی جو چل نہیں رہی تھی اس لئے وہ ڈور ناک کرنے کے بعد اس کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔
زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا اس مونا نامی لڑکی نے جلد ہی دروازہ کھول دیا۔
روحاب نے دیکھا کہ اسے دیکھتے ہی اس کے چہرے کی رنگت اڑ گئی۔
ہائے میں انسپکٹر روحاب یقیناً یاد ہی ہوگا تمہیں میں۔یاد کیسے نہیں ہونگا تم تو میری بہت بڑی فین ہو ناں۔وہ پہلے تو گھبراتی ہوئی سر ہلانے لگی مگر پھر جلد ہی اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی ہوئی بولی۔
جی جی آپکو کیسے بھول سکتی ہوں ابھی اس دن ہی تو آپکے ساتھ تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بولتے بولتے زبان دانتوں تلے دبائی۔
اچھا ہوا یہ بات تم نے خود ہی کہہ دی ورنہ مجھے ہی شروع کرنے کی زحمت کرنی پڑتی۔
سنو لڑکی میرے پاس نا ہی زیادہ وقت ہے اور ہوتا بھی تو مجھے بلکل شوق نہیں ہے اپنا قیمتی وقت برباد کرنے کا اس لئے اب جلدی سے بتا دو کہ ان تصویروں کا کیا چکر ہے۔
جی میں سمجھی نہیں۔وہ لڑکی شائد اتنی جلدی حقیقت اگلنے نہیں والی تھی۔
ایک پولیس والے سے ایک مجرم سے سچ اگلوانا کوئی مشکل کام نہیں۔
مگر تم نے اگر اسے مشکل بنانے کی کوشش کی تو یاد رکھنا تمہیں میرے ساتھ پولیس اسٹیشن جانا پڑے گا۔
اور جانتی ہو ناں کہ پولیس اسٹیشن میں مجرم کس لئے لائے جاتے ہیں۔
روحاب جو کہہ رہا تھا سچ ہی کہہ رہا تھا کیوں کہ اگر وہ لڑکی سچ بولنے میں کچھ دیر اور لگاتی تو وہ واقعی میں اسے پولیس اسٹیشن لے جانے میں دیر نا لگاتا۔میں نے کچھ نہیں کیا انسپکٹر روحاب میں سچ کہہ رہی ہوں۔وہ گھبراتے ہوئے بولی۔
میں نے کب کہا کہ تم نے کچھ کیا ہے میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ ان تصویروں کے پیچھے اصل ہاتھ کس کا ہے۔
کون ہے آخر جسے میرے ہاتھوں مرنے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔
وہ لڑکی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ہاتھوں کی انگلیاں چٹکارنے لگی جیسے بھاگنا کا راستہ تلاش کر رہی ہو۔روحاب اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔پھر روحاب نے اچانک ہی پستول نکال لی۔
روحاب کا ارادہ گولی چلانے کا بلکل بھی نہیں تھا ہاں مگر اسے ڈرانے کا ضرور تھا کیوں کہ وہ بتانے میں وقت بہت لگا رہی تھی اور روحاب کو اس انتظار سے سخت کوفت ہو رہی تھی۔
روحاب کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر اس کی پوری آنکھیں کھل گئیں اور ساتھ ہی زبان بھی۔
یہ سب میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا بلکہ ایسا کرنے کو مجھے کسی نے بولا تھا اور اس کام کے پیسے بھی دیے تھے۔
میرا کام صرف آپکے ساتھ تصویریں بنوانا تھا ان تصویروں میں ردوبدل میں نے نہیں بلکہ انہوں نے کی ہے۔
کون ہے وہ؟
روحاب دانت پیستا ہوا بولا۔
اس پر اس لڑکی نے اس ہستی کا نام بتا دیا جو روحاب کو سب کی نظروں میں گرانے کے چکر میں تھی۔
جبکہ روحاب کو وہ نام سن کر اپنے کانوں پر یقین نا آیا۔
۔*******************
ثانیہ شام کو اپنے سسرال موجود تھی۔
اس کے چہرے سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ اسے یہاں زبردستی بھیجا گیا ہے۔
شہلا اور ثمرین نے پہلے تو اسے پیار سے سمجھایا مگر جب وہ نا سمجھی تو ثمرین غصے سے بولیں۔
جب تک تم کنواری تھی تب تک ہمارا تم پر زیادہ حق تھا اور بچپن سے لے کر اب تک ہم تمہاری ضد اور من مانیوں کو مانتے آئے ہیں۔
مگر اب تم شادی شدہ ہو ہم سے زیادہ تم پر اب تمہارے شوہر کا حق ہے وہ جو کہتا ہے اسے مانا کرو اور آئے دن کے لڑائی جھگڑوں سے اسکی اور اپنی زندگی اجیرن مت کرو۔
سال دو سال بعد وہ یہاں آتا ہے اس لیے کہ سارا سال محنت کرنے کے بعد وہ ایک دو مہینے اپنے گھر والوں کے ساتھ سکون سے رہ سکے مگر تم اس کے سکون کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہو۔
خبردار جو آئندہ تم نے جھوٹی باتیں بنا کر ہمیں زارون کے خلاف کرنے کی کوشش کی تو۔
تمہاری شادی تمہاری مرضی اور خوشی سے ہوئی ہے ہم نے کوئی زبردستی نہیں کی تمہارے ساتھ۔
اب اٹھو اور جاؤ ورنہ میں زارون کو بولوں گی کہ آؤ اور اپنی بیوی کو جس طرح مرضی یہاں سے لے جاؤ۔اور ہاں اب وہی تمہارا گھر ہے وہیں رہو تو بہتر ہے۔
آئے روز یہاں مت آیا کرو ساتھ ساتھ گھر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تم سسرال سے زیادہ میکے میں نظر آؤ۔ثانیہ یہ سوچتی ہوئی کہ یعنی میرا جھوٹ پکڑا گیا زارون اپنا کہا پورا کر کے ہی چھوڑے گا وہاں سے پاؤں پٹکتی ہوئی کھڑی ہوگئی۔
۔*******************

Exit mobile version