محبت کا فائدہ

اس نے پلٹ کے ایک بار اپنے گھر کو نظر بھر کے دیکھا آج وہ لوگ واپس جا رہے تھے وہ گھر ایک بار پھر سے ویران ہونے جا رہا تھا۔۔۔۔۔ اس کے مکین جو کبھی وہاں اس گھر میں رہا کرتے تھے وہ اس گھر کو اکیلا چھوڑ کے جا رہے تھے انہوں گیٹ عبور کیا اور اسے تالا لگا دیا
کچھ دیر بعد وہ لوگ کراچی ائیرپورٹ پہ موجود تھے یشل کو اس شہر اور یس شہر کے رہنے والوں سے گھبراہٹ ہورہی تھی وہ جلد سے جلد یہاں سے جانا چاہتی تھی
وہ علی کے گھر والوں سے ناراض تھی کیونکہ وہ ہر روز ان سے بات کرتی تھی پر انہوں ایک بار بھی علی اور لیلٰہ کی منگنی کا ذکر نہیں کیا تھا
کچھ ہی دیر میں فلائیٹ کی اناؤسمنٹ ہوئی تو وہ لوگ اٹھے۔۔۔۔۔ وہ واپس جا رہی تھی کبھی نہ آنے کے لیے۔۔۔۔ پر وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ بہت جلد یہاں واپس آنے والی ہے کیونکہ اسے واپس آنا ہی تھا
انسان کیسا ہوتا ہے نا۔۔۔۔؟؟؟ اپنی قسمت سے مایوس ہو کے اللٰہ کو بھول جاتا ہے اور دنیا میں گم ہونے کی کوشش کرتا ہے پر جب وہ ہی دنیا اسے ٹھکرادیتی ہے تو وہ دوبارہ اللٰہ کا در کھٹکھٹاتا ہے اور اللٰہ اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔۔۔۔۔کبھی مایوس نہیں کرتا۔۔۔۔۔
————–
تین دن ہوگئے تھے یشل کسی بھی فون نہیں اٹھا رہی تھی نہ حیدر لی نہ فاطمہ کی نا شفق آپی کی۔۔۔۔۔
ابھی بھی اس کا سیل مسلسل بج رہا تھا اور وہ کب سے کب سے اگنور کررہی تھی دل ہی نہیں تھا کسی سے بات کرنے کا لیکن۔۔۔۔ پھر کچھ سوچ کے اس نے فقن ریسیو کیا
” ہیلو۔۔۔۔۔ یشل فون کیوں ریسیو نہیں کررہی تھیں کیا بہت ناراض ہو” وہ بولیں
” آپ کق میری ناراضی کی فکر ہے؟” وہ بولی
” کیوں نہیں ہے میری جان تم تو اپنی ہو ہماری” شفق آپی بولیں
“اپنی ہوتی تو آپ آج مجھ سے یہ بات چھپاتیں”
” یشل تمہین دکھ ہوتا اس لیے ہم نے تمہیں نہیں بتایا۔۔۔۔۔ سوری یشل” وہ خاموش رہی
” یشل جاننا چاہو گی کہ اس نے منگنی کیوں کی لیلٰی سے” یشل تب بھی کچھ نہ بولی
” تمہارے جانے کے بعد وہ بالکل ٹوٹ گیا تھا بکھر گیا تھا انہی دنوں لیلٰی اس کے ساتھ رہبے لگی۔۔۔۔۔ پھر لیلٰی کی امی کے توسط سے فاطمہ کا رشتہ آیا نہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں تھی تو ہاں کردی گئی رشتہ پکا ہونے کے ایک سال بعد لیلٰی کی امی نے ہماری امی کو فون کیا اور کہا کہ علی اور لیلٰی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تق آپ علی سے میری لیلٰی کو لے لو۔۔۔۔۔ امی نے کہا بھی کہ علی رضامند نہیں ہیں پر وہ بضد ہوگئیں اور امی کو بولیں کہ اوچ لو اس بارے میں ورنہ۔۔۔۔ فاطمہ کا رشےتہ بھی میں نے ہی کرایا ہے پر اس رشتے کی ختم کرنے کی ذمہدار آپ لوگ ہوں گے
تم تو جانتی ہو نا امی کو فوراً بلیک میلنگ میں آگئی ہم نے بہت سمجھایا پر پھر بھابی نے ہنگامہ ڈال دیا رقز روز وہ جھگڑے کرنے لگیں بھابی کو تو تم جانتی ہی ہو جب جب تم آئیں ان کے چہرے کے زاویے بگڑ جاتے تھے امی نے گھبرا کے علی کی بہت منت سماجت کی قسمیں واسطے دیے تب کے وہ مانا ہے ورنہ اس کے دل میں لیلٰی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس کے دل میں آج بھی تم ہو یشل بس ایک مس انڈرسٹینڈنگ ہوگئی ہے تم دونوں کے بیچ میں” یشل نے گہرا سانس لیا پھر بولی
” کوئی بات نہیں جو چیز میرے نصیب میں نہیں وہ مجھے نہیں مل سکتی۔۔۔۔۔ شاید علی اور میرا بچھڑنا ہی قت میں تھا اور علی کی قسمت میں لیلٰی کا آنا اگر اس میں ہی اللٰہ کی رضا ہے تو میں اللٰہ کی رضا میں خوش ہوں”
” بس دکھ اتنا ہے کہ علی نے میرا ایک بار بھی اعتبار نہیں کیا میں اسے سب سچ بتا چکی تھی۔۔۔۔ اس کے باوجود بھی۔۔۔۔۔ ایسی محبت کا فائدہ کیا جس میں اعتبار نہ ہو”
” ٹھیک کہہ رہی ہو یشل۔۔۔۔۔ واقعی علی کی غلطی ہے پر جان آدمی آدمی ہی ہوتا ہے وہ اپنی عورت پہ لگی ایک ذرا سی تہمت برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
” وہ پکس علی کو جا طرح دکھائی گئیں اچھے سے اچھے آدمی کا دماغ گھوم جائے” ل
” بس آپی میں بیتی باتوں کو دہرانا نہیں چاہتی جق ہونا تھا وہ ہوگیا مجھے کسی سے شکایت نہیں صرف علی کے رویے نے تکلیف دی مجھے”
اس کی آواز بھرائی ” میں بزی ہوں آپی بعد میں کال کرتی ہوں” کہہ کر اس نے فون رکھ دیا
———–
دن یوں ہج پر لگاتے اڑ گئے یشل ایم بی بی ایس کمپلیٹ ہق گیا تھا اور وہ اب جہانزیب انکل کے ساتھ ان کے ہاسپٹل میں جاب کررہی تھی مشعل کا ایم بی ہو گیا تھا اور مصطفٰی انجینئیرنگ کررہا تھا
وہ بہت قابل ڈاکٹر تھی اپنا کام ذمہ داری سےکرتی حیدر سے اسے پتا چلا تھا کہ علی نے اب اپنی کمپنی کھڑی کی ہے بہت ترقی کررہا ہے وہ یشل اس کے لیے دل سے خوش تھی اور اس خوشی میں اس نے اپنی سہلری اور کچھ اپنے اکاؤنٹ سے پیسے نکلوا کے اس کے لیے ایک چھوٹا سا علی پیلس بنوایا جو بے حد خوبصورت تھا یہ اس کے لیے ایک محبت بھرا گفٹ تھا۔
————-
آج فاطمہ کے سسرالیوں نے دعوت پہ آنا تھاسبتیاری میں لگے ہوئے تھے کپ حیدر کا سیل بجا
“حیدر۔۔۔۔ حیدر بیٹا فون دیکھو اپنا” فون مسلسل بج رہا تھا تبھی وہ بولیں
” امی حیدر تو گھر پہ نہیں ہے” فاطمہ بولی
” تو بیٹا تم اٹھا لو کیا پتا کسی کو ضروری کام ہو بتادو اسے ”
” جی امی” اسنے فون رسیو کیا
” ہیلو”
” جی یہ حیدر کا نمبر ہے؟”
” ہاں جی آپ کون۔۔۔؟؟؟؟”
” جی ان ایک عزیز کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے میں نے ہاسپٹل پہنچا دیا ہے انہیں ”
” کون عزیز؟” وہ کانپی
” ان کے این آئی سے پہ تو علی ذوالفقار لکھا ہے۔۔۔۔۔ بہت سریا حالت ہے ان کی” ایک دم اا کے ہاتھ سے فون چھوٹ کے گرا
” ارے کیا گرا ہے فاطمہ؟” امی کی آواز آئی
” فاطمہ کا کا فون تھا؟” ان کی پھر آواز آئی قہ اب بھی کچھ نہ بولی
” فاطمہ بتا بھی؟” وہ اس کے اس چلی آئیں
اتنے میں حیدر بھی آگیا
” ام۔۔امی وہ۔۔ وہ”
” میرا دل گھبرا رہا ہے فاطمہ بتا بھی”
” کیا ہوا ہے فاطمہ” حیدر نے بھی پوچھا
” علی۔۔ بھائی کا ایکسیڈنٹ” یہ سننا تھا کہ امی بے یوش ہوکے گری
” امی۔۔۔ی سنبھالیں” وہ امی کی طرف بڑھا
” کا نے بتایا تمہیں؟” بھابی فکرمندی سے پوچھا
” فون آیا تھا” اس نے سہل کی طرف اشارہ کیا حیدر نے فون اٹھایا
” بھابی آپ امی کو سنبھالیں لیلٰی تم عمر بھائی کو کال کرو جلدی” وہ موبائیل اٹھاتا جلدی سے وہی نمبر ڈائل کرتا گھر سے نکلا تھا۔
———
آج یشل نے سوچا فاطمہ کو کال کرے اس نے کال کی بٹ اس کا نمبر بند تھا پھر شفق کو کیا ان جا نمبر بھی بند پھر اس نے حیدر کو کیا نا جانے دل کیوں گھبرا رہا تھا کبھی اہسا نہیں ہوا تھا کہ ان کے نمبر بند ہوں
حیدر نے کال رسیو کی تو وہ بولی
” حیدر کیا ہو گیا پے فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے تم لوگ؟”
” آپی علی بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ان کی حالت سریس ہے ہم ہاسپٹل میں ہیں” وہ بتا رہا تھا اور یشل کو ایک دم شاکڈ لگا اسے لگا جیسے اس کی جان ہی نکل گئی ہو
” آپی ڈاکٹرزبھی اپنا کام سہی سے نہیں کررہے ہیں ان کی حالت خطرے میں ہے” وہ رو دیا تھا رو تو وہ بھہ رہی تھی پھر ضبط کرکے بولی
” حیدر حیدر سنبھالو خود کو۔۔۔۔۔ علی کو کچھ نہیں ہوگا آرہی ہوں میں” وہ اسے تسلیاں دے رہی تھی حالنکہ اسے خود اب تسلیوں کی ضرورت تھی
اس نے کبھی سوچابھی نہیں تھا کہ وہ کبھی پاکستان آئے گی اور وہ بھی ام حالات میں۔۔۔۔۔
پر اسے نہیں پتا تھا اب جب وہ جا رہی ہے تو اب وہاں سے آنہیں پائے گی۔۔۔۔۔ چاہ کے بھی دور نہیں جا سکے گی۔۔۔۔۔ کوئی دور جانے ہی نہیں دے گا۔

Exit mobile version