ناسخ کی شاعری کے زبردست اثرات اور تقابلی جائزہ

637245238545438624Nasikh Ki Shairi K Zabardast Asrat Aur Taqabali Jaiza

ناسخ نے سادہ گوئی پر خط نسخ کھینچ دیا اور کلیات ناسخ ، زبان کے لحاظ سے نہیں،ایک خاص اسلوب کے لحاظ سے بیاضِ مسیحا کی حیثیت رکھتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ناسخ اتنا بلند پایہ شاعر ہے کہ انکے اسلوب نے آتش سے غالب مومن داغ بلکہ اقبال تک حکومت بلکہ خدائی کی ہےاس طرح آگے چل کر اردو لہجوں اور دبستانوں سے نکل کر وسیع اور مشترکہ علمی زبان بن گئی. یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اقبال نے بھی ناسخ کے ڈکشن کو اپنایا ہے …مثلاً
ناسخ کا شعر
سب کے خالق نے بنائے کاسۂ سر سرنگوں
آدمی اس پر بھی پیش آدمی سائل ہوا
اقبال
تو اگر خود دار ہے منت کش ساقی نہ ہو
عین دریا میں حباب آسا نگوں پیمانہ کر
ناسخ
بجلی جلائے گلشن ہستی میں ہم صفیر
صیاد کے جو ڈر سے کروں آشیاں بلند
مومن
ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے
صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں
ناسخ
فصل گل چار دن ایام توبہ ہیں مدام
عمر بھر اے میکشو باب اجابت باز ہے
داغ
مئے پی تو سہی توبہ بھی ہوجائے گی زاہد
کمبخت قیامت ابھی آئی نہیں جاتی
یہ بھی سچ ہے کہ ناسخ مجدد زبان اور صاحب اسلوب شاعر ہو کر بھی ،لکھنوی ماحول سے مکمل طور پردامن نہیں چھڑا سکے. انکی شاعری میں اسکی آمیزش ناگزیر تھی. کیونکہ وہاں شعر کا منتہا صرف تفریح اور دل لگی تھی ..
ناسخ اور غالب کا تقابلی مطالعہ
ناسخ
رات ایسا انتظارِ یار میں بے تاب تھا
بسترِ گل پر نہ تھا میں آگ پر سیماب تھا
غالب اسی زمین میں کہتے ہیں
شب کہ برق سوزِ دل سے زہرہ ابرِ آب تھا
شعلۂ جوالہ ِہر اک حلقۂ گرداب تھا
ناسخ
مرا سینہ ہے مشرق آفتابِ داغِ ہجراں کا
طلوعِ صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا
غالب اسی زمین میں کہتے ہیں
ستائش گر ہے زاہد اسقدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہےہم بے خودوں کے طاقِ نسیاں کا
ناسخ
ہوگئے دفن ہزاروں ہی گل اندام اس میں
اس لئے خاک سے ہوتے ہیں گلستاں پیدا
غالب یہی خیال یوں باندھتے ہیں ظاہر ہے غالب مستعار خیال کو بھی اپنے جادوئی لمس کے ذریعہ کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں …
سب کہاں کچھ لالۂ و گل میں نماہاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
ناسخ
شکل نظر پڑی نہیں آیا نہیں پیام بھی
برسوں ہوئی کہ ایک سی حالتِ چشم و گوش ہے
مزکورہ بالا کا مضمون غالب نے اسطرح باندھا ہے .
نے مژدۂ وصال نہ نظارۂ جمال
مدت یوئی ہے کہ آشتی چشم و گوش ہے
ناسخ
مے کشی سے یہ دل سوزاں ہے نالاں ہجر میں
آگ کا معمول ہےکرتی شیون آب میں
مزرا غالب نے یہ مضمون یعں نقل کیا ہے.
.
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
ہرکوئی درماندگی میں نالے سے لاچار ہے
ناسخ
سیہ خانہ مِرا روشن ہوا ویران ہونے سے
کِیا دیوار کے رخنوں نے یاں عالم چراغاں کا
مزرا غالب نے اس خیال کو یوں اخز کیا ہے.
بیاں کس سے ہوظلمت گستری میرے شبستاں کی
شبِ مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں
ناسخ
وہ چلے جاتے ہیں لیکن میں ہلا سکتا نہیں
ضعف سے جنبش نہیں بہرِ اشارت ہاتھ میں
غالب
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
ناسخ کا خیال غالب کے مقابلہ میں سپاٹ ہے..غالب بھی ہاتھ ہلا نہیں سکتے …لیکن دوسرے مصرع میں قیامت برپا کردیتے ہیں …
شروع شروع میں غالب نے ناسخ کے رنگ کو اپنایا لیکن جلد ہی وہ خود صاحب اسلوب ہوگئے بی شک انہوں اپنی علمی لیاقت سے اردو کو باتمکین اور بلند پایہ بنادیا.غالب فکر و فن کو اگر غیر قابلِ عبور کہا جائے تو بھی اس میں کوئی مضائقہ نہیں
ناسخ اور آتش کا تقابلی مطالعہ
زلفِ جاناں یاد آتی ہے جو صحرا میں مجھے
جادۂ صحرا ہوا ہے مارِ رہزن زیرِ پا
نہایت زور دارشعر ہے
آتش
اس زمیں میں طبع آزمائی کرتے ہیں تو محض سطحی اور مزہ سی غزل کہتے ہیں مقطع قدرے اچھا ہے لیکن مبالغہ و تعلی کے علاوہ شعر میں کچھ نہیں
آتش
خار کا کھٹکا نہیں رکھتے ہم آتش قدم
موم ہوجائے اگر آجائےآہن زیر پا
ناسخ
نازنینوں سےکروں کیا ربط میں نازک مزاج
بوجھ اٹھ سکتا نہیں مجھ سے کسی کے ناز کا
ناسخ کی غزل کے مضامین بھی بلند نہیں
آتش
آتش اسی زمیں غزل کہتے ہیں تو مقطع مشہور ہوجا ہے باقی غزل بس یونہی روایتی جیسی ہے
.آتش کا مقطع
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا

ناسخ
مِرا سینہ ہے مشرقِ آفتاب داغ ہجراں کا
طلوع صبح محشر چاک ہے مِرے گریباں کا
وہ شوخ فتنہ انگیز اپنی نظروں میں سمایا ہے
کہ اک گوشہ ہے صحرائے قیامت جس کے داماں کا
اسی زمیں آتش نے عامیانہ جیسی غزل کہی ایک شعر
لبھاتا ہے نہایت دل کوخطِ رخسار جاناں کا
گھسیٹے گامجھے کانٹوں میں سبزہ اس گلساں کا
ناسخ اور آتش میں بنیادی فرق یہ تھا:
١آش محاورہ بندی کے چکر میں پڑے رہے ناسخ نے
تخلیقی زبان کی طرح ڈالی
۲آش حقیقت کی مصوری کرتے رہے
جبکہ ناسخ انکے برخلاف منقلب اور اخفائی اظہار کے قائل تھے.
یہی وجہہ تھی کہ ناسخ غالب کے لئے بھی کچھ عرصہ تک ان کی شاعری جاذب توجہہ رہی
٣آ تش نے اپنے صوفیانہ مزاج کے اقتضا سے
غزل کی زلفیں خوب سنواری اور وہ استاد ہوتے ہوئے بھی ناسخ کے متبعین میں سے تھے جبکہ
ناسخ خلاقی کا شاعر تھا مخصوص لہجہ اور زبان شاعری کی طرح ڈالی انکی زبان تصنع آمیز اور دقیق ہونے کے باوجود کے بڑے بڑےشعرا کے لئے فانوس دریائی ثابت ہوئی.

Exit mobile version