پراگ کا لسانی حلقہ اور کتاب تاریخی ساخت پراگ دبستاں پروجکٹ

Prague Ka Lisani Halqa Aur Kitab Tareekhi Sakht Prague Dabastan Project

1928- 1946 { پس منظر اساس اور استنباط}
میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے پراگ کے لسانی حلقے پر تھوڑی سی بات کرلی جائے جس کو پراگ کا لسانی مکتبہ فکر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ادبی نقادوں اور لسانیات کا ایک بااثر گروہ تھا جو لسانیات کے لئے ایک نیا نقطہ نظر بنانے کی مشترکہ خواہش کے ساتھ پراگ میں اکٹھا ہوا۔ حلقہ کا سب سے معروف دور 1926، اس کی باضابطہ آغاز، اور دوسری جنگ عظیم کے آغاز کے درمیان ہے ، اس وقت جب پراگ نے وسطی یورپ میں فنکاروں اور اسکالروں کے لئے آزادی اور جمہوریت کی امید کی تھی۔ ان کی اجتماعی سرگرمی کا جذبہ، علم کی ترکیب کا نظارہ، اور پراگ سرکل کی تعریف اور حوصلہ افزائی اسکالرشپ کے لئے معاشرتی طور پر طے شدہ وابستگی پر زوردیا۔
پراگ کے لسانی حلقے کے پہلے صدر، ولیم میتھیسس کے ساتھ ، رومن جاکوبسن، نیکولائی ٹروبیٹزکوی، اور سرگئی کارسیوسکی کے ساتھ ساتھ مشہور چیک ادبی عالموں رینی ویلیک اور جان مکاؤسکی کو بھی شامل ہوگئے تھے۔ ان کے کام اور فکریات نے فرڈینینڈ ڈی سوسور کی کلاسیکی  لسانی ساختیاتی   تصوارت  سے یکسر علیحدگی اختیار کی۔یا یوں کہ لیں کی اس کو قریب قریب مشترد ہی کردیا۔  انہوں نے تجویز کیا کہ تقریریا تکلم کی آوازوں کے فنکشن یا افسانویت کے مطالعہ کرنے کے ان طریقوں کا اطلاق ہم آہنگی کے ساتھ کسی زبان پر بھی ہوسکتا ہے جیسے یہ موجود ہو، اور اختلافی طور پر کسی زبان میں جس طرح یہ تبدیل ہوتا ہے۔ زبان کے عناصر کی فعالیت اور اس کے معاشرتی فعل کی اہمیت اس کے تحقیقی پروگرام کے اہم پہلو تھے۔ انھوں نے سن 1928–1939 کے دوران ساختیات  ادبی تجزیہ کے طریقے تیار کیے ۔دوسری جنگ عظیم   کے بعد ، سرکل اب ماہر لسانیات کےحلقے  کےطور پر کام نہیں کرتا تھا ، لیکن پراگ اسکول لسانی وظائفیت { فنکشنلزم} کی ایک بڑی قوت کے طور پر جاری ساری  رہا (جے آر فیرت اور بعد میں مائیکل ہالائیڈ کے کام کے بعد کوپن ہیگن اسکول یا انگریزی لسانیات سے الگ ہے)۔ مگر اس کا لسانیات اورنشانیات { سیمیٹوٹکس} پر مستقل اثر و رسوخ رہا ہے۔
ساختیاتی لسانیات کو عام طور پر زبان کی تاریخ کے تے تناظر پر جامد زبان کے نظام کے ساتھ متحرک رکھنے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پھر بھی 1920 کی دہائی میں پراگ لسانی حلقے نے کسی ایسے نظام کے ساختیاتی مخمصے کو حل کیا جو اس تبدیلی سے گزرنے کے بعدایک  نظام کے طور پر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ زبان کی تبدیلیوں کا مطالعہ الگ تھلگ نہیں بلکہ پورے نظام کے سلسلے میں ہونا چاہئے۔ تاہم، زبان کا کوئی نظام قطعی طور پر خود انحصار نہیں ہے، اور نہ ہی زبان میں ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ بالکل ممکن ہے کیونکہ زبان کو ٹھوس حالات کے مطابق بنانا ہوگا۔ اسی طرح ، ادبی تاریخ بڑی حد تک نظام کے تحت متحرک دکھائی دیتی ہے، لیکن بیک وقت غیرجانبدار اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اشاریاتی تصور ہی اس کی لازوال ترقی کی وضاحت کرسکتا ہے۔ اس طرح پراگ ڈھانچے میں ادبی شکلوں کی داخلی، نظامی تبدیلیوں اور پڑھنے والے عوام کے ذریعہ ان کے استقبال میں شامل معاشرتی پہلوؤں دونوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آخر میں، ساختیاتی  ادبی نظریہ انفرادی فنکاروں ادبی تخلیق کاروں کے کردار کی وضاحت کرتا ہے، جس کی اصلیت کو منظم ادبی ڈھانچے کی جدلیاتی تردید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انگریزی میں چیک ساختیات اور اشاریات کے اس کتابی کےطویل مطالعے میں، ایف ڈبلیو گالان نے بیسویں صدی کے ایک اہم فکری دھارے کی کھوج کی، جس میں بیسویں صدی کے روسی رسمی نوعیت اور فرانسیسی ساخت کے بارے میں لکھا گیا اس کے درمیان خلا کو پُر کیا گیا۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی۔ وہ ان نظریات کے پراگ لسانی حلقہ کے اندر موجود ارتقاء کو ریکارڈ کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ادب کی تبدیلی اور معاشرے میں ادب کے مقام سے وابستہ ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے، وہ انکشاف کرتا ہے کہ کس طرح 1928 ء سے 1946 کے برسوں میں پراگ لسانی حلقہ کا کام اس کے نقادوں کے الزامات کے خلاف جاتا ہے۔، جو لسانیات ، ادبی نظریہ، فلمی مطالعات اور اس سے متعلق شعبوں میں فطری طور پر غیر اخلاقی ہے اس کے خلاف ساختہ ڈھنگ سے ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر پراگ مکتبہ فکرو رومن ژاکبشن اور جان مکاروفسکی کے جوعالموں  کے ذریعہ اس واضح طریق کو واضح کرتا ہے۔ کام  کے تعطل پر قابو پانا اصل  بھی چیلنج تھا۔
پراگ کے لسانی  حلقے پر اس خاکسار نےایک مضمون " پراگ کا دبستان" لکھا تھا ۔ جو میری کتاب" تنقیدی مخاطبہ" 2017 میں کتاب دار ممبئی ، بھارت میں شامل ہے ۔
::: ساختیاتی تنقیدی نظرئیے کی مباحث میں "پراگ مکتبہ فکر" کے بغیر ادھوری نظر آتی ھے۔ اس سلسلے میں ایک مفید کتاب " ہسٹریکل اسٹریکچر" دی پراگ اسکول پروجکٹ۔ 1928۔ 1946 " ایف ۔ ڈبلیو گلین( F.W GALAN) نے لکھی ھے اس کتاب کو 1988 میں یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن پریس نے شائع کیا۔ اس کتاب میں پراگ کے لسانی حلقے کو فرانسیسی ساختیات اور روسی ہیت پسندی کے مابین " پل " قرار دیا۔ گلین نے اس کتاب میں اس زمانے میں تبدیل ھوتی ادبی لسانیات کا بہتریں تجزیہ پیش کیا ھے۔ پراگ اسکول نے ساختیات پر لگائے جانے والے بہت سے الزامات کو جواب دیا۔ جس نے لسانیات، ادبی نظرئیے، فلم اور ڈرامے کی انتقادات اور مطالعوں پر گہرے اثرات ڈالے اور اس مدرسہ فکر نے ادبی اور لسانی مطالعوں کی نئی مناجیہات ترتیب دی۔ یہ " تاریخ شکن" نظریہ بھی تھا۔ جس کو جیکب سن اور مکاٹافسسکی نے پروان چڑھایا۔ اس کتاب میں ان موضوعات پر تفصیل سے لکھا کیا ھے:
1۔ تاریخی لسانیات اور ادبی ارتقا
2۔ تاریخی ترتیب وارایت کا شعری ساختیہ
3۔ نشانیاتی اصلاح کاری
4۔ قاری کی تاریخیی اور انفرادی شعری اہلیت
زیر نظر کتاب مین پراگ اسکول کے حوالے سے، شعریات، جمالیات اور نشانیات پر دئیے ہوئے خطبات کی فہرست بھی درج  کی گئی ہے۔

 

Exit mobile version