جہاں تک عقلی دلائل کا تعلق ہے تو خدا کے وجود پر فلسفیوں نے جتنے دلائل دیے، ان میں سے اکثرپر ایسے ایسے اعتراضات وارد ہوتے ہیں کہ سرے سے تصورِ خدا ہی خطرے میں پڑجاتاہے۔ یہ کام کانٹ اور غزالی ہم سے بہتر کرچکے ہیں۔ فلسفہ میں خدا کے وجود پر بنیادی طور پر تین دلائل پڑھائے جاتےہیں جن ’’ادلۂ ثلاثہ‘‘ کہا جاتاہے۔

ان میں سب سے پہلی دلیل، ’’دلیلِ کونی‘‘ (Cosmological Argument) پر یہ اعتراض وارد ہوتاہے کہ اگر ہر  ایفکٹ کی ایک کاز ہوتی ہے اور یہ سلسلہ پیچھے سے پیچھے لے جایا جائے تو ایک ’’پرائم مُووَر‘‘ (فرسٹ کاز) پر جاکر رُکے گا۔ اُس پرائم مُووَر کی کوئی کاز نہیں ہے۔ وہ خود سے وجود میں آگیاہے۔ اس دلیل پر یہ اعتراض ہے کہ ’’کاز اینڈ ایفیکٹ‘‘ کے پرنسپل کوخود پیش کرکے خود توڑنے کی اجازت کیسے حاصل کی گئی۔ جب اُصول ہی کازیلٹی ہے تو پھر علتِ اولیٰ (پرائم مُووَر) یا علت العلل کا کیا تُک بنتاہے۔ اس اُصول کو سچ مانناہے تو پھر ’’خدا کو کس نے بنایا‘‘ جیسا سوال بھی اپنی جگہ پوری طرح درست ہوگا۔  فی زمانہ بگ بینگ کیسے ہوا؟ بھی اسی قسم کا سوال ہے۔

دوسری دلیل کو ’’غائی دلیل‘‘ کہتے ہیں۔ اِسے آرگومنٹ آف پرپز یا آرگومنٹ آف ڈیزائن بھی کہا جاتاہے۔اس دلیل کے مطابق یہ کائنات ایک ڈیزائنر نے ڈیزائن کی ہےاور اس کے پیچھے ایک خاص مقصد کارفرماہے، جو ہم انسانوں کو تلاش کرناہے اور وہ  دراصل خدا تک پہنچنے کا مقصد ہے۔ اس دلیل پر اقبال نے یہ اعتراض کیا،

’’لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اِس طرح صرف ایک صانع کا ماننا لازم آتاہے، خالق کا ماننا لازم نہیں آتا جس کے متعلق اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ ہیولیٰ کائنات کوکسی نے خلق کیا، جب بھی یہ اُس کی حکمت و دانائی کا کوئی اچھا ثبوت نہیں کہ اوّل تو ایک بے حس اور متزاحم ہیولیٰ کی تخلیق سے اپنے لیے طرح طرح کی مشکلات پیدا کرے اور پھر ان پر غالب آنے کےلیے اُن طریقوں سے کام لے جو اِس کی فطرتِ اصلیہ کے منافی ہیں۔ یوں بھی جس صانع کا وجود اپنے ہیولیٰ سے خارج ہے، وہ لامحالہ اس ہیولی سے محدود بھی ہے، لہٰذا اس طرح کا صانع ایک متناہی صانع ہوگااور محدود ذرائع کے باعث وہی طرزِ عمل اختیار کریگا جو ایک انسان بحیثیت صانع اختیار کرسکتاہے‘‘۔

تیسری دلیل ،

’’دلیل ِ  وجودی‘‘ ہے۔ جس کے مطابق ، ہمارے ذہن میں کوئی ایسا تصور نہیں ہوسکتاجس کا وجود بیرونی دنیا میں موجود نہ ہو۔ ہمارے ذہن میں چونکہ خدا کا تصور ہے فلہذا لازم ہے کہ خدا کو وجود بیرونی دنیا میں بھی موجود ہو‘‘۔

ایک تو دلیل ِ وجودی کا شیدائی خداکے وجود کو بیرونی کائنات میں تلاش کرتاہے اور گاہے کائنات کو ہی خدا قراردے کر وحدت الوجود کی طرف  مُڑجاتاہے اور گاہے وجود کو مختلف حسین ناموں سے سجا کر گویا فقط ایک غیر شخصی خدا کےہونے کا یقین حاصل کرتاہے۔

البتہ اس دلیل پر کانٹ نے جو اعتراض کیا وہ میری دانست میں درست نہیں ہے کہ یہ دلیل محض خدا کے تصور کے انسانی ذہن میں موجود ہونے کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ یہ دلیل ایک مغالطے پر مبنی ہے جسے مصادرہ علی المطلوب کہتے ہیں۔ جس میں کسی شئے کو پہلے سے فرض کرلیا جاتاہے اور پھر اسے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کانٹ کے بقول،

’’ایسا کہنے سے کہ ، میری جیب میں تین سو ڈالر ہیں، میری جیب میں تین سو ڈالر آتو نہیں جائینگے‘‘۔

لیکن میری دانست میں کانٹ نے تین سو ڈالر کی مثال ہی غلط دی ہے۔ ایک تو اس لیے کہ ڈالرز خود مجرد تصور نہیں دوسرے یہ کہ کانٹ کے مقدمہ کبریٰ میں ، صرف کانٹ ہے۔ صرف کانٹ سے مراد یہ قضیہ اب ’’کلیہ موجبہ‘‘ نہیں رہا بلکہ ’’جزیہ موجبہ‘‘ بن گیا ہے۔ کانٹ تو چھ ارب انسانوں میں سے ایک آدمی ہے۔ خدا کا تصور تو ہر ’’مؤمن اور مُنکر‘‘ کے ذہن میں موجود ہے۔ چنانچہ کانٹ کے اعتراض میں مغالطہ موجود ہے۔

سوال یہ ہے کہ انسانی ذہن میں خدا کا تصور کہاں سے آیا۔ میری دانست میں دلیل ِ وجودی آج بھی مضبوط ہے ، وہ اس لیے کہ آپ کائنات کے ہرتصور سے چھٹکارا پاسکتے ہیں، اپنی ’’میں‘‘ سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ جیسا کہ ڈیکارٹ نے خاطرخواہ طریقے سے ثابت کردیا تھا۔ سو یہ ’’میں‘‘ جو فقط موضوعی تجربہ ہے ، ’’مطلق‘‘ ہے۔ اورسب انسانوں میں برابر ہے۔ انسان کی یہ انفرادیت وہ عنصر ہے جو انسانوں کو باقی حیات سے ممتاز کرتاہے۔ میری یہی انفرادیت اِس بات کا ثبوت ہے کہ شخصی خدا وجود رکھتاہے۔ کیونکہ میں جس ارتقأ کے نتیجہ میں ایک شخصی اور بالکل انفرادی وجود کا حامل ہوا ہوں وہ ایسےامکانات کے لامتناہی دروازے کھول رہاہے جس میں مجھ سے بڑھ کرارتقأ یافتہ، دیگر انفرادی وجودوں اور شخصیات کا ہونا لازم آتاہے۔ خود رچرڈ ڈاکنز نے کہا کہ ،

’’ہم انسان کسی زیادہ ذہین ہستی کا بنایا ہوا ڈیزائن ہوسکتے ہیں‘‘۔

سو ارتقأ کا وہ سلسلہ جو ہم سے بڑھ کر ذہین ہستیاں ثابت کرتاہے وہی سلسلہ یہ بھی ثابت کرتاہے کہ اِس ذہانت کی کوئی انتہا ٔ اور خاتمہ نہیں۔ یہ طبق در طبق ہے اور ان منازل کا کہیں اور کبھی بھی خاتمہ نہیں ہوتا۔ بلاشبہ اس مقام پر پہنچ کر بہت سے ایسے ڈیزائنرز ثابت ہورہے ہیں جنہوں نے ممکنہ طور پر ہماری کائنات بنائی ہوگی کیونکہ ہم اپنے اوپر ایک سے ایک ذہین ہستی کا وجود ، سائنسی طور پر تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن جب ہم ذہانت کے اس نہ ختم ہونے والے ارتقائی سلسلہ پر نظر ڈالتے ہیں تو خود بخود ایک ایسی بڑی عقل اِن تمام ڈائمینشنز پر حاوی ہوجاتی ہے جو ’’علت و معلول‘‘ سے پاک ہے۔

کیونکہ ابدی حال سے مسلسل اور مستقبل بنیادوں پر ماضی اور مستقبل تو پھوٹ سکتے ہیں، لیکن ابدی حال سے دیگر حال کیسے پھوٹینگے؟ حال تو حال ہی رہیگا اور ایک ہی رہیگا۔چنانچہ ہم واحد شخصی خدا کو اِس طرح تصور میں لائینگے کہ وہ’’اصلی اور خالص زمانہ ہے‘‘ جو بہت بڑی عقل کا مالک ہے۔اب چونکہ زمانہ پہلی ڈائمینشن کے ساتھ بھی ایسے رہ سکتاہے کہ اس کے ساتھ فقط حال میں ہی موجود رہے اور دوسری کے ساتھ بھی اسی طرح رہ سکتاہے اور تیسری کے ساتھ بھی اِسی طرح رہ سکتاہے تو پھر چوتھی اور پانچویں اور چھٹی اور ساتویں علی ھذالقیاس ہرایک ڈائمینشن کے ساتھ ایسے کیوں نہ رہ سکتاہوگا کہ وہ ان کے حال میں عین اسی وقت میں موجود ہو جب دوسری ڈائمینشنز کے حال میں بھی موجود ہو۔

آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ ایک لائن ون ڈائمینشنل ہے۔ اس لائن پر حرکت کرتاہوا ایک نطقہ تصور کریں۔ اب سوچیں۔ یہ ایک ڈائمینشن ہے فقط ،  یعنی ایک لائن اور اُس کے ہرنقطے پر ’’زمانہ‘‘ اُس کے حال میں موجود ہے ، یعنی اس مثال میں صرف ایک ڈائمینشن اور ایک وقت ہے فقط ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف مکان کی ایک ڈائمینشن اور ٹائم کی ایک ڈائمینشن نے اس فیبرک کے تانے بانے بُن دیے ہیں۔

اب دوبارہ دیکھیں، اب لائن نہیں ہے بلکہ ایک ٹو ڈائمینشل آبجیکٹ ہے ، یعنی مستطیل یا مربع یا دائرہ وغیرہ اور اس میں حرکت کرتاہوا ایک نقطہ تصور کریں۔ آپ دیکھیں! اب دو نوں ڈائمینشنز کے ’’حال‘‘ میں ’’زمانہ‘‘ موجود ہے۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ مکان کی دو ڈائمینشنز ہیں اور زمانے کی ایک ڈائمینشن نے ان کے ساتھ مل کر سپیس ٹائم کی فیبرک بُن دی ہے۔اسی طرح تھری ڈی کے آبجیکٹس میں ہرہر ڈائمینش کے ساتھ بیک وقت ’’حال‘‘ میں موجود ’’زمانے‘‘ کو دیکھا جاسکتاہے، تو فورتھ، ففتھ، سکستھ، سیونتھ اور اسی طرح ہر ہر ڈائمینشن کے ساتھ وقت کو حال کے طور پر بیک وقت موجود کیوں نہیں دیکھا جاسکتا۔ ہم دیکھ رہےہیں کہ مکان کی ایک ہو، یا دو ہوں یا تین ڈائمینشنز ہوں ، زمانے کی ہمیشہ ایک ہی ڈائمینشن اس کے ساتھ جڑتی ہے اورہمیشہ اپنا اظہار فقط ’’حال‘‘ کے طور پر کرتی ہے۔ خدا چونکہ ابدی حال ہے سو وہ ہر ڈائمینشن میں  اسی طرح ’’حال‘‘ کے طور پر موجود رہتاہے۔

حال کا کام ہے پیش آمدہ حادثے(ایونٹ) کا موجب بننا۔ اس کا خالق بننا، اس کا شاہد بننا، اس کا ناظر بننا۔ حال کے بغیر نہ چیزوں کی حرکت ممکن ہے نہ زمان و مکاں کا وجود۔ فلہذا اس سوال کا جواب کہ ہم سے زیادہ ذہین ، لاکھوں سال ایڈوانس ہستیاں ہوئیں تو خدا کہاں ملیگا؟ وہ تو سب خدا کہلائینگے۔

نہیں! وہ تو سب بیچارے ہماری طرح مختلف ڈائمینشز میں موجود مخلوقات ہونگے۔ ان کے ساتھ ہمہ وقت جو موجود رہیگا وہ ’’ابدی حال‘‘ ہوگا۔ زمانِ خالص، یعنی خدا ۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ  کوئی ڈائمینشن اپنے اوپر اپنی ہی تہہ سے نئی ڈائمینشن نہیں بناسکتی۔ نقطے کے عین اوپر نقطہ لگانے سے نقطہ میں کسی ڈائمینشن کا اضافہ نہیں ہوگا۔ ایک سائے پر ایک سایہ یا کئی سائے ڈال دینے سے بھی اگلی ڈائمینشن کا ظہور نہ ہوگا کیونکہ ایک سائے پر دوسرے سائے کی صورت میں تو دونوں ٹوڈائمینشنل ہیں۔ اسی طرح ایک تھری ڈی کے آبجیکٹ پر ایک تھری ڈی کاآبجیکٹ ایسی تہہ نہیں بنا سکتا کہ اگلی ڈائمینشن کا اظہار ہو۔اگر کوئی ڈائمینشن اپنے اوپر آئے گی تو وہ، بعینہ وہی ڈائمینشن رہیگی نہ کہ کوئی اور ڈائمینشن بن جائے گی۔اس اصول کی روشنی میں ہرڈائمینشن پر دوسری کوئی اور ڈائمینشن تعمیر ہوتی ہے۔ اگر بہت ساری کائناتیں ہیں تو بہت ساری ڈائمینشنز بھی ہونگی ۔ فزکس کہتی ہے کہ مکان کی دس ڈائمینشنز ہیں۔ ہمیں کیا پتہ آگے چل کر کیا پتہ لاکھوں ڈائمینشنزکا پتہ ملنے لگے۔ جیسا کہ آئن سٹائن نے کہا تھاکہ

’’میں تھری ڈائمینشنل اینٹٹی، خدا کے بارے میں کیسے کچھ رائے دے سکتاہوں جو ملٹی ڈائمینشل ہستی ہے‘‘۔

سو اگر ڈائمینشن پر ڈائمینش تعمیر کرتے ہوئے ہم کبھی نہ ختم ہونے والے طبق طے کرتے ہوئے آگے سے آگے بڑھ سکتے ہیں تب بھی ہمیں یہ پریشانی نہیں ہے کہ

’’خدا تو ابھی بہت دُور ہے، پتہ نہیں ابھی ہمیں کتنی کروڑ ڈائمینشنز سے گزرنا پڑیگا ، خدا تک جانے کے لیے؟‘‘۔

ایسا نہیں ہے۔ خدا تو پہلی ڈائمینشن میں بھی ایسے موجود ہے جیسے آخری میں ہوگا ڈائمینشنز کے لامتناہی سلسلے میں ہوگا، کیونکہ وہ تو ’’ابدی حال‘‘، وہی تو زمانہ ہے، بایں ہمہ فعّال، خلّاق ، ذہین اور مستقل بنیادوں پر حیّ و قیّوم ہے۔

خدا موجود ہے یا نہیں ہے؟   اس سوال نے عاقلین کو دوصدیوں سے دو گروہوں میں بانٹ رکھاہے۔ لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ وہ لوگ جو خدا کے وجود پر یقین رکھتے ہیں ہمیشہ ’’جواب دینے والے‘‘ اور وہ لوگ جو خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے، ’’ہمیشہ سوال اُٹھانے والے ‘‘ ہوتے ہیں۔ یہ فرق بہت بڑا ہے۔ کیونکہ سوال اُٹھانا ایک نہایت آسان کام ہے جب کہ کسی سوال کا جواب دینا ایک مشکل کام ہے۔ لیکن ان دونوں طبقات میں مباحث کے دوران بحث کا جو اصول طے کیا جاتاہے وہ یہ ہوتاہے کہ چونکہ وہ لوگ جو خدا کے وجود کے قائل ہیں، ایک دعویٰ پیش کررہے ہیں کہ ’’خدا  ہے‘‘۔ چنانچہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے کہ’’ خدا ہے‘‘ تو ثابت کرو کہ کیسے ہے۔اس پر مستزاد ’’وجودِ خدا‘‘ ایک ایسا موضوع ہے کہ اس پر سوال اُٹھانے کے لیے کچھ خاص عالم فاضل ہونا ضروری نہیں۔خدا کے وجود پر جاہل سے جاہل شخص بھی سوال اُٹھاسکتاہے۔لیکن اس کے برعکس دوسرے طبقے  کے لیے لازمی ہے کہ وہ عالم فاضل ہو، کیونکہ اُسے اُٹھائے گئے سوال میں موجود سقم کو بھی دیکھنا ہوتاہے اور ساتھ ہی غلط معلومات کو درست کرکے پیش کرنا بھی اُسی کے حصے میں آتاہے۔ اس مشکل صورتحال کا صحیح نقشہ پیش کرنے کے لیے میں ایک مثال سے مدد لیتاہوں۔

مثلاً سائنس کے دو قوانین ہیں جو بہت مشہور اور منکرینِ خدا میں بے حد مقبول ہیں۔ ایک ہے، ’’لاآف کنزرویشن آف میٹر‘‘ اور دوسرا ہے’’لا آف کنزرویشن آف انرجی‘‘۔ اب اِن دونوں قوانین کو پیش کرنے والا اگر اِن کے حقیقی اطلاق سے ناواقف ہے تو وہ بحث کو طول دیتا چلا جائیگا۔ تب دوسرے فریق کی مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ اس انفارمیشن کی اصلاح بھی کرے۔’’لا آف کنزوریشن آف میٹر‘‘ یہ ہے کہ مادے کو نہ فنا کیا جاسکتاہے اور نہ پیدا کیا جاسکتاہے۔ اس قانون کا اطلاق ہرکہیں نہیں ہوتا۔ مثلاً آئن سٹائن سے پہلے بھی یہ قانون موجود تھا  اور پھر جب آئن سٹائن کے بعد نیوکلیئر انرجی کی طرف انسان متوجہ ہوا اور معلوم ہوا کہ ایٹم کو پھاڑاجاسکتاہے تو اِس قانون کے اطلاق کا علاقہ مختصر کردیا گیا۔ علاوہ بریں اِسے لاآف کنزرویشن آف انرجی کے ساتھ ملاکر دوبارہ سے مرتب کیا گیا۔آئن سٹائن کے ’’ماس انرجی اِکولینس‘‘ کے نظریہ سے پہلے پہلے تک ’’قانون بقائے مادہ‘‘ تباہی کے دھانے پر کھڑا تھا۔قانون بقائے مادہ یہ ہےکہ’’ مادے کو نہ فنا کیا جاسکتاہے نہ پیدا‘‘۔ لیکن جب ہم یورینیم کا ایک ایٹم پھاڑتے ہیں تو یورینیم ، مزید یورینیم نہیں رہتا بلکہ دو عناصر  کریپٹون اور بیریم میں تقسیم ہوجاتاہے۔اس عمل کے دوران تین عدد نیوٹران ضائع ہوجاتے ہیں۔جب تک آئن سٹائن نہ آیا۔ جب تک آئن سٹائن کا ’’ای ِکولزایم سی سکوئرڈ‘‘ نہ آیا۔ تب تک اس قانون کو بچانے کے لیے یہ دلیل بھی نہ آئی تھی کہ وہ تین نیوٹران دراصل اب توانائی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ چنانچہ قانون بقائے مادہ یہاں قائم نہیں رہتا بلکہ وہ قانون بقائے انرجی کے ساتھ مِکس کرنا پڑتاہے۔اِسی طرح اس قانون کا دوسرا حصہ کہ مادہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ کیزمیر(Casimir)ایفکٹ کے بعد غلط ثابت ہوگیا ہے۔ کیزمیر ایفکٹ میں ایسے مقام پر جہاں مادے یا انرجی کا کوئی ایک بھی پارٹیکل نہیں ہوتا  اِس ایفکٹ کی مدد سے پہلے ورچول پارٹیکل پیدا  کیے جاتے ہیں جو بعد میں انرجی کے پارٹیکلز بن جاتے ہیں اور پھر انرجی کے ان پارٹیکلز کو بعد ازاں مادے کے پارٹیکلز میں تبدیل کیا جاسکتاہے۔ یہ پیدائش بالکل غیرموجود سے ہوئی ہے۔ کیزمیر ایفکٹ کی پہلی شرط ہی  یہی ہے کہ اُس ویکیوم باکس میں  جہاں یہ تجربہ کیا جائیگا ، نہ کوئی مادے کا پارٹیکل پہلے سے موجود ہو اور نہ ہی انرجی کا کوئی پارٹیکل پہلے سے موجود ہو۔

کیزمیر ایفکٹ کے علاوہ کوانٹم فلیکچوئشن بھی اِسی تصور کا نام ہے کہ خالی خولی سپیس سے بھی  پلانکیَن سطح پر مادہ پیدا ہوجاتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سائنسدان مادے کو کثیف ترین سپیس بھی کہتے ہیں۔اس پر مستزاد انرجی کے بقأ کے قانون کا نقص ہے۔ انرجی تو ڈارک انرجی بھی ہے  اور سائنسدانوں کے مطابق اس کائنات کا تہترفیصد ڈارک انرجی  پر مشتمل ہے۔ ڈارک انرجی کو ڈارک انرجی اس لیے کہا جاتاہے کہ ابھی تک اس کے بارے میں سائنس کو کچھ پتہ نہیں۔فقط ایک قیاس ہے جو کلّی طور پر غلط بھی ہوسکتاہے۔ ڈارک انرجی کے پارٹیکلز کو تلاش کرنے کا کام سالہاسال سے جاری ہے لیکن ابھی تک ایک پارٹیکل بھی دریافت نہیں ہوسکا۔ جب تک ڈارک انرجی کے پارٹیکلز دریافت نہیں ہوجاتے ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کوئی’’قانون بقائے انرجی‘‘ نامی قانون بھی وجود رکھتاہے۔

اس ساری بات سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ قانون بقائے مادہ یا انرجی کُلّی طور پر غلط ہے۔ اس سے مراد فقط یہ ہے کہ یہ قوانین آفاقی پیمانے پر یا کوانٹم لیول پر درست نہیں ہیں۔ یہ قوانین فقط روز مرّہ زندگی میں درست ہیں۔ کیونکہ ان قوانین سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ دودھ کو آگ پر کڑھانے سے دودھ کم ہوجاتاہے اور سمجھا جاتا تھا کہ مادہ فنا ہوجاتاہے۔ اس غلط فہمی کا جواب دینے کے لیے یہ قوانین اس وقت بے حد مضبوط قوانین تھے۔ انہی کے ذریعے جواب دیا جاتا تھا کہ آگ پر دھرا دودھ ضائع نہیں ہوا بلکہ مادے کے مالیکیول ہوا میں شامل ہوگئے ہیں۔ اُن مالیکیولوں کو اگر واپس بلایا لیا جائے تو دودھ پھر پہلے جتنا ہوجائیگا، ثابت ہوا مادہ فنا نہیں ہوتا۔

چنانچہ جب تک ان تمام تفاصیل کا علم نہ ہو  بحث میں وجود ِ خدا کا ا نکار کرنے والا مسلسل یہ کہتا رہیگا کہ مادہ نہ تو فنا کیا جاسکتاہے اور نہ ہی پیدا کیا جاسکتاہے۔اس لیے کائنات قدیم ہے اور اگر کائنات قدیم ہے تو پھر خدا کا وجود لازمی طور پر’’ نہیں ہے‘‘۔ یہی استدلال تھا نیٹشے کے پاس بھی جس بابائے دہریت مانا جاتاہے۔

بگ بینگ تھیوری  کے مطابق کائنات شروع میں وائیٹ ہول تھی۔ وائیٹ ہول ہماری قابلِ مشاہدہ کائنات میں صرف ایک ہی پیدا ہواہے جس سے بگ بینگ ہوا۔ بلیک ہولز البتہ ہماری کائنات میں ہزاروں لاکھوں ہیں اور روز روز نئے نئے پیدا ہورہے ہیں۔بگ بینگ جس قدر چھوٹے ذرّے میں واقع ہوا اور بلیک ہول جس طرح چھوٹے سے ذرّات سے شروع  ہوسکتے ہیں، دونوں قوانین، یعنی ’’قانون بقائے مادہ‘‘ اور ’’قانون بقائے توانائی‘‘ کا اطلاق ان  مقامات پر کیا ہی نہیں جاسکتا۔

چنانچہ لازم ہوجاتاہے کہ وجود ِ خدا کو ثابت کرنے والے فریق  ِ بحث کے پاس جدید سائنس کا تازہ ترین علم بھی ہو۔ میرا ذاتی طور پر خیال ہے کہ وجودِ خدا کے حق میں عقلی علوم اتنا کام نہیں آتے جتنا حسی علوم کام آتے ہیں۔حسّی علوم سائنس کو کہا جاتاہے۔ کانٹ سے پہلے تک خدا کو ثابت کرنے کے لیے فلاسفہ فقط عقل سے کام لیتے تھے اور خدا کو کائنات کے پست و بلند میں نہ ڈھونڈتے تھے۔ سائنس کائنات کے پست و بلند کا علم ہے اور کم ازکم اسلام نے کائنات پر غور کرنے اور حسّی علوم کو ترویج دینے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ قران کی آمد سے پہلے پہلے تک صرف استخراجی عقل سے کام لیا جاتاتھا۔ اور جیسا کہ اقبال نے بھی لکھا، ’’سقراط اور افلاطون کو حسّی علوم‘‘ سے نفرت تھی جبکہ قران نے ’’وختلافِ الیل والنہار‘‘ پر غور کرنے سے لے کر کائنات میں سیر کرنے تک ہرقسم کے سائنسی اور استقرائی علوم کی حد سے زیادہ حوصلہ افزائی کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ انسان جو  مظاہرِ فطرت کو دیوتاؤں کا درجہ دے کر ان کے آگے سجدہ کیا کرتاتھا۔ اسلام کے تسخیر ِکائنات کے نظریہ کے بعد اُنہی دیوتاؤں کو اپنا غلام بنانے لگا۔ کیونکہ اسلام نے کہا، یہ پہاڑ، یہ دریا، یہ اشجار، یہ حیاتِ ارضی، یہ سب تمہارے دیوتا نہیں بلکہ تمہارے غلام ہیں۔

چنانچہ سائنسی استدلال ، عقلی استدلال سے کہیں زیادہ وجودِ خدا کے حق میں   آگے بڑھتاہے۔ مثال کے طور پر  ڈبل سلٹ ایکسپری منٹ کی رُو سے جو کہ لیبارٹری کا  تجربہ ہے نہ کہ تھیوری، اولّین پارٹیکل جس سے بگ بینگ ہوا، اس کے ویو فنکشن کو کولیپس کرنے کے لیے بھی ناظر درکار ہوگا ۔ چاہے وہ مشینی ناظر ہی کیوں نہ ہو۔ جو لوگ ڈبل سلٹ ایکسپری منٹ، یا ویوفنکشن کے کولیپس ہونے کے بارے میں کوانٹم فزکس کے نظریات پڑھ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک پارٹیکل  اپنے ویوفنکشن کو کولیپس کرتاہے تو کسی ناظر کی موجودگی میں۔ وہ ناظر ایک آلہ بھی ہوسکتاہے، ایک چوہا بھی اور ایک انسان بھی۔ سو ، بگ بینگ کے وقت جو پارٹیکل تھا، جسے ہم نے وائیٹ ہول  کے نام سے جانا وہ بھی تو سپرپوزیشن پر ہوگا۔کسی بھی پارٹیکل کا ویو فنکشن کولیپس کرنے کے لیے ناظر کا وجود لازمی ہے۔ فلہذا یہ سوال کہ اوّلین پارٹیکل کو کس ناظر نے کولیپس کیا ہوگا؟ پوری طرح جائز اور مکمل طور پر منطقی ہے۔

غرض سائنس کے پاس فلسفے سے کہیں زیادہ ثبوت موجود ہیں کہ خدا کا وجود ہوسکتاہے۔فلسفہ عقلی دلائل پر اکتفا کیا کرتا تھا۔ غزالی اور کانٹ نے فلسفے کی اس خرابی کا خوب نوٹس لیا اور اپنے اپنے دور میں ایسی بے رُوح عقلیت کا خوب زور توڑا۔

اسی طرح اگر ہم کوانٹم چیشائر ایفکٹ کو ہی لے لیں تو اس ایفکٹ نے ثابت کردیا ہے کہ کسی بھی پارٹیکل سے اس کی پراپرٹیز (صفات) کو الگ کیا جاسکتاہے۔ (اس پر میرا تفصیلی مضمون ، اسی بلاگ پرموجود ہے)۔اس سائنسی حقیقت نے پہلی بار عالمِ انسانی پر یہ راز کھولا کہ ذات و صفات کی وہ بحث جو تصوف کی مرغوب ترین غذا رہی ہے اب وجودِ خدا کے معاملے میں مزید جاری نہ سکے گی۔ صفات الگ کردی گئیں تو ذات ہی ذات رہ جائے گی۔ یہ سوال کہ  کوئی بھی شئے اپنی صفات کی وجہ سے شئے ہے، اب باقی نہیں رہیگا۔ صرف کوانٹم چیشائر ایفکٹ ہی نہیں بلکہ ہِگز  بازانز کی دریافت نے تو کلّی طور پر ثابت کردیا کہ  کسی بھی شئے کی پیدائش سے بھی پہلے اس کی صفات کا وجود ہوسکتاہے۔

ہگز فیلڈ ایک سکیلر مقدار ہے جو کائنات میں ہرجگہ برابر پھیلی ہوئی ہے اور ہِگز پارٹیکلز پوری کائنات میں ، ایک دوسرے سے بالکل برابر برابر فاصلوں پر موجود ہیں۔ ہگز بازانز کو سمجھنے کےلیے آپ فوجیوں کی ایک پریڈ تصور میں لائیں۔ سینکڑوں فوجی قطاریں بنا کر کھڑے ہیں۔ ہرقطار کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے۔ ایک دبلا پتلا شخص اگر فوجیوں کی دو قطاروں کے بیچوں بیچ سے گزر کر پَرلے پار جانا چاہتا ہے تو وہ آسانی سے چلا جائیگا لیکن اگر کوئی موٹا سا شخص وہاں سے گزرے گا تو وہ اِدھر اُدھر کھڑے فوجیوں کے ساتھ ٹکراتاہوا جائیگا۔یہ اگرچہ پرفیکٹ مثال نہیں لیکن وقتی طور پر ایسا ہی سمجھ لیں۔ خیر!تو مادہ ہو یا انرجی ہرپارٹیکل اپنی پیدائش سے پہلے ایک میتھیمیٹکل  وجود (صفات)رکھتاہے  اور اُسے لازمی طور پر روشنی کی رفتار سے گزرنا ہوتاہے۔ اُسے لازمی طور پر ہِگزبازانز کی قطاروں میں سے روشنی کی رفتارسے گزرنا ہے لیکن اگر وہ ایک طرف کھڑے ہِگز بازان سے ٹکرا گیا تو پھر دوسری طرف  کھڑے ہِگز بازان کے ساتھ بھی ٹکراجائیگا۔ جیسے گیند باؤنس ہوتی ہے۔ اگر وہ نہ ٹکراتا اور درمیان میں سے سیدھا سیدھا گزر جاتا تو روشنی کا پارٹیکل ہوتا۔ چونکہ اس کے ساتھ حادثہ پیش آگیا اور وہ اِدھر اُدھر کھڑے ہِگز بازانز کے ساتھ ٹکرا گیا ہے اس لیے اب وہ آخر تک اُن کے ساتھ ٹکراتا رہیگا، جس سے اُس کی رفتار میں کمی واقع ہوجائے گی۔ ہر وہ پارٹیکل جو روشنی کی رفتا رسے کم رفتار پر حرکت کرے وہ مادے کا پارٹیکل ہوتاہے۔ یوں ایک غیر موجود پارٹیکل فقط ہگز بوزانز کی وجہ سے موجود پارٹیکل میں تبدیل ہوکر مادہ بن جاتاہے۔ مادہ پہلے موجود نہیں ہوتا لیکن ہگز بازانز  میں سے گزرتے وقت وہ موجود ہونا شروع ہوجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہِگز بازانز کو ’’گاڈ پارٹیکلز‘‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ مادے کو پیدا کررہاہے۔ اب جس میتھیمیٹکل پارٹیکل نے ہگز  بازانز کو ٹکر ماری، وہ غیرموجود تھا لیکن اُس کی صفات موجود تھیں ۔ مثلاً الیکٹران،  مادے کا پارٹیکل اس لیے بن جاتاہے کہ وہ ہگز بازانز کے ساتھ ٹکرا کر رائیٹ ہینڈ اور لیفٹ ہینڈ ٹوِسٹ کرتاہے اور الیکٹران بن جاتاہے ، جس کی رفتار روشنی کی رفتار سے کم ہے اور اس لیے وہ مادہ ہے۔ ہر وہ چیز مادہ ہے جس کی رفتار روشنی کی رفتار سے کم ہے اور ہر وہ چیز انرجی ہے جس کی رفتار روشنی کی رفتا پر ہے۔ثابت ہوا کہ مادہ تو صفات کے بعد پیدا ہوتاہے۔ ہگز فیلڈ اس کا موجب بنتی ہے لیکن صفت پہلے آتی ہے، ’’رائٹ ہینڈ ٹوسٹ اور لیفٹ ہینڈ ٹوسٹ ‘‘کسی بھی انرجی کے پارٹیکل میں پیدا ہوجائے تو وہ ہگز بازانز کے ساتھ اَڑ اَڑ کر سفر کرنے لگتاہے اور مادہ بنتا چلا جاتاہے۔

میں سمجھتاہوں ’’وجودِ خدا ‘‘ پر بحث کرنے کے لیے دونوں فریقین کو سائنس سے باہر نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ سائنس کے ذریعے ہم جزواً جزواً وجودِ خدا کی طرف بڑھتے ہیں۔ہم ریشنلزم اور امپرسزم کا موازنہ کریں تو ایک تاریخی حقیقت کا اندازہ ہوتاہے۔ ریشنلزم کا جو زور کانٹ اور غزالی نے توڑا اور بقول اقبال جس کے بعد ’’عیسائیت نے اپنے مذہب سے عقائد کا حصہ الگ کردیا‘‘ ، کیا وہ زور انیس سو سڑسٹھ کے بعد واپس نہیں لوٹ رہا؟ کیونکہ اب سائنس بالخصوص فزکس کے مزید قوانین نہیں آرہے ۔ تھیوریز آرہی ہیں۔ تھیوریز قطعی ریشنل ایکٹوٹی ہے یعنی  موجودہ سائنسی تھیوریز میں اور کانٹ سے پہلے والی عقلیت پرستی میں کچھ خاص فرق نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ موجود دور کی فزکس کو پوری طرح سائنس کہا ہی نہیں جاسکتا۔ یہ خود اب میٹافزکس بن چکی ہے اور نہایت غیر محسوس طریقے سے خود ہی وجودِ خدا کی طرف بڑھتی چلی جارہی ہے۔

آخر میں  یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ آبرزرویبل کائنات بذاتِ خود یعنی پوری کی پوری کائنات ایک ساتھ،  بقول سائنس، فورتھ ڈائمینشل اینٹٹی (ہستی)ہے۔ یہ واحد فورتھ ڈائمینشنل اینٹٹی ہے جو موجود ہے۔ ہم انسان تھری ڈائمینشنل اینٹٹیز (ہستیاں) ہیں۔ ہم سوچ سکتے ہیں۔ ہم فیصلے کرسکتے ہیں۔ اب غور کریں!  سایہ(Shadow) جو کہ ٹوڈائمینشنل اینٹٹی ہے کسی تھری ڈائمنشنل  اینٹٹی کا ہی بن سکتاہے ایسے  ہی بقول اوس پنسکی، تھری ڈی کی ہر شئے کسی فورتھ ڈائمینشنل اینٹٹی کا سایہ بھی  توہوسکتی ہے۔اگر کائنات واحد فورتھ ڈائمینشنل اینٹٹی ہے تو پھر وہ ہم سے زیادہ سوچ سکتی ہوگی؟ پین سپرمیا کی تھیوری کے مطابق کائنات ایک سوچنے والا جیتا جاگتا جاندار ہے جو ہم سے ایک ڈائمینش ایڈوانسڈ ہے۔

یہ کالم اس لِنک سے لیا گیا ہے۔

میکاولی عصر جدید کا پہلا سیاسی مفکر
پینڈورا اور امیدوں کے سُوٹ کیس
مدارس کی جنسی اور معاشی ثقافت
خاموش میزائل

خاموش میزائل

کیا میں اپنی یادوں کا مجموعہ ہوں؟
محرم الحرام کے موقع پر خصوصی تحریر اسلام کا تصور شہادت
ایشیا کا مضبوط معیشیت کا حامل ملک سنگاپور
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے خصوصی تحریر ترجیحات پاکستان
جنوبی امریکہ کا آم پیدا کرنے والا ملک بولیویا
پاکستان اور اندلس کا مکالمہ
جشنِ آزادی یا ماتمِ حلقہ بگوشی
الہ آباد کے چند بستہ بند شہیدان آزادی