ری یہ رائے اسی تسلسل کو ظاہر کرتی ہے جو ان کی شاعری میں جنسی جذبات کے بے محابااظہارکے حوالے سے میرا ابتدائی موقف اور مقصدتھا۔

         جہاں تک پروین شاکر کے ساتھ موازنہ کا تعلق ہے،یہ مضمون کا تقاضا تھا۔ویسے ہی جیسے میں نے پروین شاکر پر مضمون لکھتے وقت کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کے ساتھ اس کا موازنہ کیاہے۔اور دونوں سینئیرز پر پروین کو فوقیت دی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ میں نے پروین شاکر کی بعض کمزوریوں کو بھی نشان زدکیا  ہے۔یہ مضمون ’’شعروسخن‘‘مانسہرہ کے پروین شاکر نمبر میں چھپ چکا ہے۔میرے مضامین کے پہلے مجموعہ ’’حاصلِ مطالعہ‘‘میں شامل ہے۔’’ہمارا ادبی منظر نامہ ‘‘میں شامل ہے۔سو پروین شاکر کے بارے میں مجھے اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے،دوسروں کو اختلاف رائے کا حق بھی حاصل ہے لیکن بدزبانی کا حق کسی کو حاصل نہیں۔جو بدزبانی کرتا ہے وہ اپنی تربیت کویا فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔

       چونکہ ثمینہ نے خود ’’ورنہ مضمون لکھنے کا ارادہ ترک فرمادیں‘‘لکھ دیا تھا،چنانچہ میں نے مضمون ضائع کردیا۔میری کاوش ناکام ہوئی۔ثمینہ راجہ نے بغاوت کو فوقیت دی اور پھر وہ المیہ رونما ہوا جوبالآخر کم عمری میں ہی ان کی موت پر منتج ہوا۔بغاوت کرنے کے بعدوہ سماج سے لڑتے لڑتے کینسر کا شکار ہو گئیں۔۵۱ سال کی ہوئیں اور ۵۲ ویں سال میں قدم دھرتے ہی راہیٔ ملکِ عدم ہو گئیں۔اللہ مجھے بھی معاف کرے اور ثمینہ راجہ کو بھی معاف کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین

 ذلیل حرکت اور لعنت بھیجیں:  پروین شاکر والے بیان کے تسلسل میں ثمینہ راجہ مزید لکھتی ہیں۔

 ’’کسی شخص کو خوامخواہ اس کے مقام سے گرانے کی کوشش کرناسخت ذلیل حرکت ہے۔میں بھلا اپنی دکان چمکا نے کے لئے کسی کو کیوں نیچا دکھانے کی کوشش کروں،مجھے تو یہ بالکل پسند نہیں،اب میرا خیال ہے انہوں نے مضمون ہی رکھ چھوڑا ہے،گروپ بازی کی لعنت ہمارے ادب پر مسلط ہو چکی ہے‘‘  (ص ۲۲۳)

      میں پروین شاکر کے بارے میں جو اچھی بری رائے رکھتا ہوں،وہ مطبوعہ موجود ہے اور یہ میرے ادبی اظہار کا حق ہے۔کسی شخص کو اس کے مقام سے گرانے کی کوشش تو خود ثمینہ نے سرِ عام کی تھی۔جب وہ فیس بک پر ریحانہ قمر اور نوشی گیلانی کی مذمت کررہی تھیں ،انہیں نیچا دکھانے کے لیے اس حد تک کوشش کر رہی تھیں کہ خود فریق ثانی کے الزامات سے لہولہان ہو گئی تھیں،تب کون سی ادبی خدمت ہو رہی تھی؟میں اس لڑائی کے پس منظر میں نہیں جاؤں گا۔وہ تب بھی میرے مشورے مان لیتیں تو اتنا بڑا تماشا نہ بنتیں۔

       گروپ بازی کے سلسلہ میں میرا موقف ’’لعنت ‘‘بھیجنے والا نہیں ہے۔میرا موقف دیکھ لیں۔

’’ادبی گروہ بندیاں ہر دور میں رہی ہیں ہمارے قدیم شعرا ء  ایک دوسرے کے خلاف ہجویات ہی نہیں لکھتے رہے ،فرضی جنازے بھی نکالتے رہے ہیں۔ آج وہ دور ہے جب ہمارے معاشرے میں دکانداروں، موچیوں اور نائیوں تک کی انجمنیں بنی ہوئی ہیں۔ سو ٹریڈ یونین کے اس دور میں ادیبوں نے بھی اپنے اپنے گروہ بنالئے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ گروہ بندی اگر تخلیقی لحاظ سے مسابقت حاصل کرنے کے جذ بے کو پروان چڑھائے تو ادب کے لئے بے حد مفید ہے لیکن اگر مادی مقاصد کے حصول کی دوڑ جیتنے کے لئے گروہ بندی ہے تو وہ اچھی چیز نہیں ہے۔ اردو ادب میں اگرچہ تخلیقی مسابقت حاصل کرنے والا جذبہ بھی موجود ہے تاہم مادی مقاصدکے حصول کی افسوسناک مثالیں زیادہ ہیں۔ ‘‘

( ثریا شہاب کا حیدرقریشی سے انٹرویو۔ ڈیلی جنگ لندن ۔ شمارہ ۷؍نومبر۱۹۹۶ء ۔۔ادبی صفحہ)

       المیہ یہ ہے کہ ثمینہ خود انیس شاہ جیلانی کے ساتھ مل کر بھی اپنا گروپ بنانے کی کوشش کررہی تھیں اور اسلام آباد جاکر بھی انہوں نے جن افراد کے ساتھ تعلق رکھا وہ یا تومسندِ اقتدارکے قریب تھے یا خود انتہائی مال دار تھے۔دونوں صورتوں میں مادی مقاصد کا حصول آسان بنا رہا ۔ 

       اگلے خط میں ثمینہ راجہ لکھتی ہیں:

’’حیدرقریشی کا خط تلاش کرنا پڑے گااتنے بہت سے خطوط میں لیکن میں بھجوا ہی دوں گی۔آپ ذرا اس شخص کا لہجہ ملاحظہ فرمائیے گا،مجھے زندگی بھر کسی شخص پر اتنا غصہ نہیں آیا ۔آپ سوچتے ہوں گے پھر اس سے خط و کتابت کیا ضروری ہے۔لیکن سچ پوچھئے تو سانپ کے منہ میں چھچھوندرکا معاملہ ہو گیا ہے۔جب میں نے آپ کے لئے غلط الفاظ استعمال کرنے پرجھاڑا تو حضرت معذرت کرنے لگے لیکن میں نے تہیہ کیا ہے کہ اب ختم۔‘‘(راشد اشرف  صاحب کی ارسال کردہ’’ پکچر ۷‘‘ پر صفحہ نمبر درج نہیں ہے۔)

’’حیدرقریشی کا کوئی اور خط مجھے ملا نہیں،کاغذوں میں ادھر ادھر ہوگیا ہوگا،تحریر تو آپ نے اس شخص کی دیکھ لی،انداز گفتگو بھی ملاحظہ فرمالیا،اب لعنت بھیجئے۔‘‘(ص ۲۲۸)

        اگر انیس شاہ جیلانی صاحب ثمینہ راجہ کے نام میرے خطوط میں سے دستیاب خطوط فراہم کردیں تو واضح ہو جائے گا کہ میرا لہجہ کیسا تھا۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ میں کسی خط میں بھی تہذیب سے نیچے نہیں گرا۔’’ذلیل حرکت‘‘اور’’لعنت بھیجیں‘‘جیسے الفاظ ثمینہ راجہ کے قلم سے زیب نہیں دیتے۔اوپر سے انہوں نے ’’سانپ کے منہ میں چھچھوندر‘‘لکھ کر خود ہی سانپ کا منصب سنبھال لیا ہے۔محاورتاََ سہی لیکن ان کے لیے سانپ کا لفظ مجھے اس وقت بھی اچھا نہیں لگ رہا۔حالانکہ ان کا لب و لہجہ اور ان کی لفظیات خاصی زہریلی ہیں،پھر بھی ان کے ساتھ سانپ کا لفظ اچھا نہیں لگ رہا۔

          ثمینہ راجہ کے ساتھ جتنا تعلق رہا ،یا بے تعلقی رہی اس سارے دورانیہ میں میری طرف سے ایسا کچھ نہیں لکھا گیا جس میں ان کی اہانت کا شائبہ تک ہو۔میں نے ان کی نسبت عزت کا رویہ ہی ظاہرکیایا پھر خاموشی اختیار کی۔اگر کوئی شخص آپ کی عزت کرتا ہواور آپ بے سبب اس کی اہانت پر تل جائیں تو جلد یا بدیرایسے لوگوں کے ساتھ قدرت کا نظام کچھ نہ کچھ ضرور ظاہر کرتا ہے۔

              اپنی طرف سے اس وضاحتی مضمون کے ساتھ میں اپنا اور ثمینہ راجہ کا معاملہ ادبی تاریخ اور اللہ کے سپرد کرتا ہوں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اضافی نوٹ:

٭٭٭۱۔اگر راشد اشرف صاحب نے ثمینہ راجہ کے خطوط کے مزید صفحات فراہم کیے تو اس مضمون کو اپ ڈیٹ کرلوں گا۔ضرورت پڑی تو ایک اور مضمون بھی لکھا جا سکتا ہے۔

٭٭٭ ۲۔ڈاکٹر لدمیلا وسیلیویاکے ساتھ خط و کتابت کوان کی اجازت سے اپنے ایک مضمون ’’ڈاکٹر لدمیلا کی دو نئی کتابیں‘‘میں شامل کر چکا ہوں۔ِ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[email protected]

جوائے کا مراقبہ
تین طلاق کا موضوع اور بی۔آر۔چوپڑہ کی 1982ء کی فلم نکاح
عرفی اور اردو کے ممتاز شعرا کا تقابلی مطالعہ
غالب اکیڈمی میں ماہانہ ادبی نشست کا اہتمام
ریگ زار

ریگ زار

سازشوں کے جال

جذبات کا طوفان

حسینہ کی یاد

پیار کا بخار

Welcome Back!

Login to your account below

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.