ختم کرنے آئے ہیں اور ہم خیر کا فروغ چاہتے ہیں۔ بات بنے گی نہیں۔ جی نہیں۔یہ سب کچھ بین السطور ہونا چاہیے۔

 

سوال: آپ کے بیشتر افسانوں کے بین السطور غصے کی ایک زیریں لہر ساتھ ساتھ چلتی ہے۔جو مختلف لفظوں اور جملوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا کیا سبب ہے؟

اسد محمد خاں: اس غصے کا سبب ہمارے ملک کی تاریخ ہے۔ دیکھیے نا ہمارے ہاں چار ڈکٹیٹر آئے۔آپ نے اپنی نوعمری میں دیکھا سناہوگا کہ کچھ اچھے لوگ بھی آئے ہیں، ایک مقصد لے کر۔لیکن انہیں نہ کچھ کرنے دیا گیا اور ہٹا دیا گیا۔ توکیا یہ سب صرف ہمارے لیے ہی رہ گیا ہے، کہ یہاں اسی طرح کے نامعقول لوگ آتے رہیں اور برسوں مسلط رہیں۔آپ جنوبی ہندوستان کو دیکھیے۔ایک شخص درزی کا کام کرتا ہے۔وہ اپنی بیگم کے ساتھ مل کر یہ کام چلاتا ہے۔اسے سیاست میں کچھ درک ہوتا ہے۔وہ خوب حصہ لیتا ہے اور آگے چل کر وہ پورے علاقے کا ایڈمنسٹریٹر بن جاتا ہے۔اور جنوبی ہند کے اخبارات اس کی ایمان داری کی تعریفیں کرتے ہیں۔جب اسے اپنے ذاتی کام سے جانا ہوتا ہے تو اپنی بیوی سے گاڑی مانگتا ہے۔اگر گاڑی تو خراب ہوتی ہے تو وہ اپنی موٹر سائیکل پر چلاجاتا ہے۔ وہ وہاں کا وزیرِاعلی ہے۔وہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اور لا مذہب ہے۔ آدھی رات کو اس کے گھر جا کر لوگ اسے اپنا مسئلہ بتائیں، تو بھی خندہ پیشانی سے سنتا ہے اور اسے حل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ وہاں کامیاب ہے، اس لیے کہ وہ ایک عام آدمی ہے اور عام آدمیوں کے لیے کام کرتا ہے۔

 

سوال: کیا آپ پورا افسانہ، اس کی جزیات سمیت پہلے سے سوچ لیتے ہیں اور اس کے بعد من و عن اسے لکھتے ہیں؟ یا لکھنے کے دوران دھیرے دھیرے اس کی جزئیات کو گرفت میں لاتے ہیں؟

اسد محمد خاں: ایک خیال پیدا ہوتا ہے ۔ یا پھر ہوسکتا ہے کوئی واقعہ یا فقرہ ذہن میں آجائے ۔۔ مثلاًایک سڑک چلتا آدمی پریشانی میں ہے، اس سے کوئی شخص ایک ایسا فقرہ کہے جس سے حوصلہ بندھ جائے، ہمت پیدا ہویہ سوچ توانائی سے آئے تو۔ کہانی ڈیویلپ کروں گا۔یا پھر کوئی ایک فقرہ haunt کرتا رہتا ہے۔یا پھر کوئی event۔کوئی ایسا event جو مجھے اپنی گرفت میں لے لے۔اس طرح میں اس کردار کے ساتھ بندھا رہتا ہوں۔ کبھی وہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ مجھے نچلا نہیں بیٹھنے دیتا، تو میں اس واقعے کو لکھ کر چلتا ہوں اور کہانی بننے لگتی ہے۔

 

سوال: آپ کا لکھنے کا وقت یا اوقات کیا ہیں؟

اسد محمد خاں: یہ تو بیس پچیس سال سے زیادہ پرانی کہانی ہے۔پہلے میں رات کے دوڈھائی بجے تک جاگتا تھا، صبح مجھے آفس جانا ہوتا تھا،تو ایک خاص وقت پر میں الارم سے اٹھ جاتاتھا۔بیگم ناشتہ دیتی تھیں ،میں روانہ ہوجاتا تھا۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ محکمے والوں نے میرے لیے صبح ایک گھنٹے کی خاص رعایت کی تھی۔ لیکن مجھ پر ذمہ داری تو تھی۔ میں جلد از جلد وہ کام نمٹاتا۔پھر لکھنے بیٹھ جاتا ۔ وہاں انسپیکٹر امپورٹس تھاتومجھے انسپیکشن کے بعددستخط کرنے ہوتے تھے۔ تاہم میں پانچ ساڑھے پانچ بجے گھر آجاتا تھا۔گھر آنے کے بعد گھر کے کام یعنی سودا سلف اور دیگر کام نمٹا کر میں رات میں لکھنے کے لیے بیٹھتا تھا تو مجھے تین چار گھنٹے مل جاتے تھے۔بیگم اردو کی لیکچرار تھیں۔ان کو صبح جانا ہوتا تھا۔ ریٹائر منٹ کے بعد مجھے لکھنے کے لیے کچھ زیادہ وقت ملنے لگا۔بعض مجموعے میں نے ریٹائر منٹ کے بعد ہی مکمل کیے۔

 

سوال: کیا آپ روزانہ لکھتے ہیں؟

اسد محمد خاں: نہیں۔ جب وقت ملتا ہے۔اور کتنی دیر لکھتا ہوں ، یہ طے نہیں۔جب مطمئن ہوجاتا ہوں تو ختم شد۔پھر کبھی تو وہ تحریر بھول جاتا ہوں،اورعنوان بھی یاد نہیں رہتا۔ کبھی مجھے بھی تعجب ہوتا ہے کہ اچھا،یہ میں نے لکھا تھا۔ یہ بھی ہوتا ہے ۔جب تک کوئی تحریر پوری لکھی نہیں جاتی،، میں مسلسل بے چین رہتا ہوں۔ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب اطمینان ہو جاتا ہے۔

 

سوال؛ کیا آپ لکھنے کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں یا کاغذ پینسل سے لکھتے ہیں؟

اسد محمد خاں؛ کمپیوٹر میں نے چار سال پہلے تک خوب استعمال کیا لیکن اب بہت کم کم۔میں نے اپنی کچھ کہانیاں اور کچھ کمرشل اسکرپٹ کمپیوٹر پر کیے تھے۔ میری بیٹیوں نے کہا۔ اب آپ لیپ ٹاپ استعمال کیجیے۔،تو میں ان دنوں رومن اردو میں لکھتا ہوں۔میں نے اپنی بڑی نواسی سے کہا ہے کہ مجھے لیپ ٹاپ میں ان پیج ڈال کر دو، اسے Testsاور امتحانوں سے فرصت نہیں ہے۔ خیر۔کمپیوٹر کے استعمال سے پہلے میں کاغذ قلم سے ہی لکھتا تھا۔ اب بھی زیادہ تر کام قلم سے لکھ کر ہی کرتا ہوں۔

 

سوال؛ آپ کسی افسانے کو کتنی مرتبہ لکھتے ہیں؟

اسد محمد خاں؛ ان گنت مرتبہ۔میں عام طور پر سولہ سترہ مرتبہ تو اس میں ردوبدل کرتا ہی ہوں۔بعض کہانیاں بہت جلدی بھی لکھی جاتی ہیں۔میں اپنے افسانوں میں punctuation کا خاص خیال رکھتا ہوں۔ اگر آپ صحیح جگہ کوما یا فل اسٹاپ نہ لگائیں توبعض اوقات پورا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

 

سوال؛ آپ افسانے کو فائنل کرتے ہوئے کس طرح کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں؟

اسد محمد خاں؛ افسانے کاآغاز اور اختتام پر کشش ہونا چائیے۔اگر افسانے کا پہلا پیراگراف کسی کو گرفت میں نہیں لیتاتو ممکن ہے وہ اسے بالکل نہ پڑھے ۔ اس لیے پہلا جملہ بہت اہم ہوتا ہے۔اچھا اس میں یہ بھی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مصنوعی طور پر Draftکیا ہوا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں، پھر بھی افسانے کو اتنا متوازن ہونا چاہیے کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔اس کے بعد story telling ہے، کردار ہیں، مختلف واقعات ہیں۔ایک خاص واقعہ[ چاہے وہ واقعہ نہ ہو ایک جملہ ہی ہو،] اورایک خاص تفہیم، کردار میں اچانک سے آتی ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے افسانہ ختم ہوا۔تو اس کے بعد بڑھانے کی ضرورت نہیں ۔ وہیں ختم کردینا چاہیے۔خاتمہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ آپ کو مطمئن کردے اور پڑھنے والے کو بھی بتادے کہ بس یہاں بات ختم ہو گئی ہے۔اب اس سے آگے لکھنے کی ضرورت نہیں ۔مختصر یہ کہ بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ کئی کئی بار لکھنا پرتا ہے۔کوئی پیراگراف جو فضول لگے اسے ہٹانے میں تامل نہیں کرنا چاہیے۔

 

سوال؛ انسانی معاشرے میں فکشن کا بنیادی کام کیا ہے؟

اسد محمد خاں؛ روز اول سے پہلے مائیں، اس کے بعد دانش مندلوگ یعنی گاؤں کے مکھیے ، سردار، بوڑھے اپنی بات پہنچانے کو کہانی سنانے یا داستان گوئی سے کام لیتے تھے۔ بچے کہانی کی فرمائش کرتے تھے مائیں کہانی سناتی تھیں۔اس کا مقصد یہ بھی ہوتا تھاکہ بھلے لوگوں کیسے زندگی گزارتے ہیں، یہ بچوں کو بتایا جائے۔ان میں بھی اچھا آدمی بننے کی خواہش پیدا ہو۔اس طرح کہانی بچوں کی تربیت کا ایک طریقہ ہوتی تھی۔

 

سوال؛ آپ کس طرح کی کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں؟ یعنی فلسفیانہ، تاریخی، یا فکشن کی کتابیں؟

اسد محمد خاں؛ میرے لیے فکشن پڑھنا سب سے زیادہ پسند یدہ کام ہے۔میں نے اردو اور انگریزی کی وساطت سے دنیا کی دیگر زبانوں پولش،جرمن، روسی، فرانسیسی وغیرہ کا ادب پڑھا۔انگریزی نظم ونثرکا خوب مطالعہ کیا۔تاریخ کے موضوعات بھی میرے لیے کشش رکھتے ہیں۔

 

سوال؛ عالمی ادب میں آپ کے پسندیدہ ادیب کون کون سے رہے؟

اسد محمد خاں؛ وہی جو مشہور و معروف ہیں۔ اور جن تک ہماری پہنچ ہے۔ایک زمانے میں جن ادیبوں کامیں نے خوب ترجمہ کیا ، ان میں بورخیس شامل تھے۔ ’’خوب ترجمہ‘‘کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اجمل کمال سہ ماہی ’’ آج ‘‘نکال رہے تھے اور ’’آج‘‘ کی سپلائی برقرار رکھنی تھی۔ہمارا ایک چھوٹا سا گروپ تھا۔ تو ہم چاہتے تھے کہ ہمارے واسطے سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ چیزیں پڑھنے کو ملیں۔میرے نوجوان ساتھی بیس بیس سال کے ہوں گے اور میں پچاس سال کا ہونے والا تھا۔

 

سوال؛ آپ نے جو فکشن پڑھا، اس میں آپ کے پسندیدہ کردار؟

اسد محمد خاں: پسند تو بہت سے آئے مگر یاد نہیں رہے۔اصل میں جب آدمی اپنا لکھنا شروع کرتا ہے تو’ دوسروں کے کردار‘ اسے متاثر تو کرتے ہیں مگر اس کے اندر جگہ نہیں بناتے۔ وہ اپنے کرداروں میں کھویا رہتا ہے۔ آدمی پہلے اپنا گھر دیکھے گا نا۔تومیں اپنے کرداروں میں کھویا رہتا تھا خواہ وہ کیسے ہی ہوں؛ رگھوبا جیسے بھی۔ جو کبھی چمچہ گیری کرتا پھر تاہے۔کبھی کچھ اور ۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔میرے اپنے کردار میرے ساتھ رہتے ہیں۔شاید اس لیے کہ بعد میں میں ان پر کچھ اور لکھوں۔

 

سوال؛ آج کی دنیا میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے اور جسے دنیا بھر میں پڑھا جا رہا ہے، اسے اس کی قومیت یا اس کے ملک کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کے لیے مختلف اصطلاحیں استعمال کی جا تی ہیں، جیسے ہندوستانی ادب، امریکی ادب، یا پاکستانی ادب وغیرہ۔کیا ہم ادب کو اس طرح کی حدود کا پابند کر سکتے ہیں؟ یا ادب کو ان حدود کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں؟

اسد محمد خاں؛ کسی ملک، یا کرہ ارض کے کسی علاقے کی زبان یا کلچر دوسرے علاقوں سے تو مختلف ہوگا ہی۔ لیکن انسانی مسائل ، دکھ اور خوشیاں جن سے وہ دوچار ہوتا ہے، اس کی سرشاریاں،اور اس کی فہم و ذکاوت،،یہ سب تمام انسانوں میں ایک جیسی ہیں۔آدمی کہیں بھی پیدا ہو۔وہ نفرت کرتا ہے۔محبت کرتا ہے۔طیش میں آتا ہے۔وہ خیر کے بارے میں غور کرتا ہے۔ایک شر بھی اس کے اندر پیدا ہوتا ہے،جو چیزوں کو بگاڑنا چاہتا ہے۔[کیوں کہ آدمی تو وہی ہے۔ ]یہ سب جاری ہے، سو اس کے بارے میں پڑھتے رہنا چاہیے ۔ یوں اندازہ ہوگا کہ کرہ ارض پر کہاں کیا ہورہا ہے۔کس چیز پر زور دیا جارہاہے۔اسے اس طرح علاقوں اور لوگوں کی زندگی زیادہ معنی خیز نظر آئے گی۔یعنی ادب تمام حدود سے بلند ہے۔وہ سارے کا سارا نفسِ انسانی کے بارے میں ہے۔اس میں ایک ایسی کشادگی ہے، جس کا اطلاق دنیا کے تمام انسانوں پر کیا جا سکتا ہے۔یوں اپنی زبان میں ہم لوگوں کو ہم بتائیں گے تو ادب ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے بھی زیادہ با معنی اور مفید ہو سکتا ہے۔

ہم جب واجد اسکوئر پہنچے تھے تو اس وقت اس کے کمپاؤنڈ پر چھٹی کے دن کی صبح کی مخصوص خاموشی طاری تھی۔ مگر اب سہ پہر ڈھلنے والی تھی۔ کھڑکیوں سے بچوں اور نوجوانوں کا غوغا سنائی دے رہاتھا۔ کھڑکیوں سے دور دور رہنے والی دھوپ اب بے جھجھک دبے پاؤں کمرے کے اندر داخل ہوچکی تھی۔اسد محمد خاں صاحب جس کرسی پربیٹھ کر ہم سے باتیں کر رہے تھے،دھوپ سیدھی اسی کرسی پر آرہی تھی۔ان کے چہرے پر اس طویل گفتگو سے ہونے والی تھکن کا نام و نشان تک نہ تھا، البتہ ان کی آواز اور ان کا لہجہ تھکن کی چغلی کھا رہا تھا۔جتنی دیر ہم ان کے ساتھ رہے، اس تمام وقت ان کی بیگم صاحبہ وقفے وقفے سے میزبانی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ ہمیں انہیں تکلیف دینے پر ندامت سی ہو رہی تھی مگر اسد صاحب کا کہنا تھا کہ ان کی بیگم صاحبہ کایہی وطیرہِ میزبانی ہے۔

انٹرویو تمام ہونے کے بعد ہم نے اسد محمد خاں صاحب سے رخصت چاہی۔ وہ ہمیں دروازے تک چھوڑنے آئے۔ ہم نے ان سے الوداعی مصافحہ کیااور سیڑھیوں سے اترنے لگے۔

 

http://www.adbiduniya.com/2016/05/asad-muhammad-khan-latest-interview.html

ناگوں کا جوڑا

ناگوں کا جوڑا

محبوب کا وعدہ

خوبصورت ناگن

تاریخی ارتقا کے اصولوں سے ماورا سولون کون تھا؟

نِیچی ذات

حیاتِ شیخ چلی

حیاتِ شیخ چلی

خاتمہ