سانہ’’کھلنایک ‘‘کا آغاز ہی تجسس و حیران کر دینے والے جملے سے ہوتا ہے’’بہت اچھی طرح یاد ہے بکنگ ونڈو کے سامنے کیو میں کھڑا تھا۔یہاں تک کب ،کیسے اور کس کے ساتھ آیا؟‘‘افسانہ نگار افسانے میں شروع سے اخیر تک اس تجسس و حیرانی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔افسانے کا آخری جملہ دیکھئے’’۔۔۔اور۔۔۔اور۔۔۔اورمیں نے محسوس کیاکہ میرا جسم غیر معمولی طور پر لمبا نظر آرہا ہے۔‘‘یہ تجسس آمیز کیفیت افسانے کے درمیان میں بھی کئی باردیکھنے کو ملتی ہے اورآخر تک اس کیفیت کا راز کھلتا نظر نہیں آتا۔بلکہ ایک سمجھدار قاری یا نقاد پر اس افسانے کی گرہیں خود بہ خود کھلتی نظر آئیں گی۔وہ (واحد متکلم) کسی پبلشنگ کمپنی میںمنیجر کی حیثیت سے ملازمت کر رہا ہوتا ہے ۔ایک دن وہ تفریح کی خاطر فلم تھیٹرپہنچتا ہے،یہاں وہ کس کے ساتھ اور کون سا شو دیکھنے آیا اس سے وہ خود بھی انجان و بے خبر ہوتا ہے۔ تھیٹرمیں داخل ہونے سے پہلے ڈراما شروع ہوچکا تھا۔اس کو اسٹیج پر مختلف شکل و صورت اور لباس کے تین عجیب و غریب آدمی نظر آتے ہیں۔جن میں ایک غیر معمولی طور پر لمبا تھا۔شو کے دوران اِن میں ایک شخص اسٹیج سے سیدھے اس کی جانب آتا ہے۔جس کے سامنے آتے ہی یکایک پورا ہال روشن ہوجاتا ہے ۔ہال کے روشن ہونے پروہ ہال میںاپنے اور اس آدمی کے سوا کسی کو نہیں پاتا۔جس سے وہ اِس سے پہلے بھی کہیں مل چکا ہوتا ہے۔لیکن کب اور کہاں،یہ ذہن کے دریچے سے بہت دور۔وہ آدمی اس کے بارے میں بہت کچھ جانکاری رکھتا ہے جیسے اس کانام،اس کے شہر کا نام،اس کی محبوبہ کا نام،کل خواب میںاس نے(واحد متکلم)کیادیکھا سب کچھ بتا دیتاہے۔بقول واحد متکلم کے’’بولنے والے کے لہجے میں بڑا اعتماد تھا،آنکھوں میں ایک شرارت بھری چمک اور وہ پورے جسم سے ہنستا نظر آرہا تھا۔‘‘پوری کہانی سنانے کے بعد وہ شخص اسے یوں مخاطب ہوتا ہے ’’لیکن اب تمہارا زوال ہونے والا ہے۔‘‘اپنے مستقبل کے بارے میں جاننے کے بعد وہ شش و پنج میں پڑجاتا ہے۔اس کہانی میں دوسرا نمایاں ہونے والا واضح کردار تاجر کا ہے۔وہ تاجر کو برسوں سے جانتا تھا لیکن آج سے پہلے نہ دونوں ایک دوسرے کے ناموں سے واقف تھے اور نہ ہی ان کی کبھی بات ہوئی تھی۔بس بچپن میں اسے دیکھا کرتا تھا ۔جب وہ گاؤں سے شہر آتا ہے تو فوراً ہی واحد متکلم کو پہچان لیتا ہے۔تاجراپنے شہر آنے کے مقصد کو راز میں رکھتا ہے اور خصوصاً اسی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔اس کو محسوس ہونے لگا کہ تاجر اس کی باتوں کی طرف قطعی توجہ نہیں دے رہا ہے جبکہ وہ اس میں خصوصی دلچسپی لے رہا تھا۔باتوں باتوں میں پولیس ان کے کمرے میں چھاپہ مارتی ہے جہاں انھیں طاعون کے پھیلنے کی کچھ علامتیں ملتی ہیں۔اچانک شہر میں تشویش کی حالت پیدا ہوتی ہے جس کے سبب سب لوگ بھاگنے لگتے ہیں،وہ لوگوں سے وجہ پوچھتا ہے تو اس کے ہاتھ صرف حیرت ہی آتی ہے،وہ طاعون کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو وہاں بھی اسے مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے ،وہ بھاگنے کا سبب پوچھتا ہے تو لوگ اس کو مشتبہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔وہ بھاگتے بھاگتے ایک قبرستان میں پہنچتے ہیں جہاں اسی بوڑھے آدمی کی لاش دفن کی جارہی ہوتی ہے جس نے آنے والے زوال کی پیشن گوئی کی تھی۔وہ وہاں سے بھی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔راستے میں پریا(کہانی کی ایک اور کرداراور واحد متکلم کی محبوبہ)کی کار آتی دکھائی دیتی ہے جسے وہ قبرستان کی طرف جانے سے منع کرتا ہے۔پریا اس کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتی ہے اور اس کا حال و احوال پوچھتی ہے۔کیونکہ پریا نے اس کو دو دن سے دیکھا نہیں تھا۔بالآخر دونوں وہاں سے بھاگنے لگ جاتے ہیں۔ایک جگہ وہ سڑک کے کنارے بھیڑ کو دیکھ کر رک جاتا ہے ،سامنے جاکے پتہ چلتا ہے کہ سڑک پر تھیٹر میں ملے اُس غیر معمولی لمبے آدمی کی لاش پڑی ہے۔وہاں موجود لوگ اس کو قاتل کہہ کر پکارتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پھر بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔اس کو پکڑنے کے لیے لوگوں کا مجمع پیچھے پڑجاتا ہے۔ایک جگہ تین چار ملٹری والے اس کوپکڑ لیتے ہیں جس میں ایک کے ہاتھوں میں ٹامی گن ہوتی ہے۔اس کو ملٹری قانون کے تحت سزائے موت کا حکم دیا جاتا ہے۔جونہی اسے شوٹ کرنے کا حکم ملتا ہے تو ان میں ٹامی گن والا آرمی مین اپنے دوسرے ساتھیوں کو ٹامی گن کی زد پر پیچھے ہٹنے کو کہتا ہے اور واحد متکلم کو جیپ میں بیٹھنے کے لیے کہتا ہے۔یہ ٹامی گن والا وہی تاجر ہوتا ہے جو گاؤں سے شہر خصوصاً اس کے لیے آیا ہوتا ہے۔وہ ٹامی گن اسی کے ہاتھ میں تھما کر خود ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے اور اسے سب کو شوٹ کرنے کا کو کہتا ہے ، جیسا حکم ملتا ہے ویسے ہی وہ حکم کی تعمیل کرتاہے ۔اس طرح وہ راستے میں آنے والے ہر شخص کو بھون کر رکھ دیتا ہے۔ایسا فعل انجام دیتے وقت اسے بہت لطف بھی آرہا تھا۔آخر کا دونوں زخمی حالت میںملٹری کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ملٹری میں انہیں ایک اور شخص ملتا ہے جو انہیں یوں مخاطب ہو کر کہتا ہے’’میں نے کہانہ تھا کہ اب تمہارا زوال ہونے والا ہے۔‘‘ یہ سب سننے کے بعد اس کی آنکھوں کے سامنے مستقبل کے زوال کی پیشن گوئی کرنے والے آدمی اور تاجر کی باتیں گردش کرنے لگتی ہیں۔

          صادق کے’’کھلنایک‘‘سے پہلے کے بعض افسانوں میں بھی انسان زندگی کی کشمکش میں مبتلا نظر آتا ہے،وہ زندگی کی سختیوں،مشکلات اورپریشانیوں سے بھاگنا چاہتا ہے،وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپاتا۔بلکہ آخری سانس تک زندگی کے ساتھ لڑتا رہتا ہے۔اس کے آلام و مصائب کا ذمہ دار کسی حد تک یہ معاشرہ اور آج کے حالات ہیں۔جو اس کی زندگی سے نفرت اور کدورت کا باعث بنے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ انسان بھی یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر نظر آتا ہے کہ زندگی سے نجات ممکن نہیں۔جس کی افسانوی مجموعہ’’ایک لفظ کی موت‘‘کے بعض افسانوں میں خوب عکاسی کی گئی ہے۔اگرچہ افسانہ نگار نے ’’کھلنایک‘‘میں مختلف خیالاتی اور تصوارتی واقعات کو بُن کر کہانی کی شکل میں ڈھال دیا ہے تاہم چند سطحوں پر کہانی حقیقی زندگی سے میل کھاتی ہے۔’’معنی کی پیاس ‘‘کی طرح اس افسانے میں بھی فینٹسی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔جو قاری کو لاشعوری کیفیت میں مختلف ان دیکھی دنیاؤں کی سیرا کراتی ہے۔چنانچہ بعض سطحوں پر اس افسانے کوعصر حاضرکے حالات و واقعات سے مماثلت یا موزونیت دیکھیں تو تعجب کی بات نہ ہوگی۔کیونکہ آجکل کے انسانوں سے بھی ایسے کارنامے دیکھنے کو مل رہے ہیں جو انسانی ذہن اوراس کی سوچ سے پرے ہیں۔ مذکورہ افسانے میں سیدھے سادے انداز میں ایک کردار جاسوسی لبادہ پہن کر ایک شخص کی پوری جنم کنڈلی بتا دیتا ہے۔جس کو اس نے محض بچپن میں دیکھا تھا جبکہ بات کبھی نہیں کی تھی۔اس پر طرہ یہ کہ دونوں کئی برسوں سے الگ الگ شہروں میںرہ کرزندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے اس دوران اُس جاسوسی چہرہ انسان اور واحد متکلم دونوں کی صورتیں ،کام،حلیہ اورجینے کا سلیقہ سب کچھ بدل چکا تھا۔لیکن وہ واحد متکلم کے شہر، اس کی پوری جانکاری اور پتہ حاصل کرکے آتا ہے۔رفتہ رفتہ اس کے ساتھ اپنی راہ و رسم بڑھاتا ہے۔ آخر میں ایسے چنگل میں پھنساتا ہے کہ جس سے وہ آخر تک نکل نہیں پاتابلکہ پھنس کر ہی رہ جاتا ہے۔اس دوران واحد متکلم سے انسانی کھال میں بھڑیے کا انجام دلایا جاتا ہے۔جس میں وہ بے تحاشا چھوٹوں،بڑوں،بزرگوں ،معصوموں،عورتوں،امیروں ،غریبوں ،بے قصوروں غرض بے شمار لوگوں کا قتل کرتا ہے۔جن کا کوئی قصور نہیں تھا۔اس طرح واحد متکلم کے ذریعے سے امن مخالفین اور ملک دشمن عناصر جیسا کام طے پایا۔پروفیسر صادق کے افسانوں کی ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کہیں بھی افسانے کا تسلسل ٹوٹتا نظر نہیں آتا بلکہ روانی کے ساتھ واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑتی جاتی ہے۔

          اگر صادق کے افسانوں کے اسلوب پر گفتگو کی جائے تو ’’زنگ‘‘کو کسی حد تک چھوڑ باقی تمام افسانوں میں لفظوں کی ساخت اور تخلیقی حسیت کی آمیزش سے اسلوب قدرے پیچیدہ ہوگیا ہے۔مشکل بیانی ،علامتی ،تجریدی،استعاراتی اور تلمیحی انداز سے جہاںان کے افسانے اپنے دور کے افسانوں سے منفرد نوعیت اوراہمیت اختیار کر گئے ہیں تاہم ایک عام قاری کے لیے ان افسانوں کی معنوی پرتوں سے پردہ اٹھانا مشکل ترین اور جاں کاہی جیسا مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سنسکرت اورہندی الفاظ کے استعمال نے جہاں افسانوں میں معنوی رنگت اور لطافت کی چاشنی بھر دی ہے وہیں ان میں مذکورہ عناصر کی ایک ساتھ موجودگی الجھاؤ کا باعث بھی بن جاتی ہے۔

          صادق کے افسانوں کی زبان ایک پختہ تخلیق کار کاتخلیقی جوہر ہے۔زبان و بیان کی سطح پران کے افسانے بہت کامیاب ہے۔جس کی سحر انگیزی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اوروہ افسانے کی ایک قرأت پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس مجموعے کے افسانے انہیں بار بار کی قرأت پر مجبور کرتے ہیں۔صادق صاحب کا افسانوی اندازِ بیان چست اور توانا ہے۔زبان کے رکھ رکھاؤ،لفظوں کے مناسب استعمال اورفنی ہنرمندی نے ان کی زبان کوگوہر افشانی سے ممیز کر دیا ہے۔ان افسانوں میں انھوںنے جو لسانی تجربے کیے ہیں اُس خصوصیت سے آج کے افسانے عاری نظر آتے ہیں ۔اس لسانی تجربے نے ان سات افسانوں کو ایک زنجیر کی کڑی بنا دیا ہے جس کے ہر جوڑ کو قاری عبور کرنا چاہے گا۔صادق صاحب نے ’’ایک لفظ کی موت‘‘میں جہاں گیپ چھوڑچھوڑ کر افسانہ لکھنے کا تجربہ کیا وہیں ’’پاش پاش‘‘میں بنا فل سٹاپ پیرگراف لکھنے کا ایک انوکھا تجربہ بھی کرکے دکھایا ہے جو دلچسپ آمیزہے۔

          ’’ایک لفظ کی موت‘‘کے افسانوں میں ہمیں اردو کے عام افسانوں کی طرح کرداروں کی سوانحی کوائف یا حال و احوال جاننے کو نہیں ملتے۔ان میں کرداروں کی بھرمارنہیں ہے اور جتنے بھی کردار ہیں وہ سب ان افسانوںکے پلاٹ کو آگے بڑھانے میں خاص رول ادا کرتے ہیں ۔کوئی کردار اضافی اور غیر متحرک نہیں ہے۔بلکہ سب کردار فعال ،جاندار اور متحرک نظر آتے ہیں۔جن میں بعض کی تاریخی حیثیت ہے۔ دو افسانوں ’’ایک لفظ کی موت‘‘اور ’’معنی کی پیاس‘‘میں نام کی مناسبت سے صادق کا کردار ملتا ہے جو ان میںبہت اچھی طرح ایڈجسٹ(Adjust)ہوگیا ہے۔

          اس مجموعے کے افسانوں میں کئی قسم کی تکنیکوںکو برتنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔یہ سبھی افسانے واحد متکلم کی تکنیک میں لکھے گئے ہیں۔’’لایعنی‘‘اور’’ایک لفظ کی موت‘‘افسانے’’خیال کی رو‘‘میں تخلیق کیے گئے ہیں۔افسانہ نگار نے’’معنی کی پیاس‘‘اور’’کھلنایک‘‘میں فلیش بیک کی تکنیک استعمال کی ہے۔انھوں نے بعض افسانوں میںخود کلامی اور بعض میں نثری نظم کی تکنیک اپنائی ہے جس سے افسانے کے فنی رچاؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

مکالماتی سطح پر یہ افسانے پُر اثر ہیں۔جن میں روانی ہے،تسلسل ہے،جن میں کسی لفظ کوکم کرنے کی گنجائش ہے اور نہ ہی اس میں اضافی لفظ ٹھونسنا ممکن ہے۔ یہ مکالمے جاندار ہیں نیزسادہ اور دلنشین بھی۔

          صادق نے افسانوں کے اختتام میں بہت سلیقہ شعاری سے کام لیا ہے۔وہ افسانوں کا اختتام اس انداز میں کرتے ہیں کہ جس سے معنویت کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔چونکہ ان افسانوں کا موضوع زندگی اوراس کی حقیقت سے قریب تر ہے اس لیے وہ اختتام میں پرکشش اور جاذب رُخ اختیار کرتے ہیں۔افسانہ نگار نے انسان اور زندگی کو سمجھانے کے لیے علامتی انداز اور فینٹسی کی تکنیک کا سہارا لیا۔جس کے درپردہ موصوف افسانہ نگارنے عصری سماجی اور معاشرتی حالات،تہذیبی او رمعاشرتی اقدار،انسان کی شکست و ریخت،اس کے نشیب و فراز،فراموش اورختم ہوتی اخلاقی قدروں،انسانی جان و مال کے زیاں اور زوال کے اسباب،انسانیت کی ختم ہوتی شناخت،انسانی محرومی،محزونی،پستی،تنہائی،خفگی اورتند خوہی اورسماج کے منفی کرداروں کی جاندار تصویر کشی کی ہے۔صادق کے افسانے نہ طویل ہیں اور نہ ہی زیادہ مختصربلکہ انھوں نے میانہ روی کا روّیہ اختیار کرتے ہوئے افسانے تحریر کیے ہیں۔جس میں موصوف افسانہ نگار افسانے کے مرکزی خیال  (Central Theme)کی ترجمانی میں بے حد کامیاب نظر آتے ہیں۔ ’’ایک لفظ کی موت‘‘کے افسانے نئے افسانہ نگاروں اور فکشن کے قارئین کے لیے مہمیز کا کام کریں گے۔کیونکہ زیر نظر کتاب کے افسانے فکر ی تجربہ،زبان وبیان،معنی و مفہوم،ندرت تخیل،تفہیم خیال،وسعتِ بیان اورنظریۂ حیات کی جابجا کارفرمائی کرتے ہیں جو ایک بالغ نظر افسانہ نگار کے فن کی کامیابی ہے۔

یورپ اور امریکہ میں دہشت گردی کی حالیہ لہر
سات دسمبر قومی یوم رائے دہندگان پر خصوصی تحریر رائے دہندہ نجات دہندہ
تعارف و احوال خواجہ غلام فرید
پہیلیاں

پہیلیاں

آمد اور آورد میں فرق
جے سی بی پرائز، ترجمہ اور اصل متن
موم کی گڑیا

موم کی گڑیا

سائنس ماضی کے متعلق کیسے بتاتی ہے
سائنس محض علم نہیں
خیال کی شپیڈ

خیال کی شپیڈ

جنت کی تلاش فنی فکری تجزیہ
ریڈیو پاکستان کی دکھ بھری کہانی صفدر ہمدانی کی زبانی