کے ٹکڑے کے ساتھ گرم پانی بھی موجود تھا۔

جی … میں کہہ رہی تھی … نیپکن …‘ ڈرتے ڈرتے قریشہ نے اِس بار صلاح الدین کی طرف بغیر دیکھے اپنے دل کی بات کہہ دی … ’نشانی کے طور پر رکھ لوں … ؟

ارے … ہاں … ہاں … کیوں نہیں … ضرور___‘ امام صاحب ہنس رہے تھے۔ ’رکھ لیجئے نا … نشانیاں …‘ وہ تھوڑا مسکرائے تھے … ’قومیں اپنی نشانیوں کے ساتھ بھی جانی جاتی ہیں …‘

ایک لمحے کو چونک گئے تھے صلاح الدین … برسوں پہلے اباّ نے بھی تو یہی کہا تھا … دلّی میں آٹھ سو برسوں کی نشانیاں دھندلی اور ختم ہونے لگی تھیں … اب ایک نشانی نیپکن کے طور پر … ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ لہرائی۔ صلاح الدین نے دیکھا، قریشہ اپنے پرس میں شاہی نیپکن کو حفاظت کے ساتھ رکھ رہی ہے۔

نیپکن کا سفرا بھی جاری تھا۔ اِس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد دلّی سے فتوحہ پہنچنے پر اِسی نیپکن نے سیاست کی ایک نئی بساط بچھائی تھی۔

6

ہوا کچھ یوں کہ قریش منچ کے چمک جانے کے بعد سے ہی سدانند بابو اُس پر ڈورے ڈالتے رہے تھے۔ بہار میں برسوں سے حزب مخالف کا رول نبھانے والے سدا نند بابو ایم ایل اے کے چناؤ میں کئی بار ہار چکے تھے۔ چھوٹے شہر میں ملنا ملانا تو ہو ہی جاتا ہے، لیکن وہ ایک ایسی پارٹی سے منسلک تھے جہاں ملنے ملانے کے جرم میں اپنے ہی لوگوں کے ذریعے وہ تنقید کے شکار بھی ہو سکتے تھے ___ فتوحہ جیسے شہر میں تنگ مذہبی پارٹی والے نیتاؤں سے ملنے ملانے کو یوں بھی اچھا تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ دس بیس برسوں میں فرقہ پرستی کے اندھڑ نے اُسے سدانند بابو سے دور رکھا تھا جبکہ قاعدے سے دیکھیں تو دونوں ایک ہی عمر کے تھے ___ صلاح الدین اور سدانند دونوں نے ایک ساتھ ہی اسکول اور کالج کا سفر طے کیا تھا___ لیکن جن سنگھ والی ذہنیت سے جڑا سدا نند کبھی بھی مسلمانوں کے درمیان اپنی جگہ نہیں بنا پایا___ لگاتار چلنے والے سیاسی اُٹھا پٹخ کے درمیان اِدھر صلاح الدین سیاست کے نئے باب پڑھنے لگے تو اُدھر سدانند، صلاح الدین کے سہارے مسلمانوں کے درمیان اپنی ساکھ بنانے کو بے چین تھے۔ بچپن کا کلاس میٹ___ مانے گا کیسے نہیں۔ راجنیتی میں کوئی دھرم ایمان ہوتا ہے ___ ہوتا ہے ووٹ بینک___ اصل تو یہی ہے۔ قریش منچ کے دفترمیں صلاح الدین سے ملنے آنے والے سدانند بابو نے چلتے وقت ایک شگوفہ اور جڑ دیا۔

کل بھابھی کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھاؤں گا … کھلاؤ گے نا؟ نان ویج۔ بہت دن ہو گئے یار …‘

کیوں نہیں …‘ دلّی سے لوٹے صلاح الدین کو سدانند کی تجویز میں سیاست سے جڑی کوئی بات نظر نہیں آئی۔

صلاح الدین مطمئن تھے ___ قریش منچ کے بڑھتے اثر کو کیش کرنے کے لئے دوسری پارٹیاں بھی اُن کے پاس آئیں گی___ سیاست میں مستقبل کے بیج تو ایسے ہی پھوٹتے ہیں۔ اب چاہے امام ہوں یا سدانند___ ملنا تو سب سے ہی پڑے گا۔ تبھی اپنا راستہ چننے میں اُسے آسانی ہو گی۔

اور یہ دوسرے دن کا قصّہ ہے۔ جب نیپکن ایک ’زندہ اور سلگتا ہوا مسئلہ‘ بن کر ایک بار پھر اُس کے سامنے آیا تھا۔

قریشہ صبح سے ہی کھانا بنانے میں جٹی تھی۔ پلاؤ، قورمہ۔ بہار میں عام طور پر بریانی کا رواج نہیں ہے۔ فتوحہ میں تو بالکل بھی نہیں مگر بھلا ہو ٹی وی چینلوں کا، جس نے بریانی، حیدرآبادی بریانی کا نام لے کر منہ کا ذائقہ بڑھا دیا تھا۔ کئی لوگوں سے قریشہ نے بریانی بنانے کا طریقہ پوچھا۔ ایک دو بار، اچھا بُرا بنانے کی پریکٹس بھی کی۔ آہستہ آہستہ کامیابی ملی تو گھر میں بریانی بننے کا رواج شروع ہو گیا۔ ہاں، یہ الگ بات تھی کہ صلاح الدین کو بریانی کا حساب پسند نہیں تھا۔ وہ کہتا بھی تھا۔ چاول میں گوشت ڈال دو۔ یہ گوشت کے ساتھ انصاف نہیں ہے ___ بریانی بن گئی۔ گوشت کے اور ائیٹم بھی تیار ہو گئے۔

رات 9بجے سدانند ’پارٹی جیپ‘ پر آیا___ اکیلے ___ پہلے وہ قریش منچ کے پیچھے والے دفتر میں بیٹھا صلاح الدین کو اپنی پارٹی کا منتر پلاتا رہا___ یہ بتانے کی کوشش کرتا رہا، کی اب پارٹی میں ’بھید بھاؤ‘ کا دور ختم ہو چکا ہے ___ اب تو اُس کی پارٹی میں مسلم جوان نیتا بھی شامل ہیں ___ اُس نے یہ بھی کہا، آئندہ آنے والے چناؤ میں اُس کی پارٹی کا مستقبل روشن ہے۔ قریش منچ چاہے تو آسانی سے مسلم ووٹوں کے بٹوارے کو روکا جا سکتا ہے … سیاست میں ہم گھوڑے ہوتے ہیں۔ گھوڑا گھاس سے یاری کرے گا تو کھائے گا کیا … ہو … ہو … ہو …‘

تیز ٹھہاکے، قہقہوں کے درمیان کھانے کا دور چلا اور یہیں وہ حادثہ ہو گیا، جس کے بارے میں صلاح الدین انجان تھے ___ قورمہ، بریانی، نان پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد جب سدانند نے نیپکن کہا، تو وہ آہستہ سے بولے … چلئے بیسن پر ہاتھ دھولیں

ارے یار … یہ دلّی والوں نے اب عادت خراب کر دی ہے۔ نیپکن ہی بڑھانا۔ رکھتے ہونا؟‘ سدانند بابو نے پھر ٹھہاکا لگایا___ رکھتے ہو یا ابھی بھی فتوحہ کے فتوحہ ہو …‘

اپنی طرف سے مطمئن صلاح الدین آگے بڑھے۔ چلمن کے اُس پار قریشہ کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ پہلے سوچا، آواز دے کر بلا لیں۔ پھر اتنا ’ماڈرن‘ بننا اچھا نہیں لگا صلاح الدین کو۔ چلمن کے پار کھڑی قریشہ کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا تھا۔

نیپکن تو نہیں ہے۔

نہیں ہے۔ ابھی تو لایا تھا۔

ختم ہو گئی۔

دیکھو شاید کہیں کوئی ٹکڑا۔

دیکھ لیا، نہیں ہے …‘ کہتے کہتے اچانک قریشہ کو یاد آ گیا … ارے ہاں ہے …‘

ہے تو پھر لاتی کیوں نہیں …‘

وہ پرس میں … قریشہ نے یاد دلانے کی کوشش کی___ ’بھول گئے۔ دلّی میں … امام صاحب کے ہی یاں …‘

سدانند بابو امام صاحب کی نیپکن میں ہاتھ پونچھتے ہوئے اب بھی ہنس رہے تھے ___

کھانا مزیدار تھا … لیکن ہماری تجویز کے بارے میں سوچئے گا ضرور۔

نشانیاں دھندلی ہو گئی تھیں۔

سدانند کی جھوٹی رکابی میں مڑا تڑا شاہی نیپکن، گوشت کی چوسی گئی، بڑی چھوٹی ہڈّیوں کے درمیان چھپ گیا تھا___

 

یہ تحریر فیس بُک کے اس پیج سے لی گئی ہے۔

اُردو ناول پاکیزہ محبت

ٹینا کی مہندی

درد کی ٹیس

ارمان کی محبت

تارا کی شیطانی

Welcome Back!

Login to your account below

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.