ر آکر مجھے دھمکیاں دیں کہ تونے فرزانہ کا خیال نہ رکھا تو میں تجھے فی النار کردوں گا۔ فرزانہ سے کہے لگا”تمھارا شوہر بس ٹھیک ٹھاک شاعر ہے تاہم اس کی قدر کرو اور بی بی! اپنے رب کی نعمتوں کا اثبات کرتی رہو۔“ انھوں نے کہا، بہتر ہے۔ پھر جاتے جاتے مجھے ہدایت کرگیا”تیری اہلیہ مومن ہے اور ہاتھ ہے اللہ کا”مومن بندی کا ہاتھ“۔ اس لےے تجھ پر لازم ہے کہ اپنی بیوی سے گاہے گاہے ہاتھ ملایا کر۔ اسی میںتیری نجات ہے۔
مگر یہاں زندگی اس کے فقروں کی طرح ہلکی پھلی، چٹک مٹک نہیں گزری تھی، خاص طور پر اس کے اپنوں کے لیے۔
گھر والے نارتھ ناظم آباد کے مکان سے اٹھ کر دست گیر سوسائٹی میں کسی کراےے کے مکان میں آبسے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی صحت پہلے سے نہیں رہی تھی۔ چھوٹے بھائی کو جو پاکستان میں تھا، اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے الجھنوں کا سامنا تھا۔ امی اداس رہنے لگی تھیں۔ اس وقت تک دونوں بیٹوں میں کوئی بھی گھر نہیں آیا تھا اور کہیں پتھر کی کسی سل پر یہ لکھ دیا گیا تھا باپ ان بیٹوں کو دوبارہ نہیںدیکھے گا۔
مگر پھر اللہ نے خوشیاں بھی دیں، ساقی کی بہنوں کے گھر آباد ہوئے۔ اس نے لندن سے دونوں بہنوئیوں کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی اور قہقہے لگائے اور دوسرے بھائی ارشاد نبی نے بھی ٹیلی فون کیا۔
اطہر نفیس کی سربراہی میں دوستوں کا ایک جیش ڈاکٹر صاحب کو اور امّی کو مبارک باد دینے پہنچا۔ تقریبوں والے دن ہم سب نے مہمانوں کو پان الائچی کی تھالیاں پیش کیں، ان کی طرف تولےے بڑھائے، پلیٹوں میں کھانے نکالے اور میزوں کے درمیان مصروفیت سے ٹہلتے رہے۔
ساقی نے یہ سب کرنے کے لےے لندن سے ہدایات جاری کی تھیں اور دھمکیاں بھی دی تھیں۔
ڈاکٹر التفات نبی صاحب نے ہمیں یہ سب کرتے ہوئے دیکھا اور اپنے بیٹے کی طرح قہقہہ مار کر بولے”بھئی ان تقریبوں میں ساقی کی شرکت بھی ایک اعتبار سے ہو ہی گئی۔ ہیں نا؟ ہا ہا ہا۔
خدا مغفرت کرے۔ کمال کے بزرگ تھے۔ ان کے بچے خوب جانتے ہیں کہ اپنی اولاد سے کیسی وفا کی ہے، ڈاکٹر صاحب نے اور کیا قیمت چکائی ہے؟ کیوں نہ کرتے؟ صدیقی جو تھے۔ استواری اور وفاداری کی روایت ان کے بڑوں سے چلی آرہی ہے۔
اور یہاں میں چاہوں گا کہ میرا قاری کچھ دیر کے لےے ٹھہر جائے۔
خود اس کی شاعری سے زیادہ میری ان سطروں میں ساقی فاروقی ایک پر خواہش، امنگ بھرا، ہوش مند، ایمبی شش آدمی نظر آتا ہے۔ بے شک وہ ایسا ہی ہے مگر وہ ایک بہت حساس اور دردمند انسان بھی ہے۔
وہ محبت کے اظہار میں تھیٹریکل ہے۔ دور سے لگتا ہے کہ مکر کررہا ہے یا گمان ہوتا ہے کہ شاید اس وقت پبلک ریلیشنگ چل رہی ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں، ہم میں سے بہت سے کہ ایسا نہیں ہے۔ ۱۹ءمیں آخری اور شاید پہلی بار ہم دو بوڑھے آدمیوں نے اس کے سنی گارڈنزوالے مکان میں اپنی تقریباً چہل سالہ دوستی کے بیس تنہا اور خوب صورت منٹ گزارے۔ اوپر گنڈی جانے کی تیاریاں کررہی تھیں۔ یہ شخص میرے کمرے میں بھالوو ¿ں کے پہننے کا اپنا ٹرٹل نیک سوئٹر اٹھائے ہوئے آیا۔ بولا، اسے پہن لے اور کچن گارڈن میں جا کے بیٹھ جا۔ میں تیرے لیے چائے بنا کے لا رہا ہوں۔ اس نے ضد کرکے وہ ٹرٹل نیک مجھے پہنایا۔ دھمو کے مار مار کے اس کو کندھوں پر سیٹ کیا۔ میں آخر جولائی کے تیکھے موسم میں سیب کے درختوں تلے کرسی بچھا کر بیٹھ گیا۔ یہ چائے لایا تو سہگل کے انداز میں گارہا تھا”بھور سہانی چنچل بالک۔
چائے پیتے ہوئے اس نے پوچھا ”یار یہ بتا میری شاعری کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟
میں نے کہا ”تیرے میرے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بھائی یہ تو مکافاتِ عمل ہے اگر کچھ کیا ہوگا تونے تو تیرے دیدوں گھٹنوں کے آگے آئے گا۔
ہنسنے لگا۔ بولا ”بدتمیزی مت کر۔ ویسے مجھے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شاعر تو میں بڑا ہوں۔ لاریب!“
فقرے بازی سے قطعِ نظر اگر سنجیدگی سے پوچھا گیا تو میں بلا خوفِ تردید کہہ دوں گا کہ اس شخص نے لکھے ہوئے تازہ کار لفظ کے سوا کسی سے وفا نہیں کی۔ شاعری کے حوالے کے سوا اپنے لےے کسی اورحوالے کو دستارِفضیلت نہیں جانا۔ اردو نظم کی ڈرافٹنگ کرتے ہوئے اس نے نے ہر پامال روش کو چھوڑا، ایک نئی راہ نکالنے کی سعی کرتا رہا۔ ازکارِ رفتہ اور عامیانہ لفظوں (کلیشے) سے اس نے اس طرح گریز کیا جیسے مومن لحمِ خنزیر سے گریز کرتا ہے۔ اپنے لیے اس نے بس ایک مسند چاہی،جائنٹ سیکریٹری، صدر، مہمان خصوصی، کمپیوٹر منیجر، شوہر، دوکاروں کا مالک یا خان بہادر کا پوتا، ان سب افتخاروں سے گزر کر ساری زندگی وہ اس ایک مسند کا ہوس مسند رہا جو شاعر کی مسند ہے۔ 
اور اس نے تو حد ہی کردی۔ ظالم نے اپنے دل کی امنگ میں بنارس کے آسمان شکوہ جولا ہے کبیر کی چٹائی پر ان کے برابر بیٹھنا چاہا۔ ایسا یزداں شکار حوصلہ لے کر آیا ہے یہ حلال زادہ! 
اپنے کسی انٹرویو میں اس نے کہا کہ وہ مرنے کے پانچ برس بعد تک زندہ رہے گا! 
بکواس کرتا ہے! 
ساقی فاروقی مرنے کے پچاس برس بعد تک (ہوپ فلی) پڑھا جائے گا۔ اور یہ مدت اس کم سواد زمانے میں کسی بھی اردو شاعر کے لیے انفینٹی ہے۔

 

یہ تحریر فیس بُک کے اس پیج سے لی گئی ہے۔

میرا گاؤں

میرا گاؤں

نا شکری کی سزا

نا شکری کی سزا

دیومالائی کہانیوں میں خوف، سیکس اور طاقت کا کردار
یاد رفتگاں بیاد عمر خیام
637221101397144044Waqar Ahmad Malik Sahib Aik Ba Waqar Afsana Nigar
ہندی گورکھپوری افُقِ ادب کا نیرِ تاباں ایک جائزہ
برقی صاحب برق گرا کر چلے گئے
اُردو نظم ماں میں آیا تھا
مذہب اور اخلاق

مذہب اور اخلاق

637577757851202436Malik Siraj Ahmad
یہ میری بیٹی ہے

یہ میری بیٹی ہے

برطانیہ میں اردو شاعری کی روایت تعارفی جائزہ

Welcome Back!

Login to your account below

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.