قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں – پنجند۔کوم

Qadam Qadam Par Janazay Rakhay Huye Hain - punjnud.com

"قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں(میراجی)"
ہر موت دکھ دیتی ہے،لیکن قتل سے ہونے والی موت سے پیداہونے والے جذبات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیںاور اتنے ہی خطرناک بھی۔مقتول کے وارثوں اور ہم سب کے لیے خطرناک ۔کاش کوئی سمجھے!قتل کی موت میں رنج، غصہ ، انتقام،دہشت،بےبسی جیسے مختلف و متضاد جذبات رل مل جاتے ہیں اور ایک عجب سی ،ڈراؤنی،بھیانک صورت پیدا کرتے ہیں،جسے سیاسی تخیل گرفت میں لینے سےقاصر رہتا ہے ۔ اور اگر ایک پر ایک قتل کے واقعات ہو رہے ہوں تومقتولوں کے وارث کائنات کی تاریکی کی آخری حدوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے ڈرنا چاہیے جنھوں نے ظلمت کو اس کی انتہا میں دیکھ لیاہو ۔ظلم اور ظلمت کی انتہاؤں کو کوئی نہیں جھیل سکتا۔ یہ بات سب سے زیادہ صاحبان ِاختیار کو سمجھنی چاہیے۔
ایک انسانی قتل ، کسی ریاست کی آزمائش ہے کہ وہ اپنے ہی آئین پر عمل در آمد کرانے میں کتنی سنجیدہ اورمخلص ہے ۔ایک ہی طبقے کے افراد کا مسلسل قتل ریاست کے ساتھ ساتھ سماج بلکہ انسانیت کی آزمائش ہے کہ وہ جن اخلاقی اصولوں کو مانتی ہے، ان کی بدترین پامالی پر چپ ، مصلحت پسنداور بے حس رہتی ہےیا مظلوموں کا ساتھ دیتی ہے۔ مظلوم کا ساتھ دینا، دنیا کے کس سماج کے اخلاقی قاعدے میں درج نہیں ہے؟کیا ریاست، سماج اورا نسانیت –کوئٹہ کی ہڈیوں کے گودے کو جمادینے والی سردی میں بیٹھے ، اپنے پیاروں کی گلے کٹی لاشوں کو سامنے رکھے ہزارہ برادری کے لوگوں کے سلسلے میں آزمائش پر پوری اتری ہے؟ہم میں سے کون ہے جو خود اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑاہوکر اس سوال کے جواب میں" ہاں" کہہ سکے۔ جس خاندان میں جنازے کو کندھا دینے والاکوئی مرد نہیں بچا، اس خاندان کے الم کی شدت کاکوئی اندازہ کرسکتا ہے؟ اپنے ایک پیارے کی موت آدمی کی باقی زندگی کو سد ا کے لیے بدل دیتی ہے ؛ اس کے لیے ہر شے کے معنی بدل جاتے ہیں۔دن رات ایک جیسے نہیں رہتے ،نہ دنیا سے تعلق پہلے جیسا رہتا ہے۔ اور جن کے درجنوں لوگ ان کی آنکھوں کے سامنے مار دیے گئے ہوں، محض اس لیے کہ وہ ایک خاص برادری اور مسلک سے تعلق رکھتے ہیں،ایک ایسا "جرم " جو ان سے محض اس لیے سرزد ہوا ہے کہ انھیں اپنی پیدائش کے فیصلے پر اختیار نہیں تھا— اور ان کے لیے اپنے خاندان کے لوگوں کی لاشوں کود یکھنا، احتجاج کرنا اور پھر ایک نئے المیے کے یقینی خوف میں جیناتقدیر بنادیا جائے، ان کی زندگی کے کیا معنی رہ جاتے ہیں، کوئی–صاحبان اختیار کو جانے دیجیے،کوئی شاعر،کوئی مصور، کوئی فکشن نگار، اس کا تصور بھی کرسکتا ہے؟اگر آپ کسی انسان کی روح میں برپا عظیم محاربے کا تصور کرنےسے بھی قاصر ہیں تو اس کا مداوا کیسے کریں گے؟لیکن زندوں پربے جرم و بے گناہ قتل ہوجانےو الوں کے کئی حقوق ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا حق ان کی باعزت تدفین اور وارثوں کو یقین دہانی کہ انھیں انصاف ملے گا۔ 
ہم سب اور کچھ نہ سہی ،دعا کے لیے ہاتھ تو اٹھا ہی سکتے ہیں!

 

Exit mobile version