قصہ بے نظیر کے باغ میں جانے کا

(Last Updated On: جون 13, 2022)
قصہ بے نظیر کے باغ میں جانے کا
اور چرچا ہونا اُس کے آنے کا اور خبر پہنچنی بدرِ منیر کو اور آپس میں عاشق ہونا دونوں کا
اب اس مکان کی رہنے والی کا وصف ضرور ہے کہ خاتم کی تعریف کے بعد نگیں کی مدح کرنی دستور ہے۔ وہ مسند جو خوب صورتی کے دریا کی لہر تھی، اُس پر ایک پری پیکر تمکنت سے جلوہ گر تھی۔ چودہ پندرہ برس کی اس کی عمر اور جوانی کی امنگ۔ نہایت شکیل اور کندن سا رنگ۔ تکیے پر کہنی دھرے اور گال پر ہاتھ رکھے ہوئے ناز سے، کنارے نہر کے بیٹھی تھی نہایت انداز سے۔ خواصیں دست بستہ ادھر اُدھر قرینے سے مودّب، اپنے اپنے عہدے لیے حاضر اور ہر ایک اُسی کی طرف دیدۂ جان و دل سے ناظر۔ اُن میں وہ دکھلائی دیتی تھی یوں، جیسے چاند کے گرد تارے ہوں۔ اِس سج دھج سے چاندنی کا عالم دیکھ رہی تھی۔ اُدھر آسمان پر چاند چمک رہا تھا، اِدھر زمین پر اس چودھویں رات کے چاند کی رشک کا جھمکڑا تھا۔ دونوں کا عکس پڑا جو نہر میں، تو چاند کی جوت دکھائی دینے لگی ہر لہر میں     ؎
نظر آئے اتنے جو ایک بار چاند
زمانے کے منہ کو لگے چار چاند
اب اس کے لباس کا بیان کیا کیجیے اور کس سے تشبیہ دیجیے کہ نہ ویسا دیکھا، نہ سنا۔ گلے میں اُس کے ایک پشواز آبِ رواں کی گھیر دار کہ جس پر آبِ رواں نثار ہو۔ سنجاف میں اس کی اِس کثرت سے تھے گہر، گویا موتیوں میں تُل بیٹھی تھی وہ رشکِ قمر۔ اور ایک اوڑھنی باریک و لطیف ہوا سی سر پر، جسے پانی پانی ہووے شبنم دیکھ کر۔ صباحت اور صفا اس کی آنکھوں میں سہاتی تھی، سر سے کاندھے پر ڈھلکی ہی جاتی تھی۔ کرتی اور انگیا جواہر نگار کی بہار کا سماں، دیکھ کر بھیچک رہ گیا دیدۂ آسماں۔ اور الماس کا ایک تکمہ گریبان میں ایسا ٹکا ہوا، جیسے چاند سے ایک تارا لگا ہوا۔ دامن کے نیچے سے پایجامۂ زریں کی جھلک، یوں نظر آئے جیسے آرسی میں دامنی کی دمک     ؎
صفائی یہ پوشاک کی دیکھیو
نظر سوچتی ہے کہ میلی نہ ہو
سوڈول اس کی ترکیب اور چاند سا بدن، گول گول بازوؤں پر ڈھلکے ہوئے نورتن۔ جڑاؤ بالے پر چاند کا ہالا قربان اور موتیوں کے مالے کو دیکھ کر تارے کہکشاں کے حیران     ؎
وہ آنکھوں کی مستی، وہ پلکوں کی نوک
کرن پھول کی اور بالے کی جھوک
موتیوں کے دولڑے اور ہار کی پھبن پر اشکِ غم دیدۂ عاشق نثار۔ دُھک دُھکی اور پچ لڑے ست لڑے کی زیبائش پر دلِ نظارگیاں صدقے سو سو بار۔ جہانگیریوں کا زیب جہاں گیر اور گلے کی زنجیر سے ایک عالم اسیر۔ جڑاؤ چنپا کلی کے نیچے موتی ایسے چمکتے تھے ہر دم، جیسے برگِ گل پر نمایاں ہوتی ہے شبنم۔ جڑاؤ ہیکل کمر اور کولے کے نیچے پڑی ہوئی دیکھ کر، دیکھنے والوں کا دل لوٹتا تھا آتشِ شوق کے انگاروں پر۔ موتیوں کی پازیب سے اس کے پاؤں کو کچھ زیبائی نہ تھی، بلکہ موتیوں نے آب و تاب اس کے پاؤں پر گر کے پائی تھی۔ وہ پاؤں کب کسی کے ہاتھ لگے جس پر جواہر پڑا لوٹے۔ اب سراپا کی تعریف اُس رشکِ حور کی کہنی ضرور ہے لیکن جیسی کہ چاہیے سو معلوم۔ اگر میرا تن سر سے پاؤں تک زبان ہو جاوے تب بھی اس کے ایک عضو کی تعریف نہ ہو سکے۔ غرض چستی اور چالاکی اعضاے بدن سے اُس کے نمود اور راستی و کجی جہاں چاہیے وہاں بہ خوبی موجود۔ مکھڑا وہ خوش نما جسے دیکھ کر مہتاب داغ کھائے اور نقشہ وہ دل رُبا کہ جس پر نگاہ کرتے ہی تصویر کے عالم کو حیرت آئے۔ رخسارے ایسے نزاکت بھرے، لال ہو جائیں اگر کوئی ان کے بوسے کا خیال کرے۔ دیکھ کر صباحت و ملاحت اُن کی ہر آن، سیوتی کا پھول سو سو رنگ سے ہو قربان۔ ابرو ایوانِ حسن کی محراب بلکہ دیوانِ خوبی کے یے دو مصرعے انتخاب۔ نگہ آفت اور چشم بلاے بے درماں، صفِ عشاق کو الٹ دیں مژگاں۔ اور موتی بھرے دیکھے جو اس کے کان ایک بار، صدف موتیوں سمیت ہزار مرتبہ ہو نثار     ؎
وہ بینی کہ جس کی نہیں کچھ نظیر
تھی انگشتِ قدرت کی سیدھی لکیر
بیاضِ گلو اس کی تمام منتخب، ساعد و بازو سوڈول سب کے سب۔ وہ منہدی سے رنگیں اس کے ہاتھ، دیکھے تو پنجۂ آفتاب شفق میں خجالت سے نمایاں نہ ہو۔ از بس کہ مثلِ آئینہ روشن تھا اس کا بدن، ناف تھی گویا عکسِ چاہِ ذقن۔ ہیچ بھی نہیں ہے اُس کی کمر، قسمت کا پیچ ہے جو نہ آوے نظر۔ زانو پر اس کے اگر پہنچے عاشق کا ہاتھ تو عمر بھر رہے اُسی کے ساتھ۔ رنگ اُس ساقِ بلّوریں کا اور انداز پاؤں کا ہر سحر، دیدہ و دل کی رہے مد نظر۔ نہ تنہا لطیف و خوش اسلوب تھی انگشتِ پا، بلکہ کفِ پا بھی مانند آئینے کی دکھاتی تھی پشتِ پا۔ دیکھے اُس نازنین کا اگر قد و قامت تو ہاتھ جوڑ کر کھڑی رہ جائے قیامت اور جو نظر پڑ جائے اس کا خرام تو ووں ہیں جھک جھک کر کرنے لگے سلام۔ چال میں اُس کی وے اٹھکھیلیاں، جن سے ہوں پایمال یکسر دلہاے جہاں۔ بنا کر اپنے تئیں کبک کیسی ہی چلے لیکن پس جائے اس کے انداز کے پاؤں تلے۔ جواہر نگار کفش کی وہ چمک، جھپک جائے جسے دیکھ کر چشم فلک۔ اور کرشمہ ناز و ادا و غمزے کا کیا کروں بیان کہ دلبری اُن کی تھی تابع فرمان۔ تغافل و غرور و شوخی و حیا، ہر ایک اپنے وقت پر ہوتی تھی اس سے ادا۔ مسکرانا بولنا ناز سے، چشمک ایک انداز سے۔ کبھی رحم کبھی ستم، موافق ہر ایک کی قدر کے کرم۔ تمکنت اُس میں تھی بانکپن کے ساتھ، غرض ہر طرح تھی اُس کی ایک انوٹھی پھبن کے ساتھ۔ جب اس طرح شہزادے نے دیکھا تو حیران رہ گیا اور کہنے لگا: اے صانع ذو الجلال! واقعی تیری قدرت معمور ہے، جو صنعت ہے تیری سو وہم و خیال سے دور۔
غرض وہ چھپا ہوا درختوں سے کھڑا دیکھتا تھا کہ وہاں کسی کی نظر بدرِ منیر کی خواصوں میں سے جا پڑی۔ ناگہاں جو دیکھے تو ایک جوانِ حسین درختوں کی اوٹ میں چھپا کھڑا جھانکتا ہے۔ یہ چرچا جو آپس میں ہوا تو سب جمع ہو گئیں اور یہ احوال ایک سے ایک سن کر سب کی سب بھیچک رہ گئیں۔ دیکھیں تو دور سے کچھ شعلہ سا اور درختوں کا آنگن کچھ اجالا سا نظر آتا ہے۔ کوئی تو کھڑے ہو تاکنے لگی۔ کوئی ادھر اُدھر ہو کر جھک جھک جھانکنے     ؎
کسی نے کہا: کچھ نہ کچھ ہے بلا
کسو نے  کہا: چاند ہے یہاں چھپا
کسی نے کہا: شاید صبح ہوئی اور شب کا حجاب اٹھ گیا جو درختوں میں سے سورج نکل آیا۔ کسی نے اپنا ماتھا کوٹ لیا اور کہا: شاید کوئی پری زاد کھڑا ہے یا آسمان پر سے تارا ٹوٹ پڑا ہے۔ کسی نے کہا: خدا جانے یہ کیا اسرار ہے۔ کوئی کہنے لگی: جو کچھ ہے سو ہے پر کوئی دل دار ہے۔ پھر ایک اُن میں سے بولی: عجب تمھاری فہمید ہے، نہ یہ مہر ہے نہ ماہ، نہ مشتری نہ حور، نہ جن نہ پری     ؎
ذرا سوچ کر دیکھو تو اے بوا!
کھڑا ہے کوئی صاف یہ مردُوا
غرض یہ آپس میں باتیں ہوتے ہوتے چرچا پھیل گیا۔ آخر شاہ زادی نے بھی سنا، متعجب ہو کر کہنے لگی کہ کیا واہی واہی بکتیاں ہوں تم۔ ایک ذرا میں بھی تو دیکھوں کہ کیا ہے۔ یہ کہہ کر جو اٹھی تو سنسنا گیا اُس کا جی۔ پھر جوں توں خواصوں کے کاندھوں پر ہاتھ دھر کر، چلی ایک ناز و ادا سے وہ پری پیکر     ؎
کچھ ایک خوف سے ہول کھاتی ہوئی
دھڑک اپنے دل کی دکھاتی ہوئی
کئی ایک ہم جولیاں جو اس کے ساتھ تھیں پڑھیں، سو دعائیں پڑھ پڑھ آگے بڑھیں۔ غرض اپنا دل کرخت کرکے پہنچیں وہاں، وے گنجان درخت تھے جہاں۔ کیا دیکھتیں ہیں کہ ایک سرو قد حسین جواں، کھڑا ہے سر تا قدم حیراں آئینہ ساں۔ وہاں سے سرکنے کی نہیں پاتا وہ ٹھاؤں اور ٹھور، حیرتِ عشق سے پاؤں گاڑے ہیں اس کے اِس طور۔ برس پندرہ سولہ کا سِن و سال، نہایت خوش ترکیب اور صاحبِ جمال۔ مسیں بھیگتیں ہوئیں رخساروں پر سبزہ نمود، یوں جلوہ گر تھا جیسے شعلہ پر دود۔ پھینٹا ایک انداز سے سر پر سجا، تمامی کا پٹکا کمر سے بندھا ہوا  ؎
عجب پیچ سے پیچ بیٹھا تھا مل
وہ موتی کا لٹکن، زمرد کی ہر
کہ ہر پیچ پر پیچ کھاتا تھا دل
لٹک جس کی زیبندہ دستار پر
شبنم کا وہ نیمہ گلے میں نہایت تنگ و چست کہ چھب تختی اور رنگت بدن کی نظر آوے صاف و درست۔ ایک تکمہ موتی کا ایسا گریبان پر، جیسے صبح کا تارا ہووے جلوہ گر۔ تمامی کی سنجاف دامن میں یوں تھی عیاں، جیسے آب رواں میں چاند ہو جلوہ کناں۔ کھچی ہوئی بھویں اور آنکھیں مست غرور سے، بھرے ہوئے گال چہرے کی چمک لڑ رہی تھی نور سے۔ ترکیب دار گورا گورا بدن، بھرے ہوئے ڈنڈوں پر نورتن کی پھبن۔ ہیرے کی خوش نما ایک انگوٹھی، دستِ حنائی میں لگتی تھی انوٹھی۔ قیافے سے سراپا شعور پیدا، چہرے پر دانائی کا نور ہویدا     ؎
ولے عشق کی تیغ کھائے ہوئے
کسی پر کہیں دل لگائے ہوئے
یہ صورت دیکھ سب کی سب غش کر گئیں، وے جیتی جو آئیں تھیں سو جیتے ہی جی مر گئیں۔ پھر جوں توں اپنے اپنے تئیں سنبھال جلدی جا کر اس احوال کو شاہ زادی سے عرض کیا کہ اے شہزادی! سیر مہتاب میں ایک طرفہ تماشا ہے، ایسا کبھو خواب میں بھی نظر نہیں آیا۔ ہمارے کہنے سے تو تم ہرگز نہ مانو گی، ہاں جو اپنی آنکھوں دیکھو گی تو جانو گی۔ خدا کے واسطے ٹک شِتاب چلو۔ کہیں وہ بہار ایک آن میں جاتی رہے ایسا نہ ہو۔ پھر ساری عمر ہاتھ ملتی رہو گی بلکہ قیامت تک پچتاؤگی۔ شوق سے نِدھڑک ان درختوں میں چلی آؤ، ہرگز کسی چیز کا اپنی خاطرِ نازک میں خطرہ نہ لاؤ۔ ایک تو اس کی طبیعت میں رغبت تھی ہی، دوسرے اُن کی ترغیب سے اور بھی راغب ہوئی۔ اسی اپنی اٹھکھیلی اور بانک پنے کی چال سے وہیں چلی آئی جہاں بے نظیر تھا اور دونوں اس کیفیت سے دوچار ہوئے     ؎
گئے دیکھتے ہی سب آپس میں مل
نظر سے نظر، جی سے جی، دل سے دل
غرض دونوں عشق کے اسیر بے ہوش ہو کر ایسے گرے، نہ تن من کی اِسے سدھ رہی، نہ جی جان کی اُسے بدھ۔ وزیر کی بیٹی جو اس کی ہم راز و دم ساز تھی، وہ بھی خوب صورت و شوخ سراپا ناز و انداز تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یوں لگی رہتی تھی، جیسے چاند کے پاس تارا۔ سچ مچ نجم النسا تھی وہ ماہ پارا۔ اس نے جو یہ احوال دیکھا تو دونوں کے منہ پر گلاب چھڑکا تب وے دونوں کچھ ایک ہوش میں آکر اٹھے لیکن حیراں اور گلِ شبنم آلودہ کی طرح گریاں۔ شہزادۂ دلدادہ سچک کر نقش پا کی مانند بھیچک سا رہ گیا لیکن وہ نازنین کچھ جھجھک اور منہ چھپا کر، کمر اور چوٹی کا عالم دکھا کر     ؎
چلی اُس کے آگے سے منہ موڑ کر
پلا ساقیا ساغرِ مشک بو
سرِ شام سے دے یہاں تک شراب
وہیں نیم بسمل اسے چھوڑ کر
کہ ہے مجھ کو درپیش تعریفِ مو
کہ مستی میں دیکھوں رخِ آفتاب
رنگت گدّی کی اور شانے کی جنبش پشت و کمر کی چمک تمک اور کولوں پر چوٹی کی لٹک دیکھ کر شہزادے کی جان ہی نکلنے لگی۔ اگر اس کے وصل کا بھروسا نہ ہوتا تو مر ہی جاتا     ؎
کروں اُس کے بالوں کا کیا مَیں بیاں
نہ دیکھا کسی رات میں یہ سماں
ان کی سیاہی تھی انوٹھی، کہ دیتی تھی آنکھوں کو روشنی۔ زلفیں وے الجھی ہوئیں کہ جن کا سلجھانا بھی جی کو الجھائے اور انداز ان کا دل کو لبھاوے۔ وہ چوٹی کھچی ہوئی اور پٹی صاف صاف، چمکتا ہوا کناری کا مُباف۔ کیا کہوں رنگ ڈھنگ اس کا کہ جوں پچھلے پہر جَھمکے ہے جُھمکا۔ اوڑھنی کے تلے سے وہ یوں تھا نمایاں جیسے ابرِ تنک میں برق ہو درخشاں۔ جس نے اس کا جھمکڑا دیکھا، بے اختیار پکار اٹھا  ؎
مُبافِ زری نے کیا ہے غضب
دیا ہے گرہ دِن کو دُنبالِ شب
گو کہ سب سنگاروں میں وہ اُتار ہے پر اُسی سے چوٹی کا سنگار ہے۔ کیوں کر آپ کو چوٹی نہ کھینچے دور کہ اس کے پیچھے پڑا ہے ایک نور۔ زرِ گل اور تار سنبل کے اُس پر سے کیوں کر نہ ہوویں نثار کہ اس کی لٹک کی انوٹھی ہے ایک بہار۔ شاید اس نے جادو کو سانٹھا ہے، اُسی سبب سے رات دن کو ایک جا گانٹھا ہے۔ پھر ہاتھ لگنا کٹھن ہے اس کا کہ وہ حقیقت میں من ہے کالے کا     ؎
الٹ کر نہ دیکھے اُسے ہوشیار
کہ وہ ایک ستارہ ہے دُنبالہ دار
پیٹھ اس کی آئینہ سی چمکتی تھی، تس پر اس کیفیت سے پڑی تھی چوٹی۔ کیا کہوں میں رنگ ڈھنگ اُس کا جیسے دریا پر آجائے کالی گھٹا۔ اُس کی مانگ موتیوں بھری دیکھ کر، دل نظارگیوں کے لوٹتے تھے یکسر۔ ڈھیلے پیچ پر اُس کے دل عاشق کا قربان ہے اور مشّاطہ کا بھی اس کے سر پر احسان۔ اگر چوٹی کو کھینچ کر گوندھتی تو اینچ کھینچ میں گرفتاروں کا نکل جاتا جی     ؎
غرض حسن کا اس کے سب ہے یہ بھید
جو چاہے کرے وہ سیاہ و سفید
جو کوئی اس میں سرخ مُباف ڈالے تو پہلے اپنے دل کا خون اس کو بخش دے۔ اگر اس نے دل کو قتل کیا، کیا شام پر نہیں ہے شفق کا خوں بہا  ؎
کہاں تک کہوں اس کی خوبی کی بات
کہ تھوڑا ہے سانگ اور بڑی ہے یہ رات
اگرچہ میں نے بہت بڑھایا بات کو لیکن یہ عرض میری قبول ہو۔ یہاں گھٹانے کی جگہ نہ تھی، اس لیے طول دیا اور موشگافی بہت کی۔ تس پر بھی جو پوری مثال نہ بیٹھی، میری فکر مجھ پر وبال ہوئی     ؎
اب اس پیچ سے باہر آتا ہوں میں
غرض جب پھری وہ دکھا اپنے بال
ادائیں سب اپنی دکھاتی چلی
غضب منہ پر ظاہر ولے دل میں چاہ
یہ ہے کون کم بخت آیا جو یھاں!
یہ کہتی ہوئی، آن کی آن میں
سماں ایک تازہ دکھاتا ہوں میں
تو گویا کہ مارا محبت کا جال
چھپا منہ کو وہ مسکراتی چلی
نہاں آہ آہ اور عیاں واہ واہ
میں اب چھوڑ گھر اپنا جاؤں کہاں!
چھپی جا کے اپنے وہ دالان میں
اور اپنے ہاتھ سے جلدی پردہ ڈال دیا، یہ عالم ہوا جیسے آفتاب ابر میں چھپ گیا۔ اتنے میں نجم النسا بھی پیچھے پیچھے اُس کے آ پہنچی اور ہنس کر کہنے لگی  ؎
مجھے چوچلے یہ خوش آتے نہیں
مری طرف ٹک دیکھیو ہاے ہاے
ترے نازِ بے جا تو بھاتے نہیں
مثل ہے کہ من بھائے مُنڈیا ہلائے
اگر تیغ ناز سے تو نے کیا ہے اُسے گھائل تو اس کو مت چھوڑ تڑپھتا ہوا نیم بسمل۔ زندگانی کا وصلِ محبوب سے حظ اٹھا اور اپنی جوانی کا مزا اُڑا      ؎
مے عیش کا جام اب نوش کر
غم دین و دنیا فراموش کر
یہ حسن کا جوش و خروش اور یہ جوانی کا عالم، خدا غفور ہے پیالا شراب کا پی، ہو کر خوش و خرم۔ پھر کہاں یہ بہار اور کہاں یہ جوانی، یہ جوبن کا عالم ہو جائے گا ایک کہانی۔ نہ زمانہ ہمیشہ خوشی دکھاتا ہے، نہ وقت گیا پھر ہاتھ آتا ہے۔ یوں تو دنیا کے سبھی ہیں کاروبار لیکن حاصلِ زندگانی ہے وصل یار۔ یقین جان کہ یہ واردات ہے عجیب و غریب، جس کے گھر ایسا مہمان آوے وہ ہے خوش نصیب۔ چاہ والے کہاں ملتے ہیں، ایسے یوسف کو عزیز کر، اری باؤلی! چاہ میں کچھ تمیز کر۔ وہ وقت غنیمت ہے جس میں ایک جاگہ ہوں دو اور پیار کی نظروں سے ایک دیکھے دوسرے کو۔ جلد مجلس کو آراستہ کر اور اس غیرتِ گل سے رشکِ بہار کر اپنا گھر۔ ساقیانِ گل اندام کو بلا، نگہ کے ساتھ پیالے کو گردش میں لا     ؎
شب و روز پی مل کے جامِ شراب
یہ سن سن کے، وہ نازنیں مسکرا
میں سمجھی، ترا دل گیا ہے ادھر
مہ و مہر کو رشک سے کر کباب
لگی کہنے: اچھا، بھلا ری بھلا!
بہانے تو کرتی ہے کیوں مجھ پہ دھر
تب اُس ماہ رو نے ہنس کر کہا: میں نے ہی تو اسے دیکھ کر غش کیا تھا     ؎
مجھی پر تو چھڑکا تھا تم نے گلاب
یہ آپس میں رمزوں کی باتیں ہوئیں
بلا لائی جا اس جواں کے تئیں
بھلا میری خاطر بلاؤ شتاب
اشاروں میں باہم جو گھاتیں ہوئیں
کیا میزباں میہماں کے تئیں
پھر ایک مکان دلچسپ میں اسے بٹھایا اور محل کا سب سماں دکھایا اور اس نازنیں کو جس تس طرح سے اٹھا کر، بٹھلا ہی دیا اُس گل کے پاس لا کر۔
Exit mobile version