قدرت کا تحفہ

”کمال صاحب نے جو نٸی لڑکی اپاٸنٹ کی ہے تم لوگوں نے اسکی رپورٹ دیکھی“ شہریار نے سوالیہ نظروں سے باقی دونوں کو دیکھا
”ہمم۔۔۔ کافی انٹیلیجنٹ لڑکی ہے بہت اچھی رپورٹ تیار کی ہے اس نے“ کافی کے مگ سے گھونٹ بھرتی ماہین نے اسکی تاٸید کی
”کس کی بات کر رہے ہو؟“ علی نے موباٸل پر سے نظریں اٹھا کر پوچھا۔ اس نے غالباً انکی بات ٹھیک طرح سے نہیں سنی تھی
”مس فاطمہ کی، جسے کمال صاحب نے پچھلے ہفتے اپاٸنٹ کیا تھا۔ اس نے رپورٹ تیار کی ہے، جو ہم نے کل ظہیر سنز کے سامنے پیش کرنی ہے“ شہریار نے کہتے ہوۓ ایک فاٸل علی کی جانب بڑھائی
”یہ دیکھو“ علی نے اسکے ہاتھ سے فاٸل لی اور ایک دو پیج آگے پیچھے پلٹ کر دیکھنے لگا
”ناٸیس! خاصا متاثر کن کام ہے“ وہ ستاٸش سے بولا
”اچھا مجھے یاد آیا، صبح تم کہہ رہے تھے کہ شہرزاد کی طبیعت خراب ہے۔ سب خیریت؟“ فاٸل دیکھتے علی نے سرسری سے لہجے میں شہریار سے پوچھا
”وہی جو ہمیشہ ہوتا ہے، کل رات اس نے پھر سے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ اچھا ہوا میں وقت پر پہنچ گیا ورنہ کوئی بہت بڑا نقصان ہو جاتا“ اس نے آہستگی سے کہا
”وہ کچھ بتاتی کیوں نہیں ہے؟“ ماہین نے بھی فکرمندی سے پوچھا
”پتہ نہیں،۔۔ اچھا یہ بتاٶ تم آج جلدی جا رہی ہو؟“ اس نے بات بدل دی صاف ظاہر تھا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
”ہاں۔۔۔آج ڈاکٹرز نے حنان کی ریکوری کے متعلق بات کرنی ہے مجھ سے وہیں جارہی ہوں“ وہ نہ بھی بتاتی پھر بھی سب کو معلوم تھا کہ اس نے ہسپتال ہی جانا ہے
” اچھا چلتی ہوں، خدا حافظ“ وہ اپنا بیگ اٹھاتی باہر نکل گٸ۔ آفس کا شیشے کا دروازہ کھول کر وہ جیسے ہی باہر آٸ مختلف کبینز میں بیٹھے کمپنی کے ایمپلاٸز کا مخصوص شور کانوں میں پڑا۔ سب اپنے کاموں میں مصروف تھے کوٸ کی بورڈ پر انگلیاں چلارہا تھا۔ کوٸ چاۓ پیتے ہوۓ کسی فاٸل پر جھکا ہوا تھا، کہیں کوئی ایمپلاٸ کسی دوسرے ایمپلاٸ کے کیبین میں گھسا اسکے کمپیوٹر پر کچھ بنانے میں مصروف تھا، غرض سبھی کسی نہ کسی کام میں مصروف تھے۔ یہ کام کا ہی وقت تھا وہ تو ماہین کو آج ہسپتال جانا تھا اس لۓ وہ جلدی نکل گٸ تھے۔ اسکے پیچھے علی بھی روم سے باہر آیا اور شیشے کے دروازے کے برابر میں بنے دوسرے روم کی جانب چل پڑا جوکہ اسکا تھا، اور جس روم میں وہ لوگ بیٹھے تھے وہ شہریار کا آفس تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی ہے علی عابد کی جو نوجوانوں کے لۓ اسپاٸیریشنکی حیثیت رکھتا ہے ہر شخص اسکا جیسا بننے کی خواہش رکھتا ہے لیکن وہ خود کتنا تنہا اور اکیلا ہے یہ کوٸ نہیں جانتا، وہ اپنی زندگگی سے اتنا ہی بےزار ہے یہ بات کوٸ نہیں جانتا۔۔!!`
یہ کہانی ہے شہریار مصطفٰی کی جو اس وقت کا سب سے کامیاب آرکیٹیکچر ہے ۔ وہ متعدد ہسپتالوں اور ہوٹلوں کے نقشے بنا چکا ہے۔ اسکے بناۓ ڈیزاٸین مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بکتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی زندگی کے مساٸل حل کرنے میں ناکام ہے۔۔!!!
یہ کہانی ہے ماہین سبزواری کی، جو ملک کی کم عمر ترین بزنس وومن مانی جاتی ہیں۔ جس نے اپنے باپ کی موت کے بعد بزنس کو اسطرح ٹیک اوور کیا تھا کہ لوگ حیران رہ جاتے۔ لیکن کوٸ نہیں جانتا کہ وہ اپنےآپ میں تنہا ہے، وہ اپنے آپ کو کی بےکار انسان سمجھتی ہے جسکی زندگی سے کسی کو بھی فاٸدہ نہیں پہنچنے والا۔۔۔۔!!!
یہ کہانی ہے شہرذاد ارتضٰی کی، جو اپنے گھر کی لاڈلی ہے، جسکے زبان سے نکلی ہوٸ ہر بات بنا چوں چراں کہ مانی جاتی ہے، اگر وہ کسی چیز کو پسند کی نگاہ سے بھی دیکھ لے تو وہ اسکے سامنے لا کے حاضر کردی جاتی ہے۔ لیکن یہ شہزادیوں جیسی زندگی گزارنے والی لڑکی خود ہی اپنی جان کی دشمن ہے۔ متعدد بار خودکشی کی کوشش کرچکی ہے۔ جسے بغیر سلیپنگ پلز کے نیند ہی نہیں آتی اور وہ ایسی کیوں ہے؟ یہ راز آج تک کوٸ نہ جان پایا ہے، حتٰی کے اسکا سگا باپ بھی نہیں۔۔۔۔۔!!!!
یہ کہانی ہے فاطمہ خان کی جس نے ٹراٸ سرکل کمپنی میں قدم رکھتے ہی ہر طرف اپنی ذہانت کا ڈنکا بجا دیا ہے۔ مینیجر سے لے کر کمپنی مالکان اور ایمپلاٸز تک ہر کسی کی زبان پر بس ایک ہی نام ہوتا ہے ”مس فاطمہ“۔ ذہانت اور خوبصورتی قدرت کی طرف سےاسے تحفے میں ملی ہے۔ لیکن وہ بیٹھے بیٹھے اکثر کہیں کھو جاتی ہے، وہ مسکراتی ہے تو اسکی آنکھیں اسکا ساتھ نہیں دیتی، اسکی آنکھوں میں دنیا جہاں کا دکھ، اداسی، ملال اور اذیت دکھاٸ دیتا ہے۔ اسے ڈاکٹروں نے ڈپریشن کی مریضہ کہہ رکھا ہے۔ کیوں؟ ایسا کیا غم ہے اسکی زندگی میں؟ یہ راز کوٸ جان نہیں سکا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
اور یہ کہانی ہے حنان شاہ کی، جو بولتا ہے تو دوست تو دوست، دشمن بھی دم سادھے سنتے ہیں، جسکی پرسنیلٹی سے لوگ مرعوب ہوۓ بغیر نہیں رہ سکتے۔ وہ چلتا ہے تو دنیا اسکی قدموں میں بچھنے کو تیار رہتی ہے۔ اسے پچھلے چودہ ماہ سے کسی نے نہیں دیکھا، کیونکہ وہ ہسپتال میں ہے۔ اگر اسے زندہ کہا جاۓ تو یہ زندوں کے ساتھ زیادتی ہوگی اور اگر اسے مردہ کہا جاۓ تو یہ اسکے خود کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اسکا شمار زندوں میں کیا جاسکتاہے نہ ہی مردوں میں۔ وہ اس حال تک کیسے اور کیوں پہنچا، یہ راز بھی کوٸ نہیں جان پایا
یہ کہانی ان چھ لوگوں کی ہے۔ جن کی قسمت پر دنیا رشک کرتی ہے، دیکھنے والے دعا کرتے ہیں کہ انکی زندگیاں بھی ان چھ افراد جیسی ہو جاۓ۔ لیکن ان چھ افراد کے لبوں پر صرف ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ انکے جیسی زندگی اللّٰہ کسی کو نہ دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
”علی! کوٸ کام کر رہے ہو کیا؟“ وہ اس وقت کمپنی کی فانینشیل اسٹیٹمینٹ کا مطالعہ کر رہا تھا جب شہریار اسکے روم میں داخل ہوا
”کچھ خاص کام نہیں کررہا۔ تم کیوں پوچھ رہے ہو“ اس نے شہریار سے کہا جو کہ اسکی ٹیبل کے سامنے رکھی چیٸر گھسیٹ کر بیٹھ رہا تھا۔
”یار! مجھے یہ بتاٶ کہ تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے“
”کیا مطلب؟“ علی نے فاٸل بند کرتے ہوۓ ناسمجھی سے اسے دیکھا
”اگر تم نے آج آفس میں زیادہ دیر بیٹھنا ہے تو یہ بات تم عابد انکل کو ایک میسج کر کے نہیں بتا سکتے؟ وہ بے چارے پریشان ہو رہ ہیں اور مجھے کال کرہے ہیں“
”اوہ۔۔۔ تم فکر مت کرو میں انہیں گھر جاکے کہہ دوں گا کہ آٸندہ سے تمہیں کال کرکے تنگ مت کریں“ اس نے بےزاری سے کہا
”مجھے انکے کال کرنے سے کوٸ پرابلم نہیں ہے، میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کے انہیں اپنے دیر سے گھر آنےکی اطلاع تو دے دیا کرو۔ نہیں تو کم از کم انکے میسیج کا ہی رپلاٸ دے دو“
”میں انکو جواب دہ نہیں ہوں“
”وہ باپ ہیں تمہارے“ شہریار نے کہا، اسکا انداز ڈانٹنے والا تھا۔ علی نے کوٸ جواب نہ دیا
”اچھا یہ بتاٶ میں کیا جواب دوں انہیں؟“ شہریار نے پوچھا
”ان سے کہو کہ مر گیا علی“ اس نے غصے سے کہا تو شہریار نے دہل کر اسے دیکھا
”حد ہوگٸ علی۔۔۔ دماغ تو نہیں خراب ہوگیا تمہارا؟ ۔۔۔۔۔۔“ اس نے علی کو گھورا
”میں خود ہی جواب دے دیتا ہوں۔ تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے“ شہریار نے کہا اور اٹھ کر باہر چلا گیا
علی نے پھر سے فاٸل کھول لی مگر اب اسکا دماغ کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد اسے گھر چلے جانا تھا۔ گھر کا خیال آتے ہی اس پر ڈھیروں بےزاریت طاری ہوگٸ۔ ایسی ہی تو تھی اسکی زندگی جس انسان سے وہ نفرت کرتا تھا اسے اپنے گھر میں رکھنا اسکی مجبوری تھی۔ اور وہ انسان اسکا سگا باپ تھا۔
ہاں علی عابد اپنے سگے باپ عابد محمد سے نفرت کرتا تھا شدید نفرت۔۔۔۔۔۔!!!!!
___________*_____________*_____________*
آفس میں بنے مختلف کیبینز میں سے ایک میں فاطمہ بیٹھی تھی۔ وہ ہاتھ میں ایک شیٹ لۓ اس پر پینسل سے کچھ بنا رہی تھی۔ کافی دیر سے گردن جھکاۓ رہنے سے شاید وہ تھک گٸ تھی اس لۓ اس نے چہرہ اٹھایا اور داٸیں باٸیں گردن ہلاٸ۔
”باقی کام کل کرلونگی ویسے بھی ابھی تو دو دن مزید پڑے ہیں۔“ اس نے سوچا۔ اور اپنا سامان سمیٹنے لگی۔
ابھی وہ فاٸلیں اور شیٹ اٹھا ہی رہی تھی کہ اسے لگا کہ آس پاس کی آوازیں آنا بند ہوگٸ ہیں۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تو ساکت رہ گٸ۔ سامنے کا منظر بدل چکا تھا۔ وہ جس کیبین میں بیٹھی تھی وہ کیبین بھی کہیں غاٸب ہو چکا تھا۔
وہ آفس ایک مشہور شاہراہ میں تبدیل ہوچکا تھا اور اسکا گلابی رنگ کا لباس بھی کہیں کھو گیا تھا اور اسکی جگہ اسکے جسم پر ایک پھٹے پرانا لباس آچکا تھا۔ سر پر ایک دھول مٹی سے آٹی چادر ڈالے وہ فوٹھ پاتھ پر کھڑی سامنے بنے مزار کو دیکھ رہی تھی۔
مزار کا دروازہ کھلا ہوا تھا، شام کا وقت تھا، بہت سے لوگ مزار میں آجارہے تھے۔ وہ بھی سڑک پار کرکے مزار کی جانب آٸ، اور پرسوچ نظروں سے مزار کی سیڑھیاں دیکھنے لگی، جیسے فیصلہ نہ کر پارہی ہو کہ اسے اندر جانا چاہے یا نہیں۔ کافی دیر تک وہ اسی کشمکش میں رہی پھر چھوٹے چھوٹے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتی مزار کے اندر آٸ۔
اندر بہت سے لوگ قرآن پاک پڑھ رہیں تھے، ایک جانب دیوار سے ٹیک لگاۓ ملنگ بیٹھا ”حق، حق“ کا نعرہ لگا رہا تھا۔
وہ مزار کے صحن میں آگٸ، وہاں پر لنگر کھل رہا تھا، بہت سے لوگ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہیں تھے۔ وہ دو دن سے بھوکی تھی، اپنی چادر سے چہرہ چھپاتی عورتوں کی لاٸن کی طرف بڑھنے لگی، جیسے اسے ڈر ہو کے کوٸ اسے دیکھ نہ لے۔ قدم من من بھاری ہو رہیں تھے۔ وہ قطار میں لگ گٸ۔ اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔ چہرہ چادر سے چھپایا ہوا تھا اس لۓ کوٸ دیکھ نہ سکا کہ وہ رو رہی ہے۔ ہاں۔۔۔ وہ رو رہی تھی، بھیک میں ملا کھانا پہلی بار جو کھا رہی تھی۔
اسکی باری بھی آگٸ اور وہ ایک تھیلی لے کر لنگر دینے والے کے سامنے جا کھڑی ہوٸ، اس نے تھیلی آگے کی تو لنگر دینے والے نے دیگ سے ایک بڑا چمچ بھر کے اسکی تھیلی میں ڈالا اور اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے ایک ساٸیڈ پر جاکے بیٹھ گٸ جہاں اور بھی بہت سی عورتیں کھانا کھا رہی تھیں۔ اپنے گردآلود اور پھٹے پرانے کپڑوں سے وہ انہیں جیسے لگتی تھی۔ اس نے کھانا کھانے کے لۓ چہرے پر سے چادر ہٹاٸ تو عورتیں حیران رہ گٸ۔ شریف اور پڑھے لکھے مہذب لوگوں کی یہی تو خامی ہوتی ہے کہ وہ چاہے جتنے بھی گندے کپڑے پہن لیں لوگ پہچان جاتے ہیں کہ وہ اچھے گھر کے ہیں۔
فاطمہ کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا، لوگ اسے حیرت سے اسی لۓ دیکھ رہیں تھے کہ وہ شکل اور اپنے انداز سے اچھے گھر کی ہی لگتی تھی۔ اس نے جیسے ہی پہلا نوالہ منہ میں ڈالا آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کے بہہ نکلا۔ کھانا کھایا نہیں جارہا تھا۔ لیکن اس نے پھر بھی کھایا وہ روتی جاتی تھی اور کھاتی جاتی تھی۔
”مس فاطمہ۔۔۔۔ مس فاطمہ۔۔۔۔۔“ کسی نے اسکے پاس آکے پکارا تو وہ اپنے حال میں واپس آٸ۔ اس نے آس پاس نظریں دوڑاٸ، وہ آفس میں ہی بیٹھی تھی۔ اچھے خاصے لوگ جا چکے تھے۔ اور جو رہ گۓ تھے وہ اپنا اوور ٹاٸم دے رہیں تھے۔ اسی لۓ رُکے ہوۓ تھے۔ وہ ایسے ہی کبھی کبھار بیٹھے بیٹھے کہیں کھو سی جاتی تھی، اور پھر اسے وقت کا ہوش بھی نہ رہتا تھا۔
”مس فاطمہ میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔ کیا ہوا ہے؟ہے آر یو اوکے؟“ علی نے اس سے پوچھا
”کک۔۔۔ کچھ نہیں سس۔۔۔ سر۔۔۔ آپ کب آۓ؟“ اس نے جلدی سے پوچھا
”میں یہاں سے گزر رہاتھا تو سوچا آپ سے پوچھ لوں کہ کتنا کام کرلیا؟ میں کافی دیر سے یہاں کھڑا ہوں آپ شاید کسی اور دھیان میں تھیں اس لۓ شاید دیکھا نہیں آپ نے مجھے؟“ اس نے کہا
”جی سر۔۔۔ بس وہ تھوڑا سا کام رہ گیا ہے وہ میں کل کرلونگی، ابھی گھر جارہی ہوں“ اس نے جواب دینے کے ساتھ ساتھ پرس کندھے میں ڈال کر نکلنے کی تیاری بھی کرلی۔
”اوکے پھر کل ملاقات ہوتی ہے۔ خدا حافظ“ اس نے کہا اور جلدی سے باہر جا نے کے لۓ قدم بڑھا دیۓ۔ پیچھے کھڑا علی الجھ کر رہ گیا۔
وہ باہر آٸ تو اسکی کچھ کولیگز سڑک کنارے کھڑی وین کا ویٹ کر رہ تھیں۔ وہ بھی وہیں آگٸ۔
”یہ سر علی تم سے کیا بات کر رہے تھے۔؟ میں جب باہر نکل رہیں تھیں تو میں نے انہیں تمہارے کیبن کی طرف جاتے دیکھا تھا۔“ اسکی ایک کولیگ نے اسے دیکھتے ہی پوچھا
”کچھ نہیں بس وہ یہ پوچھنے آۓ تھے کہ میرا کام کتنا مکمل ہوا ہے“
”واٶ۔۔۔ فاطمہ تم کتنی لکی ہو کہ کمپنی کے مالکان خود تمہارے کیبین میں آکر تم سے تمہارے کام کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ایک ہم ہیں- انکے آفس میں جاکر ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ ہم نے کیا کیا کام کر لیا ہے؟ اور اگر زرا بھی دیر ہو جاۓ تو ڈانٹ الگ سننی پڑتی ہے“
”ہاں ہاں۔۔۔ فاطمہ واقعی بہت خوش قسمت ہے، جس کام میں ہاتھ لگاتی ہے اسے چار چاند لگادیتی ہے“ باقی گولیگز بھی اسکی تعریف کرنے لگی
”ہاں فاطمہ!!! تم واقعی میں پارس ہو پارس، جس چیز کو چھو لو اسے سونا بنا دو“ سب اسکی تعریفیں کر رہیں تھیں اور وہ خوش ہونے کے بجاۓ بےزار ہورہی تھی۔ اتنے میں انکی وین آگٸ تو وہ اس کی طرف بڑھ گٸ۔ سارے راستے وہ خاموش ہی رہی۔ وین اسکے گھر کے پاس رکی تو وہ اسی خاموشی سے اتر گٸ
”اسلام وعلیکم امی!!!“ گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنی امی کو سلام کیا۔ اور وہیں بیٹھ کر جوتے اتارنے لگی
”وعلیکم اسلام بیٹا! آج دیر نہیں ہوگٸ تمہیں“ وہ کچن سے کام کرتے ہوۓ بولی تھی لیکن فاطمہ نے جواب نہیں دیا وہ کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔”خوش قسمت۔۔۔ لکی۔۔۔۔۔پارس“ سارے الفاظ اسکے ذہن میں گڈمڈ ہورہے تھے۔
”فاطمہ کیا ہوگیا بیٹی کیا سوچ رہی ہو؟“ اسکی امی نے اس کو سوچوں میں گم دیکھا تو پوچھا
”امی۔۔۔۔!!`“ اس نے سرخ آنکھیں اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا
”فاطمہ تم رو رہی ہو؟ کیا ہوا ہے بچے؟“
”امی۔۔۔۔ میری دوستیں مھے خوش قسمت سمجھتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں میں پارس ہوں جسے ہاتھ لگادوں اسے سونا بنا دوں“
”تو میری گڑیا۔۔۔ کیا غلط کہتی ہیں وہ؟ تم ہو قسمت والی“ انہوں نے اسے گلے لگاتے ہوۓ پچکارا
”امی۔۔۔ یہ آپ کہہ رہی ہیں ، کیا آپ مجھے جانتی نہیں؟ میں نہیں ہوں خوش قسمت ۔۔۔ نہیں ہوں، اللّٰہ کسی کو میری جیسی قسمت نہ دیں۔ میں بہت بدقسمت ہوں۔۔۔“ وہ روۓ چلی جارہی تھی۔ اور اسکی ماں اسے چپ بھی نہ کرا سکتی تھی
———–*———–*————–*
وہ گھر میں داخل ہوا تو ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ چاچو نے اسے بتایا تھا کہ آج انہوں نے اپنے ایک دوست کی طرف جانا ہے یقیناً وہ وہیں ہوں گے۔ اور شہرذاد؟
شہرذاد کا خیال آتے ہی وہ اسکے کمرے کہ جانب بڑھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ شہریار نے اندر جھانک کر دیکھا تو وہ سو رہی تھی۔ وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس پلٹ گیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ فریش ہونے کے بعد وہ کچن میں آیا، فریج کھولا تو ایک ڈبے میں پاسٹا پیک ہوا رکھا تھا۔ اس نے اسے باہر نکالا اور ایک پلیٹ میں اپنے کھانے لاٸق پاسٹا نکال کر گرم کرنے کےلۓ ماٸیکروویو میں رکھ دیا۔ جب بھی شہرذاد بیمار ہوتی تھی اسے اسی قسم کے کھانے کھانے پڑتے تھے ورنہ وہ ٹھیک ہوتی ہے تو مزےمزے کے کھانے بناتی ہے۔ اسے یاد آیا کہ شام میں شہرذاد نے اسے کال کی تھی اور کہا تھا کہ اسکے سر میں درد ہورہا ہے تو اس نے اسے دودھ کے ساتھ پین کلر اور سلیپنگ پلز لینے کو کہا تھا۔
“ضرور دواوں کا اثر ہے تبھی تو اب تک سو رہی ہے“ شہریار نے سوچا اور پاسٹا نکالنے لگا
پلیٹ ہاتھ میں لے کر لے کر وہ ٹیبل پر آگیا اور بیٹھ کر ایک ہاتھ سے کھانا اور ایک ہاتھ سے موباٸل دیکھنے لگا۔ دن بھر کی میلز پڑی ہوٸ تھیں۔ وہ مصروف سا موباٸل دیکھ رہا تھا۔ اچاںک ہی اسکے موباٸل پر کال آنے لگی۔ نام دیکھ کر وہ مسکرایا،مسکرایا ”ڈیڈ کالنگ“
”اسلام و علیکم ڈیڈ! کیسے ہیں آپ؟“ اس نے خوشگوار موڈ کے ساتھ پوچھا
”وعلیکم اسلام۔۔۔ اور شہزادے صاحب گھر آگے؟“ دوسری طرف سے محبت میں ڈوبی آواز آٸ
”جی بلکل آگیا گھر، آپ بتاٸیں والد صاحب کیسے مزاج ہیں؟“ اس نے بھی شوخی سے پوچھا تو وہ ہنس دیۓ
”میں بلکل ٹھیک یہ بتاٶ شہرذاد بیٹی کیسی ہے؟ دوبارہ تو کچھ غلط نہیں کیا نہ اس نے؟“
”نہیں ڈیڈ ابھی تک تو نہیں لیکن ہر وقت اسی کی فکر رہتی ہے کہ کہیں خود کو کوٸ بڑ ا نقصا ن نہ پہنچا دیں“
”تم اسکا خیال رکھا کرو“ انہوں نے اسے نصیحت کی اور چند ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے فون رکھ دیا
ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی جب اسے کسی کے چیخنے کی آواز آٸ، پہلے تو وہ سمجھ نہ سکا لیکن جب دوسری بار اسے چیخ سناٸ دی تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر شہوار کے کمرے کی جانب بھاگا
”شہرذاد۔۔۔ شہرذاد۔!!! کیا ہوا ہے؟“ وہ دونوں ہاتھ کان پر رکھے چلا رہی تھی، جب وہ اسکے کمرے میں پہنچا
”کیا ہوا ہے شہی۔۔۔۔“ اس نے اسکے پاس بیٹھتےہوۓ پوچھا تو اس نے خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھا
”شہری۔۔۔۔۔۔ہم۔۔۔۔ ہمارا بھاٸ۔۔۔ ہمارا بھاٸ، وہ مر رہے ہیں، انہیں بچالیں شہری، انہیں بچالیں۔۔ ورنہ وہ مرجاٸیں گے“ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اور بولتی جارہی تھی۔
”ہوش کرو شہی۔۔ کچھ نہیں ہوا ہے، تم اس وقت اپنے گھر میں ہو“ اس نے اس کے گال تھپتھپاۓ کہ وہ ہوش میں آجاۓ
”شہری آپ ہماری بات کیوں نہیں سمجھ رہیں، ہمارے بھاٸ کو آپ کی ضرورت ہے ورنہ وہ مر جاٸینگے“ وہ روۓ جا رہی تھی
”ہوش میں آٶ شہی۔۔۔۔ پلیز،! سب ٹھیک ہے“ شہریار نے اسے جھنجھوڑ دیا تو وہ جیسے کسی خواب سے جاگی
”کیا ہوا ہے؟ پھر سے وہی خواب دیکھ لیا تم نے؟“ شہریار نے اس سے پوچھا
”پپ۔۔۔ پانی چاہیے ہمیں“ اس نے آنسو پوچھتے ہوۓ کہا تو شہریار نے اٹھ کر اسے پانی لا کے دیا۔ وہ غٹاغٹ سارا پانی پی گٸ ۔
”زخم کیسا ہے تمہارا؟ دوبارہ پٹی نہیں کی کیا؟“ شہریار نے اسکی کلاٸ پے بندھی پٹی دیکھتےہوۓ پوچھا، کل اس نے بلیٹ سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا تھا۔ ”نہیں“ اس نے جواب دیا اب وہ بہتر تھی
”ٹہرو میں کرتا ہوں“وہ کہتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا اور تھوڑی دیر بعد فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا۔ اور اسکے برابر میں بیٹھ گیا
”ہاتھ دو“ اس نے کہا تو شہرذاد نے اپنا ہاتھ اسے دے دیا۔ وہ اسکی پرانی پٹی کھولنے لگا، پھر اس نے اسکے زخم پر دوا لگا کر نٸ پٹی باندھنا شروع کردی۔
”میں تمہارے لۓ کچھ کھانے کو لاتا ہوں“ پٹی باندھنے کے بعد شہریار نے کہا اور فرسٹ ایڈ باکس لے کر کمرے سے چلا گیا۔ جب کے پیچھے بیٹھی شہرذاد سوچ رہی تھی کہ یہ خواب کب اسکا پیچھا چھوڑیں گے۔
———–*————*————-*
”آگۓ بیٹا؟ کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا، تمہارے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا میں نے“ علی جیسے ہی گھر میں داخل ہوا اسکے کانوں میں ایک فکرمند سی پرشفیق آواز پڑی لیکن اسے وہ آواز چبھی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عابد محمد پریشان سا چہرہ لۓٍ اسی کو دیکھ رہے تھے
”آپ نے شہریار کو کیوں کال کی تھی؟“ اس نے سخت لہجے میں پوچھا
”وہ۔۔۔ تم فون نہیں اٹھا رہے تھے تو میں نے سوچا کہ۔۔۔۔۔“ وہ گڑبڑاتے ہوۓ وضاحت دینے لگے تھے کہ علی نے انکی بات کاٹ دی
“میں نے سوچا کہ تمہارے دوست کو کال کر کے تمہارے لۓ فکرمندی کا اظہار کروں اور انہیں یہ بتاٶں کہ مجھے اپنے بیٹے سے کتنی محبت ہے۔ فار یور کاٸنڈ انفارمیشن مسٹر عابد محمد میرے دوستوں کے سامنے یہ دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ میرے اس سو کالڈ باپ کی حقیقت اچھے سے جانتے ہیں“ اس نے بدتمیزی سے کہا لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی۔
”نہیں میرے بیٹے، میرا ایسا کوٸ مقصد نہیں تھا میں تو بس۔۔۔۔“ بیٹے کی آنکھوں میں اتنی نفرت دیکھ کر انہیں رونا آنے لگا تھا
”مت کہیں مجھے بیٹا۔۔۔۔ نہیں ہوں میں آپکا بیٹا۔۔ نہیں ہوں۔۔۔۔“اس نے چیختے ہوۓ کہا اور پاس پڑا شیشے کا گلدان ہاتھ مار کر زمین پر پھینل دیا
”آٸندہ میرے دوستوں کو کال مت کیجیے گا“ اس نے غصے سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
عابد صاحب نم آنکھوں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گۓ، انہوں نے علی کے انتظار میں رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا لیکن اب انکی بھوک مر چکی تھی۔ ساری دنیا سے دھیمی اور میٹھی آواز میں بات کرنے والا ان سے ایسے ہی اونچی آواز میں بات کرتا تھا۔ وہ جس کے لہجے میں گھر کے نوکروں تک کے لۓ بھی محبت ہوتی تھی، اسکے لہجے میں اپنے باپ کیلۓ اتنی نفرت ہوتی تھی کہ اگر کوٸ باہر کا بندہ دیکھ لے تو یقین نہ کرے کہ یہ وہی علی عابد ہے۔
”کم ختم ہوگی میری سزا؟ کب میرا بیٹا مجھے باپ کہہ کہ پکارے گا؟ کب اسکے لہجے میں میرے لۓ بھی محبت ہوگی؟ کب وہ مجھے معاف کریں گا؟ معاف کریگا بھی یا میں اسی انتظار میں اپنی جان دیں دونگا؟ آخر کب؟ آخر کب؟“ عابد محمد اپنے کمرے میں لیٹے سوچے جارہے تھے۔ یہ تو تہہ تھا کہ آج رات نہ وہ سو سکیں گے نہ انکا بیٹا۔۔۔۔!
————*————-*———–*
اس نے شیشے کا دروازہ دھکیلا اور اندر آٸ۔ سامنے بیڈ پر پڑے ہوش وحواس سے بیگانہ وجود پرنظر ڈالی پھر بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی دھکیل کر وہیں بیٹھ گٸ۔
”کیسے ہو حنان؟ سوری آج مجھے آنے میں دیر ہوگٸ کیونکہ آفس میں کام بہت تھا“ اس نے حنان کے کان کے قریب جا ے ایسے کہا جیسے وہ ابھی اٹھ کر اسکی بات کا جواب دے گا
پچھلے چودہ ماہ سے ماہین سبزواری کا یہی معمول تھا وہ روزانہ حنان سے ملنے ہسپتال آتی تھی۔ گرمی، سردی، بارش، ملکی خراب حالات اسکے معمول پر کبھی اثر انداز نہ ہوۓ تھے وہ باقاعدگی سے اس سے ملنے آیا کرتی تھی۔
چودہ ماہ پہلے تک حنان ایسا نہیں تھا وہ بھی علی اور شہریار کی طرح ہی تھا۔ چلتا پھرتا اپنے کام میں مصروف۔۔۔۔۔ لیکن پھر وہ حادثہ ہوا، جس نے حنان کو کومہ لاٸز کردیا۔ اور اب وہ پچھلے چودہ ماہ سے ایسے ہی خاموش پڑا تھا۔ علی، شہریار اور ماہین اسکے ہوش میں آنے کی دعاٸیں مانگتے تھے۔ سب سے زیادہ دعاٸیں تو ماہین نے کی تھی اسکے ہوش میں آنے کی، لیکن وہ نھیں جانتی تھی کہ جب وہ ہوش میں آۓگا تو کتنا بڑا طوفان اپنے ساتھ لاۓ گا۔ کیونکہ ایک لمبی خاموشی خوفناک طوفان کی جانب ہی اشارہ کرتی ہے۔۔۔!!!!

Exit mobile version