ریاست کا مالک

آئمہ آہل کہ پاس گئی اور اسے بلایا۔۔۔کیا ہوا پہر چاھئے آہل نے شرارت سے آنکھ دبائی۔۔۔آپکہ آمی بابا آپکو پورے گاؤن میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اووو شٹ چلو جلدی آہل فورن آئمہ کو لے کہ بیرون دروزے سے اپنے کمرے میں آیا اور آئمہ کو کہا اب یہاں سے اپنے کمرے میں چلی جاؤ۔۔ اور خود چینج کرنے چلا گیا اور فریش ہو کہ آیا اور سیدھا حال میں پہنچا جہاں سب اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔اس کہ بابا کسی گارڈ کو ڈانٹ رہے تھے تب آہل کو دیکھ کہ کال کاٹ کہ اور اس کی طرف بڑھے۔۔۔کہان تھے بیٹے۔ ۔۔۔۔بابا سائین حویلی کی پچھلی سائیڈ گیا تھا تو وہان نیند آگئی۔۔۔ کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہے آپ جائیں بیٹا آرام کریں کل سے آپکی رسمیں شروع ہے کل سے 5 دن تک آپ کہیں مت جائے گا۔۔۔جی بابا سائین کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا سارہ دن کام کر کہ تھک گیا تھا تو لیٹے ہی نیند آگئی۔۔۔

اگلا پورا دن آہل گھر سے باہر نہیں جا سکا آئمہ بھی گھر ۔میں رھی۔۔۔سارہ دن گھر میں ھلچل مچی رہی رات ہوتے آئمہ کو مایوں کا سوٹ اور ذیور پہنائے گئے اور سب نے اسے ابٹن لگایا۔۔وہاں آہل کو بھی ابٹن لگایا جا رھا تھا اور آہل بھر بھر کہ نخرے کر رھا تھا پورا گاؤں وہان جمع تھا اس کہ بابا اسے دیکھہ دیکھہ کہ خوش ہو رہے تھے اسے طرح مایون کا فنکشن اختطام پہ پہنچا۔۔آہل اپنے کمرے میں جاتے ھی کپڑے چینج کر کہ کھیت پہ گیا اور پوری رات وہیں کام کرتا رھا۔۔آئمہ کو اپنے کمرے میں بیٹھا دیا گیا تھا آئمہ نے یہی سوچا تھا اب آہل شادی تک کھیت پہ نہیں جائیے گا لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا وہ پوری رات وہاں کام کرتا اور دن مین سو جاتا۔۔
_______
آج مہندی تھی آئمہ کو آہل کہ نام کی مہندی لگائی گئی۔۔۔وہیں گاؤن کی بڑی عورتیں آہل کو مہندی لگانے کی ضد کرنے لگیں جیسے آہل منع کر رہا تھا اس کی امی بھی ان عورتون کہ ساتھ ملی تھیں وہ بھی مہندی لگانا چاھتی تھی لیکن آہل کسی کہ ھاتھ نہیں آرھا تھا۔۔۔تب اس کہ بابا آئے اور کہا بیٹا تھوڑی لگوا لو ہاتھ پہ ان سب کا دل رہ جائے گا۔۔۔آہل بابا کہ سامنے کچھ بول نہیں پایا اور بیٹھ گیا۔۔۔جیسے آہل کی امی نے اس کا ھاتھ اپنے ھاتھ میں لیا اس کہ ھاتھ پہ زخم دیکھ کہ ان کا چیخ نکل گئی۔۔۔آہل یہ کیا ہوا ھے بیٹے ان کی آواز پہ اس کہ بابا بھی آگئے انہوں نے آگے بڑھہ کہ آہل کا ھاتھ اپنے ھاتھ میں لیا اور کہا۔۔۔بیٹا کیا ہوا ہے یہ۔۔۔۔آہل نے اپنا ھاتھ واپس لیا اور کہا۔۔۔کچھ نہیں بابا بس تھوڑی چوٹ لگ گئی تھی۔۔۔کیسے لگی اتنی ذیادہ چوٹ اس کی امی کے دل کو کچھ ہو رہا تھا۔۔۔پر آہل کہ بابا چپ۔کھڑے ہو گئے۔۔۔وہ سمجھ گئے تھے ان کا بیٹا جھوٹ بول رھا تھا پر کیوں۔۔۔۔ارے امی کچھ نہیں ھے۔۔۔۔آہل کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

کل آہل اور آئمہ کی شادی تھی اور آہل کو آج زمیں کا کام فائنل کرنا تھا پر وہ سب کہ سونے کا انتظار کر رھا تھا۔جسے سب سو گئے آہل حسب معمول کھیت پہ گیا اور کام پہ لگ گیا۔۔۔آہل اس بات سے انجان تھا کہ دو آنکھیں اسے مسلسل اپنے حصار میں رکھے ہوئے ہیں۔۔۔آہل کو کام کرتے کرتے بہت سی چوٹین لگیں جنہیں وہ نظر انداز کر کہ کام کرتا رہا۔۔۔آہل کہ ہاتھ سے خون نکل رھا تھا اور وہ کام میں لگا ھوا تھا آہل جیسے خون کو جھٹکنے لگا کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔اس نے چونک کہ دیکھا تو گھبرا گیا۔۔۔۔اس کے بابا آنکھون میں نمی لیے اس کا ھاتھ تھامے کھڑے تھے۔۔کیوں بیٹھا اتنا سستا ھے یہ خون جو اسے ایسے بہا رہے ہو۔۔۔۔بابا سائیں وہ میں۔۔۔آہل اپنے بابا کہ سامنے جھوٹ نہیں بول پاتا تھا۔۔۔بابا سائیں میں نے غلطی کی ہے میں چاھتا ہوں میں کچھ ایسا کروں کہ آئمہ کو میں اچھا لگنے لگوں بابا یہ کچھ نہیں ھے جو ظلم مین نے اس پہ کیے آپ سن بھی نہیں پائیں گے۔۔۔پلیز بابا میں اس کہ لیے کچھ کرنا چاھتا ہوں پلیز مجھے کرنے دیں میں اسے جیتنا چاھتا ہوں ۔۔۔۔بیٹا تمہیں تکلیف میں دیکھ کہ میں کیسے جیئوں گا۔۔۔۔آج میرے دل کو جو چوٹ پہنچی ہے تمہیں اس طرح دیکھ کہ تم نہیں سمجھ سکتے اپنی اولاد ہوگی تب سمجھ پاؤ گے۔۔۔تمہارا ھاتھ اُس وقت دیکھ کہ میں سمجھ گیا تھا تم نے کھیت میں کام کیا ھے پر چپ۔اس لیے رھا وجھہ جاننا چاھتا تھا۔۔۔بیٹا تمہیں میں روکوگا نہیں پر اپنا بھی خیال رکھو یہان کچھ لگاؤ۔۔۔اور کسی کو ساتھ لے کہ کام کرو۔۔۔نہیں بابا اکیلے کرنا ہے۔۔۔آہل نے فورن کہا۔۔۔۔بہت ضدی ہو بیٹا سائیں اچھا میں مرہم مگواتا ہو آؤ میرے ساتھ رات میں کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ورنہ میں دن مین بھی کام کی اجازت نہیں دونگا۔۔۔۔نہیں بابا چلتا ہون میں دن میں کرونگا کام۔۔۔آہل باباکہ ساتھ اپنے کمرے میں آیا آہل کہ بابا نے مرہم منگایا اور اسے لگانے لگے۔۔بابا مین لگا لونگا۔۔۔بچا نہیں ہوں۔۔۔۔ہمارے لیے تو بچے رہوگے بیٹا سائیں چاھے جتنے بڑے ہو جاؤ۔۔۔آہل کہ بابا بہت پیار سے اسے کریم لگا رہے تھے تا کہ ان کہ بیٹے کو تکلیف نہ ہو۔۔۔آہل انہیں بہت غور سے دیکھ رھا تھا۔۔۔بابا سائیں آئمہ سے مل لوں۔۔۔آہل نے شرارت سے کہا اس کہ بابا کے چہرے پہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔نہیں بیٹا کل شادی کہ بعد ملنا جتنا ملنا ہے۔۔۔۔ابھی نہیں آہل نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔نہیں آہل کہ بابا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔اور اسے لیٹنے کا کہا۔۔کیا بابا میں بچا ہون کیا۔۔۔لیٹ جاؤ بیٹا اس بات پہ کل غور کرین گے۔۔۔آہل لیٹا تو اس کہ بابا سے کمبل اوڑھا کہ لائٹ بند کر کہ یہ کہہ کہ چلے گئے اب آپکو میں باھر نہ دیکھوں۔۔آہل جی بابا کہتا سو گیا۔۔۔۔

صبح سے سب شادی کی تیاریوں میں لگے تھے آہل کہ بابا نے آج اسے باہر جانے دے منع کردیا تھا اور وہ گھر ھی تھا۔۔ شام میں اسے دولھا بنایا گیا۔۔۔اور اس کہ بعد اس کہ ہاتھ سے سب کو سکے دلوائے گئے پورا گاؤں آج آہل پہ رشک کر رھا تھا۔۔۔خوبرو نوجوان اوپر سے پوری ریاست کا مالک سب عورتیں اس کی بلائیں لے رھی تھیں آہل کہ بابا اور امی بھی اس کہ ساتھ تھے اور وہ سب بہت خوش تھے یہ سب دیکھ کہ شادی قریبی حال میں رکھی تھی آئمہ کو لڑکی نے گھر آکے تیار کردیا تھا اور اسے اسے حال پہنچا دیا گیا تھا اس کہ دادا دادی کہ ساتھ اور گاؤن کی عورتوں کہ ساتھ سب نے وہاں بارات کا استقبال کرنا تھا آئمہ اس وقت گھونگھٹ میں تھی ان کا رواج تھا گھونگھٹ دولھا آکہ اُٹھاتا تھا۔۔۔

بارات آئی تو سب نے بہت اچھا استقبال کیا۔۔۔آہل اور آئمہ کو ساتھ بیٹھایا گیا اب آہل نے گھونگھٹ اُٹھانا تھا تو کچھ عورتوں نے نیک مانگا آہل نے انہیں اپنا وولیٹ دے دیا اور خود گھونگھٹ اُٹھانے لگا۔۔۔جیسے گھونگھٹ اُٹھا سب کی نظرین تھم گیئں کتنا نور تھا آئمہ کہ چھرے پر جو اس کہ حسن پر چار چاند لگا رھا تھا۔کچھ عورتیں آپس میں کہنے لگے کتنے حسیں دلھن ہے اور کچھ کہنے لگیں ہمارا دولھا بھی کسی سے کم نہیں آہل کی امی اور بابا ان دونون پہ وارے جا رھے تھے آہل کی نظریں آئمہ پر تھم گئیں تھیں۔۔۔آہل نے آئمہ کا ھاتھ تھام لیا آئمہ نے فورن ھاتھ واپس کہینچ لیا۔۔۔آہل نے دوبارہ پکڑ لیا۔۔۔۔اور کہا بہت پیاری لگ رہی ھو آج اپنی شرط آج کہ لیے معاف کر سکتی ھو۔۔۔آئمہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔آھھ ظالم ہو بہت آہل نے ایکٹنگ کی۔۔۔جب تک گاؤں کی عورتیں نے ناچ گانا شروع کردیا۔۔اور اسی طرح سب رسمیں ہوتین رہیں۔۔۔۔

جب سب رسموں سے فارغ ہو گئے تو آئمہ کو آہل کہ کمرے میں لے جایا گیا..
آئمہ اس سب میں بس ایک بات سے پریشان تھی وہ آہل کا ساتھ نہیں چاھتی تھی اور اس نے اسی لیے ایسی شرط رکھی تھی وہ جانتی تھی اگر آہل شرط ھار جائگا تو اپنا وعدہ ہر حال میں پورا کریگا۔۔۔اب وہ سوچ رھی تھی شکر تب تک آہل دور رہیں گے۔۔اور وہ اپنی سوچون میں مگن تھی جب دروازہ کھلا آہل نے اندر آکے دروازہ لاک کردیا۔۔۔آئمہ فورن بیڈ سے اُٹھ کہ کھڑی ہوگئی۔۔۔کیا ہوا آہل نے پوچھا۔۔۔آپنے تو کہا تھا آپ شرط سے پہلے کچھ نہیں کریں گے پہر دروازہ کیوں بند کیا ہے۔۔۔آہل کی ہسی نکل گئی آئمہ کی معصومیت پر۔۔۔تو تمہیں لگتا ہے دروازہ بند کرنے کا ایک یہی مقصد ہوتا ہے۔۔۔اب تمہیں اگر یہی لگتا ہے پہر تو کچھ کرنا پڑیگا آہل شرارت سے کہتا آئمہ کی طرف گیا۔۔۔ آئمہ دور ہوتے کہنے لگی اپ اپنا وعدہ توڑ دوگے کیا۔۔۔ہاہاہا۔۔۔کتنی معصوم ہو تم آئمہ سچ میں کتنا غلط کیا میں نے تمہارے ساتھ ساری عمر بھی معافی مانگوں تو بھی کم ہے آہل کہتا آئمہ کی طرف بڑھ رھا تھا آئمہ دور ھوتی ھوتی بیڈ پہ گرنے لگی آہل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کی کمر کہ گرد حصار ڈالا۔۔۔آئمہ نے اپنے دونوں ہاتھ آہل کہ کشادہ سینے پہ رکھہ کہ اسے پیچھے کرنے لگی۔۔۔آہل اس کی حالت کا مزا لے رہا تھا۔۔۔آہل یہ چیٹنگ ھے چھوڑیں ۔مجھے۔۔۔کیسی چیٹنگ۔۔کیا میں نے کچھ کیا تمہیں اوپر سے چیٹنگ تو تم نے کی ہے اتنے دن۔۔۔آہل آئمہ کہ کان کہ آویزیے سے انگلی سے کھیلنے لگا۔۔۔۔ک۔۔کیا چیٹنگ۔۔۔۔آئمہ گھبرا گئی۔۔۔۔ہماری بات ہوئی تھی نا اس کی آہل نے آئمہ کہ لبوں پہ اپنی شھادت والی انگلے پھیرتے کہا۔۔۔ت۔۔تو وہ شادی۔۔ تھی۔۔۔مان لیا تمہارا بھانا اس بار صحیح ہے پر آج کہ بعد اگر تم نے چیٹگ کی تو پہر۔۔۔آہل کہتا آئمہ پہ جھکا۔۔۔۔ت۔۔تو آئمہ دور ہوتے پوچھنے لگی۔۔۔تو میرا کوئی بھروسا نہیں آہل یہ کہتے آئمہ کا چھرا ہاتھ میں لیا آئمہ کو سمجھ آگیا تھا اب وہ کیا کریگا اس لیے اس نے آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔آہل ہسا۔۔اور اپنی شرط پوری کرنے لگا ۔کچھ لمحے بعد اسے علیدہ کرتا وہ اپنے کپڑے چینج کرنے چلا گیا آئمہ بھی اپنی جیولری اتارنے لگی ڈریسنگ کہ آگے۔۔۔۔آہل باھر آیا اور بیرون دروازے سے جانے لگا۔۔۔آپ کہان جا رہے ہین آئمہ نے اسے جاتے دیکھا تو پوچھا۔۔۔کیوں تم چاھتی ہو میں نا جاؤں۔۔۔ن۔۔نہیں ایسا کچھ نہیں آپ۔اس وقت باھر جائیں گے تو سب کیا کہیں گے۔۔۔۔آئمہ نے اپنی گھبراھٹ چھپاتے ہوئے کہا…اووو ریئلی۔۔۔آہل اس کی طرف ہوا ن۔۔۔نہیں آپ جائیں۔۔۔آہل ہستا چلا گیا۔۔۔۔اور سیدھا کھیت کی طرف گیا۔۔۔۔وہاں جا کہ آہل کو یاد آیا کہ اس نے بابا سے وعدہ کیا ہے وہ رات میں کام نہین کریگا یہ سوچتا وہ واپس اندر آیا تو دیکھا آئمہ سو چکی تھی۔۔۔وہ اس کہ قریب آیا اس پہ کمبل ڈالا اور خود اپنا کمبل لے کہ صوفے پہ سو گیا۔۔۔

آہل صبح فجر کہ وقت کا الارم لگا کہ سویا۔۔۔آئمہ نماز پڑھنے کہ لیے اُٹھی تو اس نے دیکھا آہل کہ موبائل کا الارم بج رہا ہے اور وہ اُٹھا واشروم گیا وضوع کیا اور نماز ادا کی اور آئمہ کی طرف آیا اس کی پیشانی پہ پیار کرتا وہ کھیت کی طرف چلا گیا آئمہ بہت حیران ہوئی کہ آہل سچ میں اس کہ بات مان رھا تھا ہر نماز باقائدگی سے ادا کر رھا تھا اور وہ اس کہ ساتھ اتنے پیار سے پیش آرھا تھا۔۔۔۔

آہل آج بھی سارہ دن کام کرتا رھا رات میں جب وہ کمرے میں آیا آئمہ سو چکی تھی آہک اس کہ پاس آیا اور اسے اٹھایا۔۔۔۔آئمہ نا سمجھی کی کیفیت سے اسے دیکھنے لگی۔۔تب آہل نے اسے ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا اور شرط کہ مطابق اس کہ لب قید کیے اس کہ بعد اس کی سہرائی دار گردن پہ اپنے لب رکھ دیے آئمہ نے فورن اسے دھکا دیا آپ نے چیٹگ کی ہے۔۔۔میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا خود آنا اپنی شرط پوری کرنے ورنہ میری ڈمانڈ بڑھ جائیگی۔۔۔۔اب اگر کل تم خود نہ آئیں تو میں اور بھی آگے جا سکتا ہوں آئمہ ڈر گئی۔۔۔

دوسرے دن جیسے آیک کمرے میں گیا آئمہ اس کہ پاس آگئی۔۔۔۔آہل کو ہسی آرہی تھی پر وہ سیریس ہو کہ پوچھنے لگا کیا ہوا کیا چاھئے۔۔۔آئمہ کو تپ چڑھ گیا اور وہ وہاں سے جانے لگی تب آہل نے اسے پکڑ لیا ناراض نہ ہوا کرو میری جان ۔۔۔اور اپنی شرط پوری کی۔۔۔

Exit mobile version