سانجھ ہوئی بانجھ

بانجھ محبتوں سے بہت ڈرتی ہوں میں ۔۔۔ ہانیہ نے زاریہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بے دلی سے کہا تو وہ حیران آنکھوں سے بولی بانجھ محبتیں بھی ہوتی ہیں کیا ؟؟ میں نے تو صرف بانجھ عورتوں کے متعلق سنا ہے ۔۔ ہانیہ اسکی طرف دیکھ کر زہر خند لہجے میں بولی عورت ہی بانجھ نہیں ہوتی مرد بھی بانجھ ہوتے ہیں ہاں اچھالا صرف عورت کی فطری صلاحیت کی کمی کو جاتا ہے جبکہ مرد کی اس بات کو بھی عورت کے کھاتے میں ڈالدیا جاتا ہے اور وہ یہ حوصلے سے چھپا کر سہہ جاتی ہے کیونکہ اسکا مقدر بانجھ ہوتا ہے ۔۔۔جھوٹی محبتیں ایسی مفادات بھری محبتیں جو دل کی کوکھ کو بانجھ کر دیتی ہیں اور پھر ان میں کسی جذبے کا گل کھل نہیں سکتا ۔۔ جو روح تک کو اجاڑ دیتی ہیں میں ایسی چاہتوں کو بانجھ سمجھتی ہوں ۔۔۔ایسے دل بھی بانجھ ہوتے ہیں جن میں کسی کی والہانہ محبت بھی جذبات کو نہیں جگا سکتی اور وہ محبت کا جواب محبت سے نہیں دے سکتے ایسے دل بانجھ ہوتے ہیں ۔۔۔۔زاریہ اسکی بات کی تائید سر ہلا کر کرتے ہوۓ آئستگی سے کہنے لگی جیسے آپکی محبت کی قدر معاذ نہیں کر سکا ۔۔ زاریہ نے پلٹ کر اسکی طرف گہری نظروں سے دیکھا اور کہنے لگی ہاں اگر وہ بانجھ نہ ہوتا اور اسکے بانجھ پن کو اپنے سر پر جھیل لیا کافی تھا ناں ۔۔ مگر اس نے دنیا کو باور کرانے کے لئیے مجھے طلاق دے دی ۔۔ کیونکہ دنیا کی نظر میں تین سال سے میں اسے اولاد نہیں دے سکی ۔۔ اور اب ۔۔ اور اب ۔۔ میں آزاد ہوں ۔۔۔ آپ نے اپنی زندگی کے بہترین تین سال ضائع کر دئیے ایک بانجھ شخص کے ساتھ جو اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا ۔۔ کیوں آپ نے ایسا کیوں کیا ۔زاریہ آزردگی سے اسکی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھ کر بولی ۔ ہانیہ نے ایک گہری ٹھنڈی سانس بھری اور پھر آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوۓ بہن کی طرف دیکھ کر سر جھکا کر بولی "محبت تھی مجھے اس سے اور اگر یہ خامی مجھ میں ہوتی تو کیا وہ مجھے چھوڑ دیتا اسلئیے میں نے اسے نہیں چھوڑا محبت آپ سے ایسے فیصلے کرواتی ہے جو ہوش عقل فہم و فراست سے پرے ہوتے ہیں ۔ اور عورت محبت کر لے تو عقل سے نہیں دل سے کام لیتی ہے ۔۔ اور اب زاریہ نے سوالیہ نظروں سے بڑی بہن کی طرف دیکھا تو ہانیہ سر جھکا کر بولی اب کچھ نہیں ۔۔ سب رب پر چھوڑ دیا ہے وہ جو کرے گا بہتر کرے گا ۔۔ زاریہ نے بے اختیار اٹھکر اسکو گلے سے لگا لیا تو وہ بے اختیار سسک اُٹھی ۔۔ زاریہ بھی بہن کے اس جان لیوا دکھ کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتے ہوۓ آبدیدہ ہو گئی اور پھر دھیرے سے کہنے لگی کب تک اس دکھ کو دل سے لگاۓ رکھو گی آپی ۔۔ایک سال ہونے کو آیا ہے معاذ کو آپ سے علیحدگی کے بعد لندن گئے ہوۓ اب ایک سال ہو گیا ہے اب تو انہیں بھلا دیں زندگی ایک شخص پر کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ۔۔زندگی بہت خوبصورت ہے پلیز آپی اب تو امی جی کا معید بھائی کے لئیے ہاں کہہ دیجیئے انہوں نے آج تک شادی نہیں کی وہ آج بھی آپ سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔ ہانیہ دھیرے سے بولی شاید؟؟ شاید نہیں یقینا مجھے علم ہے ۔۔ ہانیہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوۓ بولی تمہیں کیسے پتا اور تمہاری کب بات ہوئی معید سے ۔۔۔ زاریہ گڑبڑاتے ہوۓ بولی بس ایکدن خالہ کی طرف گئی تھی تو ان سے بات ہوئی تھی ۔۔ اور تم نے مجھ سے ذکر بھی نہیں کیا ۔۔ زاریہ مسکرا کر بولی آپکو کیا بتاتی آپ تو معاذ کے علاوہ کسی کی بات ہی نہیں کرنے دیتی ۔۔۔مجھے دل سے یقین ہے امی کا فیصلہ آپکے حق میں بہت بہتر ہو گا ہاور پتا ہے آپی بڑے بزرگ کہتے ہیں شادی اسی سے کرو جو آپ سے محبت کرتا ہو ۔۔ہانیہ نے سرخ روئی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا اور پھر اقرار میں سر ہلا دیا ۔۔ زاریہ نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا اور پھر بولی میں امی جی کو بتا کر آتی ہوں یہ کہکر وہ ہانیہ کا ماتھا چومتے ہوۓ دوڑتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔ ہانیہ خاموشی سے کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو کر باہر دیکھنےُلگی جہاں سر سبز لان میں شامُ کے گہرے ساۓ دیواروں پر اتر رہے تھے مگر اسکے کمرے کی دیواروں میں بھیگی اداسی سرایت کر گئی تھی۔۔۔۔اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور ٹھنڈا سانس بھر کر کھڑکی کے پردے برابر کرنے لگی ۔۔۔۔ عجیب بات یہ ہے معید رضا کہ محبت کے اسٹیج پر مجھے اپنا کردار بہت ثانوی سا لگتا تھا میرے ہاتھ میں چند خاموش تاثرات کی ادائیگی کے اسکرپٹ کے سوا کچھ نہ تھا میں بے ضرر خاموش سااور پھر جب اس کے مرکزی کردار کی مجھے سمجھ لگی اور اسکا کردار دلچسپ لگا تو اس کی بے اعتنائی نے جمجھے بے وقعت اور بے لفظ کر دیا تو میں اسکی زندگی کی داستان سے یہ سوچ کر نکل گیا تھا کہ اس کہانی میں میرا کردار ختم ہو چکا ہے مگر تقدیر جو اس کہانی کو لکھ رہی تھی اس نے یکدم کہانی میںٗ میرے کردار کو ڈرامائی موڑ دے دیا اور میرا کردار ثانوی سے مرکزی بن گیا ۔۔ہے ناں عجیب بات یکطرفہ محبت بڑی بے مہر اور ظالم ہوتی ہے کب رعایت برتتی ہے ۔۔ کم بخت ایسے راستے پر لا کھڑا کرتی ہے جسکی کوئی منزل ہی نہیں ہوتی ۔۔۔۔معید رضا خود سے گفتگو کرنے کے عمل سے باہر آیا اس نے گہرا ٹھنڈا سانس بھر اور کرسی کی پُشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔موبائیل فون کی گھنٹی کی آواز سنُکر وہُ جھٹکے سے اٹھا اور فون اٹھایا دوسری طرف اجنبی آواز سنکر چونک اٹھا اس نے کہا فرمائیے ۔۔ اور پھر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں وہ بے اختیار اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا بے اختیار اسکے منہ سے نکلا ضرور میں کل ٹائم سے پہنچ جاؤنگا فون بند کر کے اس نے تھکے انداز سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی مگر اسکی حیران آنکھیں گہری سوچ میں ڈوب چکی تھیں ۔۔ زاریہ نے ہانیہ کےُکمرے سے اسکی شادی کی تصویروں کی البمز اٹھا کر لا کر دالان میں پٹخ دیں اور مالی سے کہنے لگی انہیں اٹھاؤ اور باہر لان کی پرلی سائیڈ پر جا کر انکو جلا دو ۔۔ زاریہ اچانک کچن سے نکلی تو اس نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر کمرے میں چلی گئی مگر زاریہ نے ہانیہ کی نم آنکھیں دیکھ لی تھیں مالی بابا کو البمززاٹھا کر جلانے کا عندیہ دے کر وہ ہانیہ کے پیچھے کمرے میں چلی گئی وہ جانتی تھی ہانیہ ابھی اس دکھ کو محسوس کر رہی ہو گی مگر وہ اسے اکیلا چھوڑنا چاہتی تھی تاکہ وہ آخری بار دکھ کے اس پل صراط سے گزر جاۓ اور پھر آنے والے وقت میں یہ قصہ قصہء پارینہ بن جا ئیگا۔۔ فون کی گھنٹی سے اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف زاریہ کی چہکتی آواز سنکر اسکے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی اس نے سلام کا جواب دیتے ہوۓ کہا کیسی ہے میری گڑیا بہنا تو وہ چہکتی ہوئی بولی بالکل ٹھیک ۔۔ پھر ایکدم سیریس ہوتے ہوۓ کہنے لگی آپ ہانیہ آپی سے بات کر لیں میں اُنہیں فون دے رہی ہوں ۔۔ پھر دوسری طرف خاموشی چھا گئی معید کو لگا اسکا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ہو ۔۔ اسے اس دشمن جان سے بات کرنی تھی جس سی ایک عمر اس نے یکطرفہ محبت کرنے کے بعد پردیس کا جوگ لےُلیا تھا ۔۔ اور اب قدرت نے یوں وقت بدلا کہ وہی اسکی شریک حیات بننے جا رہی تھی ۔۔ دوسری طرف ہیلو کی آواز ابھری تو اس نے اسلام و علیکم کہہ کر خود کو نارملُ کیا ۔۔ دوسری طرف ہانیہ نے آئستگی سے سلام کا جواب دیتے ہوۓ اس سے حال پوچھا تو وہ بے اختیار مسکرا اٹھا اور پھر کہنے لگا حال سے بے حال ہوۓ برسوں گزر چکے ہیں ہانیہ ۔۔ دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی ۔۔ تو معید نے ہوچھا ہانیہ آپ مجھ سے بات کرنا چاہتی تھیں زاریہ بتا رہی تھی کچھ ہوچھنا چاہتی ہیں پوچھئیے میں کوشش کروں گا کہ کسی بھی رشتے کو جوزڑنے سے پہلے آپ کے دل میں کوئی بات نہ رہے ۔اور سچ سچ آپکی ہر بات کا جواب دے سکوں ۔ ہانیہ نے گہرا سانس بھرا اور کہنے لگی صرف ایک بات پوچھوں گی ۔۔ معید خاموش رہا وہ کچھ توقف کے بعد بولی آپ پر کسی قسم کا خالہ جان کی طرف سے جذباتی دباؤ تو نہیں ۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اور انجان بن کر کہنے لگا کس سلسلے میں کیسا دباؤ اور کیوں ؟ جواب میں ہانیہ گڑبڑاتے ہوۓ بولی میرا مطلب ہے کہ میں کہنا چاہ رہی تھی کہ ۔۔ کہ ۔۔ معید بے اختیار قہقہ لگاتے ہوۓ بولا مجھے یقین نہیں آ رہا یہ میری بولڈ سی کزن ہانیہ مختا ر ہے جسکے سامنے بات کرتے ہوۓ سب کے پسینے چھوٹ جاتے تھے ۔۔ ہانیہ بے اختیار مسکرا پڑی پھر سنجیدہ ہوتے ہوزۓ بولی جی معید وقت کتنا بدل دیتا ہے انسان کو ۔۔ معید یکدم سنجیدہ ہوتے ہوۓ بولا ہانیہ مجھے کل بھی آپ سے محبت تھی آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔۔ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں امی جان نے مجھ سے پوچھا تھا مگر میں آپ سے بات کئیے بنا انکو کوئی جواب نہیں دینا چاہتا تھا حالانکہ امی جان بخوببی جانتی ہیں کہ مجھے یہ رشتہ دل سے قبول بھی ہے اور میری خواہش بھی یہی ہے ۔۔ ہاں آپ بتا دو آپ پر کوئی دباؤ تو نہیں کوئی ایموشنل اتیا چار ۔۔ ہانیہ بے اختیار بولی بالکل بھی نہیں ۔۔ تبھی زاریہ نے فون پکڑ اور ہنستے ہوۓ کہنے لگی بھائی باقی باتیں بعد میں کر لئجئے گا آج کےُلئیے اتنا ہی کافی ہے آپی کا نمبر بھیج دیتی ہوں معید خوشی سے قہقہ لگاتے ہوۓ بولا ٹھیک ہے گڑیا واپس آ لینے دو مبشر سے ملکر پورا بدلہ لوں گا مبشر کا نام سنتے ہی زاریہ شرمگیں مسکراتے ئوۓ بولی ٹھیک ہے بھائی اپنا خیال رکئیے پھر بات ہو گی اللہ حافظ ۔۔معید نے زندگی سے بھرپور قہقہ لگایا اور ہنستے ہوۓ اللہ حافظ کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔ تبھی پھر موبائل کی گھنٹی بجی اس نے فوں اٹھایا اور پھر کہنے لگا امی جی مجھے آپکا فیصلہ منظور ہے دوسری طرف اسکی ماں نے پیار سے کچھ کہا جسے سنُکر اسکے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی اور اس نے کہا امی جی اگلے ہفتے میں واپس آ رہا ہوں آپ شادی کی تیاریاں شروع کر دیں ۔۔ یہ کہ کر اس نے اللہ حافظ کہ کر فون بند کر دیا ۔۔ پھر آئستگی سے چلتا ہوا آئینے کے سامنے کھڑا ہوا اور کچھ دیر قد آدم آئینے میں خود کو دیکھتا رہا اور کہنے لگا تو ثابت ہوا معید رضا کے تم نے جسکی خاطر ملک چھوڑا تھا آج اسی کے لئیے واپس جا رہے ہو ۔۔۔۔ وقت عجیب چالیں چلتا ہے اور یہ تقدیر بھی ناں عجب کھیل کھیلتی ہے ۔۔ شاید سچی محبت کبھی ہار نہیں مانتی ۔۔اپنا آپ منوا لیتی ہے ۔۔ شاید اللہ کو کبھی انسان کی نیک نیتی اور سچی محبت کی ثابت قدمی ہر رحم آ جاتا ہے اور پھر ہونی انہونی ہو جاتی ہے ۔۔ معید رضا نے معاذ کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ ہولے سے مسکرا کر بولا ہاں معید ۔۔ پھر دھیرے سے کہنے لگا محبت انسان کو کبھی بھی خودغرض نہیں بناتی بلکہ دینا سکھاتی ہے لٹانا سکھاتی ہے قربانی دکھاتی ہے ہانیہ کو ہمیشہ خوش رکھنا کیونکہ وہ بہت اچھی اور نیک روح ہے معید نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ نم آنکھوں سے گویا ہوا میں اسے اپنے ساتھ باندھ کر نہیں رکھنا چاہتا تھا اور وہ مجھے کبھی نہ چھوڑتی مگر میں اسے پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہوں اللہ تعالی انسانوں سے آزمائشیں لیتا ہے کبھی پھلدار بنا کر اور کبھی بانجھ بنا کر ۔۔ میں نے ہانیہ کو اسلئیے طلاق دے دی کہ میں اسے بنجر نہیں دیکھ سکتا اسلئیے تمہیں ڈھونڈ کر واپس پاکستان بھجوانے کے لئیے کینڈا چلا آیا تاکہ اس وقت تم ہانیہ اور اسکی فیملی کو سنبھال سکو ۔۔ میں اسے کچھ نہ دے سکا مگر تم سے التجا ہے اسے زندگی کی ساری خوشیاں دینا اسکےُلئیے میں زاریہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھےفون کر کے آپکے بارے میں بتایا کہ آپ نے اب تک شادی نہیں کی اور آپکا ایڈریس بھی دیا تاکہ میں آپ سے ملکر آپکو ساری صورتحال بتا کر آگاہ کر سکوں ۔۔ میں یہ تو نہیں جانتا کہ کس کی محبت سچی ہے مگر محبت کبھی خودغرض نہیں ہوتی زمانہُ ہمیشہ مرد کو بے مروت خود غرض کہتا ہے مگر میرا دل چاہتا ہے چیخ چیخ کر کہوں کہ مرد بھی باوفا ہوتا ہے با اصول ہوتا ہے وہ بھی محبت کرنا نبھانا جانتا ہے وہی تو عورت کو تحفظ دیتا ہے اس سے محبت کرتا ہے اسکے لئیے قربانی دیتا ہے معید نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کر بولا یہی سچ ہے ناں تو معید رضا مسکرا کر بولا ٹھیک کہا آپ نے ۔۔۔زندگی لینے دینے ملنے بچھڑنے کا نام ہے معاذ نے مسکرا کر صوفے سے اٹھتے ہوۓ معید کے کاندھے پر ہاتھ رکھا دونوں آمنے سامنے کھڑے کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر معاذ نے نم آنکھوں سے کہا ہانیہ کو کبھی پتا نہ چلے کہ آپ اور میں کبھی زندگی میں ملے تھے معید نے سر ہلا کر اسکی بات کی تائید کی ۔۔ تو وہ یکدم مسکرا کر کہنے لگا میری دعائیں ہمیشہ آپ دونوں کے ساتھ رہینگی تو معید نے اسے گلے لگا لیا معاذ نے مسکراتے ہولےسے چلو اب فلائیٹ کا ٹائم ہونے والا ہے مجھے بھی لندن کےُلئیے فلائیٹ لینی ہے آپکو پاکستان کی فلائیٹ لینی ہے الوداع میرے دوست الوداع یہ کہکر وہ اسکا شانہ تھپتھپا کر آسے خدا حافظ کہہ کر آئستہ آئیستہ چلتے ہوۓ ائیرپورٹ لاؤنج سے دوسری سائیڈ پر مڑ گیا معید نے گہرا ٹھنڈا سانس بھرا اور اپنے مطلوبہ ٹرمینل کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔جہاں زندگی دونوں ہاتھ کھولے اسکے ساتھ لاحاصل کو حاصل بنا کر محبتوں کی طرف اڑان بھرنے کے لئیے تیار کھڑی تھی ۔۔۔۔
****
شاز ملک ( فرانس )
Exit mobile version