ساحر لدھیانوی فن اور شخصیت

Sahir Ludhianvi Fan o Shakhsiyat

میرے یونیورسٹی کے زمانے میں شاید ہی کوئی طالب علم ہو جس نے ساحر کی ’’تلخیاں‘‘ نہ پڑھی ہو۔
ان کی مشہور و معروف نظم “تاج محل کے علاوہ”میں نہیں تو کیا”، “یہ کس کا لہو ہے”، “میرے گیت تمہارے ہیں”، “نور جہاں کے مزار پر”، “جاگیر”، “مادام”، “لہو نذر دے رہی ہے “، “آوازِ آدم”، “خوبصورت موڑ”، “لمحہ غنیمت” جیسی نظمیں نوجوانوں کو زبانی یاد ہوتی تھیں۔
اس کتاب ’’تلخیاں‘‘ کے کم از کم سو سے زیادہ جائز اور ناجائز ایڈیشن چھپے ۔ لیکن اب نوجوانوں میں اس کا ذکر سننے میں نہیں آتا۔ اب نئی دلچسپیاں ہیں۔
ساحر لدھیانوی پاکستان بننے پر لاہور آگئے تھے۔ یہاں ابن انشأ،حمید اختر، اے حمید ، عارف عبدالمتین جیسے دوستوں کی صحبت میسر تھی۔ ’’سویرا‘‘ کی مجلسِ ادارت میں بھی شامل ہوگئے۔ ساحر نے میں ’’سویرا‘‘ کے دو شمارے 3 اور 4 ایڈٹ کئے۔
استادِ محترم سید فضیل ہاشمی کی روایت ہے کہ ساحر نے روزنامہ ’’امروز‘‘ میں بھی چند دن کام کیا۔ اتوار کو دفتر نہیں گئے۔ پیر کو گئے تو پوچھا گیا کہ آپ کل آئے نہیں، انہوں نے جواب دیا اتوار کو تو چھٹی ہوتی ہے ۔ انہیں بتایا گیا کہ اخبار تو روز نکلنا ہوتا ہے، یہاں باری باری چھٹی ہوتی ہے، کسی کی پیر، کسی کی منگل ۔ ۔ آپ بھی کسی دن کر لیجئے گا۔ ساحر نے اتوار پر اصرار کیا ، کسی اور کی چھٹی بدلے بغیر فوری طور پر ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس دن کے بعد وہ دفتر نہیں گئے۔
پھر یہ ہوا کہ پاکستان امریکی کیمپ میں شامل ہو گیا، ترقی پسندوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین سمیت ان کی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جانے لگی۔
1948 کے جون کی بات ہے، حمید اختر اور سید سجاد ظہیر کراچی گئے ہوئے تھے۔ شورش کاشمیری ساحر سے ملے اور کہا حمید اختر اور سجاد ظہیر کراچی میں گرفتار ہوگئے ہیں ( حالانکہ یہ بات درست نہیں تھی ) تمہاری بھی تلاش ہورہی ہے ، تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ بھاگ جاؤ۔ شورش کی نیت پتہ نہیں کیا تھی، ساحر چپکے سے بمبئی چلے گئے۔ اور یوں ہندوستانی فلم کو ایک بڑا شاعر مل گیا۔
ساحر کی فلمی شاعری اتنی مقبول ہوئی کہ ان کے فلمی گیتوں کے مجموعوں ’’گاتا جائے بنجارہ‘‘ اور ’’گیت گاتا چل‘‘ کے جتنے ایڈیشن شائع ہوئے اتنے کسی اور فلمی شاعر کے نہیں ہوئے۔
بالی وڈ میں ساحر کی جوڑی سب سے اچھی ایس ڈی برمن کے ساتھہ بنی۔ انہوں نے او پی نیر، این دتا، خیام، روی، مدن موہن، جے دیو اور کئی دوسرے موسیقاروں کے ساتھہ بھی کام کیا۔
انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے گانے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی “پیاسا ” اور یش راج کی ” کبھی کبھی” شامل ہیں۔

Exit mobile version