تعلیم نسواں

تعلیم نسواں کا لفظ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں کئی بار سننے کو ملتا ہے لیکن زیادہ تر لوگ آج بھی اس کے اصل مفھوم سے لا علم بیں۔ تعلیم نسواں دراصل دو الفاظ کا مرکب ہے۔ تعلیم کے معنی علم حاصل کرنے کے ہیں جب کہ نسواں عربی زبان کے لفظ نساء سے ماخوذ ہے جس کے معنی عورت کے ہیں ۔ تعلیم نسواں یعنی عورتوں کی تعلیم۔
عورت کی تعلیم کی اہمیت کو جاننے کے لیے معاشرے میں عورت کی اہمیت جاننا ضروری ہے۔ ہمارے مذہب اسلام نے معاشرے میں عورت کے حقوق کو واضح کر دیا ہے۔ اسلام سے پہلے عورتوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے ۔ بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا ۔ اسلام نے ہی مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم پر زور دیا ہے۔
ارشاد نبوی ﷺ‎ ہے:
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پے فرض ہے”۔
ماضی میں جس قوم نے بھی ترقی کی ہے اس کے مرد اور عورت دونوں تعلیم کے زیور سے آراستہ تھے۔ کیوں کہ اگر عورت تعلیم یافتہ ہو گی تو وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے گی ۔ یوں اک اچھا اور تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ھے جب کہ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔
نپولین کا مشہور زمانہ قول ہے :
"تم مجھے تعلیم یافتہ مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا”۔
آزاد کشمیر اور پاکستان کے بعض علاقوں میں لوگ ابھی بھی تعلیم نسواں کی اہمیت سے لاعلم ہیں ۔ وہ اپنی عورتوں اور بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیتے بیں ۔ ان کی نظروں میں عورت کی ملازمت توہین کے مترادف ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی عورتیں بیمار ہوتی ہے تو ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کا علاج کوئی لیڈی ڈاکٹر کرے۔
عہد حاضر میں ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ طالبات بہت سی پابندیوں کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتی ہیں ۔ کیوں کہ ان کے ذہن میں بچپن سے ہی یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ عورت صرف باورچی خانے کے کاموں کے لیے بے۔ عورت کا مطلب ہے چھپی ہوئی چیز کے ہیں۔ اسلام نے عورت پر تعلیم کو لازمی قرار دینے کے ساتھ ساتھ پردہ بھی لازمی قرار دیا ہے۔ اس لیے عورت کے لیے ایسے شعبے بھی منتخب کیے جانے چاہیے جس سے نسوانیت مجروح نہ ہو۔ اسلام نے عورت کو بہت آزادی دی ھے کہ وہ اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور قوم کی ترقی میں حصہ لے سکیں ۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اسلام کو بھول جائیں اور سڑکوں پر نعرے لگائے کہ میرا جسم میری مرضی۔ بل کہ عورت کو چاہیے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق دنیاوی تعلیم حاصل کریں۔ دنیاوی و دینی تعلیم عورت کے لیے دونوں اہم ہیں۔ اس لیے عورتوں کو دنیاوی اور دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملا انہوں نے ثابت کردیا کہ کہ وہ ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر سکتی ہیں ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی ہونہار طالبات غربت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتی اور وہ تعلیم کو چھوڑ دیتی ہیں۔ حکومت کو ان ہونہار طالبات کے لیے وظائف کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی تعلیم حاصل کر کے قومی ترقی میں حصہ لیں سکیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بچیوں پر پابندیاں نہ عائد کریں۔ تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
حکومت نے سرکاری ادارے تو کھول دیے اور بچوں کو مفت پڑھانے کا بندوبست بھی کر دیا لیکن بچوں پر توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بچیاں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سرکاری اداروں کی طرف توجہ دی جائے اور ایسی تقریبات کا انعقاد کیا جائے جس کے ذریعے عوام میں تعلیم نسواں کے بارے میں شعور بیدار ہو۔
آئیں ہم مل کر یہ عہد کرتے ہیں کہ اس ارض پاک کو وہ قوم بنائیں گے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
****
از قلم :- السیٰ محمود
(طالبہ میجر ایوب شہید کالج باغ آزادکشمیر )

Exit mobile version