دامن وفا کا آج بھی یاں تار تار ہے

نگین بیگم نے عین منگنی والے دن ساری بات کھول کر سب کہ ہوش اُڑا دیۓ نین کا تو سر ہی چکرا کہ رہ گیا اسے ایسا لگا جیسے کسی نے کھڑے کھڑے جان نکال لی ہو،،، جان ہی تو نکالی تھی شیری کو اسے دور کہ۔۔۔۔ نگین بیگم کو لگا کہ شاید نین بھی قاسم کو پسند کرتی ہے اور اسی کی پسند پہ انہوں نے سوچے سمجھے بنا ہی ہاں کہہ دی صرف اس لیے کہ نین کو اچنک بتا کر سرپرائز دیں گی کہ جسے انکی بیٹی نے پسند کیا وہی ان کی بھی پسند ہے۔۔۔۔ لیکن اب نین کہ چہرے کہ اتر چڑھاؤ اور زرد پڑتے رنگ دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی تھیں۔۔۔۔
“نین بیٹا کیا ہوا تمہارا رنگ کیوں زرد پڑ گیا ہے”وہ متفکر ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
“ماما یہ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھنا بھی پسند نہیں کیا، ایک بار تو پوچھ لیتے کہ میں ایسا چاہتی بھی ہوں کہ نہیں” نین روہانسی ہو کر بولی۔۔۔۔
“نین بیٹا یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ مجھے سفینا بھابھی نے بتایا تھا کہ قاسم تمہیں پسند کرتا اور ہمیں لگا شاید تم بھی قاسم کو پسند کرتی ہو اور تمہاری پسند سے ہی بھائی جان نے رشتہ مانگا۔۔۔۔ مجھے اندازہ ہوتا تو۔۔۔ تو میری جان میں ضرور پوچھتی۔۔۔ تمہارے مامو نے اتنے مان سے تمہارا ہاتھ مانگا کہ میں اور تمہارے پاپا منا ہی نہیں کر پاۓ۔۔۔ اور تمہیں اب تک اسلیے نہیں بتایا تکہ تمہارے چہرے کی کھلکھلاہٹ دیکھ سکیں کہ جسے تم نے پسند کیا اس تمہارے ماما پاپا نے بھی پسند کیا ہے”۔۔۔۔۔
“ماما میں قاسم کو پسند کرتی ہوں لیکن صرف ایک کزن کی خد تک لیکن شادی اور وہ بھی قاسم سے نہیں ماما نہیں میں نے ایسا کبھی نہیں سوچھا” وہ آنسو پونچھتے ہوۓ بولی۔
“نین بیٹا یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ سب تیاریاں ہو چکی ہیں ساری اریجمنٹس ہو گئی ہیں اب انکار کرنا کس قدر احمقانہ خرکت ہو گی اور ویسے بھی قاسم کون سا کسی سے کم ہے پڑھا لکھا سلجھا ہوا بچہ ہے اور سب سے بڑی بات وہ تمیں پسند کرتا ہے بہت خوش رکھے گا” نگین بیگم نے پیار سے سمجھانا چاہا۔۔۔
“ماما پر میں۔۔۔۔ ”
“پر ور کچھ نہیں نین بیٹا آج تمہاری رسم ہے اب کیا بول کہ انکار کروں بھائی جان کو۔۔۔ وہ کیا سوچیں گے۔۔۔۔ میرا نہیں تو اپنے پاپا کا خیال کرو وہ زبان دے چکے ہیں اب کیسے انکار کریں۔۔۔ تمہارے مامو بہت ہرٹ ہونگے وہ تم سے کتنا پیار کرتے ہیں جانتی ہو نا؟؟۔۔۔۔میرے سے تو انکار نہیں ہو گا تم اگر خود انکار کر کہ انکا دل توڑنا چاہتی ہو تو کر لو۔۔۔لیکن کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے بابا کا سوچ لینا۔۔۔ اور اگر ہمارا فیصلہ منظور ہے تو یہ کپڑے پہن کر تیا ہو جاؤ” ۔۔۔نین کو سوچوں میں چھوڑ کر نگین بیگم آنسو صاف کرتی ہوئیں اٹھ کر چلی گئیں۔۔۔۔
*******========*******
“شیری بیٹا بیٹھا جاؤ ایسے چکر لگانے سے یاں غصہ کرنے سے مسلہ ہل نہیں ہو گا آرام سے بیٹھ جاؤ ” اے۔جے شیری کو مسلسل کمرے کہ چکر کاٹتے ہوۓ دیکھ کر فوارً بولیں۔۔۔
“آرام سے بیٹھنے سے کون سا ہل نکل آۓ گا، وہ میرے سامنے کسی اور کہ نام کی انگوٹھی پہنے گی تم میں کیسے دیکھ پاؤں گا امی۔۔۔۔ وہ صرف میری ہے میں کیسے اسے کسی اور کا ہونے دو۔۔۔ محبت کرتا ہوں میں اسے امی۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں اس قاسم کو مار دو گا زندہ نہیں چھوڑوں گا”۔۔۔۔۔۔۔۔”شیری”۔۔۔۔۔۔ ایک زوردار تھپڑ نے شیری کہ ہوش اڑا دیۓ اس نے غصے سے اے۔جے کو دیکھا۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا، تم قتل کرو گے قاسم کو ہشتیاری بنو گے؟؟؟قاتل بنو گے؟؟ ایک لڑکی کی خاطر تم قاتل بننے ہہ تیار ہو گے۔۔۔۔ کیوں مجھے جیتے حی مار رہے ہو کیوں پل پل مار رہے ہو مجھے ایک ہی بار مار دو۔۔۔ سکون مل جاۓ گا تمہیں بھی اور مجھے بھی۔۔۔۔ تم جانتے ہو جب تمہارے پاپا پہ چوری الظام لگا تھا تو۔۔۔ تو ایک چور کی بیوی کہلوانا کتنا تکلیف دے پل تھا، تمہارے پاپا چور نہیں تھے لیکن ان پہ الظام لگایا گیا تھا۔۔۔لیکن وہ تکلیف آج بھی کسی طور کم نہیں ہوتی۔۔۔ اور اب تم چاہتے ہو لوگ مجھے قاتل کی ماں کہہ کر بلائیں۔۔۔ تم مجھے بھائی کی نظروں سے بھی گرانا چاہتے ہو”تماچا شیری کہ گال پہ مارا تھا لیکن اسکا درد اے۔ جے نے اپنے دل میں محسوس کیا تھا پہلی بار انہوں نے شیری پہ ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔
“ماما۔۔۔۔ ماما میں نہیں رہ سکتا اس کہ بغیر بہت محبت کرتا ہوں اسے، کیسے اپنی نظروں کہ سامنے اسے کسی اور کا ہوتا دیکھ لوں۔۔۔۔ ماما اسے روک لیں آپکا شیری مر جاۓ گا اسکہ بغیر اسکہ بنا آپکا شیری کچھ بھی نہیں ہیں۔۔۔۔ یہ دل میرا ہے لیکن وہ اس میں دھڑکن بن کر دھڑکتی ہے۔۔۔ یہ سانسیں کہنے کو میری ہیں لیکن یہ چلتی صرف اس کہ دم سے ہیں۔۔۔۔۔وہ اے۔ جے کہ قدموں میں گرتے ہوۓ دل پہ ہاتھ رکھتا ہوا تڑپ کر بول رہا تھا۔اور اے۔جے نے قرب سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔ ماما میری طرف دیکھیں پلیز اسے رعک لیں آپکا شیری مر جاۓ گا۔۔۔ آپ کیوں نہیں سمجھتیں ؟؟ کیا آپ اپنے شیری کو مرتے ہوۓ دیکھنا چاہتی ہیں”
“شیری اللہ نا کرے میرے بچے اللہ تمہیں میری عمر بھی لگا دئیں۔۔۔۔ مجھے معاف کر دو یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔ کاش تب تمہارے پاپا کی بجاۓ میں مر گئی ہوتی تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا” اے۔ جے فوارً شیری کہ منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ بولیں۔۔۔
“ماما کیسی باتیں کر رہی ہیں پلیز ایسا مت بولیں” وہ کسی معصوم بچے کی طرح ماما سے لپٹ کر رو دیا۔۔۔۔۔ اور پھر بولا۔۔۔ “میں خود بات کروں گا نین سے وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے میرے ساتھ”۔۔۔۔۔۔۔۔”کوئی فائدہ نہیں ہے؟ لنڈا جو اچانک کمرے میں آئی تھی شیری کی بات سن کر بولی۔۔۔۔
“کیوں کوئی فائدہ نہیں” شیری نے سرعت سے پوچھا۔۔۔
“اس لیے کہ نین آنٹی اور انکل کہ معملے میں بہت حساس ہے، وہ خود پہ جبر کر لے گی لیکن جگ ہنسائی کا موقع نہیں دے گی۔۔۔ میں کوشش کر چکی ہوں وہ کسی طور اپنے ماں باپ کا مان توڑنے کو تیار نہیں”۔۔۔لنڈا اداسی سے بولی تھی اور شیری غصے سے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔
*******=======*******
ویسے تو میرے چار سو فصلِ بہار ہے
پنچھی چمن کا اب بھی یہاں اشکبار ہے
جسکے لبوں پہ پھر کبھی غنچے نہیں کھلے
تیرے چمن کی اپسرا وہ سوگوار ہے
کب کا یہاں سے جا چکا موسم بہار کا
اب آ بھی جا کہ تیرا بہت انتظار ہے
تیرے بغیر دل کو کبھی سکھ نہیں ملا
پہلے بھی بیقرار تھا ،پھر بیقرار ہے
وشمہ ترے جہان میں کس سے گلہ کروں
دامن وفا کا آج بھی یاں تار تار ہے
نین آئنے کہ سامنے بادامی رنگ کی میکسی پہنے سادگی سے تیار ہوئی کھڑی نجانے کن خیالوں میں گم تھی۔۔۔ اس رہ رہ کر شیری کا خیال ستا رہا تھا وہ جو اس کہ بغیر مرنے مارنے کی باتیں کرتا تھا وہ اب کیا کرے گا کہیں وہ خود کو نقصان تو نہیں پہنچاۓ گا،،، اگر اس نے ایسا کچھ کر دیا تو وہ سب کو کیا منہ دکھاۓ گی جسے کتنے سوال اس کہ ننھے دماغ میں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔۔ وہ سادگی سے تیار ہوئی تھی اور کی راضامندی تھوڑی شامل تھی جو وہ ٹھاٹھ سے تیار ہوتی، قاسم کی جگہ شیری ہوتا تو کیا کچھ سوش کہ بیٹھی تھی کہ ایسے کپڑے پہنوں گی ایسا تیار ہوں گی لیکن اب اس جو جیسا سوٹ ملا وہ بنا چوں چاں پہن کر ہلکا سا تیار ہو گئی تھی۔۔۔ اسکی سوچوں کا محور فقط شیری تھا۔ کتنی عجیب بات ہے نا وہ اپنی انگلی میں کسی اور کہ نام کی انگوٹھی پہننے جا رہی تھی جب کہ دل میں صرف شیری کا راج تھا، آخر وہ یہ دوغلا رشتہ کیسے نبھاۓ گی۔۔۔ نین اپنی سوچوں میں گم تھی جب ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور شیری نمودار ہوا۔۔۔ وہ جو اتنی ہمت والی بنی ہوئی تھی شیری کو دیکھ کر ساری ہمت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔۔۔۔
وہ غصے سے اندر آیا اور درشتی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر خود اے قریب کرتے ہوۓ غرایا
“بس اتنا ہی حوصلہ تھا تمہارے اندر؟ارے لوگ محبت میں جان کی بازی تک ہار دیتے ہیں اور تم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی گیواپ کر کہ بیٹھ گئی؟۔۔۔۔۔ویسے کیسے کر لیتی ہو تم سب لڑکیاں ایسے ہاں؟ کہ دل میں کوئی اور بستہ ہو اور شادی کسی اور سے؟؟ تم لوگوں کا ضمیر کیسے مان جاتا ہے اس دوغلے رشتے پہ ہاں چپ کیوں کھڑی ہو جواب دو نین سکندر ڈیم اٹ گیو می آ بلڈی آنسر۔۔۔۔ محبت تم مجھ سے کرتی ہو اور شادی۔۔۔ شادی تم اس قاسم سے کرنے جا رہی ہو۔۔۔ کیوں ؟؟؟ تم تو ہم دونوں میں سے کسی کہ ساتھ بھی فیئر نہیں ہو یاں تم نے سوچا ہو گا چلو کوئی بات نہیں شادی کہ بعد دوبارہ محبت کر لوں گی قاسم سے”۔۔۔۔۔۔۔بس کر دو شہریار بس کر دو۔۔ مجھے الظام دینا بند کرو۔۔۔ تم میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو ہاں؟؟؟؟ ۔۔نین شیری کی باتوں کی کڑواہٹ سن کا غصے سے بولی تھی۔ ۔۔۔۔جبھی شیری نے ایک بار پھر اُسے قریب کرتے ہوۓ اپنا ماتھا اس کہ ماتھے سے جوڑتے ہوۓ بے بسی سے بولا۔۔۔۔۔۔ “مان جاؤ نین ۔میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا،، پلیز میری تکلیف سمجھو میں نہیں جی سکتا تمہارے بنا۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں خود مامو سے بات کروں گا دیکھنا وہ مان جائیں گے سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔ نین کا چہرہ ہاتھوں کہ پیالے میں لیتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
“خدا کہ لیے شیری چلے جاؤ مت کرو یہ سب اگر میری قسمت تمہارے ساتھ جوڑی ہوتی تو یہ دشوار راہیں سہل ہو جاتیں لیکن یہ مزید دشوار ہوتی چلی گئیں ۔۔۔ مجھے مزید امتحان میں مت ڈالو۔۔۔۔ تمہیں میری قسم تم کسی سے کچھ نہیں کہو گے۔ جو جیسا ہو رہا ہے ہونے دو تم بیچ میں آ کر اپنی ایمج حراب نہیں کرو تمہیں میری قسم ہے”۔۔۔۔۔نین یاسیت سے بولی
“ٹھیک ہے تم چاہتی ہو نا کہ میں یہاں سے چلا جاؤں کبھی تمہیں اپنی شکل نا دیکھاؤں ایسا ہی ہو گا میں چلا جاؤں گا۔۔۔۔ بس ایک آخری بار بول دو کہ تم صرف مجھ سے محبت کرتی ہو”۔۔۔۔نجانے اسکہ لہجے میں اسکہ الفاظوں میں کیسی تھکن تھی نین نے فورا اسے تڑپ کر دیکھا تھا۔۔۔۔ چمکدار آنکھوں والا شیری آج مکمل اجڑا اجڑا لگ رہا تھا۔۔۔ آنکھوں کی شُرحی بتا رہی تھی کہ مسلسل روتو رہا ہے۔۔۔۔ جنگ لڑتا رہا ہے خود کہ ساتھ اور وہ بھی ایسی جنگ جو کبھی نا ختم ہونی تھی۔۔۔۔۔نین کہ دل کی دھڑکن یک دم تیز تیز چلنے لگی تھی۔۔۔ تنفس
یک دم تیز ہو گیا تھا۔۔۔شیری اسی طرح
نین کو خود سے بھینچتے کھڑا تھا نظریں نین کہ چہرے پہ ٹکاۓ اس کہ بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتا جواب کا منتظر ۔۔۔۔
“ہاں میں صرف تم سے محبت کرتی ہوں شیری صرف تم سے ۔۔۔۔۔۔ یہ سب تو ان گھر کہ مکینوں کو واپس جوڑنے کہ لیے کر رہی ہوں،اے۔جے اور پاپا کہ بیچ اس بے وجہ انا کی دیوار کو ہٹانا چاہتی ہوں جو کئیں سالوں سے اُن بیچ حائل ہے۔۔۔اے ۔جے بہت بُرا وقت دیکھا ہے شیری اب مزید کسی دکھ کی حقدار نہیں ہیں وہ۔۔۔وہ اب صرف خوشیوں کی مستحق ہیں۔۔۔۔اگر ہم دونوں بغاوت پہ اتر آۓ تو پاپا اس بات کا قصوروار بھی اے۔جے کو ہی ٹھہرائیں گے اور اسے وہ دونوں اور دور ہو جائیں گے اور میں اتنی خودغرض نہیں ہو سکتی کہ ان کہ دکھوں پہ اپنی خوشیوں کا عاشیانا بناؤں ۔۔۔۔نہیں شیری نہیں یہ سب نہیں کر سکتی میں ۔۔۔۔پلیز تم چلے جاؤ ۔۔۔۔شیری کی گرفت ڈھیلی پڑی تو نین پیٹھ پھیرتے ہوۓ بولی شاید اپنے آنسو چھپانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔شیری نے ایک نظر سامنے پیٹھ پھیرے کھڑی سنگدل نین پہ ڈالی اور پھر اُلٹے قدموں سے واپس پلٹ گیا اور اپنے پیچھے دروازہ زور سے بند کیا تھا۔۔۔ ٹھا کی آواز دروازہ بند ہوا تو نین کا دل لرز گیا لیکن وہ کچھ کر بھی تو نہیں سکتی تھی بس خاموشی سے کھڑی اپنی قسمت پہ آنسو بہاتی رہی۔۔۔۔
“نین بیٹا تم ریڈی ہو سب مہما ۔۔۔۔نین کو سجا سجایا روپ دیکھ کر نگین بیگم رک گئیں اور پھر ۔۔۔”ماشااللہ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے” کہتے ہوۓ فوراً آگے بھڑ کر اُسکی بلائیں لیں۔۔۔نگین بیگم بھی ایک ماں تھیں اور ہر ماں کی طرح انکے بھی بہت ارمان تھے بیٹی کو دلہن بنے دیکھنے کا ۔۔۔آج صرف منگنی کی رسم ادا کرنی تھی لیکن نگین بیگم کو ایسا لگا جیسے آج ہی نین ان سب سے پرائی ہو گئی ہو ۔۔۔اور سچ بھی تو یہی تھا وہ پرائی تو ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔نین نے بھی جبرناً مُسکرا کر ماما کو دیکھا اور پھر نگین بیگم نین کو لیے کمرے سے باہر نکل آئیں جہاں کانٹوں پہ چل کر جانا تھا اور یہاں پاؤں ہی نہیں روح بھی چھلنی ہونی تھی۔
※※※※※※
منگنی کا فنکشن تھا اس لیے گھر پہ ہی چند رشتے داروں میں ارینج کیا گیا تھا باقی شادی کا فنکشن گرینڈ کرنے کا ارادہ تھا سکندر علیم کا جس پہ وہ اپنے دوستوں اور باقی دور درازی رشتہ داروں کو بلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔۔۔کیونکہ ابھی صرف فارمیلٹی پوری کرنی تھی تو بس گھر کہ قریبی لوگ شامل تھے۔جن میں نگین بیگم کی دونوں بہنیں۔۔۔ چھوٹی بہن چندہ اسکہ دو بچے زینب اور علی اور بڑی بہن مینا جن کہ تین بیٹے تھے سب سے بڑا بلال چھوٹا توقیر اور اسے چھوٹا ریخان سب شامل ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔اور مامو ستار کی فیملی اور انکی بیوی کی چھوٹی بہن چونکہ وہ پاس ہی رہتی تھی اس لیے ہر فنکشن پہ وہ آسانی سے آ جاتی تھی اور آج ان کہ بھانجے کی منگنی تھی پھر وہ بھلا کیسے پیچھے رہتیں سو وہ بھی شامل ہو گئیں۔۔۔۔۔
لان کو بہت خوبصورتی سی سجایا گیا تھا،ہر طرف رونق چہل پہل تھی،خوشی کا سما تھا ،،،، لیکن اس خوشی بھرے سما کو بنانے کہ لیے نین نے کس طرح اپنے دل کہ ٹکرے کیے تھے اگر جو کوئی جان لیتا تو آج وہ نین کہ دکھ میں شریک ہوتا،جیسے اے۔جے تھیں جیسے لِنڈا تھی۔۔
※※※※※※※※※※
نین ماما کہ ساتھ سہج سہج قدم اُٹھاتی سیڑھیاں اتر رہی تھی،سب کی نظریں یک دم اپر کو اُٹھیں تھیں۔۔۔۔نین کو قاسم کہ ساتھ لا کر بیٹھا یا گیا تو دور کھڑے شیری کی آنکھوں میں سُرحی اترنے لگی۔۔۔وہ چاہتا تو سب کہ سامنے نین کا ہاتھ تھام کر اپنی محبت کا علان کر سکتا تھا لیکن نین کی عزت اس اپنی جان سے زیادہ پیاری تھی اور اسی عزت کی حاطر وہ خاموش تھا۔۔۔۔۔
سب نے جی بھر کر نین اور قاسم کو دعائیں دئیں اور اُنکہ جوڑے کی خوب تعریف کی تھی۔۔۔۔۔۔
رسم شروع ہوئی لیکن قاسم کہ انداز کھوۓ کھوۓ سے تھے جبھی ستار مامو بول اُٹھے۔۔۔
“قاسم بیٹا نین انتظار کر رہی ہے کہاں کھوۓ ہوۓ ہو رسم ادا کرو انگوٹھی پہناؤ نین کو” ۔۔۔۔باپ کہ محاطب کرنے پہ وہ چونک کر سب کو دیکھنے لگا اور پھر آہستہ سے انگوٹھی نین کو پہنا کر اسے ہمیشہ کہ لیے اپنا بنا لیا۔۔۔۔نین کو قاسم کا رویہ عجیب سا لگا لیکن پھر اپنا وہم سمجھ کر جھٹک دیا۔۔۔۔
“ارے بھئی علینا تم کہاں چل دیں” علینا کو بیگ کہ ساتھ دیکھ کر ستار مامو فوراً بول اُٹھے تو سکندر علیم نے بھی فوراً دیکھا تھا علینا اور شیری جانے کہ لیے تیار کھڑے تھے۔۔۔نین نے بھی بےچینی سے دیکھا تھا۔۔اُسکا شیری ایک بار پھر اسے دور جا رہا تھا ہمیشہ کہ لیے اور وہ چاہ کہ بھی رک نہیں سکتی تھی۔۔۔۔اور کسی نے تو نہیں البتہ قاسم نے یہ بےچینی ضرور نوٹ کی تھی۔
“بھائی جان ہم واپس جا رہے ہیں،ہماری آج پانچ بجے کی فلائٹ ہے،پرانے ٹوٹے ہوۓ رشتوں کو بخال کرنے آئی تھی ایک اپنی سی کوشش کرنے،لیکن شاید سب لوگ آگے بھڑ چکے ہیں کوئی پیچھے مڑ کر نئیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔اپنی بات پوری کر کہ وہ نین کی طرح آئیں۔۔۔۔۔”نین میری پیاری بیٹی تم جہاں رہو خوش رہو ہر قدم پہ خوشیاں تمہارا مقدر بنیں۔۔۔دو سال تک تم میرے پاس تھی اور میں تمہیں پہچان بھی نا پائی اسے بھڑ کر اور کیا بدنصیبی میرے لیے ہو سکتی ہے۔۔۔کاش مجھے پتہ چل جاتا تو میں تمہیں اتنا پیار دیتی کہ آج ان دعاؤں ضرورت ہی محسوس نا ہوتی”۔۔۔ نین کو گلے لگا کر پیار کرتے ہوۓ کہا تھا اور پھر بیگ لیے پلٹ رہی تھیں جب سکندر علیم بول اُٹھے
“رشتوں کو جوڑے بنا ہی جا رہی ہو علینا”؟؟ برسوں بعد بھائی کہ منہ سے اپنا نام سن کر تڑپ کہ وہ پلٹیں تھیں جہاں سکندر علیم آنکھوں میں نمی لیے باہیں پھیلا کر کھڑے تھے۔بل آخر انکا پتھر دل پگھل گیا تھا اور انہوں نے علینا کو معاف کر دیا ۔۔۔علینا فوارً بھائی سے لپٹ کر رو دیں ،،،وہاں سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔نین کی قربانی رنگ لائی تھی۔۔۔۔ پھر وہ بھی آگے بھڑ کر اے۔جے اور پاپا سے لپٹ گئی۔۔۔۔۔
※※※※※※※
منگنی کہ فوارً بعد شادی کی تیاریاں چل دوڑیں ۔۔۔قاسم جلد از جلد شادی کرنے کہ لیے بضد تھا ۔۔۔۔اور پھر بڑوں نے سوچا نین تو قاسم کی ہی ہے چاہے آج شادی ہو یاں دو سال بعد اور اگر بچے رضا با راضی ہیں تو پھر انکار کی کوئی گنجائش ہی کہاں بچتی ہے۔۔۔۔۔منگنی کہ ہفتے بھر بعد ہی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں ڈھولک بھی رکھ لی گئی تھی ہر طرف خوشیوں کا راج تھا اے ۔جے اور سکندر علیم کہ دل باغ باغ اور مطمئن تھے سدیوں پرانی رنجشیں اور کدورتیں ختم ہوگئی تھیں۔۔سب کہ دل پرسکون تھے ما سواۓ نین اور شیری کہ۔۔۔بھلا ان کہ دلوں میں سکون ہو بھی کیسے سکتا ہے۔۔۔۔لِنڈا واپس جا چُکی تھی اسے ارجنٹلی جانا پڑا اور جاتے جاتے ڈھیر سارا پیار وہ نین کو دے کر گئی تھی اس کہ جانے سے نین ایک بار پھر اُداس ہو گئی تھی پر کیا کیا جا سکتا ہے کوئی کسی کہ لیے نہیں رکتا ہر ایک کو اپنی منزل کی طرف واپس لوٹ کر جانا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔ شیری بھی اسی دن واپس لوٹ جانا چاہتا تھا لیکن سکندر علیم نے اس روک لیا برسوں بعد وہ اپنی بہن کہ اکلوتے خوبرو بیٹے کو دیکھا تھا اسے باتیں کرنا چاہتے تھے اپنی برسوں پرانی محبت اس پہ نچھاور کرنا چاہتے تھے۔۔تو مجبوراً شیری کو رکنا پڑا لیکن یہاں رک کر بھی وہ پل پل مر رہا تھا مٹ رہا تھا اپنے سامنے نین کو کسی اور کا ہوتے دیکھنا کس قدر تکلیف دے امر تھا یہ کوئی شیری سے پوچھے کہ وہ کیسے ضبط کر کہ بیٹھا ہو تھا اور کیسے ہمت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔۔منگنی والے دن کہ بعد سے اُسکا نین سے سامنا نہیں ہوا تھا یاں شاید وہ خود ہی کترا رہا تھا ۔۔۔۔
“مامی نین کہاں ہے ارے بھئی دیر ہو رہی ہے آج کہ آج اُسکا برائڈل ڈریس فائنل کرنا اور وہ میڈم پتہ نہیں کہاں گم ہے پچھلے ایک گھنٹے سے باہر کھڑا ہوں اور وہ ہے کہ نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی”
گھنٹہ انتظار کرنے پر بھی جب نین باہر نا آئی تو قاسم خودی اندر چلا آیا۔۔۔ہاں بیٹا تم بیٹھو میں بلا کر لاتی ہو نین کو ۔۔۔نگین بیگم اسے بیٹھنے کا کہہ کر فوراً اپر چلی گئیں ۔۔۔۔ جبھی شیری جو دور صوفے پہ براجمان تھا قاسم کو دیکھ کر اس کہ الفاظ سن کر اس نے سختی سے صوفے کو پکڑا تھا مانو جیسے غُصے کو کم کرنے کے کوشش کر رہا ہو اور پھر ٹی وی آف کر کہ ریمورٹ صوفے پہ اچھال کر تیزی سے باہر نکل گیا ۔۔قاسم نے اور سیڑھیوں سے تیز تیز اُترتی نین نے یہ منظر غور سے دیکھا تھا ۔
“قاسم چلیں” نین کہ پُکارنے پہ وہ سیدھا ہوا اور غور سے نین کو دیکھنے لگا۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو” اُس نے فوارً قاسم کو ٹوکا۔۔۔ ” کچھ نہیں جلدی چلو اور خدا کہ لیے آج ایک ڈریس فائنل کر لو تم روز روز چکر لگانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں کیوں سب ڈئزائنر کپڑے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں” وہ نین کہ سوال کو نظرانداز کرتا ہو اور آج ہی ڈریس فائنل کرنے کا کہتے ہوۓ باہر نکل گیا اور نین بھی ناک چڑھا کر بربڑاتی ہوتی پیچھے ہو لی۔
شادی سے دو دن پہلے نکاح کی تقریب رکھی گئی تھی۔۔۔ گھر پہ مہمانوں کی آمدورفت شروع ہو گئی،کوئی خاص مہمان نا تھے بس قریبی دوست اور عزیز رشتے دار ۔۔۔ سکندر علیم نے پورے گھر کو دلہن کی طرح سجاوایا تھا،اور یہ سارے کام کوئی اور نہیں بلکے شیری کہ ذمے لگایا گیا تھا ،اور وہ بےچارہ ہارے ہوۓ جواری کی طرح ہر کام پہ سر ہلاتا رہا،لیکن دل کی خالت غیر ہو رہی تھی،ایسا لگتا تھا آج وہاں نین نکاح نامے پہ دستخط کرے گی اور ادھر اُسکی جان نکل جاۓ گی،،،اپنی محبوبہ کہ شادی پہ ساری تیاریاں خود کرنا کس قدر تکلیف دے تھا یہ بات کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
مہمان سب آ رہے تھے اور شیری بے بس تماشائی بن کر سب کہ منہ دیکھ رہا تھا اور پھر نجانے کیا ہوا سارا کام بیچ میں چھوڑ کر وہ اندر بھاگا،شاید اُسکی غیرت جواب دے گئی تھی۔یاں مزید یہ سب دیکھنے اور برداشت کرنے کی ہمت ختم ہو گئی تھی۔
نکاح کی رسم شروع ہونے والی تھی۔سب مہمان لائونج میں اکٹھے ہو گے تھے۔۔۔ نگین بیگم نین کو نیچے لے آئیں سُرح جوڑے میں وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ دیکھنے والا ہر کوئی دل ہی دل میں اُسکی بلائیں لے رہا تھا۔
نگین بیگم نے نین کو پردے کہ پیچھے بیٹھا دیا ۔۔۔۔ قاضی صاحب بھی موجود تھے اور قاسم بھی آن پہنچا تھا اسے پہلے کہ قاضی صاب اُٹھ کر نین کی طرف جاتے۔۔۔۔ قاسم کی نظر اپر سے بیگ لے کر آتے شیری پہ پڑی جو عجلت میں بیگ گھسیٹتا ہوا نیچے آ رہا تھا اور پھر باری باری سب نے ایک بار شیری اور پھر اسکہ بیگ کو دیکھا۔۔۔۔۔
“شہریار بیٹا تم کہاں جا رہے ہو ،،،گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے اور تم کہاں جا رے ہو”؟؟ سکندر مامو نے چونک کر دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔
“جی مامو میں واپس جا رہا ہوں،آپکو اور ماما کو واپس ایک کرنا تھا سو وہ میں نے کر دیا۔ ماما اب یہئں رہیں گی۔لیکن میری دنیا میرے دوست سب میرے منتظر ہیں مجھے واپس جانا ہے۔۔۔ اور ویسے بھی اب یہاں بچا ہی کیا ہے۔۔منہ سکوڑتے ہوۓ کہا اور پھر گر بڑا کر بولا۔۔۔۔۔۔میرا مطلب سب لوگ اپنی اپنی لائف میں آگے بھڑ رہے ہیں،تو مجھے بھی آگے بڑھنا چاہیے میرا مستقبل میری رہ دیکھ رہا ہے ” ۔۔۔۔۔ وہ سب کو نظروں سے سلام کرتے ہوۓ اپنی بات مکمل کر کہ پلٹنے لگا جب قاسم نے اسے محاطب کیا۔۔۔
“اکیلے جا رہے ہو”
شری پلٹا اور پھر مُسکرا کر بولا
“ظاہر ہے اکیلا آیا تھا اکیلا ہی جاؤں گا نا۔۔۔ کہہ کر وہ پلٹنے لگا جب قاسم دوبارہ بولا
سوچ لو کہیں کچھ بھول تو نہیں رہے۔۔آئی مین اپنا کوئی ضروری سامان جیسے ساتھ لے جانا بھول لے ہو”۔۔۔قاسم کی عجیب باتیں سن کر سب اس کی طرف متوجہ ہو گے۔
“نہیں میں کچھ بھول نہیں رہا سارا سامان رکھ لیا ہے اور ویسے بھی میں اکیلا تھوڑی جا رہا ہوں اتنا سارے لوگوں کی محبت اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں”
” سب کی محبت اپنے دل میں چھپا کہ لے جا رہے ہو تو پھر جس کہ دل میں صرف تمہارے لیے محبت ہے اسے کیوں یہاں چھوڑ کر جا رہے ہو”
قاسم کی بات پہ جہاں شیری کہ قدم جامد ہوۓ تھے وہیں نین بھی پردے کہ پیچھے سے نکل آئی۔۔۔اُسکی دل کی دھڑکن ایک دم سے تیز ہو گئی تھی۔۔۔۔اے۔جے فورا نین کا ہاتھ تھام لیا جو ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔
“دیکھیں نکاح کا ٹائم نکل رہا ہے رسم شروع کریں” قاضی صاب تنگ آ کر بولے تو ستار مامو بھی بول اُٹھے ۔۔۔قاسم کسی باتیں کر رہے ہو ٹائم نکل رہا ہے تم نے سنا نہیں قاضی صاب کیا کہہ رہے ہیں چلو آؤ بیٹھو یہاں”
شیری نے بھی پلٹ کر ناسمجھی سے قاسم کو دیکھا اور اداکاری کرتے ہوۓ بولا
“کیا کہہ رہے ہو میں سمجھا نہیں”
“سچ میں سمجھے نہیں یاں نا سمجھنے کو اداکاری کر رہے ہو ۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں میں سمجھا دیتا ہوں”
پھر وہ چلتا ہو عورتوں کی طرف آیا اور دُلہن بنی نین کا محبت سے ہاتھ تھام لیا نین نے بے چینی سے قاسم کو دیکھا تھا لیکن اس نے پرواہ نا کی اور اُسکا ہاتھ پکڑ کر اسکہ سامنے لے گیا اور بولا۔۔۔۔۔”ابھی بھی سمجھ آیا یاں ابھی بھی سمجھاؤں” شیری نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا اور اس کہ چہرے سے تاثرات جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں۔۔۔۔
“قاسم یہ کیا بچکانہ خرکت ہے” سفینا بیگم نے فوارً سرزش کرتے ہوۓ ٹوکا۔۔۔۔
“آپ سب لوگوں کو سارے سوالات کہ جوابات ملیں گے ۔۔۔۔کیوں شہریار اب تم بولو گے یاں پھر میں ہی بولوں” شیری کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولا تھا۔ لیکن شیری ایک دم خاموش تھا جیسے سانپ سنگھ گیا ہو۔۔۔جواب نا پا کر قاسم پھر سے بولا ۔۔۔۔”چلو میں ہی بتا دیتا ہوں سب کو ۔۔۔۔” پھوپھو پھوپھا ج بات یہ ہے کہ میں نین سے شادی نہیں کر سکتا” اس نے ایک دم سے بوم پھوڑا تھا وہ بھی سب کہ سروں پہ،،،وہاں کھڑے ایک ایک شخص کو سانپ سنگھ گیا۔۔۔۔لیکن قاسم نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔”میں نین سے بہت محبت کرتا ہوں لیکن اپنی محبت میں میں اُسکی محبت کو کیسے بھول سکتا ہوں اُسکی خوشی کا گلا دبا کر میں اپنی خوشی کیسے اس پہ مسلط کر سکتا ہوں ۔۔۔۔پہلے میں بھی اس شادی کو لے کر پر جوش تھا لیکن جب مجھے یہ پتہ چلا کہ نین اور شیری ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور بس گھر کہ بڑوں کی خوشی کی حاطر وہ اپنی محبت کی قربانی دے رہے ہیں صر اس لیے کہ اتنے سالوں بعد ایک بھائی کا اپنی بہن سے ملن ہوا ہے تو کہیں ان کی محبت کا سن کر پرانی رنجشیں واپس پیدا نا ہو جائیں ان دونوں نو چھپکے سے اپنی ارمانوں کا خون کر دیا ” تھوڑی دیر کو وہ رکا نین کی بے یقین نظروں کو دیکھا جیسے سمجھ نا پا رہی ہو کہ قاسم کو یہ سب کیسے پتہ؟ کیا شیری نے کچھ بتایا ہے۔۔۔۔پھر نین کہ قریب آ کر بولا۔۔۔۔”ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ اہ تم اس لیے پریشان ہو کہ مجھے یہ سب کیسے پتہ چلا؟؟ میں بتاتا ہوں کہ کیسے پتہ چلا اور میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے وقت رہتے سب پتہ چل گیا ورنہ میں خود کو کبھی معاف نا کرتا ۔۔۔۔ ہماری انگیجمنٹ والے دن میں اپر آیا تھا ایک بار تسلی کرنے کہ کیا واقعی تم اس رشتے سے حوش ہو کہ نہیں ۔۔۔ لیکن جب میں گیا تو شیری آل ریڈی موجود تھا اور تب میں نے تم دونوں کی ساری باتیں سنی۔۔۔ساری باتیں سننے کہ بعد بھی کہیں نا کہیں ایک اُمید تھی لیکن وہ اُمید بھی ٹوٹ گئی جب شیری نے تم سے پوچھا کہ ایک بار کہہ دو کہ تمہیں اسے محبت ہے یاں نہیں۔۔یقین مانو اس وقت میرے دل سے دعا نکلی تھی کہ تم انکار کر دو لیکن شاید میری قسمت میں تم کبھی تھی ہی نہیں تم نے اپنی محبت کا اقرار کیا تو میں پلٹ آیا ۔۔۔۔چاہتا تو اسی وقت رشتہ ختم کر کہ چلا جاتا ۔۔۔ لیکن میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کب تک تم دونوں تماشہ دیکھو گے کبھی نا کھی تو زبان کھولو گے نا۔۔۔۔لیکن میں غلط ثابت ہوا تم دونوں اتنے ڈھیٹ ہو نا قسم سے منگنی ہو گئی ۔۔۔۔پھر میں نے جلدی شادی کا شور مچایا کہ شاید اب تم دونوں بولو گے تم نا سہی شہریار ضرور بولے گا ۔۔۔لیکن تم دونوں نے تو جدا ہونے کا فل پلان کر لیا تھا۔۔۔۔اگر آج میں خود نا بولتا تو تم تو اپنی محبت میرے نام کر کہ جا چکے تھے۔اب کی بار شیری کی طرف گھوم کر بولا ۔۔۔ اور پھر نین کا ہاتھ شیری کہ ہاتھ میں دے کر بولا۔۔۔۔
تم دونوں ایک دوسرے کیلیے ہی بنے ہو جدا ہو جاؤ گے تو مر نہیں جاؤ گے ۔۔۔ آنکھ مارتے ہوۓ بولا۔۔۔۔نین نے شیری کی طرف دیکھا تو اس کہ چہرے پہ چاندنی بکھر گئی ،،،،اور پھر ان دونوں نے ہونق بنے سب کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھوپھا جی ان دونوں نے جو بھی کیا سب آپکی خوشی اور اس گھر کی خوشی کیلیے کیا ہے۔۔۔ اب پلیز آپ سب بھی ان کی خوشی کی حاطر پرانی باتیں بھول کر ان کی خوشی میں شامل ہو جائیں۔۔۔قاسم کی بات پہ شیری نے اس آگے بھڑ کر گلے سے لگا لیا اور اسکہ تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔۔۔اور کیوں نا کرتا اپنی محبت کو دل میں ہی مار کر اس نے ان دونوں کی محبت کو زندہ رکھا تھا۔ وہ تو واقعی شکریہ کہ قابل تھا اور شاید شیری اب ساری عمر اسکہ شکرگزار ہی رہنے والا تھا۔ ۔۔۔۔۔ سب ایک دم خاموش تھے۔۔۔ نین نے شیری کا ہاتھ چھوڑ دیا اس پتہ تھا جو اس نے سوچا ہے ویسا ہی ہو گا کوئی نہیں مانے گا ۔۔۔۔نین مُڑ کر جانے لگی جبھی پاپا بول اُٹھے
“تم جا رہی ہو تو نکاح کیا میں پڑھوا لوں شہریار کہ ساتھ” نین نے فوارً مڑ کر دیکھا تو سارے لائونج میں زوردار قہقہ ابھرا ۔۔۔ سکندر علیم کو مُسکراتا دیکھ کر باقی سب کہ چہرے بھی کھلکھلا اُٹھے ۔۔۔۔نین بھاگ کر پاپا سے لپٹ گئی اور مارے خوشی کہ آنسو اسکہ گال بھیگونے لگے۔۔۔۔۔
نکاح کی رسم باحیروآفیت انجام پائی ۔۔۔تو تب تک قاسم اور باقی کزنوں نے مل کر اوپر والا کمرہ سجا دیا وہ شیری کہ ہی زیرِ استعمال تھا ۔۔۔ یہ سب سے انوکھی شادی تھی جو دلہن کو ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے میں رخصت ہو کر جانا تھا ۔۔۔سب خوش تھے سب کہ دل پرسکون ہوگۓ تھے۔۔۔۔۔نکاح کہ بعد نین کو اسکہ کمرے میں پہنچا دیا گیا۔۔۔۔سُرح لباس میں نکھری نکھری سی نین سکندر آج مطمئن تھی۔۔آج کوئی انجانا اندیشہ نہیں تھا۔۔۔۔
ایک دھڑکے سے کمرے کا دروازہ کھولا اور شیری اندر داخل ہوا ۔۔۔۔ شیری کو دیکھ کر نین کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔۔۔۔خیا سے چہرہ گُلابی ہونے لگا تھا
وہ دھیرے سے اسکہ پاس بیٹھ گیا اُسے دیکھنے لگا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو” نین نے فوارً پوچھا
“دیکھ رہا ہوں خواب جب حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آتے ہیں تو کتنے حسین لگنے لگتے ہیں” اُسکہ ملائم گالوں کو چھوتے ہوۓ بولا تو نین شرما کر پیچھے ہونے لگی جب اُسنے اُسکی کلائی تھام کر ایک جھٹکے سے اسے خود سے قریب کیا اور بولا۔۔۔۔۔”اب تو تم میری بیوی ہو اب کیسا شرمانہ۔۔۔ارے بھئی شوہر ہوں تمہارا اب اتنا حق تو بنتا ہے نا کہہ کر نین کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا اور پھر وہ اٹھا الماری کی طرف گیا اور وہاں ایک باکس جو کہ پیک تھا اٹھا کہ اسکہ پاس آیا اور اسے پکڑتے ہوۓ بولا “یہ تمہارا ویڈنگ گفٹ”۔
“یہ کیا ہے”؟؟ نین نے فوراً اشتیاق سے پوچھا ۔
“کھول کہ دیکھ لو” وہ ہنیوز اُسکی مسکراتی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولا تو نین آہستہ سے پیکنگ کھولنے لگی۔
وہ پیکنگ اتار چُکی تھی اور اب اس کہ ہاتھ میں وہی روشن جس کی چمک اب بھی نین کہ چہرے کو روشن کر رہی تھی وہی سفید تاج مخل جو اسے ڈیزنی لیڈ میں پسند آیا تھا وہی جس کہ لیے اُسنے بہت منت کی تھی دوکاندار کی لیکن وہ کیونکہ سیل ہو چکا تھا تو دوکاندار نے صاف انکار کر دیا اور نین مایوس ہو گئی تھی۔ آج وہی تاج مخل اُسکا تھا۔اسکہ نے اتنے چمکدار تھے کہ سارے کمرے میں روشن زیادہ ہو گئی تھی۔ہاتھ میں تاج مخل تھامے اُسنے شیری کو دیکھا اور بولی۔۔۔
“یہ۔۔۔۔۔یہ تو وہی تاج مخل ہے جو مجھے پسند آیا تھا۔مگر یہ تو سیل ہو چکا تھا۔شیری تم نے کیسے لیا پھر جب کہ وہ دکاندار تو دینے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔پھر “؟؟؟؟
“تمہیں کیا لگتا ہے کیا صرف قاسم ہی تمہیں لیے منتیں کر کہ کسی کو راضی کر تمہاری پسند کی ہوئی چیر لا سکتا ہے”؟؟؟؟سوالیہ آبرو اٹھا کر پوچھا تھا
“ویسے مجھے جلنے کی بو آ رہی ہے بہت قسم سے ۔۔۔لگتا ہے کسی کا دل جل رہا ہے” وہ فوراً شوخی سے بولی تو شیری نے ناراض نگا اس پہ ڈالی اور پھر اس کہ پاس بیٹھتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔یہ تاج مخل کچھ بھی نہیں ہے اگر آسمان سے تارے توڑ کر لانے والا مہاورا درست ہوتا تو میں یقیناً وہ بھی کر گزرتا نین کہ گُلابی گالوں کو چھو کر بولا تو نین خود میں سمٹ سی گئی اور پھر بولی۔۔۔
چاند تارے توڑنے کو ضرورت نہیں ہے میں فل حال اس تاج مخل سے کام چلا لوں گی اور ساتھ ہی شرارت سے اٹھا کر جانے لگی تو شیری نے ہاتھ پکڑ کا روک لیا اور پھر خود سے قریب کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔ اب تم میری بیوی ہو اب کیسا شرمانا۔۔۔اب اتنا تو حق بنتا ہے نا ۔۔۔شیری کی بات پہ وہ خیا کی دیوی اسکہ سینے میں چہرہ چھپاۓ اپنے دل کی تیز ہوتی دھڑکن سننے لگی ۔۔۔نین کہ خیا سے گُلابی دھمکتے گال دیکھ کر شیری نے اسکہ ماتھے پہ پیار دیتے ہوۓ اس کہ ارد گرد باؤں کا گہراؤ کر لیا۔۔۔۔۔
اور وہ خیا کہ ہزاروں رنگ چہرے پہ سجاۓ شیری کی جنونی محبت پا رب کا شکر ادا کرتے ہوۓ ہوئے سے مُسکرا دی۔۔۔ایسی مسکراہٹ جو اب کبھی ختم ہونے والی نا تھی۔۔۔
اب وہ دونوں ایک ساتھ ایک بار پھر سے پیرس کی لمبی اُڑان بھرنے کو تیار تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت کہ ہزاروں رنگ ہوتے ہیں لیکن وہ ہزاروں رنگ محبت پا لینے کہ بعد ہی قائم رہتے ہیں۔۔محبت ایک عزیم جزبہ ہے جو صرف دو دلوں کو ہی نہیں جوڑتا بلکہ ان دلوں میں محبت کی چھاپ ایسی چھوڑتا ہے کہ پھر وہ ہر کہیں محبت کہ ان رنگوں بکھیرتے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔ایک آخر شیر محبت کہ ان دو پنچھیوں کہ نام
یہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں
بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے
ختم شد

Exit mobile version