فرخ سہیل گوئندی – میں تے منو بھائی

میں تے منو بھائی

منوبھائی سے میرا پہلا تعارف اُس وقت ہوا جب ہمارے گھر پہلا ٹیلی ویژن آیا۔ اُن کا مقبولِ عام ڈرامہ ’’جزیرہ‘‘ جس کو دیکھنے کے لیے ہم سب گھر والے بڑے اہتمام سے شام کو ٹیلی وژن کے آگے بیٹھ جاتے تھے۔ اس کے بعد اُن کا ایک اور ٹیلی ویژن ڈرامہ ’’جھوک سیال‘‘ جو سید شبیر حسین شاہ کے ناول کی ڈرامائی تشکیل تھی۔ اس ڈرامے کا ایک کردار وہ ملنگ تھا جو نعرہ مستانہ بلند کرنے کے بعد دھمال ڈالتے ہوئے کہتا، ’’پیر سائیں آندا اے تے مٹھے چول کھاندا اے‘‘ (پیر سائیں آتا ہے اور میٹھے چاول کھاتا ہے)۔ یہ جاگیرداری سماج کی چیرہ دستیوں کو بے نقاب کرنے والا ڈرامہ تو تھا ہی، ساتھ ہی ساتھ یہ جاگیرداری اور پیرخانے کے تاریخی اور گہرے تعلق اور اُن کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا تھا۔ اس ملنگ کا یہ جملہ سالوں زبانِ زدِ عام رہا۔ کم سنی میں سیاسی ایکٹوسٹ بنتے ساتھ ہی اُن کے کالم میرے جیسے لڑکے کے لیے نظریاتی تربیت کا سبب بنے۔ اور پھر جب سیاسی جدوجہد میں سفر بڑھنے لگا، منو بھائی سے تعلق قاری اور مداح کے ساتھ دوستی اور سیاسی ہمسفر میں بدلتا گیا۔ وہ پکے سوشلسٹ تھے۔ اپنے سماج اور زمینی حقائق اور ثقافت سے جڑے سوشلسٹ۔ میں اب ہمیشہ اس بات پر ایک عجب اور شان دار اطمینان کا اظہار کرتا ہوں کہ جب میں Teenage میں تھا تو میری دوستی سیاست، دانش اور علم وفکر کے اُن لوگوں کے ساتھ ہوگئی جو اُس وقت عمر کی ساٹھ اور ستر کی دہائی میں تھے۔جیسے ملک معراج خالد، حنیف رامے، نثار عثمانی، محمود مرزا، ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ محمد رشید، رائو رشید، حبیب جالب، ایلس فیض، ڈاکٹر انور سجاد، ظہیر کاشمیری، ملک محمد قاسم، فاروق قریشی اور لاتعداد لوگ۔ منوبھائی بھی اس کاروانِ فکر کے ہراول دستوں میں تھا۔ یونیورسٹی جانے سے پہلے میں نے جنرل ضیا کی آمریت کے عروج کے دَور میں پھانسی پر لٹکا دئیے جانے والے رہبر ذوالفقار علی بھٹو پر کتاب ’’میرا لہو‘‘ کے نام سے لکھی جس کو شائع کرنا تب ایک سنگین سیاسی جرم تھا۔ کوئی بھی پبلشر اسے شائع کرنے کی جرأت نہیں کرپا رہا تھا۔ پھر میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد اسے ازخود ’’جدوجہد پبلیکیشنز‘‘ کے نام سے شائع کردیا۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی کی صدارت ایلس فیض صاحبہ نے کی اور کتاب کا دیباچہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے لکھا۔ چڑھتی جوانی میں ایسے سیاہ دَور میں کتاب لکھ مارنا، کسی کڑی سزا کا حق دار ٹھہرائے جانے سے کم نہ تھا۔ اور کتاب چند ہفتوں میں ہی مقبول ہوگئی۔ ڈیڑھ ماہ میں پہلا ایڈیشن دو ہزار یوں نکلا کہ جیسے کسی معروف ادیب کی کتاب کا قارئین کو انتظار ہو۔ جن لوگوں نے میری تحریر اور اس اشاعتی جرأت پر حوصلہ افزائی کی، اُن میں منوبھائی، پروفیسر وارث میر اور رائو رشید سرفہرست تھے۔ یکایک ’’میرا لہو‘‘ سیاسی وصحافتی حلقوں میں ایک مقبول کتاب بن گئی۔

انہی دنوں پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک اہم ترین جاگیردار رہبر کے ہاں ایک میٹنگ ہوئی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو فرخ سہیل گوئندی، بے نظیر بھٹو کے جلوسوں میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کے پرچم جلاتا ہے، اس کا ’’کام تمام کردیا جائے‘‘۔اس سلسلے میں پہلا حملہ لاہور پرل کانٹی نینٹل میں ہوا جب ایک کتاب کی رونمائی کی صدارت کرنے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو روانہ ہوئیں تو اس جاگیردار اور اس کے پروردہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے ہی ایک لیڈر کے غنڈوں نے مجھ پر یہ آوازہ بلند کرتے ہوئے حملہ کردیا کہ ’’اب لگائو امریکہ کے خلاف نعرہ۔‘‘ میں نے امریکہ کے خلاف نعرہ لگایا اور اُن پانچ غنڈوں نے میرے ساتھ وہ کیا کہ جس کے بعد زندہ بچ جانا ایک معجزہ تھا۔ اس دوران مرحوم بابا یونس ادیب مجھے کہتے رہے، بھاگو بھاگو۔ لیکن یہ تو ہوٹل کے سیکیورٹی والے تھے جو مجھے گھیرے میں لے کر یکایک ہوٹل کے تہ خانے میں لے گئے۔ اس دوران ہوٹل کے گیراج کے تمام بڑے شیشے ٹوٹ گئے۔ دوسرے دن اخبارات میں اس واقعے کی خبر کچھ ایسے الفاظ میں شائع ہوئی۔

’’فرخ سہیل گوئندی پر امریکہ کے خلاف آواز بلند کرنے پر پارٹی کے کارکنوں نے حملہ کردیا۔‘‘

میرا لہولہان بدن اور پھٹی قمیص۔ مجھ پر شرمندگی طاری تھی کہ گھر کس منہ سے جائوں۔ دوسرے روز منوبھائی نے کالم لکھا، ذوالفقار علی بھٹو کا لہو لکھنے والے فرخ سہیل گوئندی کا اپنا لہو بہا دیا گیا۔ منوبھائی میرے لیے ایک ادیب، دانشور، کالم نگار، ڈارامہ نگار اور شاعر ہی نہیں تھا۔ وہ ہماری جدوجہد کا ایک اہم ترین کامریڈ تھا۔منو بھائی اور ارشاد احمد حقانی میرے خطوط کو اپنے کالموں میں مکمل جگہ دیا کرتے تھے۔ مجھے یہ خطوط لکھنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ اخبارات کی ایڈیٹوریل انتظامیہ میرے آرٹیکل شائع کرنے سے کبھی کبھی اجتناب برتتی تھی۔ اس کا آسان رستہ میں نے یہ نکالا کہ ان دو اصحاب کو اپنا کالم خط بنا کر بھیج دیتا اور منوبھائی اور ارشاد احمد حقانی کئی مرتبہ صرف یہ لکھ دیتے کہ آج کا کالم فرخ سہیل گوئندی کے لیے وقف اور یوں یہ آرٹیکل خط بنا کر اپنے کالم میں شائع کردیتے۔

منوبھائی میری جدوجہد ہی نہیں میری زندگی کے اہم واقعات اور معاملات کے گواہ بھی تھے۔ دیگر سیاسی ساتھیوں کی طرح میری لیے بھی ازدواجی زندگی کے بندھنوں میں جڑ جانا ایک ثانوی مسئلہ تھا۔ اسی لیے جب میں 43سال کا ہوا تو شادی کا فیصلہ کر ہی لیا۔ ریما عبداللہ جو بیروت جیسے حسین شہر میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں، اُس نے تاریک راہوں کے اِس مسافر کا ہمسفر بننے کا فیصلہ کرلیا۔ منوبھائی اور بہت ہی پیارے ہمارے ڈاکٹر انور سجاد میری اس داستان کے روزِاوّل سے گواہ رہے۔ اور ایک رات ساڑھے بارہ بجے اپنی اُسی فیکس سے جہاں سے میں اُن کو اپنی تحریریں بھیجتا تھا، انہیں چند لفظوں پر مشتمل یہ سطور لکھ بھیجیں۔ "Now or Never" اور یہ کہ میں چند گھنٹوں بعد استنبول جارہا ہوں، جلد ہی ریما کو لے کر پاکستان آرہا ہوں۔

ریما کے پاکستان آنے اور میرا ہمسفر بننے پر جن لوگوں کو بہت زیادہ خوشی ہوئی، اُن میں منوبھائی، ڈاکٹر انور سجاد اور رائو رشید سرفہرست تھے۔ بس پھر منوبھائی کی ریما سے اتنی دوستی ہوگئی کہ کبھی کبھی مجھے حسد ہونے لگتا کہ منوبھائی میرے زیادہ دوست ہیں یا ریما کے؟ منوبھائی جیسے میرے سیاسی سفر کے دوران حوصلہ افزائی کرتے رہے، اسی طرح انہوں نے میرے اشاعتی سفر کی بھرپور حوصلہ افزائی ہی نہیں بلکہ ایسے خوشی کا اظہار کیا جیسے انہیں زندگی کی بڑی کامیابی مل گئی ہو۔ چند سال قبل لاہور میں انٹرنیشنل بُک فیئر میں ہم نے جب اپنی شائع کردہ کتابوں کا سٹال لگایا تو اس کی کامیابی کی پہلے دن ہی چاروں سو دھوم ہوگئی۔ ترقی پسند لٹریچر بلکہ سوشلسٹ لٹریچر بلکہ سوشلسٹ لٹریچر کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ اس کامیابی پر پاکستان کے ایک معروف دائیں بازو کے ایک صحافی نے صبح صبح مجھے فون کیا اور کہا، ’’سنا ہے کہ آپ کا سٹال بہت کامیاب رہا، بہت سیل ہوئی۔‘‘ میں نے کہا، ’’سیل نہیں، ہمارا Content کامیاب ہوگیا۔ لوگوں نے اس اشاعت کاری کو جو سراسر ترقی پسند ادب، تاریخ، سیاست اور دیگر علوم سے متعلق ہیں، اس کو قبول کرلیا ہے۔‘‘اس قابل احترام صحافی کے بعد میں نے خوشی سے منوبھائی کو فون کیا اور کہا، ’’سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں اشتراکیت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں ترقی پسندوں کی پہلی کامیابی کہ لاہور بُک فیئر میں سب سے زیادہ پذیرائئی ملنے والی کتابوں میں ہماری اشاعت کاری سرفہرست جا رہی ہے۔‘‘اُسی دن وہ جس خوشی سے جُمہوری پبلیکیشنز کے سٹال پر آئے، وہ منظر قابل دید تھا۔ اُن کا چہرہ طمانیت اور خوشی سے روشن تھا۔

اسی دوران ہم نے ترکی کے معروف اشتراکی شاعر ناظم حکمت کی ایک کتاب ’’انسانی منظرنامہ‘‘ شائع کرنے کا فیصلہ کیا جو منوبھائی کے قلم سے اردو زبان میں ڈھالی گئی۔ یہ اردو میں شائع ہونے والی ناظم حکمت کی واحد مکمل تصنیف ہے۔

منوبھائی کے ساتھ تین دہائیوں سے زائد کا سفرِ جدوجہد میرے لیے اب ایک نایاب سرمایہ ہے۔ وہ پانچ ماہ علیل رہے۔ میرے لیے اب وہ دن سب سے خوشی کا دن ہوتا جب میں اُن کے ہاں جاتا اور ہم دونوں مل کر باتیں کرتے، اسی دوران میں انہیں اپنے نئے فکری منصوبوں سے آگاہ کرتا۔ ایک دن جب میں نے سوشل میڈیا پر اپنے نئے پراجیکٹس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اپنا منہ ادھر کرو، تمہیں چومنا ہے۔ میں نے اپنا گال  اُن کے ہونٹوں کے قریب کیا تو انہوں نے کہا، نہیں اپنے لب قریب کرو، جہاں سے یہ شان دار بات تم نے مجھ سے شیئر کی ہے اور انہوں نے میرے ہونٹ چوم لیے۔ اس دوران ملاقات کا وقفہ ایک بار لمبا ہوگیا۔ فون آیا، ’’گوئندی تم کیوں نہیں آئے، اداس ہوں۔‘‘ کہنے لگے، ’’لاہور کا حُسن تم سے ہے، تم نہیں تو لاہور نہیں۔‘‘

چند ہفتے قبل میں جہانگیر بدر مرحوم کی برسی سے واپس گھر آرہا تھا تو پی پی پی کے رہنما عثمان ملک صاحب کا فون آیا کہ منو بھائی سے ملنا ہے۔ اُن کا فون نمبر اور ایڈریس بھیجو۔ تیسرے دن منوبھائی کا فون آیا کہ دوپہر کو بلاول بھٹو میرے ہاں آ رہا ہے۔ تم اُس سے پہلے آجانا۔ بنا سنورا منوبھائی، سائیڈ ٹیبل پر وہی کتاب رکھی تھی جو چار روز پہلے میں اُن کو دے کر آیا تھا۔ ایک ترک ادیبہ اور سیاسی رہنما یشار سیمان کے محترمہ بے نظیر بھٹو پر لکھے گئے ناول کا انگریزی ترجمہ۔ کتاب کا سرورق، بے نظیر بھٹو کی ایک نایاب تصویر جو شاید صرف میرے پاس تھی اور میں نے اس سرورق کے لیے وقف کردی۔ اور پھر یہ تصویر پورے میڈیا میں خوب شائع ہوئی اور ہو رہی ہے۔ بلاول بھٹو علیل منوبھائی سے ملاقات کرتے ہوئے اُن کے بستر کی جانب جھکے اور پہلو میں رکھی کتاب "Benazir"۔ ایک دن کہنے لگے، گوئندی پانچ ماہ سے بستر علالت پر ہوں، زندگی میں اس قدر طویل عرصہ بستر پر لیٹنے کا تجربہ پہلی بار ہوا ہے۔ اذیت ہے اذیت۔ انہی ایامِ علالت میںانہوں نے اپنی سوانح عمری لکھنے کا آغاز کیا، ’’میں تے منوبھائی‘‘۔ ملاقات پر باربار پوچھتے کہ میری یہ کتاب کب شائع کرو گے؟ میں جواب دیتا کہ جب آپ کتاب مکمل کرلیں گے۔ اور یوں پچاسی سال کی عمر میں اُن کی کتابِ زیست ‘‘میں تے منوبھائی‘‘ 19جنوری2018ء کو دن ڈھلے مکمل ہوگئی۔

Exit mobile version