کیا سنائیں حیات کا رونا

(Last Updated On: جولائی 8, 2022)

کیا سنائیں حیات کا رونا
عشق کی کائنات کا رونا
میری دنیا بدل گیا ہے سب
ہجر کے سانحات کا رونا
بیٹھا ہوں خواب کے مزاروں پر
لے کے میں حادثات کا رونا
تیری تصویر سے مخاطب ہوں
لے کے میں اپنی ذات کا رونا
ہو گیا ہے زدِ زباں حامی
شہر میں تیری مات کا رونا
٭٭٭

Exit mobile version