محبوب کی تلاش

مری پہنچنے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ سنو فال ہماری آمد کا سن کر چند گھنٹے پہلے ہی استراحت فرمانے چلی گئی ہے، یہ سن کر ہم بھی اپنے محبوب کی تلاش میں پیچھے پیچھے استراحت فرمانے لیٹ گئے کہ شاید خوابوں میں ہی ان خوبصورت سے موتیوں کو خود پہ گرتے دیکھنا نصیب ہو لیکن ساتھ ساتھ ہمیں اپنی شومی قسمت پر بھی الحمدللہ پورا پورا یقین تھا جو کہ ہر دفعہ غالب آ جاتی تھی، اور اس دفعہ بھی ہمیں اس نے ناامید نہیں کیا۔ سردی اتنی شدید قسم کی تھی کہ دو بڑی موٹی سی رضائیاں اوڑھنے کے باوجود بھی نیند ہمارے پاس آنے سے ایسے گھبرا رہی تھی جیسے بیچارہ جیری، ٹوم کے پاس جانے سے گھبراتا ہے۔ باقی سب کچھ تو ٹھیک تھا لیکن ہمارے پاؤں گرم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، پاؤں اس حد تک ٹھنڈے ٹھار یخ تھے جیسے سنو فال نے ادھر سے ہی نکلنا ہو۔ بڑی مشکل سے جا کر نیند آئی اور جیسے ہی نیند آئی تھوڑی دیر کے بعد زور زور سے دروازہ کھٹکنے لگا، مجتبیٰ بیٹا دروازہ کھولیں کھانا تیار ہو گیا ہے، آواز جانی پہچانی تھی، لیکن ہم نے اپنی شاہانہ طبیعت کے مطابق اس آواز کو یکسر نظر انداز فرمایا اور بیڈ کی دوسری طرف منہ کر کے سو گئے کہ اتنے میں اس جانی پہچانی آواز میں واضح غصہ آ گیا تو ہمیں بھی یاد آیا کہ ہم نہ تو اپنے گھر پہ ہیں اور نہ ہی ہاسٹل میں بلکہ آنٹی سمینہ کے مہمان ہیں اور جیسی آنٹی کی ماشاءاللہ صحت تھی مجھے ڈر لگ گیا کہ اب دروازہ نہ کھولا گیا تو انہوں نے دروازہ توڑ کر اندر آ جانا ہے اور ہمیں پھوڑ کر باہر پھینک دینا ہے، میں اٹھا ایک لات مجتبیٰ بھائی کو رسید دی، ایک زوہیب بھائی کو ماری اور آنکھ ملتے ہوئے دروازہ کھولنے جانے لگا تو زوہیب بھائی نے انتہائی خوبصورت سی گالی دی جس نے ہمیں دوبارہ اپنی طرف زور سے کھینچا، ہم واپس آئے، ایک اور لات زور سے زوہیب بھائی کو ماری اور بھاگتے ہوئے آ کر دروازہ کھولا تاکہ دونوں طرف کے حالات کی سنگینی سے بچا جا سکے، اتنے میں زوہیب بھائی ہماری شان میں گستاخی کرنے کے لیے جلدی جلدی اٹھے، سامنے آنٹی کو دیکھ کر ہڑبڑا کر بولے آنٹی میں دروازہ کھولنے ہی آ رہا تھا جس پر آنٹی نے بھی کیا کمال برجستہ جملہ زوہیب بھائی کے منہ پہ دے مارا کہ "ارے بیٹا آرام سے لیٹ جائیں میں آئندہ دروازہ آپ کے بیڈ کے پاس ہی لگواؤں گی” جس پر آنٹی سمیت ہم سب ہنس دیئے۔
گوشت، بریانی اور سبزی میں کدو شریف، مینیو کا حصہ تھے۔ کھانا کیا عمدہ قسم کا لذیز بنا ہوا تھا جسے کھانے کے بعد میں نے شرماتے ہوئے آنٹی سے کہا کہ آنٹی اگر ایسا کھانا بنانے والی کوئی خوبصورت سی کنیا کماری آپ کی نظر میں ہو تو میں ویسے شادی کی عمر کو پہنچ چکا ہوں، جس پر آنٹی نے مسکراتے ہوئے اپنے خوبصورت سے پہاڑی انداز میں کہا کہ بیٹا لڑکیاں تو بہت مل جائیں گی لیکن آپ کے علاقے میں رہ نہیں پائیں گی، جس پر ہم نے پھیکی ہنسی کے ساتھ آنٹی کو کہا کہ آنٹی اب ایسی بھی بات نہیں ہے،ہلکے ماڑے خوبصورت تو ماشاءاللہ سے ہم بھی ہیں اور دیکھیں اپنے علاقے میں رہ رہے ہیں نا جس پر آئیں شائیں کرتے ہوئے آنٹی برتن اٹھا کر چلی گئیں اور ہم بھی باہر جانے کا پلین بنانے لگے کہ ذرا مال روڈ کا چکر لگایا جائے۔
ہم جہاں پر رہ رہے تھے ،وہ گھر پہاڑوں پر بنے ہوئے تھے، اور وہاں جانے کے لیے پہاڑوں کو کاٹ کے بلاکس کی صورت میں انہیں سیڑھیاں بنایا گیا تھا تاکہ اوپر گھروں کی طرف جانے اور اترنے میں آسانی ہو۔ جن ہم یہاں پہنچے تو اوپر جاتے وقت ہمیں زیادہ مسئلہ درپیش نہیں ہوا لیکن جب اترنے لگے تو پتہ چلا کہ پاتال کا راستہ تو آنٹی سمینہ کے گھر کو ہو کر جاتا ہے، ان بلاکس پر برف مکمکل جمی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ بلاکس حد سے زیادہ پھسلن زدہ بن چکے تھے جن پر چلتے ہوئے لنگی ڈانس خود بخود باہر نکل رہا تھا، شکر ہے میں اپنے جاگرز بھی ساتھ لایا تھا جس کی وجہ سے مجھے زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا، زوہیب بھائی نے سمپل بوٹ پہنے ہوئے تھے میرا تو خیال تھا بلکہ خواہش بھی یہی تھی کہ یہاں سے ہم زوہیب بھائی کی باڈی کو بذریعہ ایمبولینس لے کر جائیں گے لیکن افسوس ان کی سانڈھ جیسی جسامت نے اس موقع پر ان کا بھرپور ساتھ دیا وہ جہاں پر بھی اپنا قدم رکھتے وزن کی وجہ سے قدم جم جاتے اور انہیں بھی اترنے میں زیادہ مسئلہ نہ ہوا، اب رہ گئے مجتبیٰ بھائی، ایک تو انہوں نے بالکل سمپل سے بوٹ پہنے ہوں اور اوپر سے ماشاءاللہ ان کی پہلوانی صحت نے اس موقع پر انہیں خوب بڑھ چڑھ کر رسوا کیا، آنٹی نے لوہے کی ایک سٹیک مجتبیٰ کو دی تھی تاکہ اترنے میں مدد مل سکے، آگے آگے میں تھا زوہیب میرے پیچھے اور مجتبیٰ بھائی سب سے آخر میں اتر رہے تھے، ابھی ہم چار پانچ بلاکس ہی نیچے اترے ہوں گے کہ مجتبیٰ بھائی نیچے اترتے ہوئے پھسلے اور سیدھے نیچے کی طرف گرے، تین چار میٹر تک وہ نیچھے ہوا میں گر ہی رہے تھے، یہاں مجتبیٰ سمیت ہم سب کی چیخیں، اچانک سامنے ایک بہت بڑا درخت تھا جس کی ٹہنی کو گرتے ہوئے پتہ نہیں کیسے بہت مظبوطی سے مجتبیٰ نے پکڑ لیا، یہ وہ محاورہ بن گیا کہ آسماں سے گرا کھجور میں اٹکا خیر پھر وہیں پر لٹک کر کھڑے ہو گئے اور جلدی جلدی تھوڑا اوپر ایک بلاک پر چھڑ کر بیٹھ گئے اور ہم سب نے خدا کا شکر ادا کیا ۔مجتبیٰ بھائی کی جیسی صحت ہے وہ مزید ایک سیکنڈ بھی ہوا میں رہتے تو یقیناً نیچے پہنچنے سے پہلے جناب اوپر پہنچ جاتے۔
مال روڈ پر بہت زیادہ رش تھا ، ہر طرف کپلز ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پھر رہے تھے، کسی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے اور کچھ شاید نئے نویلے جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق میں مصروف تھے اور اس انتہائی خوبصورت سے موسم میں ایسے تمام دلخراش مناظر ہم جیسے شدید قسم کے forever سنگل حضرات کے لئے برف کی بجائے آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلے بن کر برس رہے تھے جو کہ اب ناقابل برداشت ہو چکے تھے، ہم نے کافی پی اور وہاں سے چلتے بنے ، ادھر ادھر تھوڑا سا گھومنے پھرنے کے بعد ہم واپس پاتال نگری یعنی کہ موت کے کنویں میرا مطلب آنٹی سمینہ کے گھر جا کر سو گئے۔
صبح اٹھے تو تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی، نہ بادل نہ بارش اور نہ سنو فال کا کہیں امکان۔ ہم نے آنٹی سے پوچھا کہ آنٹی یہ کیا ظلم ہے آپ تو کل کہہ رہی تھیں کہ آج سنو فال کا امکان ہے، یہاں پر سنو کو تو چھوڑ دیں، فال کو بھی چھوڑ دیں، ہلکے پھلکے بادلوں کا بھی کہیں پہ کوئی نام و نشان تک نہیں ہے، آنٹی سمینہ بھی بڑی مزاقیہ خاتون واقع ہوئیں کہتی ہیں ارے بیٹا اب میں کوئی موسم کی فرشتہ تو ہوں نہیں کہ ادھر میں نے کہا اور ادھر سنو فال شروع، اب مری کے موسم کا کوئی پتہ نہیں چلتا آپ کچھ دن مزید رہو پھر سنو فال ضرور ہو گی، یہ سن کر میں نے آنٹی سے کہا کہ اب ہم کہیں آگے جاتے ہیں آنٹی کیونکہ کچھ دنوں تک اگر میں واپس کلاس میں حاضر نہ ہوا تو ابو جان کو پتہ چل جانا ہے کہ میرا شہزادہ بیٹا اعلیٰ تعلیم کے لیے رحیم یار خان سے مری چلا گیا ہے تو ابو جان نے کہنا بیٹا مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے آگے افغانستان نکل جائییو پر واپس ادھر شکل مت دکھائییو، بس بیٹا پھر جیسے آپ کی مرضی ، آنٹی نے کہا۔موسم کو دیکھتے ہوئے ہم نے سوچا کہ آج موسم فٹ ہے سر تو دھو ہی لیں گے، واش روم گئے، ٹوٹی کھولا پانی کی بجائے برف گرنا شروع ہو گیا، بالٹی میں دیکھا تو پانی برف بن چکا تھا ، ہم نے پانی کے تیکھے تیور دیکھ کر اس سے کسی بھی قسم کی چھیڑ خانی کرنے کے جملہ پروگرامز کو ایک جھٹکے سے کوسوں دور بھگایا، آنٹی سے اجازت لے کر مظفرآباد کے لئے نکل گئے۔
راستے بے حد حسین تھے،سڑک کے دونوں اطراف سفید رنگ کے خوبصورت محافظ بہت بڑی لمبی قطار بنائے سڑک کے حسن میں بے پناہ اضافہ کر رہے تھے، ایسی جگہ پر محفوظ ڈرائیونگ ناگزیر تھی اور اس بات کا بہت خیال رکھا گیا۔ سفر کٹتا رہا گاڑی چلتی رہی آنکھوں نے قدرت خداوندی کا سیر ہو کر نظارہ کیا پر جی نہ بھرا۔ شام کے وقت ہم آزاد کشمیر کے دارالحکومت یعنی مظفرآباد میں بخیر عافیت سے پہنچ گئے، زوہیب بھائی نے اپنے انکل میجر الیاس صاحب کو فون کیا کہ انکل ہم فلاں جگہ پر کھڑے ہیں جس پر انہوں نے ہمیں وہاں دس منٹ رکنے کا کہا اور پانچ منٹ کے اندر وہاں آرمی کی ایک گاڑی آ گئی، جسے فالو کرتے ہوئے ہم اس کے پیچھے پیچھے چل دیئے اور تھوڑا آگے چل کر ایک اور آرمی کی گاڑی ہمارے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہو گئی ، اب ہماری گاڑی درمیان میں تھی، آگے پیچھے آرمی کی گاڑیاں۔ پہلی دفعہ وی آئی پی پروٹوکول میں آ کر ہم نے سب سے پہلا اور مشترکہ فیصلہ یہ کیا کہ آج کے بعد بھٹی صاحب جیسے واحیات اور چھوٹے انسان کے ساتھ ہم دوستی کے سارے تعلقات ختم کرتے ہیں(ہمارے ایک کامن فرینڈ ہیں جو کوک میں ایک بڑی ہوسٹ پر آفیسر ہیں) اسی دوران ہم مظفرآباد آرمی کینٹ پہنچ گئے جہاں ہمیں ایک خوبصورت سے کمرے میں لے جایا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد میجر الیاس صاحب خود آ گئے اور آ کر بہت گرمجوشی سے ہمارے ساتھ ملے اور کہا کہ سوری بچو میں ایک میٹنگ میں تھا اسی وجہ سے خود نہ آ سکا ، خیر حال احوال کے بعد کھانے کا وقت بھی ہو گیا پھر کھانا لایا گیا اور ہم سب نے بیٹھ کر ساتھ ہی کھانا کھایا اور میں نے سب سے پہلے کھانا بس کیا جس پر میجر صاحب نے کہا کہ بیٹا کھائیں بس کیوں کر دیا ، میں نے کہا انکل ہم دیہاتی سے بندے ہیں دودھ اور دہی کے شوقین تو اس طرح کا کھانا زیادہ کھایا نہیں جاتا جس پر میجر صاحب نے شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا”بیٹا آپ کی شکل دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ آپ نے کبھی دودھ دہی کی شکل تک بھی دیکھی ہو گی ” اس میٹھی میٹھی بے عزتی پر ہم نے پھیکی ہنسی کے ساتھ مجتبیٰ بھائی کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے لسی یا مکھن کے بارے میں کوئی بھی بات کرنے سے سختی سے منع فرمایا کیونکہ ان کی صحت ماشاءاللہ ہم سے بھی دو ہاتھ آگے تھی۔ خیر میجر صاحب بہت جولی طبیعت کے مالک تھے رات دیر تک گپ شپ لگی رہی پھر ہمیں نیند کا کہہ کر وہ چلے گئے، تھوڑی دیر کے بعد مجتبیٰ بھائی واشروم گئے دو منٹ کے بعد باہر نکلے ہیٹر اٹھایا اور اپنے ساتھ باتھ روم لے گئے اب اس سے سردی کی شدت کا اندازہ خود لگائیں۔ ہم تھوڑی سی واک کے لئے کمرے سے باہر نکلے تو ایک اہلکار گن تھامے ادھر ادھر پھر رہا تھا ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ ساری رات ایسے جاگتے ہیں اور اگر کوئی اچانک رات کو آپ کے سامنے آ جائے تو ؟ فوراً گولی مار دیتا ہوں ، انہوں نے جواب دیا۔ جس پر دل کو چیرتی ہوئی اک آہ نکلی کہ کاش زوہیب بھائی کو خراٹوں کے ساتھ ساتھ نیند میں بھی چلنے کی عادت ہوتی تو کتنا مزا آتا۔

Exit mobile version