کی حیثیت سے عالمی سطح پر جانی جاتی ہے۔

اردو کی ترویج و اشاعت کی دنیا سے وابستہ افراد اس امر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اردو زبان کس طرح انٹرنیٹ پر منتقل ہوئی اور روز افزوں ترقی کی منازل طے کرتی جارہی ہے۔

تقریباً 24 سال قبل 1995 میں پہلی بار نوری نستعلیق خط کے ساتھ دائیں جانب سے لکھی جانے والی زبانیں اردو، فارسی اور عربی کے لئے مکمل پیج لے آ وٹ سافٹ ویئر پیکج"ان پیج اردو "کے نام سے آ یا تھا، جس سے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اردو سے منسلک اور بہی خواہ حضرات اپنی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہیں۔

اب جبکہ تکنیک کے میدان میں مختلف قسم کی آ سانیاں پیدا ہوچکی ہیں تو ان پیج اردو کا دوسرا حصہ ”ان پیج پروفیشنل“ بھی کافی حد تک مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر علم کے ہر شعبہ میں معلومات کا حاصل ہونا ایک عظیم نعمت سے کم نہیں۔

آ ن لائن ادبی تقریبات کے انعقاد کو اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جہاں تک ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کا تعلق ہے برقی دنیا میں کام کرنے والے تمام گروپس، ادارہ جات میں اس ادارے کو اس لئے بھی انفراد حاصل ہے کہ ادارہ ہذا نے محض روایتی مضامین کا اعادہ نہیں کیا ، بلکہ نئے تجربوں کے استعمال سے ادب میں مختلف امکانی صورتیں پیدا کیں۔

ادارہ اپنے اخلاقی اور مقصدی نظریہ کے تحت صرف طرحی مشاعروں کے بجائے صنائع و بدائع اور موضوعاتی تجربوں کو فن کی اساس سمجھتا ہے۔

ادارہ کی ایک منفرد نوعیت تمام پروگراموں کا برائے تنقید پیش کیا جانا ہے، تنقید کیلئے ایک مخصوص ، تربیت یافتہ، فن شناش، اور بالیدہ ذہن کی ضرورت ہوتی ہے، جس کیلئے ادارہ کے پاس محترم مسعود حساس، ڈاکٹر شفاعت فہیم، شہزاد نیر جیسے عظیم ناقدین موجود ہیں۔ جو پیش کردہ تخلیقات کے عیوب و محاسن پر بےلاگ گفتگو کرتے ہیں۔

شہزاد نیر اور شفاعت فہیم گاہے گاہے جبکہ مسعود حساس تسلسل سے شعر کے فنی لوازم اور لسانی برتاؤ کے رموز کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔بالخصوص مسعود حساس صاحب کا طرز گفتگو، لفظیات کی ادائیگی، بلند آ ہنگ لئے لہجہ کی آ ہستگی اور شائستگی۔ وہ جب شعر پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کا موقف شعر کی تخیلی فضا کی تشکیل پر اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ شاعر کے آ ہنگ کے علاوہ دیگر شعری وسائل مثلاً ترکیب سازی، استعارہ، علامت، پیکریت، کچھ بھی ان کی نظر سے اچھوتا نہیں رہتا ۔

میں منتظمین ادارہ سے ملتمس بھی ہوں اور سفارش گذار بھی کہ وہ ادارہ سے ان علمائے ادب کی وابستگی کو یقینی بنائے رکھے۔

شعراء اور ادارہ کے مابین ایک مستحکم رشتہ بنا ئے رکھنے میں احمر جان صاحب، احمد منیب صاحب اور صابر جاذب صاحب کے ہمہ جہت کردار کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ادارہ کی بقاء اور اس کے مقاصد کی تفہیم و ترسیل میں رواداری اور ادب دوستی کے جذبہ سے بےلوث خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

دیگر تمام تخلیق کار ادارے کا قیمتی اثاثہ ہیں جو اپنے اپنے طور پر اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، ان کی صلاحیتیں اور تخلیقی ہماہمی ادارے کو توانائی بخشے ہوئے ہے۔

ادارہ  نت نئے لسانیاتی پروگرام منعقد کرتاہے۔ "نت نئے لسانیاتی پروگرام" یہ جملہ خود میں بڑی معنویت رکھتاہے اس طرح کے پروگرامز سے فنکار کی وابستگی اس کی ادبی شخصیت کے منفرد و مستند ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

ادارے کے چیئرمین و روح رواں محترم توصیف ترنل صاحب ایک متحرک و فعال شخصیت کا نام ہے، جنہوں نے ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے پلیٹ فارم سے زائد از دوصد کامیاب پروگرامز منعقد کرکے ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دے دیا ہے، اس مرحلہ کو سر کرتے ہوئے وہ مختلف نشیب و فراز سے گزرے، زوال پذیر ہوتی ہوئی ادبی قدروں سے بھی ان کا واسطہ پڑا۔ گاہے بگاہے ان کے سمجھ میں نہ آ نے والے بیانات دراصل اسی صورت حال سے پیدا شدہ اضطرابی کیفیت سے دوچار المیہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ویسے انہیں شاعر کے منصب اور فن شعر کی معیاری قدروں کا پورا ادراک ہے۔ وہ شاعر کو سنجیدہ تہذیبی اور تاریخی روایت کا امین بھی تصور کرتے ہیں۔

توصیف ترنل صاحب نے عرب و عجم، وسط ایشیا اور یورپی ممالک میں بسنے والے شعراء و ادباء کو ادب کیلئے کی جانے والی اپنی بےلوث محنت شاقہ سے کافی حد تک متاثر کیا ہے۔

عالمی ماہنامہ ”آ سمان ادب“ بھی ادارہ کا ایک زرّیں سلسلہ ہے جس کو محترم انور کیفی صاحب و کل مجلس ادارت بحسن و خوبی جاری رکھے ہوئے ہے۔

کسی بھی ادارہ، گروپ، تنظیم میں اشخاص کی شمولیت و اخراج ایک عام سی بات ہے، پھر بھی یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ ایک ادیب و شاعر سماج اور زمانہ کا تجزیہ اور مشاہدہ کر نے کے عمل میں سماج کے دوسرے افراد سے زیادہ حساس ہوتاہے، عزت نفس اس کیلئے عزیز ترین شئے ہے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی بھی عمل اس حساس طبقہ کی دل شکنی کا مؤجب نہ بنے اور ہمارا کاروان ادب وسیع تر ہوتا جائے۔۔

مجھ حقیر فقیر کو ادارہ نے اس روحانی محفل میں عہدہء صدارت بخشا اس کیلئے میں سراپا شکر گذار ہوں۔ گرچہ میں بلا مبالغہ کہیں سے بھی اور کبھی بھی خود کو اس قابل نہیں سمجھتا ۔۔

آ خر میں توصیف ترنل صاحب وجملہ منتظمین کی نذر ایک شعر کرتے ہوئے اجازت چاہوں گا۔۔

فراز دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ

جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

 

  و آ خر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین

 

       تہذیب ابرار بجنور انڈیا

آخر پر خاکسار تمام اراکین ادارہ کی خدمت میں ایک اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔

خاکسار

احمدمنیب۔ لاہور پاکستان

اختلافِ رائے اور ہمارا رویہ
افریقہ کا مغربی اسلامی ملک موریتانیہ
یورپ کا مسلم اکثریتی ملک البانیہ
سیکولر یورپی تہذیب کا ایک اور بیمار تحفہ ایڈز
کوٹری سے لانڈھی تک کا سفر
637577757851202436Malik Siraj Ahmad
نومولود کی پرورش و تربیت کا نبوی طریقہ
سید عارف معین بلے کا ادبی سفر
نئے سر، آخری بار السلام و علیکم
نسائی لب و لہجے کی ممتاز شاعرہ میناؔ نقوی کے سانحہ ارتحال دوسری برسی پر منظوم تاثرات
خلا میں خواتین

خلا میں خواتین

نیوٹن کے قوانین میں کیا خاص ہے؟

Welcome Back!

Login to your account below

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.