یں مر سکتا‘‘ میں نور محمد نور کپور تھلوی کو نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں:
’’نور محمد نور کپور تھلوی اِس لیے مقدر کے سکندر ٹھہرے ہیں کہ اُن کی موت کے بعد بھی اُن کو زندہ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔۔۔جس بندے کے رانا افتخار احمد جیسے ہونہار بیٹے ہوں جو اُس کے نام پر مسجدیں بنوا سکتے ہوں اور ڈاکٹر اظہار احمد گلزار جیسے مخلص اور ان تھک بھتیجے ہوں جو اُس کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے ادبی محفلیں سجانے کا حوصلہ رکھتے ہوں اور اُس کی پچیس تیس سالوں کی کمائی کی بکھری سطروں کو اکٹھا کر کے ’’کُلیاتِ نور‘‘ کی شکل دینے کا معجزہ دکھا سکتے ہوں۔۔۔وہ بندہ کبھی نہیں مرتا۔۔۔وہ زندہ رہے گا ، ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘‘(۱۶)
سچ تو یہ ہے کہ اب دُنیا میں کہیں ایسا دانش ور دکھائی نہیں دیتا جسے نور محمد نور کپور تھلوی جیسا کہا جائے۔ نور محمد نور کپور تھلوی کا اسلوب لافانی ہے۔۔۔وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ دُنیا میں جہاں بھی بزمِ ادب سجے گی وہاں اُن کا ذکر ضرور ہو گااور ہر عہد کے ادب میں اُن کے اسلوب کے مثبت اثرات موجود رہیں گے ۔ علم و ادب کا یہ خورشید جہاں کبھی غروب نہیں ہو سکتا اور یہ کسی اور اُفق پر اپنے نام کی تفسیربن کر علم و نور کی تابانیاں پھیلا رہا ہو گا ۔ نور محمد نور کپور تھلوی اپنی ذات میں ایک انجمن اور دبستان ِ علم و ادب تھے۔ اُن کی وفات ایک بہت بڑا قومی سانحہ ہے۔ اس پر ہر دل سوگوار اور ہر آنکھ سے جوئے خوں رواں ہے۔ یہ دُنیا بلاشبہ دائم رہے گی لیکن نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ اس جری تخلیق کار کی زندگی ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز پرورش ِ لوح وقلم میں گزری لیکن اُن کے افکار میں سمندر کی سی بے کرانی ہے۔ زندگی کا کوئی بھی عکس سامنے آئے ہر عکس میں ان کے خدوخال قلب و نظر کو مسخر کر لیتے ہیں۔۔۔اُن کی وفات کے بعد ادبی محفلوں میں ضُو فشاں چراغوں کی روشنی ماند پڑ گئی ہے اور وفا کے سب ہنگامے عنقا ہو گئے ہیں۔ حیف صد حیف ایک سراپا خلوص شخصیت نشیبِ زینۂ ایام پر عصا رکھتے ہوئے عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھار گئی۔ تقدیر کے چاک کوسوزن تدبیر سے کبھی رفو نہیں کیا جا سکتا۔ دائمی مفارقت دے کر پیوند خاک ہونے والوں کے الم نصیب مداح اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سیر جہاں کا حاصل حیرت اور حسرت کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔قلم میں اتنی سکت نہیں کہ تقدیر کے ستم حرف حرف لکھ کر اپنے جذباتِ حزیں کا اظہار کر سکے۔
ڈاکٹر اِفضا ل احمد انور نے چودھری نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات حسر ت آیات پر قطعہ تاریخ رقم کیا ہے:
راہِ سُخن کا قائد ، نور محمد چودھری
عابد ہے اور زاہد ، نور محمد چودھری
تاریخِ رحلت اُس کی افضال انور نے کہی
مغفور عبدِ واحد ، نور محمد چودھری
19.9.1997
ہماری محفل کے وہ آفتاب و ماہتاب جو غروب ہو گئے ہیں۔ ہم اُنھیں پرنم آنکھوں سے یاد کر کے اپنے دل کی انجمن میں اُن کی حسین یادوں کی شمع فروزاں رکھنے کی سعی کرتے ہیں۔ نور محمد نور کپور تھلوی سات عشروں سے زیادہ عرصے تک افق علم و ادب پر مثل آفتاب ضو فشاں رہے ۔ ان کے افکار کی ضیاء پاشیوں سے اکناف علم و ادب کا گوشہ گوشہ بقۂ نور ہو گیا۔ انسانیت کے وقار اور سربلندی کی خاطر انھوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ان کی اصلاحی اور فلاحی خدمات نے خزاں کے بے شمار لرزہ خیز مناظر میں بھی طلوعِ صبحِ بہاراں کے امکانات کو روشن تر کر دیا ۔ دُنیا کا نظام ایسی ہی یگانۂ روز گار ہستیوں کا مرہونِ منت ہے، جن کا وجود شجرِ سایہ کے مانند ہوتا ہے۔ وہ خود تو آلام روزگار کی تمازت برداشت کرتے ہیں لیکن آنے والی نسلوں کے لیے سکون اور راحت کی ٹھنڈی چھاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
ان کی زندگی دردمندوں اور ضعیفوں سے محبت کی شاندار مثال تھی۔ آلام روزگار کے مہیب پاٹوں میں پسنے والی مجبور مظلوم اور بے بس و لاچار انسانیت کے مسائل پر وہ تڑپ اُٹھتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی انھوں نے قلم و قرطاس سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن موت میں اتنا دم خم کہاں کہ ایسی ہفت اختر شخصیات کے اشہب قلم کی جولانیوں اور اصلاحی و فلاحی خدمات کی تابانیوں کو ماند کر سکے۔ جناب نور محمد نور کپور تھلوی نے اپنی تخلیقی فعالیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اصلاح اور مقصدیت کی جو شمع فروزاں کی وہ ہمیشہ ضُو فشاں رہے گی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی تابانیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔
اردو شاعری پر مبنی اُن کی تصانیف ’’زنبیلِ سخن‘‘ ،’’جہانِ رنگ و نور‘‘ اور ’’تھوہر کے پھول‘‘ کے علاوہ پنجابی شاعری پر مبنی ان کا ضخیم ’’کلیاتِ نور‘‘ اُنھیں شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں منفرد مقام پر فائز کریں گی۔
جب تک دُنیا باقی ہے اُن کا نام زندہ رہے گا ۔ حریتِ ضمیر سے جینے کی تمنا کرنے والوں کے لیے اُن کا کردار لائقِ تقلید رہے گا۔
زمانہ بڑے شوق سے سُن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے
ممتاز نعت گو شاعر ، محقق اور سکالر پروفیسر ڈاکٹر اِفضا ل احمد انور نے نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات پر منظوم تاثرات قلم بند کیے ہیں:
دُنیا کو اُس نے چھوڑ دیا ہے خفا کے ساتھ
واصل ہوا ہے نور محمد بقا کے ساتھ
اُس کی ہر ایک بات کی تھی بات ہی الگ
اُس کا ہر ایک کام تھا صِدق و صفا کے ساتھ
آئے ہیں اُس کی زیست میں صد ہا تغیرات
ثابت قدم رہا وہ دلِ باوفا کے ساتھ
گو ایک شام اُس کی نظر بند ہو گئی
دیکھا گیا وہ نورِ بصیرت فزا کے ساتھ
اُس کا خلوص بے غرض و بے نیاز تھا
دل اُس کا دھڑکتا دمِ اِتقا کے ساتھ
رکھتا تھا اُس کا فقر بھی شانِ شہنشہی
اُس نے بتائی زیست ہے صبر و رضا کے ساتھ
اولاد ، بھائی ، دوست سبھی اُس سے خوش رہے
ملتا تھا سب سے وہ دل درد آشنا کے ساتھ
رکھیں گے یاد اہلِ ہنر دیر تک اُسے
آیا وہ بزمِ شعر میں طرفہ نوا کے ساتھ
سالِ وفات اُس کا ہے انورؔ نے یوں لکھا
وہ ’’عظمتِ ادب‘‘ ہے سرِ ارتقا کے ساتھ
اُردو زبان و ادب کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی اجل کے ہاتھوں زمین بوس ہو گئی۔ حریت فکر و عمل کا یہ عظیم علم بردار اب ہمارے درمیان موجود نہ رہا۔ 19ستمبر 1997ء کی دوپہر اردو ادب کا یہ خورشید جہاں تاب فیصل آباد (پاکستان) کے افق سے غروب ہو کر عدم کی وادیوں میں غروب ہو گیا۔ تاریخ اور اس کے مسلسل عمل پر گہری نظر رکھنے والا اتنا عظیم دانش ور جس خاموشی کے ساتھ زینۂ ہستی سے اُتر گیا ۔ اس پر ہر دل شدت سے سوگوار ہے اور آنکھ ساون کی طرح برس رہی ہے اور جذباتِ حزیں سے یہ صفحات لکھتے ہوئے میری آنکھیں اُن کی یاد میں بھیگ گئی ہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ۔ جہاں بیٹھتے وہیں محفل لگا لیتے تھے۔ محفلوں کی جان تھے۔ جس محفل یا مجلس میں بیٹھ جاتے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کا فن اُن کو بخوبی آتا تھا۔ انھوں نے بڑی بھرپور اور کامیاب زندگی گزاری ہے۔ ان کی اولاد اﷲ کے فضل سے پڑھی لکھی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز کامیاب زندگی گزار رہی ہے۔ان کے بیٹوں نے ان کی یاد اور محبت میں اپنے آبائی گاؤں 87گ ب (بابے دی بیر) میں ’’جامع مسجد نورِ مدینہ‘‘ بنوائی ہے۔ جو اُن کی بخشش اور بلندیٔ درجات کا موجب بن رہی ہے۔ نو رمحمد نور کپور تھلوی اپنی آل اولاد سے خوش ہو کر ملکِ عدم کی طرف روانہ ہوئے۔ اپنے بچوں کی اچھی تربیت، اپنی بیوی کی فرمانبرداری پر وہ ہمیشہ فخر اور اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے رہے۔ اپنی ایک دُعائیہ غزل میں وہ اس شکرانے کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔یہ دُعائیہ غزل ان کے بڑے بیٹے کیپٹن محمد اکرم کے ہاں09-01-1988کی ایک دعوت کے موقع پر لکھی اور پڑھی گئی۔
نور کا باغ رہے سبز و سلامت مولا!
اس پر آنچ آئے نہ تا روزِ قیامت مولا!
منفرد بزم طرب ہو یہ زمانے بھر میں
پیار ہی پیار ہو بس جس کی علامت مولا!
اکرمؔ و اسلمؔ و افتیؔ حوالے تیرے
ان کو رکھ شاد یہ ہیں تیری امانت مولا!
سب کو اولادِ نرینہ کی ہے خواہش یارب
ہو میرے جِیتے ہی یہ پوری کرامت مولا!
اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہیں یہ کوشاں
اِن سے سرزد نہ کبھی کچھ ہو خیانت مولا!
ہر جگہ ان کی دیانت کا سدا ہو چرچا
ان پہ وا نہ ہوکبھی کوئے ملامت مولا!
راہ جو نیک ہے اُس رہ پہ چلانا اِن کو
میری اولاد سے ہے میری شناخت مولا!
نظر حاسد کی نہ لگ جائے میرے گلشن کو
کرم فرماؤ ، کرو اِس کی حفاظت مولا! 
نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات کے بعد لفظ ہونٹوں پر پتھرا گئے ہیں۔ ایسا فطین، زیرک دانشور کہاں سے لائیں گے جسے نور محمد نور کپور تھلوی جیسا کہا جا سکے ۔ نور محمد نور کپور تھلوی کی رحلت سے عالمی ادبیات کا ایک درخشاں عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ انسانیت کے وقار اور سربلندی کی ایک عظیم روایت ختم ہو گئی ۔ پاکستان کے قومی تشخص کی علامت اور انسانیت کے وقار اور سربلندی کا مظہر نادر و نایاب کوہ پیکر ادیب ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ حریتِ ضمیر سے جینے کی راہ دکھانے والے محبِ وطن کی وہ آواز جس نے دلوں کو جاوداں اور مرکز مہر و وفا کیا۔ اُس کی آواز سننے کے لیے کان اور دیکھنے کو آنکھیں ترس جائیں گی۔ جس نے علم و ادب کے لیے ابھی بہت ساری خدمات سرانجام دینی تھیں۔ اسی لیے اس نے بلند آواز میں موت سے التجا کی کہ’’ساہ لے موتے کاہلیے، میں اجے نہ ویہلی‘‘میرے ابھی بہت سے کام تشنہ تکمیل پڑے ہیں لیکن موت کے بے رحم ہاتھوں نے اس جری تخلیق کار سے ہمیشہ کے لیے قلم چھین لیا۔ موت وہ آفاقی سچائی ہے جس کو تمام مذاہب کے لوگ مانتے ہیں اور اس ابدی سچائی کے آگے ہر شخص ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ یہ دُنیا یہ کائنات بے ثبات ہے ، سب کو موت کی شام میں کھو جانا ہے اور انسانی زندگی کا حاصل یہی ہے۔ انسان کی منزل وادیٔ خاموشاں ہی ٹھہری ہے۔
نور محمد نور کپور تھلوی کے ضخیم پنجابی شعری مجموعہ ’’کلیاتِ نور‘‘ میں ایک نظم ’’موت‘‘ اسی بات کی عکاسی کر رہی ہے جو خود اُن پر صادق آتی ہے ۔ ایسی ہوائے ستم چلی جس کے تندو تیز بگولے، پیمان وفا کے ہنگامے، ایثار ، دردمندی ، مروت اور بے لوث محبت کی سب داستانیں اُڑا کر لے گئے اور سچ بھی یہی ہے کہ ایسے زیرک ، فعال، مستعد اور ہمدر د انسان’’چراغِ رُخِ زیبا لے کر‘‘ بھی ڈھونڈنے نکلیں تو نہیں ملیں گے۔ ’’ڈھونڈو گے ہمیں مُلکوں مُلکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘ دلوں کو مسخر کرنے والے بے لوث ، صداقت ، ایثار اور خلوص ووفا جیسے اوصاف کے حامل لوگ واقعی اب نایاب ہو گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد رفتگاں بیاد مجروح سلطانپوری
محترم سہیل انجم کی تازہ ترین تصنیف نقش بر سنگ پر منظوم تاثرات
اُردو ناول غلطی

پیار کی مہر

طاہرہ کی منگنی