صدیوں کا سفر

بابا سے تو اجازت مل گئی۔ آپ بتائیں آ پ کو کیا تحفظات ہیں؟” وہ اس وقت اپنی جاب پر تھی نئے آئے ہوئے مال کو وہ کرٹنز سے شیلفوں اور کاؤنٹرز پر شفٹ کر رہی تھی جب اُسکی مما کی کال آئی۔ اُسنے موبائل نکالا ہینڈز فری لگائیں، موبائل واپس گاؤن پر پہنی گئی ٹی شرٹ کی جیب میں رکھا اور سامان سیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ بات بھی کرنے لگی۔
” دیکھ لو بیٹا ۔ پرایا دیس ہے پرائی جگہ ہے۔ اوپر سے وہ لڑکی بھی جُمعہ جُمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور آرام سے رہنے کی دعوت بھی دے دی۔ سچ پوچھو تو مجھے ڈر ہی لگ رہا ہے ” اُنہوں نے کہا تو وہ ہنس دی۔
” یار مما کوئی ایسی بات نہیں ہے میں وہاں پیئنگ گیسٹ کے طور پر ہی رہوں گی اور جہاں تک ڈر کی بات ہے توڈر یں نہیں۔ آپ بس بہت سی دعائیں کیا کریں ” وہ تسلی دینے کے انداز میں بولی تھی۔
” میری تو سب دعائیں اپنی بیٹیوں کے لیے ہیں ۔ مگر دل پھر بھی کانپتا ہے ہر وقت تم لوگوں کی طرف ہی تو لگا رہتاہے میرا دل۔ اب تم یہ اپنی شکل دیکھو ناں۔ ذرا بھی جو تم اپنا خیال رکھتی ہو۔ اب بھی تم پتہ نہیں کیا کر رہی ہو کبھی ٹک کے بھی بیٹھتی ہو کہ نہیں؟ کیا کر رہی ہو اتنی آوازیں بھی آرہی ہیں” وہ بولیں جس پر عُنیزہ کام سے ہاتھ روک کر فوراً کھڑی ہوگئی تھی۔ اب اُسے اپنی ماں کو دلاسے دینے تھے کیوں کہ اُسکی بات پر ماں نے اپنا اگلا دُکھڑا رونا تھا۔ وہ ہاتھ گاؤن کے اوپر پہنی ہوئی شرٹ سے صاف کرتی ہوئی مسٹر براؤن کو اِشارہ کرتی ریسٹنگ روم کی طرف چلی گئی تا کہ تسلی سے بات کر سکے۔
” میری پیاری اماں ! میں اس وقت سٹور پر آئی ہوئی تھی۔ آج کال ایگزامز سے فری ہوں نا تو سوچا اوور ٹائم لگا لیا کروں” وہ تو صرف بولی تھی مگر ماں کی ایک چیختی ہوئی آواز آئی تھی جس پر اُس نے اپنے ایک کان سے ہینڈ فری نکال کر اُسے منہ کھول کر ایسے دیکھا جیسے ماں اُس میں بیٹھی تھی۔
” تم واپس آؤ بس یہ سال مکمل ہو جانا ہے تمہا را۔ تم واپس آؤ کہاں کہاں خوار ہو رہی ہو تم۔ میں کہتی ہوں تمہارے بابا سے ۔ تمہیں یا تو خرچ بھیجیں یا پھر واپس بلائیں ۔ اب ایسی بھی کیا مجبوری ہے تمہیں۔۔۔” وہ بول رہی تھیں جب اُسنے بات کاٹی ۔
” مما میں ٹھیک ہوں یار۔ کم از کم میں فارغ تو نہیں ہوں ناں۔ اور فارغ رہ کر کروں گی بھی کیا میں ۔ مجھے یہاں اور کام بھی کیا ہوتا ہے۔ دن آرام سے گزر جاتا ہے اور مجھے کیا چاہیے۔ آپ پلیز بابا کو نہیں کچھ بھی کہیں گی” وہ آہستہ آہستہ اُنہیں سمجھا رہی تھی اور وہ بھی سمجھ رہی تھیں یا شاید اُسے ایسا لگ رہا تھا۔ بہر حال اب اُسے اُنہیں واپس شفٹنگ کے موضوع کی طرف موڑنا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
” نینی بریانی تیار رکھیں میں کچھ دیر میں آئی” پرِیا نے جلدی جلدی میں اپنا کوٹ پہنتے ہوئے کہا۔وہ جو کچن سے واپس لاؤنج کی جانب ابھی آئی ہی تھیں اس کی نئی فرمائش پر اسے گھورنے لگیں۔
“کیوں؟ ابھی کل ہی تو کھائی تم نے” نینی انتہائی خطرناک تیور لیے اس کے سامنے آئیں۔
” کل نہیں نینی پرسوں” یہ کہتے ہوئے اُس نے نینی کے گال پر چُٹکی بھری۔
“واٹ ایور ۔ مگر آج نہیں بنےگی” اُنہوں نے اُسی غصے سے کہا اور رُخ موڑ کر کھڑی ہوگئیں۔ وہ اُس کی روز رو ززکی بریانی کی فرمائش سے تنگ آچُکی تھیں۔ چاہے جیسی بھی کُک تھیں اور انڈین ، چائینیز ، رشین جو بھی نئی ڈش ہوتی لازمی بناتی تھیں مگر پرِیاکی اِس ایک بریانی کی فرمائش سے وہ عاجز آچُکی تھیں۔
“آپ بنا رہی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں نارتھ سے خان صاحب کے دیسی بُفے سے لے آؤنگی” اُس نے اُنہیں دھمکی دیتے ہوئےوہاں موجود ایک د یسی کھانوں کے ہوٹل کا نام لیا جس سے نینی کچھ دھیمی پڑ گئیں ۔
” کچھ اور بناؤں گی ناں” اُنہوں نے آنکھیں مٹکاتے اور پچکارتے ہوئے اُسے لالچ دیا جسے وہ ذرا خاطر میں نہ لائی۔” آپ ہاں یا ناں میں جواب دیں” اُسنے اُنہیں گھورا تو وہ آخر ہار مانتے ہوئے بولیں
“اچھا جا کہاں رہی ہو ؟”
” بہار اترنے والی ہے آپ کے گھر پر، تیاریاں کریں ” اُس نے اطلاع دی اور چابیاں پکڑ کر باہر نکل گئی ۔ نینی بس ارے ارے کرتی رہ گئیں ۔
‘ایک تو یہ لڑکی بھی ناں۔ پتہ نہیں آج کل ہو کیا گیا ہے اسے” وہ واپس کچن کی جانب مڑتی ہوئیں مسلسل بڑبڑا رہی تھیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کھانے کی میز پرموجود ہر فرد آج اچھے موڈ میں تھا۔ کیونکہ آج کبیر صاحب کا موڈ خوشگوار تھا۔نور نے اپنے ہاتھ کے بنائے گئے کوفتے لینے کچن کی جانب بڑھی ۔
‘ جمال بھائی کی کال آئی تھی۔ آپ کو بھی بُلا رہے تھی وہ” سعدیہ نے شوہر کا موڈ اچھا دیکھا تو فوراً بات چھیڑ دی۔
” مجھے بُلانے کا مقصد؟” کبیر صاحب تیوری چڑھا کر بولے۔’ایک تو یہ شخص۔۔ ساری زندگی اس کا غصہ برداشت کرتے گزر جائیگی’وہ ٹھنڈی سانس بھرتی سیدھی ہو بیٹھیں۔
“آپ اُنکی کال ریسیو نہیں کرتے کبیر صاحب! ورنہ وہ خود آپ کو مقصد بتاتے” سعدیہ بیگم نے ہلکے پھُلکے انداز میں طنز کیا مگر وہ بھڑک اُٹھے۔
“کیوں ریسیو کروں؟ کیا رہ گیا اب ؟ کس بنیاد پر دعا سلام بھی رکھوں میں اُن سے ؟”
“کچھ رہنے نہ رہنے سے پہلے وہ آپکے بہترین دوست اور بڑے بھائیوں کی طرح بھی تھے کبیر صاحب” سعدیہ نے ذرا سخت لہجے میں اُن کو یاد دہانی کروائی۔
“وہ بات پُرانی ہو چُکی۔ مگر اب میں جو چاہتا ہوں اُن سے کہو وہی کریں۔ میرے وہاں جانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ مجھے میری بیٹی کا سکون اور خوشی چاہیے بس” اُنہوں نے سختی سے کہا اور جانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔
” اُنہوں نے فیصلہ لے لیا ہےکبیر۔ تبھی آپکو بھی بُلانا چاہ رہے ہیں ۔ اب میں نے چلنا ہے تو اپ بھی ساتھ چلیئے گا۔ میں اکیلی نہیں ہوں سب سہنے کے لیے ۔ اب تو کم ازکم میرا سہارا بنیے” سعدیہ کہتے ہوئے سسکی تھیں جس پر وہ ٹھٹکے۔
“چل رہا ہوں تمہارے ساتھ ہی” اُنہوں نے کہا اور کمرے سے نکل گئے جبکہ سعدیہ پھوٹ پھوٹ کر رودیں۔
اور۔۔۔
کچن میں کھڑی نور خالی دل کے ساتھ باؤل میں ڈالے جانے والے کوفتے واپس ہنڈیا میں ڈالنے لگی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اپنے سیکٹر میں پہنچ کر اُس نے گاڑی کی سپیڈ کم کی اور اپارٹمنٹ کے قریب بنے چھوٹے سے گیراج میں پارک کر دی ۔
نیچے اُترنے سے پہلے اُس نے اپنا موبائل دیکھنا ضروری سمجھا۔ اور جب دیکھا تو ڈھیروں شرمندگی نے اُسکا احاطہ کیا۔ ایک بار پھر اُس کے بابا کی کال آکر اُسے باور کروا چُکی تھی کہ وہی اُ س کے بابا نہیں تھے بلکہ اُس کے بھی کچھ فرائض تھے جن سے اُ س نے برسوں سے کنارہ کیا ہوا تھا۔ اُس کا دِل چاہا وہ اُڑ کر پاکستان چلا جائے۔ مگر یہیں پہنچ کر اُ سکا دل سُکڑجاتا ۔
وہ گاڑی سے نکلا ، اُسے لاک کیا اور اندر کی جانب چل دیا۔ اُ سے سمجھ نہ آیا کہ وہ بابا کو کال بیک کرےیا نہیں۔ کوئی زمانہ تھا جب اُن باپ بیٹے میں دوستوں جیسے تعلقات تھے۔ اور ایک یہ زمانہ تھا کہ وہ بات شروع کرتا تو سمجھ نہ آتا کہ اگلی بات کیا کرے اورپچھلی بات کو مکمل کیسے کرے۔
اندر آ کر اُ س نے فریج میں دیکھا ۔ ایک سیب اورکوک کے ایک خالی ٹِن کے علاوہ وہاں کچھ نہیں تھا۔ اُ س نے غصے سے فریج بند کیا اور کمرے کی طرف چل دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“نینی سے ملو گی تو خوش ہو جاؤ گی۔ اور جب وہ تمہیں دیکھیں گی تو حیران رہ جائیں گی ۔ اُن کی نواسیاں تو کچھ بھی نہیں ہوں گی تمہارے سامنے نیمو” وہ عُنیزہ کو لینے آئی ہوئی تھی۔ عُنیزہ ایک بیگ سمیت گاڑی میں آکر بیٹھی تو پرِیا پرُجوش سی بولی ۔
“حد کر جاتی ہو کبھی کبھار تم بھی پری” وہ ہنس دی ۔
“مزید کوئی سامان نہیں ہے کیا؟”
” نہیں بس یہی بیگ تھا” وہ بولی۔” واہ بھئی تم تو اس ملک کے پسماندہ طبقے کو بھی مات دیتی ہوگی”
” ایسی بھی بات نہیں ہے۔ اس میں بھی بہت سا سامان ہے” وہ کھسیا کے بولی تھی۔
” بہت حیرانگی کی بات ہے یہ میرے لیے۔ کیونکہ میں نے تو جہاں بھی جانا ہو میرے ساتھ بہت سا سامان ہوتا ہےاور اس بہت سے سامان کے لیے مجھے بیگز بھی اُتنے ہی چاہیے ہوتے ہیں” وہ باتیں کرتی ہوئی ڈرائیونگ بھی کر رہی تھی۔
اپنی منزل پر پہنچ کر پرِیا نے سیٹ بیلٹ اُتاری اور نیچے اُتر کر اُسکا بیگ اُتارنے لگی۔ جبکہ اُسے ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ کہنا آسان تھا مگر اب بالکل الگ جگہ پر رہنا ،آنا اور ایڈجسٹ ہونا بالکل الگ۔ وہ تو پہلے ہی بہت کم لوگوں میں گھلتی ملتی تھی۔ اب کیا۔۔۔
” کم آن نیمو۔ نینی ویٹ کر رہی ہیں” پرِیا کی آواز پر وہ چونکی تھی۔ اُس نے بیلٹ اُتاری اور گاڑی سے نیچے اُتر آئی۔
اُس نے دیکھا سامنے چھوٹے سے گھر کے دروازے میں ایک بزرگ خاتون مہربان سی مسکراہٹ لیے کھڑی تھیں۔ کھنڈرات بتاتے تھے کہ بلاشبہ اپنی جوانی میں وہ بہت حسین رہی تھیں اور اب بھی وہ کوئی رومی خاتون کم ،ایشین خاتون زیادہ لگ رہی تھیں کیونکہ انکا لباس مشرقی تھا ۔ انہوں نے بہت ہی سادہ سا قمیص شلوار پہن رکھا تھا البتہ دوپٹہ ندارد تھا۔ یقیناً دوپٹہ وہ سنبھال نہ پاتی ہوں گی۔ وہ اُسے دیکھ کر کچھ آگے بڑھیں تو اُس نے بھی پیش رفت کی۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اُن کی طرف بڑھی۔ وہ بانہیں پھیلائے ہوئے تھیں۔
” بہت دن لگا دیے بہار کو گھر لانے میں پری” وہ کھلے دل سے اُسے خوش آمدید کہہ کر اُسکے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد پرِیا سے انگلش میں مُخاطب ہوئیں۔ پرِیا آگے آئی اُسکا بیگ اُن کے حوالے کیا اور اُ ن کے گال سے گال مَس کر کے بولی” فکر ننہیں کریں میں اِسے پر مانینٹلی گھر لائی ہوں۔ ا ور اب آپ اِسے بھی پکڑ لیں۔ اِس کا حال دیکھ کر مجھے پورا یقین ہے یہ بھاگ جائیگی” نینی ہنس دیں جبکہ وہ شرمندہ سی ہو گئی ۔
” میں گاڑی پارک کر آؤں نینی۔ ابھی ہم نے اِس سے بہت کچھ اُگلوانا ہے کمانڈو۔ ٹیک ہر ٹو دا سیل” وہ آواز بھاری کرتی ہوئی بولی تو عُنیزہ کی بھی ہنسی نکل گئی۔ پرِیا آگے بڑھی تھوڑی اونچی ہوئی اور اُس کے ماتھے پر بوسہ دے کر واپس مُڑ گئی۔ اُسے بے اِختیار اپنی بہن یاد آئی تھی۔ آنکھوں میں پانی بھرنے لگا تھا جسے اُس نے چھپانے کی شعوری کوشش کی۔
نینی اُسے لیے لاؤنج میں آئیں ۔ اُسے صوفے پر بٹھایا اور خود کچن کی طرف مُڑ گئیں ۔ وہ ساتھ ساتھ اُس سے چھوٹی چھوٹی باتیں بھی کر رہی تھیں۔ وہ ہوں ہاں میں غائب دماغی سے جواب دیتی رہی۔ اِتنے میں پرِیا بھی شور مچاتی ہوئی آچُکی تھی۔ وہ بہت خوش لگتی تھی۔ نینی جانتی تھیں کہ وہ اتنی خوش صرف مِسٹر رتیش کے آنے پر ہوا کرتی تھی۔
” میں واقعی ٹھیک کہہ رہی تھی ناں۔ بہار آگئی ناں؟ آپ بھی چپکے مسکرا رہی ہیں نینی” وہ وہیں عُنیزہ کے پاس بدھپ سے بیٹھ کر ہانکی تھی۔ وہ اس وقت لاؤنج میں بیٹھی تھیں جہاں باہر کی سرد ہوا کا کوئی گزر نہ تھا۔ ایک بات تو طے تھی کہ یہاں پچھلے اپارٹمنٹ سے زیادہ سکون میسر آنے والا تھا۔
” میں تو خوش ہوں بہت۔ مگر تمہاری خوشی کا اندازہ میں یوں لگا سکتی ہوں کہ اب تمہیں سر کھانے کو دو لوگ مل گئے ہیں” وہ ہنستے بولیں تو پرِیا نے بھی زور کا قہقہہ لگایا۔ جبکہ عُنیزہ کو اپنا گھر شدت سے یاد آنے لگا تھا۔ وہ خاموشی سے اُنکی آپس کی نوک جھونک سُننے لگی تاکہ دماغ بٹا سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ بہت خوشگوار دن تھا ۔ سب کو چھٹی تھی سب اپنے معمول کے کاموں اور دفاتر سے فارغ تھے۔اور کچھ موسم نے رنگ بھی بدلا تھا۔ سورج بادلوں کے پیچھے سے جھانک رہا تھا اور لوگوں کی تفریح کا ذریعہ بن رہا تھا۔
وہ بھی منہ بسورتا اُٹھا ۔ فریج میں چونکہ کچھ نہ تھا سو منہ پہ چند چھینٹے پانی کے مارے اور باہر نکل آیا۔ اُسکا اِرادہ باہر کہیں سے اچھی سی کافی پینے کا تھا ۔ مگر یہ سوچتے ہوئے اُس کے منہ کے زاویے بگڑ گئے کہ اگر آج اُس نے کراکری نہ خریدی تو اگلے کئی دن تک اُس کو وقت نہیں ملنا تھا۔
گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں داخل ہو گیا۔ ایک طرف ٹرالیوں کی لائن لگی ہوئی تھی ۔ اُن میں سے ٹرالی لی اور ایک طرف جہاں کراکری تھی اُس طرف چل پڑا۔
وہ چیزیں اُٹھا اُٹھا کر ٹرالی میں رکھ رہا تھا ۔ آگے بڑھتے ہوئے اپنی کمر پر کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا۔ اُسنے مُڑ کر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے اپنا گمان جانا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ بے دھیانی میں چیزیں رکھتا جا رہا تھا اُسے احساس نہیں تھا کہ وہ غائب دماغی سے کونسی چیز رکھ رہا ہے۔
وہ اُسے غائب دماغ دیکھ کر آگے بڑھی اورجو چیزیں وہ رکھ رہا تھا اُن میں سے کچھ چیزیں اُٹھائیں اور واپس اپنی جگہ پر رکھ دیں۔ اُسے اُس کی پسند اس حد تک تو پتہ ہی تھی کہ جو چیزیں وہ رکھ رہا تھا وہ اُ سکی پسند میں شامل نہیں تھیں ،وہ گم تھا۔ ۔ اتنا تو وہ اُسے جانتی تھی۔اِتنا تو وہ اُسے سمجھتی تھی۔ وہ کیا سوچ رہا ہے وہ کہاں گُم ہے وہ جانتی تھی، وہ اُسے ہی سوچ رہا ہے اِتنا تو وہ اُسکی سوچ پڑھ ہی لیا کرتی تھی۔
وہ پھر سے کسی احساس کے تحت مڑا ۔ سب سوچیں تحلیل ہو گئی تھیں۔ وہ اُسکی سوچ تھی۔ وہ اُسکا خیال تھی۔ وہ مجسم تو اُسے بہت دُور چھوڑ آیا تھا۔ اسکی آنکھیں بےچینی سے اُسے اردگرد تلاش کرنے لگیں۔ کبھی مُڑ کر کبھی وہاں کبھی یہاں۔ وہ وہاں تھی ابھی۔ ابھی ہی تو وہ تھی۔ اُسے اُسکی نگاہوں کی تپش کا محسوس ہوئی تھی۔ وہ یہاں تھی تو ابھی۔ کہاں گئی وہ۔
وہ اپنی ٹرالی وہیں چھوڑ کر ہر رو میں اسے ڈھونڈنے لگا۔ ہر جگہ تلاش کر لینے کے بعد وہ ایک ریک کے پاس رُک گیا۔ سامنے وہ کھڑی تھی۔ نظریں جھکائے وہ سامان اپنی ٹرالی میں رکھ رہی تھی۔ وہ بے اِختیار ہوتا اُس کے پاس گیا۔
وجود پھر سے تحلیل ہوا تھا۔
وہ ریک کے پاس کھڑا کھڑا ہی اپنے گھٹنوں کے بل گر گیا۔ وہ رو رہا تھا اور بے تحاشا رو رہا تھا ۔ جان باقی تھی۔ مگر سانس رُک چُکی تھی۔ ایک لمحے میں صدیوں کا سفر سمٹ آیا تھا۔ وہ گہرے سانس اندر کھینچ رہا تھا۔
بہت دیر بعد خود کو نارمل کیا اور بھٹکنے نکل گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Exit mobile version